ہر بار مجرم پتلی گلی سے کیسے نکل جاتا ہے؟ 

Naeem Baig
نعیم بیگ

ہر بار مجرم پتلی گلی سے کیسے نکل جاتا ہے؟

از، نعیم بیگ

گذشتہ دنوں موٹر وے گجر پورہ میں جنسی درندگی کے واقعے نے پوری قوم کو دہلا دیا ہے۔ اس الم ناک واقعہ کے رُو نما ہونے کے بعد جہاں پورے ملک میں رنج و الم کی ایک فضا چھا گئی، وہیں پنجاب پولیس، متعلقہ ادارے/ایجینسیاں اور میڈیا میں ایک تھرتھلی سی مچ گئی اور مجرموں کو پکڑنے کے لیے سر توڑ کوششیں شروع ہو گئیں۔

ہمارے ہاں ایک عمومی دفترانہ سا کلچر بن گیا ہے کہ جب تک کوئی سانحہ ظہور پذیر نہیں ہوتا، ہم سب لسی پی کر سو رہے ہوتے ہیں اور جونھی کوئی ایسا سانحہ رو نُما ہوتا ہے تو ہمارے ادارے سُپر ہائپر ہو جاتے ہیں۔

اس مہا اضافت کا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایسے جرائم کے کیسز میں ابتداء ہی سے کئی ایک اداراتی اور پراسیکیوشنل غلطیاں سر زد ہو جاتی ہیں، جو بعد ازاں انصاف کی کسَوٹی پر پوری نہیں اترتیں؛ نہ ہی مجرم کو قرار واقعی سزا ملتی ہے۔

اب ایسی اداراتی غلطیاں بھلے انفرادی ہوں، یا اجتماعی اس سے سماجی سطح پر تو چند دن لے دے رہتی ہے۔ پھر دل چسپی کم ہونے پر ادارے بھی سست ہو جاتے ہیں اور لوگ بھی بھول جاتے ہیں۔ یوں واقعہ قومی ذہن سے بھی محو ہو جاتا ہے۔

اب اسی گجر پورہ واقعہ کا جائزہ لیں تو ابتداء سے کچھ  پروسیجرل خامیاں نظر آئیں گی، یا پھر عملی کاہلی کا خلاء اور مظاہرہ۔ چُوں کہ ایسے معاملات بَہ راہِ راست پولیس اور اس کے عملے سے متعلق ہوتے ہیں۔ ہم پہلے سے موجود سماجی نا انصافیوں کی بناء پر میڈیا اور عوامی سطح پر ہائپر ٹینشن کا شکار ہو جاتے ہیں جو درج ذیل قسم کے سوالات کا مُوجب بنتے ہیں۔

مثلاً جب متأثرہ لڑکی نے پولیس کو بر وقت اطلاع کر دی تو اسے ہر دوسرے شعبے کی طرف کیوں بھیجا گیا؟

موٹر ویز پولیس کا گشت کیوں موٹر وے کھلنے کے چھ ماہ بعد تک بھی ممکن نہ ہو سکا؟

سی سی پی او نے بَہ راہِ راست میڈیا میں وکٹم جو بد قسمتی سے عورت تھی، کو ڈانٹ پلا دی، یا سماجی بھاشن دے دیا اور غیر ضروری بیانات دیے۔ وہ یہ گفتگو بعد اَز گرفتاری مجرم دے سکتے تھے۔ اُس وقت اگر وہ snub بھی کرتے تو شاید کوئی محسوس نہ کرتا۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ پولیس تمام تر بجٹ ہونے کے با وُجود کیوں اب تک اپنے نظام میں خاطر خواہ ڈیجیٹل تبدیلیاں لے کر نہیں آئی، جس سےخود بَہ خود مجرمانہ واقعہ کی لوکیشن معلوم ہو جائے۔

