​معمر شہری ، گٹھڑی حلال بقچہ حرام

معمر شہریوں کی زبوں حالی

Naeem Baig
نعیم بیگ

معمر شہری ، گٹھڑی حلال بقچہ حرام

از، نعیم بیگ

اقوامِ متحدہ کی ایک ذیلی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ’’ جلد ہی پوری دنیا میں بسنے والے انسانوں میں ہر پانچواں شخص اب ساٹھ سال کا ہوگا۔‘‘ دوسرے لفظوں میں ہر پانچواں شخص اب سینئر شہری ہوگا۔ یہ انکشاف کرتے ہوئے انہوں نے اس کی وجہ غذا و تغذیہ کی بہتر ہوتی ہوئی مقدار و معیار، علاج معالجہ کی بروقت سہولت اور اچھی خوراک کا میسر ہونا قرار دیا ہے۔ اسی کے ساتھ کمیٹی نے عمر کے اس حصے میں سوشل سیکورٹی کا حکومتی احسن نظام، سماجی تن آسانی، نوجوانی میں کام کرنے کا معقول معاوضہ اور بچتوں کے نظام، حکومتی سطح پر کمیونٹی سنٹرز کی سہولیات، پنشن اور دیگر مالی وسائل کی دستیابی ٹھہرایا ہے۔

تاہم ان کا خیال ہے کہ ہم نے اگر ابھی سے عمر رسیدہ لوگوں کی بڑھتی ہوئی شرح کو مناسب حدود میں قابلِ استعمال نہ رکھا تو اس کے دور رس اثرات سے عالمی بحران پیدا ہوگا اور ایسے ممالک غیر متناسب شرحِ آبادی کی وجہ سے وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل کا شکار بھی ہو جائیں گے۔ جس میں ممکنہ طور پر موجودہ سینئر شہریوں کی سہولیات کی کٹوتی کی صورت سامنے آ سکتی ہے۔ یہی وہ لمحۂ فکریہ ہے جس پر اقوامِ متحدہ سوچ و بچار کے لیے پوری دنیا کے اہل علم و ہنر و دانش کو دعوتِ خیال دے رہی ہے۔

اس تناظر میں جب ہم اپنے ملک کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں ایک ’منفرد اور خوش نما‘ منظر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آئیے، ہم آپ کو اس منظر کے ’دل فریب اور دلکش رنگوں‘ سے متعارف کرواتے ہیں۔

پاکستان میں میسر غیرسرکاری لیکن مستند شماریات کے مطابق اس وقت ہماری آبادی تقریباً انیس کروڑ چھتیس لاکھ ہے (۱)، جو اپنے موجودہ تناسبِ نشوونما ۱.۲ فیصد کی حساب سے ۲۰۲۵ ء تک تقریباً تیئس کروڑ ہو جائے گی۔ آج کی آبادی میں معمر شہری افراد کی تعداد ( ۶۰ سال اور اوپر) دو کروڑ پچیس لاکھ ہے جو ۔۴۵.۷ فیصد جاری نمو کے ساتھ ۲۰۲۵ ء میں چارکروڑ پچاس لاکھ ہوجائے گی (۲)، جس میں دو کروڑ چالیس لاکھ مرد اور دو کروڑ دس لاکھ خواتین ہوں گی۔ تاہم اقوام متحدہ  کے ادارے، ایف ۔پی۔اے کے مطابق ہمارے ہاں یہی آبادی مجموعی طور پر چار کروڑ بتیس لاکھ ہو جائے گی۔ قطع نظر اس معمولی تفاوت کے، یہ بات طے ہے کہ اگلے دس برس تک ہمارا سماج معمر شہریوں کی کس قدر بڑی تعداد کا سامنا کر رہا ہوگا۔

