شِکمِ مادر میں دو جڑواں بچوں کے مابین مکالمہ : پیدائش کے بعد زندگی؟

شِکمِ مادر میں دو جڑواں بچوں کے مابین مکالمہ

شِکمِ مادر میں دو جڑواں بچوں کے مابین مکالمہ : پیدائش کے بعد زندگی؟

مترجم: عاصم بشیر خان

مصنف: پابلو جے لُوئس مَولی نَیرو

  مَولی نَیرو نے یہ کہانی اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کی پیدائش  کے بعد لکھی تھی اور یہ ان کی کتاب، مورفوگونی، کا حصہ ہے جو 1980 میں چھپی تھی۔ یہ اردو ترجمہ ان کی اصل کہانی ‘لڑکا اور لڑکی’ سے ماخوذ ایک مختصر تخیلاتی تحریر کا ہے۔ مکمل کہانی کے لیے ان کی کتاب کا مطالعہ کریں۔


  

شِکمِ مادر میں دو جڑواں بچوں کے مابین مکالمہ

پہلا دوسرے سے، کیا تم پیدائش کے بعد کی زندگی پر یقین رکھتے ہو؟

دوسرے نے کہا، بے شک۔ پیدائش کے بعد کچھ تو ہوگا۔ ممکن ہے کی ہم یہاں اپنے مستتقبل کی تیاری کے لیے ہیں۔

بکواس، پہلے نے کہا۔ پیدائش کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ کیسی زندگی ہو گی وہ؟

دوسرے نے جوابا کہا، مجھے معلوم نہیں، لیکن یہاں کے مقابلے میں میں زیادہ روشنی ہوگی۔ ہو سکتا ہے ہم اپنے پیروں پر چل سکیں اور اپنے مُنھ سے کھا سکیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہمارے مزید حواس ہوں جن کا ہمیں ابھی ادراک نہ  ہو۔

جوابا پہلے نے کہا، کتنی بے تُکی بات ہے۔ چلنا پھرنا  نا ممکن ہے۔ اور اپنے مُنھ سے کھانا؟ مضحکہ خیز! آنول سے ہمیں غذا اور ضرورت کی ہر چیز مل جاتی ہے اور آنول بہت چھوٹی ہے لہٰذا دلیل و منظق کی رُو سے پیدائش  کے بعد کی زندگی کا کوئی امکان نہیں۔

دوسرے نے اصرار کیا، میرا خیال ہے کہ وہاں کچھ تو ہے اور ممکن ہے کی یہاں سے مختلف ہو۔ ہو سکتا ہے وہاں ہمیں اس غذا کی نالی کی  ضرورت ہی نہ ہو۔

پہلے نے تعجب سے کہا، کتنی لا یعنی بات، اور بالفرض وہاں زندگی ہے، تو پھر وہاں سے کبھی کوئی واپس کیوں نہیں آیا؟ پیدائش دراصل زندگی  کا خاتمہ ہے اور  پیدائش کے بعد کچھ نہیں صرف اندھیرا، خاموشی اور ویرانہ ہے۔ پیدائش ہمیں کہیں نہیں لے جائے گی۔

ٹھیک ہے، مجھے نہیں معلوم، پر یقینا ہم ماں سے ملیں گے اور وہ  ہماری حفاظت کرے گی، دوسرےنے یقین سے کہا۔

پہلے نے اچنبھے سے کہا، ماں، کیا تم ماں پر یقین رکھتے ہو؟  قہقہہ لگاتے ہوئے، اچھا اگر ماں ہے تو وہ  اس وقت کہاں ہے؟

وہ ہمارے چاروں اطراف ہے۔ اس نے ہمارا احاطہ کیا ہوا ہے۔ ہم اس کی ذات کا حصہ ہیں۔  ہم اس میں رہتے ہیں۔ اس کے بِناء یہ دنیا نہ ہو سکتی تھی اور نہ ہی رہے گی۔

پہلے نے استدلال کیا، لیکن وہ مجھے کہیں نظر نہیں آتی، پس منظقی بات تو صرف اتنی  ہی ہے کہ وہ موجود ہی نہیں۔

دوسرے نے جوابا کہا، جب کبھی تم خاموشی اور توجہ سے دھیان لگا کر سنو، تم اس کی موجودگی کو محسوس کر پاؤ گے، اور  تم اس کی پیار بھری آواز اوپر سے نیچے آتے سن پاؤ گے۔


عاصم بشیر خان اقتصادیات دان ہیں۔ پڑھنا پڑھانا، لکھنا ان کے مشاغل ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.