ڈیوڈ ہیوم نے کانٹ کو کس سپنے سے جگایا

Naseer Ahmed, the writer

ڈیوڈ ہیوم

از، نصیر احمد

کیا بات ہے جی تخریبی دیو کی؟ فلسفیوں میں بڑا نام ہے ان کا۔ ایڈم سمتھ تو ان کے دوست تھے اور ان کے خیال میں فطرت کے اختیار میں ہی نہیں تھا کہ ڈیوڈ ہیوم سے زیادہ نیک اور دانا شخص پیدا کر سکے۔ کانٹ بھی کہتے تھے کہ ہیوم نے انھیں نظریاتی سپنے سے جگایا۔

برٹرینڈ رسل کہتے ہیں کہ کانٹ تھوڑی ہی دیر جاگے لیکن بعد میں پھر اپنا ایک نظریاتی نظام وضع کر کے سو گئے۔ برٹرینڈ رسل ہیوم کو لائق فائق مانتے تو ہیں لیکن ان کے خیال میں ہیوم کی حد سے بڑی ہوئی تشکیک نے تجربہ پسندی یعنی یہ خیال کہ علم کا ماخذ حسیات ہیں کو تباہ و برباد کر دیا۔ لیکن جو ہیوم کچھ انسانی فطرت کے ساتھ کر چکے تھے، اسی قسم کا تجربہ برٹرینڈ رسل نے منطق کے ساتھ کیا تھا لیکن نتیجہ اس کا بھی ایک مخمصہ سا ہی نکلا تھا کیوں کہ منطق حسیات کے کچھ قابو نہیں آئی تھی۔ اور اس مخمصے کو رسل کا پیراڈوکس کہتے ہیں۔ پھر رسل کی عدالت بڑی سخت گیر عدالت ہے جس میں ان کے اپنے سوا کسی کو بری نہیں کیا جاتا۔ افادیت پسند جرمی بینتھم بھی ڈیوڈ ہیوم کے مداح ہیں کیوں کہ ان کے درد و لطف کے خیالات کو ہیوم کے فلسفے سے کافی مدد مل جاتی ہے۔

ہیوم اٹھارویں صدی میں سکاٹ لینڈ کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا تھے۔ باپ ان کے ہیوم کی دوسری سال گرہ سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔ ماں نے اکیلے ہی ہیوم اور ان کے بہن بھائیوں کی پرورش کی۔ چھوٹی سی جاگیر تھی ،اس لیے گزارا ہو جاتا تھا۔ پھر مائیں تو مائیں ہوتی ہیں۔ انھوں نے جلد ہی جان لیا کہ لڑکا ہونہار ہے اور دس سال کی عمر میں ہی بھائی کے ساتھ ایڈنبرا یونیورسٹی بھیج دیا۔ توقع یہ تھی کہ قانون دان بن کر نکلیں گے مگر وہ معمائے ہستی اور کائنات کی ترتیب سیدھی کرنے میں مصروف ہو گئے۔


مزید دیکھیے: ایڈم سمتھ کا خط


لیکن کام یہ مہنگا ہوتا ہے اورشاید غربا اور فقرا کو یہ کرنا بھی نہیں چاہیے کیوں کہ معاملات مشکل ہو جاتے ہیں۔ فلسفے کے ساتھ ایک انا تو بنتی ہے جو سلاطین کو کچھ نہیں سمجھتی اور حالات یہ ہوں کہ گلی سے باہر نہ نکل سکیں کہ قرض خواہ گلی میں ہی دامن چاک کر دیں گے تو ایک بے اطمینانی جان کھاتی رہتی ہے۔ ہمارے ہاں فلسفی تو ہوتے نہیں، ایک شاعر غالب تھے جو قرض کی مے پیتے تھے اور مسائل تصوف بیان کرتے رہتے تھے۔ عرش سے پرے مکان کو اپنا حق سمجھتے تھے اور بلی ماروں کے محلے میں اپنی ہی تذلیل کرتے رہتے تھے۔لیکن جو کام کرنا لوگوں کو اچھا لگتا ہے ،وہ کرتے رہتے ہیں اور بہت اچھا ہے تو کچھ مہربان بھی مل جاتے ہیں کچھ مداح بھی۔ معاملات چلتے رہتے ہیں۔

