پوسٹ کولونیل ادب و صحافت کہے، فاشزم تم پر سلامتی ہو

Rozan Social Speaks
ایک روزن سوشل

پوسٹ کولونیل ادب و صحافت کہے، فاشزم تم پر سلامتی ہو

از، روزن رپورٹس

سید کاشف رضا:

کینیا، زمبابوے اور ہندوستان میں آزادی کے لیے زبر دست تحریکیں چلیں جن کے رہ نماؤں کا سیاسی کیریئر دھائیوں پر محیط تھا۔

پاکستان کی آزادی کی تحریک ہندوستان کی آزادی کی تحریک کا ہی ایک آف شوٹ (چھوٹی شاخ) تھی، جسے ری ایکشنری بھی کہا جا سکتا ہے۔

آزادی کے بعد کینیا، زمبابوے اور ہندوستان تک کے با شعور ادیبوں نے اپنی ریاستوں کو نئی کولونیل پاور قرار دیا۔ نگوگی وا تھیونگ او اور اروندھتی رائے اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔

پاکستان کی تو آزادی کی تحریک ہی کم زور تھی اس لیے اس ریاست میں مظلوموں کی داد رسی کا جذبہ ہی کافی حد تک مفقود تھا۔ اس لیے پاکستان اپنی غیر مقتدر لسانی و فرقہ وارانہ اکائیوں کے لیے مذکورہ بالا ملکوں سے بڑی کولونیل پاور ثابت ہوا، بَل کہ اس پر برطانوی کولونیل فوج کا قبضہ تک برقرار رہا۔

ایک کولونیل ریاست کا ادیب بڑی کولونیل ریاستوں کو برا بھلا کہنے کا استحقاق صرف تب رکھ سکتا ہے، جب وہ اپنی کولونیل ریاست کی مزاحمت کر سکے، چاہے یہ مزاحمت کسی بھی سطح کی ہو۔

نوید شیخ:

“ویسے ابھی مثبت خبروں کے ساتھ ساتھ عن قریب مثبت ادب لکھنے کی ہدایات بھی جاری ہوں گی۔ پھر ہم صرف علامتی شاعری کے ذریعے مزاحمت کریں گے۔”

سجاد بلوچ: آپ کی بات سے اتفاق ہے لیکن یہاں تو ادب کیا صحافت بھی بیڑیاں پہنے لنگڑا رہی ہے جو بہ راہِ راست اور فوری اظہار کا ذریعہ ہے۔

فیصل ریحان:

درست مگر اب تو جیسوریا کو ایشوریا لکھنے کی سرعام ہدایت دی جارہی ہے جمہوری دور میں. جی دار قلم کاروں کے مزے ہیں۔


مزید دیکھیے:   جب گُھلی تیری راہوں میں شام الم  از، ڈاکٹر صولت ناگی

جنوبی ایشیا میں فاشزم کا عروج  از، سید کاشف رضا

مسولینی کی جو قبر بولتی ہے تو ہٹلر کی روح جھومتی ہے  از، یاسر چٹھہ


یاسر چٹھہ: 

پوسٹ کالونیل، یعنی ما بعد نو آبادیات، کی اصطلاح بنیادی طور پر متبادل و دیگر تعریف کی متقاضی ہے۔
پوسٹ کالونیل کی ذیل میں “آزادی؟؟؟” کے فوری بعد کا ادب (+بھی) شامل ہونا چاہیے۔
ملکی جامعات اور جملہ نقادوں کو اس “علمی سہو/بد دیانتی/دھول جھونکنی…” جو کہ ما بعد “آزادی؟؟؟” کے طاقت افروز آباد کاروں کی پرور دگاری کے لیے با لواسطہ  سہولت کاری کا کام کر رہے ہیں، پر سوال زد کرنے کی سنجیدہ اور اشد ضرورت ہے۔ یہ مزاحمت و رد عمل کی نفسیات کے وقت رگیدہ زمانوں پر تو نئے آباد کار کو خوش رکھ رہے ہیں، لیکن موجودہ وقت میں “طاقت” کے کردار پر قلم کو علامتی حرکت دینے میں بھی گیس کی حالت میں میٹامورفوس ہو جاتے ہیں۔
تنقیدِ دیگر کسی بھی ملک و قوم، معاشرے اور دانش ور کو با لواسطہ اپنے ارد گرد کی طاقتوں کا اتحادی بنا دیتی ہے۔ یہ چیز راقم نے ما بعد نو آبادیاتی نقادوں کی سرکاری ذرائع ابلاغ پر بولنے کی دعوتوں اور “آزادی” سے اخذ کی، جس میں دوسروں کے لیے یقیناً راقم کی علمی و نقدی سہو کا حتی الامکان وجود ہو سکتا ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.