متن، تشریح اور تعبیر Explanation and Interpretation ایک مکالمہ

Rozan Social Speaks
ایک روزن سوشل

متن، تشریح اور تعبیر Explanation and Interpretation ایک مکالمہ

از، روزن رپورٹس

فرخ ندیم:

تشریح اور تعبیر کا آغاز انسان کی زبان کی دریافت یا ایجاد کے ساتھ ہی ہو جاتا ہے۔ قدیم ترین متون بھی ان دو سر گرمیوں سے واسطہ رکھتے تھے۔ مثال کے طور پر خوابوں کی تعبیر یا کائنات کے مظاہر میں تنوُّع اور مختلف واقعات یا آفات کی تشریح یا تعبیر۔

تنقیدی متون میں ان دو الفاظ کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ لیکن ان دونوں میں فرق پر مباحث نتیجہ خیز نہیں ملتے۔ یعنی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان دو اعمال کے درمیان خطِ تخصیص (تفریق و امتیاز) کہاں کھینچا جائے۔

تنقیدی مباحث میں ان دو ثقافتی سر گرمیوں کو ایک ہی رخ سے دیکھنے کی روایت کافی مقبول ہے۔ مگر عصری تنقیدی فکر کی رو سے ایسا نہیں ہے، ان دونوں صورتوں کے لیے الگ الگ الفاظ کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ فرق کافی سنجیدہ نوعیت کا ہے۔

فرانسیسی نقاد ماشرے  Pierre Macherey نے اس مسئلے کے حل میں ایک عمدہ کوشش کی ہے۔ ان کی کتاب A Theory of Literary Production میں ایک مضمون اسی معاملے کی تفہیم کی خاطر لکھا گیا ہے۔ مضمون کی ابتدا کچھ اس طرح سے ہوتی ہے:

Turning away from an old-fashioned explication de texte, a criticism with any aspirations to profundity chooses as its purpose the determination of a meaning: it describes itself as interpretive, in the broad sense. What is to be gained by replacing explanation (which answers the question, how is the work made?) by interpretation (why is the work made?). At first it seems that we have enlarged the domain of criticism from a myopic study of means to an exploration of ends, posing the essential questions, not only about the form of the literary work, but also about its signification(Chapter 13).

ماشرے Macherey کے خیال کے مطابق یہ فرق “کیسے” اور “کیوں” کا ہے، یعنی تشریح یہ دیکھتی ہے کہ کوئی ادبی فن پارہ “کیسے” وجود میں آیا، اور اس کے بر عکس تعبیر “کیوں” وجود میں آیا سے تعلق رکھتی ہے۔

اس طرح سے دیکھا جائے تو ساختیات اور پسِ ساختیات کا فرق بھی سہولت کے ساتھ واضح ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ کلاسیکی اور عصری بیانیات کے ساتھ ہے۔

لیکن کیسے اور کیوں کا سر و کار محض ادبی متون سے نہیں، دوسری ثقافتی اور معاشی سر گرمیوں کے ساتھ بھی ہے۔ یہ ایک جدلیاتی عمل ہے جس کی جستجو، یا کھوج میں اظہاریوں کی تمام صورتیں شامل ہیں۔

سوال یہ ہے کہ مشرقی علمی روایات میں تشریح اور تعبیر میں فرق کیسے کیا جاتا ہے؟ اس پر بات ہونا چاہیے۔


متعلقہ: پوسٹ کولونیل ادب و صحافت کہے، فاشزم تم پر سلامتی ہو


نعیم بیگ:

در حقیقت یہ بنیادی خیال ماشرے Macherey کے استاد، مارکسٹ فلاسفر اور مینتور لُوئی التھوسے کے مرکزی خیال سے اٹھایا گیا ہے جس میں التھوسے بڑی صراحت سے پیدا وار، اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگی، سماجی نظریات اور سائنسی رحجانات جیسے عوامل سے نبٹنے کے لیے ادبی تنقیدی تشریحات کا سہارا لیتے ہیں۔ تاہم اس کے با وجود ٹیری ایگلٹن اسی کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں کہ ماشرے نے اپنے اوریجنل خیالات کو پیش کیا ہے۔

اب رہا یہ سوال کہ کائنات کے مظاہر کو جب ایک عام انسان اپنے ذہنی تشریح کے دائرہ میں لاتا ہے تو ذہن کے پردے پر پہلے سے بنی چند تصاویر، چند تجرباتی مظاہر جن پر واقعاتی فیصلے ریکارڈ ہو چکے ہوں، وہ بھی اس عمل کا حصہ بن جاتے ہیں۔ تاہم جب ایک ادیب یا تنقید نگار اسی مظہریاتی تقابل کو اپنی تخلیق یا مضمون میں زیرِ بحث لاتا ہے تو اس کے متن میں وہ عناصر بھی شامل ہو جاتے ہیں جو عام شخص کے نظر سے مہمل ہوئے تھے۔

یہاں ہم اس نکتہ کو بھی پرکھ سکتے ہیں کہ کیا جو عوامل اس مغربی تنقیدی جوہر میں زیر بحث ہیں یا پیش کیے گئے ہیں، کیا بین ہی وہ مشرقی علمی روایات میں اپنے کرداری معنیٰ کو بہ رُوئے کار لا سکتے ہیں یا نہیں؟

دیکھنا یہ ہے کہ کیا مشرق میں علمی روایات یا عام آدمی کی زندگی میں سماجی طرز زندگی اور کائنات کے مظاہر کو پرکھنے کا انداز وہی ہے جو مغرب میں رائج ہے؟ کیا ہمارے ہاں ادب میں تخلیقات کے خالق سماجی مناجیات کے درِ پردہ ان المیوں اور انسانی زندگی کے احساسات کا ادراک رکھتے ہیں؟

اب میں یہاں صرف اردو کے حوالے سے پاک و ہند کی بات کرتا ہوں (کیوں کہ مشرق کے معنی میں ترقی یافتہ جاپان بھی شامل ہے۔ جس کی تخلیقات میں بعد از جنگِ عظیم دوئم ایک پورا زمانہ اسے داد دے چکا ہے۔) ہمارے ہاں تو ابھی تک کائنات، انسان اور اس کے بنیادی جوہر کو سمجھنے کی صلاحیتیں اجاگر نہیں ہوئیں ہیں۔

دوسری بات کہ نظریاتی سطح پر بے حد برے طریقے سے پولرائزیشن تو ہوئی لیکن علمی سطح پر کوئی کام موجود نہیں ہے۔

ہم ابھی تک ثقافتی اور معاشی سر گرمیوں کی پہچان تک کو کوئی نام تک نہیں دے سکے ہیں۔ چُوں کہ ذہنی سطح علمی اور فکری نہیں، سو ابھی تک مذہب کے ان بیانیوں میں بے جا اٹکے ہوئے ہیں۔

جہاں اب تک ہمیں سائنسی فکر کے ساتھ نکل کر آگے آ جانا چاہیے، ہم اپنی تعلیمی سطح کی مناسب مشترکہ و انفرادی ترسیل تک کرنے کے قابل نہیں ہوئے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ایسے علمی، فکری، ثقافتی اور معاشی طرز زندگی میں ہم جستجو، کھوج، اور اس کے جدلیاتی سطح کو پا ہی نہیں سکے ہیں۔ سو تعبیر و تشریح کو بھی ہم انھی مہا بیانیوں کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ جو سکہ رائج الوقت ہے۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.