کچھ غازہ اترا، کچھ جمہور لہرائی 

Naeem Baig

کچھ غازہ اترا، کچھ جمہور لہرائی 

از، نعیم بیگ

گزشتہ دو، تین برس سے جو کچھ اس ملک میں ہو رہا ہے سبھی اس کے چشم دید گواہ ہیں۔

قصور کس کا ہے؟

کون کیا کر رہا ہے؟

کہاں کہاں اہلِ اقتدار و بست و کشاد اور ملکی ادارے، تاجر، صنعت کار، کارپوریٹ ادارے اپنے پنجے گاڑ رہے ہیں؟

سب کچھ نظر آنے لگا ہے۔ حکومتی سطح پر اب آپ جتنی چاہیں آزادیِ اظہار پر پا بندیاں لگا لیں، اب بات نکلتی ہے تو پل بھر میں دنیا بھر کے vigilance اداروں میں کھٹ کھٹ شروع ہو جاتی ہے۔ ٹیلی پرنٹروں سے آگے کی سائبر سپیس دنیا اب خلاء میں معلق ہے جو سب کچھ دیکھ رہی ہے، سن رہی ہے، اور تجزیے بھیج رہی ہے۔

ایسی ہیجان خیزی میں پاکستان کے عوام جس کی اکثریت اَن پڑھ اور غیر تعلیم یافتہ اور دیہی ہو، آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کس قدر کنفیوژن کا شکار ہو چکی ہے۔ شہری جنھیں پڑھا لکھا کہا جاتا تھا، اب اپنی شعوری اور فہم شناس جگہ چھوڑ چکے ہیں؛ اِن میں فِفتھ جنریشن وار کی اصطلاح اتنی عام ہو چکی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو کہنا پڑتا ہے کہ آخر یہ ہے کیا بَلا؟

صرف یہی نہیں ہوا۔ پچھلی چند دھائیوں میں جمہور کی جو دھجیاں یہاں سب نے مل کر اُڑائی ہیں، اس سے جمہور بے لباس ہو کر کبھی poverty لائن سے نیچے پلنے والی پانچ کروڑ سے زائد slumpy عوام کے پیچھے سینہ چھپاتی رہی، کبھی عسکری اداروں کے پیچھے جا کھڑی ہوئی، کبھی کم زور ترین اپنے جھونپڑے (پارلیمان) کے پیچھے اپنا آگا/پیچھا چھپاتی رہی، لیکن اس قدر ہیجان خیزی میں اسے یہ خیال نہیں سوجھنے دیا گیا کہ اس کی اصل طاقت ووٹ ہے جس کے پیچھے اِسے پناہ لینی چاہیے۔

جب بھی کوئی نام نہاد جمہور کو بچانے آیا اس نے اِسے چند لمحے دیے۔ اس کے چہرے پر غازہ، سرخی پاؤڈر لگایا۔ چند ایک نئے کپڑے پہنائے اور پھر اسی بازار میں  لا کھڑا کر دیا اور دام سمیٹے۔

ووٹ کو  عزت دو کے نعرے سےلے کر عمران خان کی رُول آف لاء اور کرپشن کے خلاف دھائی، عسکری اداروں کی حالت امن و جنگ میں ذہنی یَک سُوئی کا فقدان (یکے بعد دیگرے آپریشنز کی لانچنگ) سے فیڈرل اداروں کی نا کافی و نا کارہ صلاحیت تک، ملکی کارپوریٹ اداروں کی معاشی ترقی کے جھوٹے دعوے، تعلیمی اداروں کی منتشر سوچ و منقسم رحجانات اور عالمی اداروں کی جا بے جا مداخلت نے ملک میں جو انتشاری صورتِ حال پیدا کی، اس میں سب سے زیادہ جو شے متاثر ہوئی، وہ اس ملک کی بائیس کروڑ سانسوں سے جنم لینے والی جمہور تھی جو سکڑتے سکڑتے کیڑے مکوڑوں کی طرح زمین پر رینگنے لگی اور کچلی جانے لگی۔

سپریم کورٹ کے 28 نومبر کے آرمی چیف کی توسیع بارے تاریخی فیصلے نے رول آف لاء اور جمہور کو پہلی بار حقیقی عزت بخش کر لباس پہنا کر اس کا مصنوعی غازہ اتار پھینکا ہے، اور مقدس پارلیمان کے اندر لا کھڑا کر دیا ہے۔

ہہ رول آف لاء کی جانب پہلا سنجیدہ قدم ہے جو بالآخر جوڈیشل ایکٹیوزم کے ذریعے حاصل ہوا۔

کیا پارلیمان کے باسی اب جمہور کو سنبھال پائیں گے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ جس کا جواب تاریخ دے گی۔

 تاہم ایک سوال اور بھی ہے؛ کیا فی الفور عمران خان اپنے اس مقولے کا پاس کر سکیں گے جو انہوں نے کئی برس پہلے نا جانے کس ترنگ میں کہے تھے:

 Lack of Rule of Law is the main reason Pakistan could not join the ranks of progressive nations.

*پوسٹ سکرپٹ:  گوگل پر ایک بار سرچ کرتے ہوئے عمران خان کی ایک کوٹیشن سامنے آئی۔

Lack of Rule of Law is the main reason Pakistan could not join the ranks of progressive nations.

یہ بہت پہلے کی بات تھی۔ تاہم سپریم کورٹ کے 28 نومبر کے فیصلہ آنے پر جب میں نے گوگل پر اس اقتباس کو تلاش کیا تو ابھی بھی یہ وہیں میسر ہے۔

About نعیم بیگ 123 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