جا، قمر زمان کائرہ کے قمر جا ڈوب جا، ایک پُرسہ

لکھاری کی تصویر
یاسر چٹھہ

جا، قمر زمان کائرہ کے قمر جا ڈوب جا، ایک پُرسہ

از، یاسر چٹھہ

کل کا سوشل میڈیا avoid کر رہا ہوں۔ آس یہ ہے کہ بات شاید ذہن سے نکل جائے گی۔ بار بار نہیں دیکھوں گا کہ فیس بک/ٹویٹر پر لوگ کیا کہہ رہے ہیں، قمر زمان کائرہ پر کون سا کرب و بلا ٹوٹا ہے، تو کچھ نیا نقش ذہن پر بن جائے گا۔

لیکن حزن ہے کہ جاتا نہیں۔ نظر انداز کر رہا ہوں۔ نظر انداز ہو نہیں رہا۔ بار بار آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ بار بار انہیں خشک کرتا ہوں۔

اتفاقات بھی تو سازش کا حصہ ہوتے ہیں۔ دو پہر کے وقت کسی کام نکلا ہوا تھا، سہ پہر دیر تک پتا لگ گیا تھا۔ ایک چپ سادھ لی تھی۔

شام کو عرفانہ (میری شریکِ حیات) دفتر سے واپس آتی ہیں۔ ہر روز عادتاً وہ آ کر مجھ سے دن کے اہم وقوعات کے متعلق بات کرتی ہیں۔ کتنی ایسی باتیں جنہوں نے نشر و شائع نہیں ہونا ہوتا، وہ بتاتی ہوتی ہیں۔ جن کے متعلق عام لفظوں کی دکان داریوں میں، سکرینوں کی تماش کاریوں میں، سوشل میڈیا کی blitzkrieg میں، اور ہوٹلوں، چائے کے کھوکھوں، تنوروں پر روٹی لینے کے لیے آئے ہوؤں، افطار پارٹیوں پر موجود کنکریٹ ٹُھنسے تبصروں اور ان سے آنکھ کھولتے بر جستہ فیصلوں میں بالکل مختلف انداز سے بات ہونا ہوتی ہے۔ وہ اسی عادت میں کل بھی بات بتاتی ہیں۔ لیکن اس بابت کیا تھا، یہ تو کوئی ایسی ویسی بات نا تھی۔

عرفانہ نے کل آتے ہی ایسے بات کرنا شروع کی جیسے ہم دونوں ایک دوسرے کو پرسہ دینا چاہ رہے ہوں۔ حالاں کہ میں اس نا گہانی کو بیان سے باہر رکھ کر، اس پر بات نا کر کے، اس پر خاموش رہ کر اس حادثے کی ابتلاء کو سہلانے کی کوشش میں ہوں۔ اپنی سماعتوں کو، اور اپنی سماعتوں کو وجودیت کی رَڑَک بننے کے آگے بند باندھنے کی کوشش کرتا ہوں۔

ایسا کیوں نا ہو کہ آخر کائرہ صاحب جیسے لوگوں سے بہت سے ناتے اپنے احساس پال لیتے ہیں۔ کائرہ پنجاب میں پیپلز پارٹی اور خرد و ہوش مندی کی نا صرف اہم آواز ہیں، بَل کہ پنجاب میں کچھ زیادہ ہی ضرورت کا حوالہ ہیں۔ جب منڈی بہاؤ الدین اور سرگودھا سے پیپلز پارٹی کی با معنی آوازیں وقت کے ستم کے ہاتھوں وسیع تر ملکی مفاد کی عصری پارٹی میں گئیں تو کتنے دن صدمے سے دو چار رہا۔ ان دنوں سرگوشیاں تھیں کہ شاید کائرہ صاحب بھی… لیکن کائرہ صاحب نے پنجاب کے پتھریلے اور سطحِ مرتفع کے اضلاع کے قریب کے ضلع لالہ موسیٰ میں آنے والے selectioniat میں شکست کا زخم لینا گوارا کر لیا، رسمِ وفا نبھانا موقوف نا کیا۔ (میرے پنجاب کی لاج، میرے پنجاب کی شان… وہ شان کے جن جیسوں کی ہم دیکھتے ہیں آوازیں نقار خانے میں طوطی ہوتی جاتی ہیں۔) سیاسی اور فکری رشتوں کے علاوہ دیگر انسانی رشتے اور ناتے بھی تو بہت اہم ہوتے ہیں۔ ایک حوالہ اور ہے۔ قمر زمان ایک والد بھی تو ہیں۔

