بچوں سے بڑا سکول کا بستہ کیسے کم ہو؟

سکول کا بستہ

بچوں سے بڑا سکول کا بستہ کیسے کم ہو؟

از، نیئر عباس

تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر اسے آسان بنانا انتہائی اہم ہے۔ اس مقصد کے لیےہر ممکن قدم اٹھایا جانا چاہیے تا کہ تعلیم کو پھیلایا جا سکے اور اسے ایک دل پسند عمل بنایا جا سکے۔ ہمارے معاشرے میں تعلیم کا عمل مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے والوں کو ہر سطح پر سہولیات فراہم کی جائیں اور ہر قسم کی تکالیف کو دور کیا جائے تا کہ علم حاصل کرنے والوں کی دل چسپی برقرار رہے۔

بچوں کو تعلیم حاصل کرنے میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ان ہی میں سے ایک ان کےبھاری بستے ہیں جو وہ ہر روز سکول لاتے اور لے جاتے ہیں۔ پڑھنے والوں نے بھی یہ منظر دیکھا ہو گا کہ بچے کتنی مشکل سے یہ بستے اٹھائے ہوئے سکول آتے جاتے ہیں۔ اس مضمون میں بچوں کے بستے ہلکے کرنے  کے لیے ایک تجویز پیش کی گئی ہے۔

عام طور پر بچے اپنے ساتھ سات آٹھ کاپیاں یا نوٹ بکس سکول لے کر جاتے ہیں جن پر اساتذہ لکھائی کراتے ہیں۔ اس کے علاوہ چھ سات کتابیں بھی ساتھ ہوتی ہیں۔ پھر قلم، دوات اور جیومیٹری باکس وغیرہ بھی بستے کا حصہ ہوتے ہیں اور یہ سب مل کر بستے کو اتنا وزنی بنا دیتے ہیں کہ اسے اٹھانا ایک تکلیف دہ عمل بن جاتا ہے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پڑھائی کے لیےیہ سب سامان نا گزیر ہے اور اس سے بستے بھی بھاری ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ بستے ہلکے کرنے کے لیے کوئی ایسا لائحۂِ عمل اپنایا جانا ضروری ہے جس سے بچوں کے لکھنے پڑھنے کے سامان میں کمی بھی نہ آئے اور ان کے بستے بھی ہلکے ہو جائیں۔


مزید دیکھیے:  تعلیمی نا رسائی از، ڈاکٹر شاہد صدیقی

تعلیمات: مذہبی اور دنیاوی نظام تعلیم کی بحث  از، ڈاکٹر فاروق خان


اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کہ سات یا آٹھ نوٹ بکس روزانہ لے جانے کے بجائے بچے دو نوٹ بکس رکھیں اور ان میں سے ہر ایک کے تین یا چا ر حصے کر دیے جائیں مثلاً ایک حصہ اسلامیات  کے لیے ایک اردو کے لیے ایک نگریزی کے لیے وغیرہ وغیرہ۔ بچے تین یا چار مضامین ایک دن پڑھیں اور تین چار دوسرے دن۔ اس طرح انہیں صرف ایک نوٹ بک روزانہ لے جانی پڑے گی۔

اس میں ایک مسئلہ یہ ہے ایک نوٹ بک کے اگر چار حصے کیے جائیں تو ایک مضمون  کے لیے نوٹ بک میں کم جگہ ہو گی۔ اس کا حل یہ ہے کہ جب ایک نوٹ بک ختم ہو تو دوسری استعمال میں لائی جائے۔ گویا ایک نوٹ بک میں ایک مضمون کا ایک یا دو اسباق یا ان اسباق کی مشقیں لکھی جا سکیں گی۔ جب ایک نوٹ بک مکمل ہو جائے تو پھر طلبا اسے گھر پر رکھیں اور دوسری نوٹ بک لے آئیں۔

یہی طریقہ کتابوں کے ساتھ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ طلبا ایک یا دو کتابیں ساتھ لے کر جائیں اور ہر ایک کتاب کے تین یا چار حصے کیے جائیں۔ ایک مضمون کی کتاب کا فقط ایک یا دو سبق اس کتاب کا حصہ بنائے جائیں۔ جب ایک کتاب مکمل ہو تو پھر دوسری کتاب استعمال کی جائے۔ عام طور پر آرٹس کے مضامین مختصر ر کھے جاتے ہیں اور سائنس کے مضامین نسبتاً لمبے ہوتے ہیں۔ لہٰذا آرٹس کے مضامین کے حصوں کو ایک کتاب کا حصہ بنایا جا سکتا ہے اور سائنس کے مضامین کو دوسری کا۔

اس طریقۂِ کار میں چند مسائل بھی پیش آ سکتے ہیں جن کا حل تجویز کیا گیا ہے۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک مضمون کی کتاب یا کاپی ختم ہو جب کہ دوسرے کی باقی ہو تو پھر طلباء کو دوسری کتاب یا کاپی ساتھ لانا پڑے گی۔ اس کا ایک حل یہ ہے کہ اساتذہ  کے لیے ہدایات جاری کی جائیں کہ انہیں کون سا مضمون کتنے عرصے میں مکمل کرانا ہے یا ایک سبق کس وقت تک مکمل کیا جائے۔

اس طرح تمام اساتذہ ایک ہی وقت میں ایک کتاب یا کاپی مکمل کرائیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ تمام اساتذہ اس منصوبے کے مطابق نہ پڑھا سکیں اور کچھ فرق رہ جائے تو پھر یہ کیا جا سکتا ہے کہ جن مضامین کا ایک سبق مکمل ہو جائے تو متعلقہ استاد اس کی دُہرائی کرانا شروع کر دیں۔ ممکن ہے کہ کچھ اساتذہ اس طریقۂِ کار سے مطمئن نہ ہوں تو پھر بچے دوسری کتاب لا سکتے ہیں۔ لیکن اس صورت میں بھی صرف ایک کتاب زیادہ لانا پڑے گی اور بستے کا وزن کم رہے گا بنسبت اس صورت کے کہ سات کتابیں یا کاپیا ں بستے کا حصہ ہوں۔

اگر اس طریقہ پر عمل کیا جائے تو بچوں کو بہت حد تک سہولت فراہم کی جا سکتی ہے اور اس پر عمل کرنا زیادہ مشکل بھی نہیں، اگر ہم اس مسئلے کو حل کرنے  کے لیے اخلاص سے کام لیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.