پاکستان میں معاشیات کی رفتہ عہد کی بحثیں اور مقامی عملی کام کی ضرورت

زبیر فیصل عباسی

پاکستان میں معاشیات کی رفتہ عہد کی بحثیں اور مقامی عملی کام کی ضرورت

از، زبیر فیصل عباسی

بیرونِ ملک تعلیم کے لیے جانے سے پہلے راقم معاشیات کو ایک ایسا علم سمجھتا تھا جو نقشوں اور چارٹوں کی مدد سے حاصل جاتا ہے۔ گرافوں اور  مساوات یعنی equations کے ذریعے یہ علم ایک معیشت دان سے دوسرے معیشت دان کو منتقل ہوتا ہے۔ اور یہ کہ عام انسان کے تو یہ بس کی بات بھی نہیں کہ اس استحقاقی privileged علم کی گرد کو بھی پا سکے۔ یہ لکھاری ہزار کوششیں کرتا اور سبق یاد کرتا تا کہ امتحان میں کتاب جیسا کچھ لکھ آئے۔

جب مجھے برطانوی حکومت کے چیوننگ وظیفہ Chevening Scholarship کی بدولت انگلستان جانے کا اتفاق ہوا تو اندازہ ہوا کہ یہ علم بھی بنیادی طور پر انسانی رویوں سے متعلق ہے، لیکن بحث دولت کے حوالے سے کرتا ہے۔

یہ بھی علم کی ایسی ہی ایک شاخ ہے جو انسانی تجربہ کو سمجھنے کے کام آتی ہے؛ یعنی یہ کوئی جِنّاتی مسئلہ نہیں بَل کِہ انسانی کیمیا گری ہی ہے۔ اور یہ کہ وہ سوال بھی انسانی نوعیت کے پوچھتے اور جواب بھی ویسا ہی دیتے، مثلاً کوئی شخص کام کیوں کرے کا جواب وہ اس کی معاشی ضرورت، قابلیت، اور مارکیٹ میں موجود مواقع کے حوالے سے دیتے۔ کوئی دولت جمع کیوں کرے اور سرمایہ کاری کیوں کرے کا جواب وہ منافع اور پیداواری صلاحیت کی شکل میں دیتے۔

میرے ایک استاد صنعتی ترقی کی کہانی انگلستان سے شروع کرتے اور انسانوں کو مختلف گروہوں کے تجربات بتاتے بتاتے ساری دنیا کا چکر لگا آتے۔ مشرقی ایشیا، جنوبی ایشیا، یورپ، سوشلسٹ ممالک، افریقہ، امریکہ اور لاطینی امریکہ کا چکر لگانے کے بعد آدم سمتھ Adam Smith سے ہوتے ہوئے امرتیا سین اور ہاجون چینگ تک پہنچ جاتے۔

اس کے بعد انہی تجربات اور نظریات کو ایک گراف میں ڈھال دیتے اور اس تجربے اور نظریہ کے مختلف عوامل کو ایک مساوات کی شکل میں لکھ دیتے۔ مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ یہ گراف اور مساوات کس طرح  دراصل انسانی تجربے کو ظاہر کرتے ہیں۔ ورنہ ہم تو وطنِ عزیز میں الفاظ، گراف، اور مساوات کی تصویروں کی تصویریں ہی نقل کرتے رہے تھے۔

وہاں جا کر مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ ہمارے یہاں پڑھائی جانے والی معاشیات تو اس علم کا عشرِ عشیر بھی نہیں جتنا پھیلاؤ اس علم کا دنیا میں ہو چکا ہے۔ اور یہ بھی کہ ضروری نہیں کہ ہر استاد کو سب کچھ آتا ہو۔ وہ یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ بات اسے معلوم نہیں اور دوسرے پروفیسر کا نام بھی بتا سکتا ہے جس نے اس سوال یا پہلو پر کام کیا ہو گا۔ عجیب بات یہ تھی کہ دوسرا پروفیسر خواہ کسی بھی یونیورسٹی کا ہو وہ ای میل پر جواب دے دیتا تھا اور ملنے کا وقت بھی۔

مجھے یوں بھی لگا کہ یہ علم اب بہت سے علوم سے راہ نُمائی لیتا ہے اور اس کی مزید شاخیں بن چکی ہیں۔ اسی دوران یہ بھی اندازہ ہوا کہ “فری مارکیٹ” Free Market کی بحث پرانی ہو گئی اور اب ماہرین واقعاتی، تجرباتی، اور عملی شہادت پر زیادہ زور دیتے ہیں۔

جب کہ ہمارے یہاں ابھی بھی کچھ  لوگوں کے خیال میں یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ اگر فری مارکیٹ ہو تو ترقی زیادہ ہوتی ہے۔ حالاں کہ یہ بات مان لی گئی ہے کہ ایک تو فری مارکیٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی اور دوسرا یہ کہ نظریات سے زیادہ عملی شہادت ضروری ہے۔