ہیوم کو تو یہ مسئلہ بھی درپیش آیا جیسے ہی انھوں نے اپنے فلسفے کے بنیادی فیچر طے کیے اسی وقت ان کے کفر کی شہرت بھی ہو گئی جس کی وجہ سے اچھی نوکریوں کے دروازے ان پر بند ہو گئے۔ لیکن ان کے کنبے کٹم والے کچھ اچھے تھے اور ہیوم دوستوں کی محفلوں کی جان تھے، اور انھیں کچھ یہ سمجھ بھی آ گئی تھی کہ کفایت شعاری فلسفے کی محبت کو بچا سکتی ہے۔
ہیوم کے ایک عزیز تھے ا انھوں نے ہیوم کو پیرس میں برطانیہ عظیم کے سفارت خانے میں نوکر کروا دیا اور پیرس کے دانشوروں اور خواتین میں ہیوم کو بہت مرتبہ و مقام ملا۔

ہیوم اچھے کھانوں اور اچھی شرابوں اور امیر خواتین سے گپ شپ کے شیدائی تھے، یہ سب میسر آیا تو جیسے ان کی نکل پڑی۔ شروع شروع میں ان کے فلسفے کی کچھ پذیرائی نہیں ہوئی جس کا غم انھوں نے اپنی طبعی شگفتگی کے وفور میں بھلا دیا۔ واپس آئے تو ٹوریوں کی پسند کی انگلستان کی تاریخ لکھی۔ اور ٹوریوں کے ساتھ کچھ معاملہ ہو جائے تو کریانے کی دکان سے محل تک کا سفر سہل ہو جاتا ہے۔

اس لیے ہیوم کافی امیر ہو گئے۔ اب فلسفے پر توجہ بھی زیادہ ہونے لگی اور ہیوم کے فلسفے کی پسندیدگی بھی بڑھ گئی لیکن کفر کی شہرت کے ارد گرد بننے والےمسائل ہیوم کا پیچھا کرتے رہے اس لیے یونیورسٹی میں فلسفے سے متعلق شعبوں میں سربراہی کا اعزاز ان سے دور ہی رہا کہ کفر آڑے آ جاتا تھا۔

اب ایڈنبرا کے فلسفیوں کے دائروں میں ان کا بڑا نام تھا اور ایک لائیبریری کے انچارج بھی تھے۔ اور لوگوں کو وہ پسند کرتے تھے اور لوگ انھیں۔ اور پھر ان کی مجلس ان کے علم وفضل اور ان کی طبعی شگفتگی کی وجہ سے تفہیم و ظرافت کا ایک گلزار سا بن جاتی تھی اس لیے ہر قسم کے لوگ انھیں چاہتے تھے۔

آخری عمر میں انھیں انتڑیوں کے سرطان کا مرض لاحق ہوا اور لوگ قیافے کرنے لگے کہ کافر اعظم موت سے کیسے نبرد آزما ہو گا۔ایڈم سمتھ کے ایک مشترکہ دوست کے خط میں ہیوم کی موت کا حوصلے سے سامنا کرنے کی روداد بھی ہے۔ انتہائی تکلیف کے باوجود جتنا زندگی کو شگفتہ اور معنی خیز رکھنا ہیوم کے لیے ممکن تھا، اتنا وہ مرتے دم تک کرتے رہے۔ اور مذہب کے بارے میں ان کے عالمانہ شکوک تھے وہ بھی انھوں نے بستر مرگ کے باوجود برقرار رکھے۔