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ دنیا کے کچھ ممالک میں معمر شہریوں کی عمر کا تعین ۶۰ برس ہے تو، کہیں انہیں ۶۵ برس کی عمر سے قانونی تحفظ حاصل ہے۔ ہمارے ہاں تو صرف شماریات کی حد تک بھی ابھی عمر کا تعین نہیں ہوا ہے۔ کوئی ایسی قانون سازی موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر انہیں دیگر سہولیات کا اہل قرار دیا جائے۔ موجودہ صورتِ حال تو یہ ہے کہ وفاقی یا صوبائی سطح پر ابھی تک کوئی بنیادی کام ہی نہیں ہوا ہے۔ ادارتی سطح پر نادرا نے معمر شہریوں کو تاحیات قومی شناختی کارڈ کی سہولت دینے کے لیے انہیں ۶۵ برس کا ہونا لازم قرار دیا ہے۔ بہرحال اس حکم نامے کی کوئی حیثیت نہیں جب تک وفاقی حکومت باقاعدہ کوئی بل پاس نہیں کرتی۔ صوبائی سطح پر حکومت سندھ کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ضعیف العمر شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپریل ۲۰۱۶ ء میں ایک بل پاس کرنے پر عوامی سطح پر قبولیت حاصل کی ہے، تاہم اس میں بھی عمر کا تعین اور سہولیات کا حکم صرف حکومتی کارڈ کے جاری ہونے کی صوابدید پر ہے۔ جو ظاہر ہے کہ افقی سطح اور کسی حد تک آسانی سے سب تک نہیں پہنچ پائے گا۔ یہاں انفرادی طور پر کچھ محکمانہ سہولیات کا از خود اعلان ضرور ہو چکا ہے لیکن حسبِ معمول معمر شہریوں کے لیے ایسے کارڈ کی دستیابی اور اس کے اجراء کا سوال ابھی تک حل طلب ہے۔ راقم نے مغربی ملکوں سمیت کئی ایک ممالک کا سفر کیا ہے، حتیٰ کہ انڈیا جیسے ملک تک میں ہمیشہ ریلوے اسٹیشن پر ضعیف العمر شہریوں کے فعال کاونٹر دیکھے ہیں۔ اگر کوئی شخص قطار میں موجود نہیں لیکن عملہ کاؤنٹر کے پیچھے ضرور بیٹھا ہوا پایا جاتا ہے۔

خیر یہ وہ سوالات ہیں جن کا کوئی نہ کوئی حل ضرور جلد یا بدیر نکل آئے گا لیکن راقم کے اس مضمون کا بنیادی مقصد یکسر مختلف ہے۔ ایک دھائی پہلے میرا اکثر برطانیہ جانا رہا ہے۔ اپنے ضروری کاموں سے فرصت پا لینے کے بعد مجھے ہمیشہ اپنے قریبی رہائشی علاقہ میں کسی لائبریری کی ضرورت رہتی تھی۔ سو ایک دن فرصت ملتے ہی میں نے میزبانوں سے قریبی لائبریری کا پوچھا تو انہوں نے کمال مہربانی سے بتایا کہ چند قدم پر ہی کیمونٹی لائبریری موجود ہے۔ میں نے وہاں کی راہ لی۔ دیکھا تو کیمونٹی لائبریری ایک وسیع و عریض ہال میں موجود ہے۔ جب میں اسکے مرکزی دروازے سے داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک ریسپشنسٹ ساتھ ہی ٹیبل لگائے بیٹھی ہیں۔ میں انہیں سر کی جنبش سے ہیلو کہتے ہوئے آگے نکل گیا۔ کوئی پندرہ بیس منٹ میں پوری لائبریری دیکھ لی۔ کتابوں کے سیکشن ذہن میں رکھ لئے تاکہ بوقت ضرورت مجھے کتاب مل سکے اور پھر میگزین سیکشن میں آکر ایک میگزین کی ورق گردانی کرنے لگا۔ تو وہ ریسپشنسٹ میرے پاس آئیں اورکہا، میرا خیال ہے کہ آپ یہاں نئے ہیں! میں نے آپ کو پہلے یہاں نہیں دیکھا۔ پھر اس نے چند پمفلٹ مجھے تھمائے، جو لائبریری سے متعلق تھے۔ کہنے لگیں، آپ اگر یہاں عارضی ریذیڈنٹ ہیں یا وزٹ پر ہیں آپ کے حقوق و فرائض اس میں درج ہیں۔ اگر آپ یہاں کے شہری ہیں تو تب ہماری ویب سائٹ پر آپ کو وہ سب کچھ مل جائے گا جو ہم یہاں سہولتیں مہیا کرتے ہیں۔ وہ تمام پمفلٹ پچاس برس سے اوپر ان تمام لوگوں کے لئے تھے جس میں ان کی پک اینڈ ڈراپ سے لیکر جاب دلانے تک اور دیگر مصروفیات جو کیمونٹی مفت میں فراہم کرتی ہے، درج تھے۔ مجھے احساس ہوا کہ انکی ریاست ایک لمحہ کو بھی نہیں چاہتی کہ پچاس برس یا اوپر کے لوگ اپنا وقت بلاوجہ ضائع کریں۔

