اداریہ ایک روزن : (victim card) مجبور، مضروب و مقہور کارڈ

مضروب و مقہور کارڈ
علامتی تصویر

(victim card) مجبور، مضروب و مقہور کارڈ

ہم اپنے ارد گرد زیادہ تر روایتی پڑھے لکھے افراد میں اپنے ہم مذہب، ہم مسلک، ہم فکر اور ہم وطن افراد کو ہی صرف مجبور، مضروب و مقہور جاننے کا رویہ اور ذہنی جھکاؤ دیکھتے  ہیں۔ اس کی کیا وجوہات ہوتی ہیں۔

کیا یہ مثبت شخصی خواص کی کمی کا ایک ضمنی حوالہ ہوتا ہے؟

کیا یہ مثبت عمل (affirmative action) سے عاری معاشروں کی تشخیص کا ایک پیمانہ ہوتا ہے؟

اس قسم کی (victim sensibility) ابتدائی ردعمل سے طویل المدتی ردعمل تک عمل و فکر کی کون کون سی شاخیں پھوٹتی ہیں؟

سوالات صرف ہمارے اپنے، اور ہر اس فرد کے لیے ہیں جو ان سطروں کی سوچ سمجھ کر پڑھت کر رہا ہے؛ ہم ان موضوعات پر باضابطہ مطالعے کے بعد، جب بھی مکمل ہوا، مزید لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں؛ گوکہ عارضی، ذاتی مشاہدات کی بناء پر کچھ biases اور ذہنی جھکاؤ ضرور رکھتے ہیں۔

ہماری جانب سے کچھ عارضی tentative خیالات یہ ہوسکتے ہیں:

مضروب و مقہور کارڈ ملکوں، معاشروں، سماجوں، طبقات اور ان کی مجموعہ جات بین الاقوامی سطحات پر غریبوں اور زیریں متوسط طبقات میں سب سے زیادہ کشش رکھتا ہے۔

معاشرے مجموعی طور پر تعقل پسند نہیں ہوتے۔ عوامی سوچ و فکر چند ایک اساطیر، کہانیوں، عظیم قومی و ملکی بیانیوں (grand national narratives) پر عوامی انداز کی شرح پر بصورت اقدار و اوامر و نواہی کی لطیف صورتوں استوار ہوتی ہے۔

مجبور، مضروب و مقہور کارڈ غریب اور زیریں متوسط طبقات میں ہی کیوں کشش رکھتا ہے؟ عارضی اور سرسری طور پر کہا جا سکتا ہے کہ، اس کارڈ اور کیفیت کے اندر علاوہ دیگر ممکنہ جہات و کیفیات کے، غریبوں اور زیریں متوسط طبقات کو اپنے حالات کے ردعمل میں دبے احتجاج کے لیے مقدس و بالاتر آدرش کے حق میں احتجاج و عملی حصہ لینے سے، اپنی redemption کا احساس بھی توانا ہوتا ہے۔

کہیں یہ ردعمل آنسو کی شکل میں بہہ کر اظہار پاتا ہے، تو کبھی آہ و زاری کے زیادہ بلند آہنگ اظہارات میں جگہ پاتا ہے، تو کبھی سماجی ذرائع ابلاغ پر شبدی و بصری اظہارات میں نظروں کے سامنے آتا ہے۔ کبھی یہ جہاد کے غیر سرکاری اور معاشرے کے چند منظم گروہوں کی جانب سے (اول اول تو چندہ صرف اشیائے ضروریہ کی جمع کاری کی شکل میں سامنے آتا ہے، بعد میں) دعوت جہاد کی صورت میں انتہائی شدت پسند صورتوں میں سامنے آتا ہے۔

ہماری یہ درخواست ہے (ہر چند کہ اس پر بات ضرور ہوئی ہے)، البتہ مزید صاحبان فکر و نقد کی جانب سے بات ہونا چاہیے اور اس بات و مطالعے کی ترویج و اشاعت ہونا چاہیے۔ یہ اہم معاملہ ہے کہ ہمیں ماتم، آہ و زاری اور ان کے نتیجے میں مروج صنعت، معیشت اور سماجیات کو اور ان من جملہ حوالوں کی بابت قارئین کو شاید کچھ اور تازہ تر سوچنے کا موقع دے سکیں۔

پس نوشت میں عرض کریں گے کہ آپ اس مسئلے پر اپنے رائے دینے میں مکمل آزاد ہیں۔ بجز یہ کہ اس سوال کو کسی حالیہ واقعہ، اور مثال کی عینک پر کسی خاص اور قفل بند موقف نا سمجھا جائے۔ ایسا اس وجہ سے بطور حفظ ماتقدم عرض کیا جا رہا ہے، کیونکہ ہمارے ہاں اکثر علمی اور فکری موضوعات وقتی واقعات topical events اور مثالوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔

متعلقہ مضامین: پاکستان کا فکری منظرنامہ : چند معروضات‬‎

مظلوم و مقہور کارڈ: ولایت فقیہ سے داعش تک مذہبی آمریتوں کے قیام کرنے کی آرزو

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.