کسی نے پوچھا بھی کہ اب وقت آ گیا ہے تو کیا سوچتے ہو حیات بعد ازممات کے بارے میں۔ ہیوم نے جواب دیا کہ کوئلے کو شاید اب آگ نہ جلائے اور یہ کہ ہم ہمیشہ زندہ رہیں گے مجھے تو احمقانہ سا سپنا ہی لگتا ہے۔ پوچھنے والا کچھ پریشان سے ہو گیا۔ اسی طرح شگفتگی سے درد سہتے ہیوم سترہ سو چھہتر میں مر گئے۔
ان کی اہم کتابوں میں انسانی فطرت پہ ایک رسالہ، انسانی تفہیم کے بارے میں تحقیق، دین فطرت پہ ایک مکالمہ اور اخلاقیات کے بنیادی اصول شامل ہیں۔

ان کے فلسفے کا پروجیکٹ کافی اہم ہے۔ بنیادی طور پر وہ فلسفہ، نفسیات، اخلاقیات اور معاشریات جیسے موضوعات پر سائنسی طریقہ کار کا اطلاق کر کے ان علوم کے نیوٹن بننے کے آرزو مند ہیں۔ اور یہ پروجیکٹ ابھی تک موجود ہے۔ ایک لحاظ سےآپ ان کو موجودہ سوشل سائنسز کو نیچرل سائنسز کے قریب لانے کے اولین فلسفی کہہ سکتے ہیں۔ اور ان کی بنیادی تفہیم ہر طرح کے معاشرتی علوم میں جھلکتی ہے۔

لیکن ہمارے خیال میں اس پروجیکٹ کا بنیادی مسئلہ انسانی دماغ کی تفہیم ہے اور وہ ابھی تک بہت ساری ترقی کے با وجود کھٹائی کا شکار ہے۔ مثال کے طور پر نفسیات میں تصویروں کے ذریعے دماغ کے حصوں کی حرکت کا مشاہدہ کیا جاتا ہے لیکن ہیوم نے وجہ اور نتیجے کے جو پیچیدہ سلسلے اجاگر کیے تھے، وہ ابھی تک موجود ہیں اس لیے بات یہاں تک نہیں پہنچی کی سائنس دان یقین سے کہہ سکیں کہ دماغ کا معما حل ہو گیا۔ لگتا ہے کہ دماغ کے معاملے میں شاید انسانیت کافی لمبے عرصے تک انسانی فطرت پر رسالے لکھتی رہے لیکن ہر رسالے کے ساتھ تفہیم بہتر ہورہی ہے اور نئی نئی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔

ہیوم کے خیال میں جنھیں ہم پیچیدہ خیالات کہتے ہیں اگر ان پیچیدہ خیالات کے ٹکڑے کیے جائیں تو ان پیچیدہ خیالات کا حسی تجربوں میں سراغ مل جاتا ہے۔جیسے ہم جنت کے بارے میں سونے کے دروازے اور دودھ کی نہروں جیسے تصورات کا سامنا کرتے رہتے ہیں۔ ہم نے سونا بھی دیکھا ہوتا ہے اور دروازہ بھی دیکھا ہوتا ہے ، دودھ بھی دیکھا ہوتا ہے، نہریں بھی دیکھی ہوتی ہیں اور دو سادہ خیالات کو آپس میں ملا کر ایک پیچیدہ خیال ترتیب دے لیتے ہیں۔ ہمارے حسی تجربات اور ان کی یادیں اس سادگی اور پیچیدگی کی کنجی ہیں۔

دوسرا ان کا اہم خیال وجہ اور نتیجے کے درمیان رابطہ ہے اور اس رابطے کے بارے میں ہمارے فیصلوں کے بارے میں ہیوم کافی مشکوک ہیں۔ جس کی وجہ سے کل کےسورج نکلنے کا بارے میں، اسپرین سے سردرد کا علاج کرنے میں، سفید کوے کی عدم موجودی اور بلئیرڈز کی گیندوں کے ایک دوسرے سے ٹکرا کر حرکت کرنے جیسے معاملات میں ہمارے یقین سے ہیوم کچھ متفق نہیں ہیں۔