جب وکٹم خود موبائل سے اطلاع کر رہے ہوں تو ان کی لوکیشن واضح ہو جاتی ہے۔ اس ضمن میں مزید بہت سے نئی اصلاحات امن و سکون کی حالت میں پہلے ہی کی جا سکتی تھیں۔ جو عمومی فہم کے دائرۂِ کار میں آتی ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ ہم کسی واقعہ کے رُو نما ہونے کے بعد ہی کیوں ابتداء کرتے ہیں۔ کیا ہمارے ہاں پولیس میں ایسے دانش مند افسران موجود نہیں، یا پولیس کے اندر خود نِت نئی اصلاحات کا کوئی شعبہ نہیں؟

ایسی صورتِ حال میں راقم کے پاس اور کیا چارہ نہیں کہ وہ چند سفارشات پولیس اور متعلقہ محکموں کو پیش کرے۔ راقم کوئی کریمنالوجی کا طالب علم نہیں لیکن صرف کامن سینس کی بنیاد پر عرض کر رہا ہے۔

اِن تجاویز کو مائیکرو لیول پر مزید ریفائن کیا جا سکتا ہے۔ چوں کہ یہ تجاویز ایک دوسرے سے مربوط ہیں لہٰذا اگر ایک بھی تجویز منہا کر دی گئی تو یہ تمام تجاویز زیرو ہو جائیں گی۔

1۔ فوری طور پر ایک مرکزی مربوط (انٹگریٹڈ) کال سنٹر (999) کی تشکیل دی جائے۔ جو عمومی طور پر ہر شہری کو معلوم ہو۔ اس پر ہر طرح کے جرم (وہ جرم گھر کے اندر ہو یا باہر یا کسی جنگل، سڑک یا موٹر وے پر ہو) آگ لگنے کی اطلاع، حادثہ ہو جانے کی اطلاع اور نا گہانی مصیبت سے چھٹکارا پانے کے لیے مدد کی درخواست کی جا سکتی ہو۔

اِس کال سنٹر کی ذمے داری ہو کہ وہ فوری طور حادثہ یا وقوعہ کی اطلاع ملنے پر خود اپنے آلات سے لوکیشن تک ڈیجیٹلی پہنچے اور تین منٹ کے اندر اندر متعلقہ ادارے شہری پولیس، موٹر وے پولیس، فائر برگیڈ، ریسکیو مدد یا ایمبولنس کو مُطلع کرے۔ لوکیشن تو وکٹم بھی بتا سکتا ہے، لیکن اکثر ایسے واقعات میں خوف/دہشت یا فون کرنے کے بعد بے ہوش ہونے کی صورت میں وکٹم اس وقت اپنے پورے حواس میں نہیں ہوتا، لہٰذا کال سنٹر حتیٰ الامکان سوالات سے گریز کرے۔

2۔ متعلقہ پولیس سنٹر اس علاقہ میں گشت کرنے والی پولیس ٹیم، موٹر وے پولیس، ڈولفن پولیس کو اگلے تین منٹ میں وائرلیس پر واقعے کی لوکیشن پر پہنچنے کی ہدایت کرے۔ اس کے بعد سفر کے منٹ جمع کر لیے جائیں اور اگر بعد ازاں تحقیقات میں یہ ثابت ہو جائے کہ حادثہ ہونے کے بعد مدد اپنے وقت پر نہیں پہنچی تو اہل کاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے تا کہ سسٹم نا کام نہ ہو پائے۔

میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ جب ایک بار مجھے میری کار سے رقم چوری پر جب 15 کو فون کرنا پڑا تو مجھ سے لوکیشن پوچھی گئی جو میں نے بتا دی۔ اس پر کال سنٹر نے پوچھا آپ کو کون سا تھانہ لگتا ہے۔ جب میں نے لا علمی کا اظہار کیا تو اس شخص نے کہا یہاں آس پاس کسی سے پوچھ لیں۔ میں اس آفت کے موقع پر لوگوں سے پوچھتا پھرتا رہا کہ یہ کسی تھانے کے علاقے میں آتا ہے۔ آخر تنگ آ کر مجھے کال سینٹر کو ڈانٹنا پڑا کہ تم کیا سمجھتے ہو کہ میں تھانوں کی فہرست ہاتھ میں لیے شہر میں کار میں سفر کرتا ہوں۔