مجھے اندازہ ہوا کہ پچاس برس سے اوپر کے انسان ان کے لئے ایک بہت بڑا اثاثہ بن جاتے ہیں جو جسمانی طور پر تو شاید کمزور ہوں لیکن ان کی ذہنی بصیرت، دانش مندی، تجربہ اور ہنر مندی قوم کے کس طرح کام آ سکتی ہے اس کے لئے انہوں نے کیمونٹی سنٹرز بنا رکھے ہیں۔ مجھے افریقہ اور مشرق وسطٰی میں چینیوں اور دیگر قوموں کے افراد کے ساتھ کام کرنے کا ایک طویل تجربہ ہوا، اندازہ ہوا کہ ان اقوام نے بھی بڑے پیمانے پر اس ضمن میں کام کر رکھے ہیں۔ جاپان ہی کی مثال لے لیں ان کے ہاں انسانی تجربہ ایک مستند اثاثے کی طرح مانا جاتا ہے۔ افریقہ میں تو ایک مشہور کہاوت ہے کہ ایک معمر شہری کی حیثیت ایک کتب خانے کی سی ہے۔ لہٰذا ان سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا اپنے ہی فائدے میں ہے۔

راقم کا خیال ہے کہ ہمارے ہاں ابھی ضمن میں کافی کام کی گنجائش ہے۔ ہمارے ہاں نوکری پیشہ شخص جب نوکری سے سبکدوش ہوتا ہے تو اس کے گھر والوں سمیت سبھی اسے عضوِ معطل سمجھ لیتے ہیں، اور ان کا کام صرف گھریلو مردانہ کام کاج رہ جاتے ہیں۔ گھر کی ٹوٹی پھوٹی چیزوں کی مرمت یا دودھ دہی، سبزی لانے تک کے وہ سارے کام جو پہلے نوکر یا بچے کیا کرتے تھے، ان کے سپرد کر دئے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ان حالات سے ہم آہنگی کر پاتے ہیں ورنہ اکثر لوگ اپنا ذاتی شغل یا مشغلہ نہ ہونے کی وجہ سے واقعتا عضوِ معطل ہی بن جاتے ہیں اور جلد ہی بیمار ہو کر کئی برسوں تک بستر پر رہتے ہیں تاوقتیکہ موت انہیں اٹھا لے۔

میں نے اپنے ایک دوست جو سرکاری عہدہ پر تھے سے پوچھا، کیوں صاحب آپ نے ایکسٹنشن کیوں نہیں مانگی اپنے محکمہ سے؟ وہ صاحب ایک ذہین اور ایماندار آفیسر رہے تھے۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’’ اماں، کیا بات کرتے ہو؟ ہمیں آج تک کسی نے ٹیلی فون کی ایکسٹنشن نہیں دی۔ سروس کی ایکسٹنشن کون دیتا۔‘‘ بظاہر یہ جواب بذلہ سنجی کی بہترین مثال ہے لیکن اس کے اندر جو کرب چھپا ہوا تھا وہ صرف میں ہی انہی کے چہرے پر دیکھ سکتا تھا۔ یہ شہری علاقوں کی بات ہے، دیہی آبادی میں تو اور بُرا حال ہے، جسمانی مشقت سے آدمی پچاس برس میں ستر برس کا لگتا ہے۔ لیکن اس وقت ہم اس بات پر گفتگو کر رہے ہیں کہ کس طرح ساٹھ برس کے بعد ان کی ذہانت و بصیرت، ہنر اور تجربے سے قومی افادہ حاصل کیا جائے۔