ان کے خیال میں ہمارے یقین کی وجہ ہمارے تعصبات اور تجربات ہیں ورنہ کل کے سورج کے بارے میں ، اسپرین کے سردرد کے لیے شافی ہونے کے بارے میں، اور سفید کوے کے امکان کے بارے میں پر یقینی ایک ترجیح تو ہے لیکن خرد سے اس کی کوئی حتمی حمایت نہیں ملتی۔ کیا پتا ہو، سفید کوے کہیں موجود ہوں، کل کا سورج نہ نکلے، اور سر درد میں کمی کسی ایسی وجہ سے آئی ہو جس کے بارے میں ہم سوچنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور گیندوں کے ٹکراؤ کے لوچے میں ایسی کوئی بات ہو جس پر ہم توجہ نہیں دے رہے۔

پرانے فلسفوں کے حوالے سے اس طرح کی تشکیک پر کچھ فلسفیوں کے خیال میں امام غزالی کے بھی ہیوم پر اثرات ہیں۔ یعنی خرد معاملے کے ایک دو زاویے پکڑ کر نشے میں آ جاتی ہے اور وضاحت کے سلسلے میں کئی امکانات نظر انداز کرنا شروع کر دیتی ہے۔ برٹرینڈ رسل ہیوم کی اسی بڑھی ہوئی تشکیک پسندی کا گلہ کرتے ہیں مگر ہیوم کی بات بھی درست بھی ہے کہ اگر ہم حتمی فیصلے دینا شروع کر دیں تو کاروان علم تو تھم ہی جاتا ہے۔ اور اس کاروان کو تھمنے سے روکنے کے لیے ایک صحت مند سی تشکیک پسندی ضروری ہے۔

اخلاقیات کے سلسلے میں وہ سمجھتے ہیں کہ ہمدردی اخلاقیات کا بنیادی محرک ہوتی ہے اور اس کی وجہ وہ مشہابہت میں ڈھونڈتے ہیں کہ ایک دوسرے جیسا ہونا ہم دردی کی ایک وجہ بن جاتا ہے۔ مرچنٹ آف وینس میں اس یہودی شائیلاک کا مکالمہ تو یاد ہی ہوگا ناں جس میں وہ اپنے عیسائی مخالفوں سے گلے کرتا ہے کہ ہم سے اتنی نفرت کیوں ہے جس کی وجہ سے ستاتے ہو ورنہ آنکھیں تمھاری بھی ہیں، آنکھیں ہماری بھی ہیں، اور درد تمھیں بھی ہوتا ہے اور درد ہمیں بھی ہوتا ہے۔

اسی بات کو لے کر بعد میں جرمی بینتھم نے جانوروں کے حقوق کی وکالت کی ہے ہے کہ سوال یہ نہیں ہے کہ حیوان سوچ نہیں سکتے بل کہ سوال یہ ہے کہ کیا انھیں درد ہوتا ہے۔ ہیوم کے خیال میں قربت اس ہم دردی کے جذبے کو فزوں کرتی ہے اس لیے جن لوگوں کو ہم اپنے قریب سمجھتے ہیں ان سے ہمیں ہم دردی بھی زیادہ ہوتی ہے۔

ذاتی مفاد پر اخلاقیات کی بنیاد کے ہیوم حامی نہیں ہیں۔ ہیوم کے خیال میں لوگ مہربانی، انسانیت، اور عوام کی فلاح کے جذبے کی پسندیدگی کی وجہ ان خوبیوں کا دوسروں کے لیے مفید ہونا ہے۔ اگر دوسروں کی بہبود کا لوگوں کو کچھ خیال نہ ہوتا تو وہ قصوں کہانیوں کے کرداروں کو بھی پسند اور ناپسند نہ کرتے۔ اور دوستوں سے اچھائی بنیادی طور پر اس لیے کی جاتی ہے کہ ان سے محبت ہوتی ہے۔ یعنی محبت کی بنیادی وجہ ذاتی مفاد نہیں ہوتی اور فطرت کے قریب یہی ہے کہ محبت خوشی کے لیے جائے نہ کہ سلطنت کھڑی کرنے کے لیے۔ ذاتی مفادات کا کیس بھی کافی مضبوط ہے لیکن جو ہیوم کہہ رہے ہیں وہ بھی سچ ہے کیوں کہ دوسروں کے بھلائی کے لیے ہم دردی کے جذبے نے دنیا میں بہت ساری اصلاحات لانے میں مدد کی ہے۔