جب اولاد جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہی ہو تو والدین اکثر گھر کے پیر ہی بن جاتے ہیں۔ آپ انہیں لاکھ احتیاط برتنے کا کہیں وہ آپ کو خبطی اور وقت سے باہر کی سوچ والے کہتے ہیں۔ کچھ سال دو سال پہلے اپنے عزیزوں نو جوان بچے کو موٹر سائیکل پر one wheeling اور سپیڈ بازی کی لَت پڑ گئی۔ جب وہ نو جوان اس کام میں مشغول ہوتے تو والدین پر کیا بِیت رہی ہوتی تھی، اسے بیان نہیں کرتا، بَل کہ آپ کے احساس کے سپرد کرتا ہوں۔

نو جوانوں اور بچوں کو اپنی عمر اور ہارمونوں کی مچلتا میں احساس نہیں ہو پاتا کہ ان کی ماں اور باپ انہیں کیسے پَل سے پَل، دن سے دن، بیج سے پودا اور پودے سے درخت بناتے ہیں۔ ان کے جوان ذہن اور  دماغ کی جانب تیزی سے جاتے خون سے نو جوانوں کو احساس ہوتا ہے کہ وہ شاید ایک لمحے میں اتنے بڑے ہوئے گئے اور فہم بھی اتنی جلدی سے حالص ہو گیا۔ انہیں کلاک اور کیلنڈر کا فرق معلوم کرنے میں وقت لگتا ہے۔ یہ توقع کرنا کہ وہ سورجوں اور چاندوں کو گننے کی محنت کو فوری سمجھ پائیں گے، خیال کی خامی ہو سکتی ہے۔ کبھی کسی نے پوچھا تھا کہ انسان کو کیسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پختہ عمر میں پہنچ گیا ہے؛ عرض کیا تھا جب کسی کو ماں اور باپ کی بِپتائیں اور حزن سمجھ آ جائیں اس دن وہ اس لمحے کو اپنے آپ کو ذی فہم و شعور سمجھنے کا خفیف سا اشارہ جان لیں۔

اپنے ہارمونوں، پاؤں کے پنجے، ہاتھ کی انگلیوں کے  ایندھن کے زور پر گاڑیاں دوڑانے کا ذوق رکھنے والے اپنی زندگی اور دوسروں کی زندگیوں کو صرف ایک پَل کا پگھلتا انجماد مانتے ہیں؛ وہ کتنے سارے لمحوں، کئی ایک سورجوں اور چاندوں کی گنتی کو اور ان کی ٹِیسوں اور مسکراہٹوں کا حساب رکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

قمر زمان کائرہ کے جوان سال فرزند کا شمار بھی انہی سیاقوں اور اسباب میں ہے۔ اس نو جوان کو سنسنی عزیز تھی، اسے اس پختگی کو پانے میں ابھی بہت وقت تھا جب انسان پھول کھلنے کی رفتار سے سوچتا ہے، جب پودے کے بڑھنے کے آہنگ سے فیصلے لیتا ہے۔ اور کائرہ کا قصور یہ ہے کہ وہ پختہ عمر میں ہے۔ دیکھیے کتنا بڑا قصور ہے۔

ہم سب نے یہ دنیا چھوڑنی ہے، لیکن کیسے چھوڑنی ہے، کب چھوڑنی ہے وہ فرق رہتا ہے۔ قمر زمان کائرہ کا قمر آسمان پر اپنا روح افزا نور پھیلانے سے کل مُنکر ہو گیا۔ ہم کائرہ زمان کائرہ کا قمر واپس نہیں لا سکتے۔ لیکن ہم کائرہ کے ساتھ ہیں، اپنی بھیگی آنکھ کے ساتھ، اپنی یاد کے ساتھ۔ ہم نے بھی کل کا خود سے وعدہ کیا ہے کہ اپنے صحن کے درختوں پر گیت گاتے پرندوں کو اپنی سماعتیں نہیں دیں گے، اپنے گھر کے سامنے کے باغیچے میں سَرِ پُر اعتماد بلند کیے سورج مُکھی کی طرف مُنھ نہیں کریں گے۔ ہم لطف سے انکار رکھیں گے۔ کائرہ صاحب، ہمارے یہ لمحے اور ہمارے اپنے آپ کو انکار کرتے لمحوں کے انکار، آپ کے اس درد جس کو زبان میں لانا محال ترین ہوتا ہے، آپ کے دکھ، آپ کے حُزن کے حوالے کرتے ہیں۔ ہم آج کے دن اپنے ہارمونوں، اپنے پاؤں کے پنجوں، ہاتھ کی انگلیوں کے ایندھن کے زور پر چلنے والی اپنی گاڑی کو اپنی سی رفتار سے بھی چلانے سے انکار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس اور کچھ ہے بھی تو نہیں۔

جا قمر زمان کائرہ کے سخت دل قمر تو ہمیشہ کے لیے ڈوب جا۔ تجھے رفتار اور جلدی پہنچ جانے کی فکر اور دھن مبارک ہو، تمہارے پیدا کرنے والوں کو تمہارے دکھ اور حُزن کا اثاثۂِ پُر خاش قبول ہو۔

About یاسرچٹھہ 137 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