در اصل فری مارکیٹ کی بحث پر کاری ضرب اس وقت لگی جب سائنس اور ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی کے فروغ پر مبنی علم و تحقیق  ہوئی۔ سوچا گیا کہ چند ملک کیوں صنعتی میدان میں آگے نکل جاتے ہیں جب کہ باقی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ یہیں سے ترقی پسند ریاست (developmental state) کا تصور ابھرا اور آہستہ آہستہ جدید ترین شہروں کو بنانے میں ریاست اور نجی شعبے کے تال میل کی بحث تک بات پہنچ گئی۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ ہمارے ایک دوست فیس بک پر بڑے زور و شور سے اکثر یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ فری مارکیٹ اکانومی کے ایسے قائل ہوۓ ہیں کہ خدا کی پناہ۔ وہ حوالہ دیتے ہیں ان نظریاتی تحاریر کا جو کہ انیس سو چالیس اور پچاس کے عشروں میں لکھی جانے والی کتابوں میں موجود ہیں۔ ارے بھائی بات یہ ہے کہ انیس سو اسی کی دھائی کے بعد جب مارکسزم کو شکست ہو گئی تو کیپٹلزم نے بھی اپنے آپ کو redefine کیا اور revisionist or heterodox معاشیات نے جنم لیا۔ اور انیس سو نوے کے بعد تو معاشیات کے علم میں بہت زیادہ تبدیلیاں آ گئیں۔


زبیر فیصل عباسی کی ایک روزن پر دیگر تحریروں کا لنک


معیشت دانوں کی تحقیق نے بتایا کہ اگرچہ مارکیٹ اہم ہے لیکن ریاست کا بہ ہر حال ایک بنیادی کردار رہا ہے اور وہ معاشرے جہاں ریاست ترقی کی خواہش مند اور اپنے اندر قابلیت پیدا کرنی کی دل دادہ تھی وہاں ترقی زیادہ ہوئی ہے۔ اور جہاں ریاست شکاریوں کی طرح کاروباری طبقہ پر پَل پڑتی تھی وہاں فری مارکیٹ کے باوجود ترقی کی شرح پریشان کن حد تک کم رہی۔

ان ممالک میں سیاسی، سماجی، اور معاشی سطح پر غیر یقینی کی صورتِ حال رہی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ فری مارکیٹ کی بنیاد میں جو نظریات ہیں وہ اتنے درست نہیں ہیں کیوں کہ وہ گہری اور سنجیدہ تحقیق میں کمزور نظر آتے ہیں۔ مثلاً یہ کہنا کہ تمام لوگوں کے پاس ہر وقت مکمل معلومات ہوتی ہیں، اور یہ کہ قیمت ہی اصل اشاریہ ہے جو سرمائے کو کہاں لگانا ہے کا درست عِندِیہ دیتا ہے، اور یہ کہ انسان کی رسائی بس اس کی قوتِ خرید تک محدود ہونی چاہیے، اصل میں ایک نظریاتی بے ہودگی یا non sense ہے۔

وہ یہ کہتے ہیں کہ ہر معاشرے کے اپنے اندرونی محرکات ہوتے ہیں اور انسان معاشیات کے علم سے زیادہ پیچیدہ مشین ہے جس کو سمجھنے کے لیے دوسرے علوم کو سمجھنا ضروری ہے۔

نئی معاشیات پڑھنے کے بعد جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ کہ اس طرح کی معاشی ترقی جس میں غربت کا خاتمہ ہو اور ماحولیات کا تحفظ ہو وہ صرف قیمتوں اور مارکیٹوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ بَل کِہ مارکیٹوں کو چلانا یا govern کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے یہاں چُوں کہ انیس سو اَسّی کی دھائی والی معاشیات ترقیاتی اداروں میں مقبول ہو گئی ہے تو یہاں لوگ ابھی تک فری مارکیٹ نامی کسی شے کی موجودگی اور افادیت ثابت کرتے رہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے یہاں جدید ترین معاشیات اور اس سے متعلقہ علوم پر تحقیق اور یہاں کے انسانی تجربات کو قلم بند کرنے کا بند و بست کیا جائے۔

اس طرح کا کام کچھ کچھ ہونا شروع ہوا ہے، لیکن اس کی مقدار بہت کم ہے اور اس کا مرکز بھی ابھی لاہور اور پنجاب ہے۔ اسے پھیلانا چاہیے اس امید کے ساتھ کہ ”نناوے فیصد معاشیات عام فہم یا کامن سینس ہے اور باقی ایک فی صد محض معیشت دانوں نے جان بوجھ کر مشکل کیا ہوتا ہے۔“

About زبیر فیصل عباسی 7 Articles
مصنف اسلام آباد میں مشاورتی ادارے، Impact Consulting کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر ہیں۔ اس سے پہلے United Nations میں بطور مشیر بھی کام کر چکے ہیں۔ ملکی و بین الاقوامی معاشی و ترقیاتی پالیسیاں ان کی دلچسپی کی حامل اور تخصیصی موضوعات میں شامل ہیں۔ لیکن ان کی شاعری اور کہانیاں لکھنا بھی ان کی ذات کے لطیف و جمالیاتی حوالے ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.