انصاف کے معاملے میں ہیوم ذاتی مفاد کو کچھ اہمیت دیتے ہیں مگر بنیادی بہت پھر بھی ہمدردی، فیاضی اور اخلاص جیسے جذبات کی کرتے ہیں۔ دوئی ان کے نظام کا ایک بہت اہم پہلو ہے۔ خیالات کی دو قسمیں ہیں، یعنی ایک فوری حسی تجربہ اور اس کی یاد۔ پرانے فلسفوں پر تنقید اور ہیوم کے اپنے حل کی دوئی بھی ان کے نظام میں شامل ہے اور انصاف بھی ایک جو فطرت نے عطا کیا ہے جیسے ایک خوشی پسند فیاض طبیعت اور قوانین کا ایک نظام جو ملکیت اور دوسرے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ اور یہ دونوں چیزیں مل کر ایک پر امن زندگی تشکیل کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔ یعنی ہمارے زمانے میں ہیوم ہوتے تو درد بدر ٹھوکریں ہی کھاتے۔لیکن انسانی زندگی کی بہتر شکلوں کی طرف ان کی یہ رغبت زندگی کو شجرظلمت کی سیاہی میں روشنی بنی ہی رہتی۔ انصاف کے سلسلے میں ایک چالاک بد معاش ہیوم کا مسئلہ ہے جو ان خوبیوں اور ان خوبیوں پر مبنی قوانین کا استحصال کرنے کے لیے تیار ہے اور ہیوم کے خیال میں ایسے کو روکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے اندر کے اچھے انسان کو شکست دے چکا ہوتا ہے۔

ہیوم نے کافی سارے معاملات پر بحثیں کی ہیں اور اس مختصر سے مضمون میں ان کا تفصیلی جائزہ نہیں لے سکتے۔لیکن انسانی فطرت کی سعادت پر اس کا نکتہ نظر انسانیت کے لیے کافی مفید رہا ہے۔خرد کے بارے میں وہ مشکوک ہی رہے ہیں ان کے خیال میں جذبات خرد پر کچھ اس طرح اثرانداز ہوتے ہیں کہ خود بھی خیال نہیں رہتا کہ کسی نکتہ نظر کے پیچھے جذبات کام کر رہے ہیں جسے ہم خود پسندی کی وجہ سے ایک غیر جذباتی اصول کہنے لگتے ہیں۔ ہمارے خیال میں تفہیم کی راہ میں اس بات کا احساس بھی تفہیم کا معیار ہی بہتر کرتا ہے۔
حافظ کا ایک شعر ہے

حدیث از مطرب و می گوئی اور راز دہر کمتر جو
کہ کس نگشود و نگشاید بحکمت این معما را

کہ مطرب اور مے سے دل بہلاؤ اور دنیا کے رازوں کی زیادہ تلاش نہ کرو کہ عقل و حکمت سے معما کسی نے ابھی تک نہیں سلجھایا۔
یہ شاید سرور پسندوں میں مشترک ہوتا ہے کہ ایک سطح پر وہ حکمت کے حوالے سے مشکوک ہو جاتے ہیں لیکن ہیوم کے فلسفے کے بڑے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں ،قانون، اخلاقیات اور عوامی پالیسی پر۔ اس لیے تھوڑی مایوسی، تھوڑی تشکیک کے باوجود کائنات کی ترتیب سلجھانے کی کوشش جاری رکھنی چاہیے کہ جتنے معاملات سلجھتے ہیں وہ خرد نے ہی سلجھانے ہوتے ہیں اور علم کا رشتہ اگر حسیات سے نہ ٹوٹے تو چیزیں ایجاد ہوتی ہی رہتی ہیں۔

پس نوشت:

(اس مضمون کے لیے ہم نے سٹینفورڈ کی ویب سائٹ اور ہیوم پر الیسٹئیر میکفارلین اور یوجین ارنشا کے مضامین اور اپنی یاد داشت سے مدد لی ہے۔)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.