3۔ جب تک مرکزی مربوط نظام نافذ یا لاگو نہیں ہوتا، ہر پولیس کال سنٹر (15) کو پابند بنایا جائے کہ وہ ہدایات بَہ موجب پہلے نمبر کی سفارش کی اطاعت کرے۔ کسی قیمت پر وہ وکٹم کو یہ نہ کہے کہ وہ خود فائر برگیڈ، ریسکیو (1122) یا موٹر وے پولیس ہیلپ لائن (130) کو فون کرے۔

وکٹم سے متعلقہ تھانے کی حدود کا پوچھنا بھی قانوناً منع کر دیا جائے۔ یہ پولیس کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے کال سینٹر میں بڑے نقشے لگا کر حدود کا تعین خود کرے اور متعلقہ پولیس کو مطلع کرے۔

4۔ واقعے/جرم کے ظہور پذیر ہو جانے پر ہر ڈسٹرکٹ میں ایس ایس پی (موجودہ نام ڈی پی او) موجود ہوتا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرنے کے لیے وہ یا ان کا کوئی ترجمان ہونا لازم اور کافی ہے۔

جرم اور واقعہ پر ہر پولیس آفیسرز/سول آفیسر/ منسٹر/ وزیرِ اعلیٰ کو پریس کانفرنس کرنے سے قانونی طور پر روک دیا جائے۔ اس سے سماجی سطح پر ہائپر ٹینشن اور ہائپر ایکٹویٹی پیدا ہوتی ہے اور اس کے منفی اثرات میڈیا کے ذریعے عوام کے نچلی سطح تک جاتے ہیں اور ملکی اداروں سے نفرت کا باعث بنتے ہیں۔

5۔ جرم/حادثہ ہو جانے کے بعد تفتیش کے مراحل یا پروگریس نپی تلی ہو۔ یہ راقم کی سمجھانے کی باتیں نہیں لیکن گجر پورہ کیس میں مرکزی مجرم کے فرار ہو جانے میں جہاں ممکنہ طور پر کچھ دیگر مَخفی وجوہات ہوں گی وہیں اس بارے پولیس کے پروگرامز قبل از وقت طشت اَز بام ہو جانے سے ملزم پکڑ میں نہیں آ رہا۔

سامنے تو یہی نظر آتا کہ تمام تر کوششوں کے بعد ہر بار مجرم پتلی گلی سے فرار ہو جاتا ہے۔ اس بارے ایک مکمل جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے۔

6۔ ہمارے ہاں یہ رواج طے پا چکا ہے کہ ہم کسی بھی محکمے میں اپنی زبانی کلامی پرفارمنس پر ہر فن مولا بن جاتے ہیں۔ اکیسویں صدی کے تقاضے کچھ الگ ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پولیس میں احتساب اور محکمانہ پرفارمنس کی بنیاد پر پولیسنگ کے شعبے الگ الگ کر دیے جائیں۔ گو اس وقت بھی پراسیکیوشن اور تفتیش الگ الگ ہیں تاہم تفتیس میں مزید ایکسپرٹس کی ضرورت ہے۔

جیسے ہومی سائڈ سرکل صرف اقدامِ قتل کے جرائم ہی کو دیکھے۔ چوری چکاری/ ڈاکے اور دیگر متفرق جرائم پر مبنی کرائمز شعبہ دیکھے۔ پولیس مدد گار شعبہ بالکل الگ ہو۔ جو انسانی بنیادوں پر سماجی و اخلاقی جرائم کو دیکھے۔ اس شعبے میں خواتین کی نمائندگی کو بڑھا کر مردوں سے زیادہ کر دیا جائے تا کہ پولیس کے اندر احتساب کا خود کار نظام ایکٹو ہو جائے۔

یہ چند ابتدائی معروضات ہیں اس پر متعلقہ محکمے مزید کام بھی کر سکتے ہیں۔

About نعیم بیگ 139 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