ریاستی سطح پر تو اگر قانون سازی ہو جائے یا اس سے بڑھ کر کوئی اقدامات کئے جائیں تو بلاشبہ یہ ایک مستحسن عمل ہوگا، تاہم راقم کی نظر میں ہمارے ہاں انفرادی سطح پر فلاح و بہبود کے کاموں میں حصہ ڈالنے کا جذبہ بے حد توانا ہے، لیکن بد قسمتی سے انہیں کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی۔ ایدھی جیسے دیگر فلاحی ادارے اپنی اپنی سطح پر ضرور اچھے کام کر رہے ہیں لیکن ضعیف العمر شہریوں کی طرف توجہ بہت کم ہے۔

ہم اربوں روپیہ سالانہ مذہبی فریضوں کی ادائیگی پر خرچ کرتے ہیں۔ سماجی رتبے اور دکھاوے کے لئے بلاجواز ہزاروں لوگ بار بار حج و عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کی سعی میں مصروف ہیں۔ ملکی سطح پر اگر یہ قانون بن جائے اور بار بار کے ان مقدس سفر کی بجائے اندون ملک ان سفری اخراجات کو غیر ریاستی سطح پر یا فلاح و بہبود کے اداروں کے توسط سے خرچنے کی کوئی سبیل نکالی جا سکتی ہے جس سے ہزاروں لائبریریاں اور کیمونٹی سنٹرز کھل سکتے ہیں، جہاں بچوں سے لیکر معذور افراد اور عمر رسیدہ مرد و خواتین کے تجربے کو مزید قومی اثاثوں میں بدلا جا سکتا ہے۔ میڈیا اس ضمن میں خصوصی کردار ادا کر سکتا ہے شرط ہے کہ میڈیا کے باعمل صحافی دوست مالکان کے چنگل سے نکل آئیں اور کچھ فلاح و بہبود کی طرف توجہ دیں۔ ڈاکٹرز اور دیگر صحت کا عملہ اس قومی و سماجی فریضہ میں اپنے کردار کا تعین کر سکتے ہیں۔ ادیب و شاعر مضامین اور نظموں میں اپنا قلم کا زور صرف کر سکتے ہیں تاکہ رائے عامہ ہموار کی جا سکے۔

راقم اس مختصر مضمون کے وساطت سے یہ تمنا ہی کر سکتا ہے کہ اگر ریاست، پارلیمان یا حکومت سماجی سطح پر ایک بڑے لیکن اعزازی سوچ و بچار کا کوئی فورم بنائے جس میں معمر شہریوں کے فلاح و بہبود اور ان کے تجربے کو اثاثہ سمجھتے ہوئے قومی مفاد میں انہیں قابلِ استعمال بنائے جانے کے طریقِ کار کو تجویز و طے کیا جائے تو یقیناً اس ملک میں دانش و بصیرت کی کوکھ سے جنم لینے والے عوامل کی عالمی سطح پر بھی پذیرائی ہو سکتی ہے اور گٹھڑی حلال اور بقچہ حرام کو رد کرتے ہوئے ساڑھے چار کروڑ انسانوں کو عضوِ معطل بنا دینے کی بجائے سماجی بھلائی میں قابل عمل کردار دے کر انسانیت کی خدمت کی جا سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالا جات مضمون

۱۔ ( ورلڈ میٹرز انفو ۔ آن لائن )

۲۔ روزنامہ ڈان کراچی پاکستان

About نعیم بیگ 144 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