نیشنل کالج ، برطانوی راج کے خلاف مزاحمت کا استعارہ

Dr Shahid Siddiqui

نیشنل کالج ، برطانوی راج کے خلاف مزاحمت کا استعارہ

از، ڈاکٹر شاہد صدیقی

برطانوی راج کے خلاف مزاحمت کی کہانی نیشنل کالج لاہور کے ذکر کے بغیر اُدھوری ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ نیشنل کالج آف آرٹس کا قصہ نہیں، بَل کہ اس نیشنل کالج کی کہانی ہے، جس نے ہندوستان کے نوجوانوں میں حریت کی جوت جگا کر انہیں فرنگی حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرنے کا حوصلہ دیا تھا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہندوستان میں مزاحمت کی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔ ایک طرف 1920ء میں گاندھی نے تحریکِ عدم تعاون کا آغاز کیا تھا اور ساتھ ہی تحریکِ خلافت میں لوگ دیوانہ وار حصہ لے رہے تھے۔

دونوں تحریکوں میں ہندو اور مسلمان مل کر بدیسی حکمرانوں کے خلاف جد و جہد کر رہے تھے۔ تحریکِ عدم تعاون میں تمام ہندوستانیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ سرکاری نوکریاں چھوڑ دیں، بدیسی اشیاء خریدنا ترک کر دیں اور فرنگی تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ کریں۔ ایسے تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں، جہاں نوجوانوں کو قومی تعلیم سے روشناس کرایا جائے۔ ایک ایسی تعلیم جو دیس کی ثقافت اور اس کے خوابوں سے جُڑی ہوئی ہو۔

اس اپیل پر ہندوستان کے مختلف حصوں میں بہت سے قومی کالجوں کی بنیاد رکھی گئی۔ ان تعلیمی اداروں میں دو نمایاں ادارے تھے، جن میں ایک جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی اوردوسرا لاہور کا نیشنل کالج تھا۔

نیشنل کالج کا روحِ رواں لالہ لاجپت رائے تھا، جس نے1921ء کو لاہور میں اس کالج کی بنیاد رکھی۔ لالہ لاجپت رائے 28 جنوری 1865ء کو لاہور میں پیدا ہوا۔ وہ ایک وکیل، سیاست دان، صحافی، ماہرتعلیم اور لکھاری تھا اور یوں اس نے مختلف حیثیتوں سے آزادی کی قومی جد و جہد میں بھرپور کردار ادا کیا۔ دور دراز علاقوں کا سفر کیا اور دنیا کے سیاسی اور تعلیمی نظاموں کا نہایت باریک بینی سے مطالعہ کیا۔

لالہ لاجپت رائے نے ہندوستان کے سماجی، ثقافتی، سیاسی اور تعلیمی مسائل سے متعلق لکھا اور عوام تک آزادی کا پیغام پہنچانے کے لیے صحافت کی اہمیت کا بخوبی ادراک کیا۔ اس نے اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں جرائد کی اشاعت کی۔


مزید دیکھیے: جامعہ ملیہ اسلامیہ : برطانوی راج کے خلاف مزاحمت کا استعارہ

بھگت سنگھ، بنگا چک نمبر ۱۰۵ ضلع لائلپور


لالہ لاجپت رائے ایک نیشلسٹ تھا، جس نے نوجوان ہندوستانیوں میں جذبۂ حریت اجاگر کیا۔ 1928ء میں لالہ لاجپت نے سائمن کمیشن کے خلاف لاہورمیں ایک احتجاجی ریلی کی قیادت کی، لوگوں کا ہجوم جو سائمن کمیشن کے خلاف نعرے لگا رہا تھا، اسے سپرنٹنڈنٹ پولیس جیمز اے سکاٹ کے احکامات پر لاٹھیوں سے بری طرح پیٹا گیا۔ لالہ لاجپت رائے کے جسم پر بھی لاٹھیوں کے زخم آئے؛ حتیٰ کہ اس کے جسم سے خون بہنے لگا اوروہ زمین پر گر پڑا۔ اس بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں وہ سترہ دن زندگی و موت کی کشمکش میں گزارنے کے بعد جان کی بازی ہار گیا۔

لالہ لاجپت رائے نے کانگرس میں قیادت کا کردار بخوبی نبھایا۔ وہ تعلیمی معاملات میں گہری دل چسپی رکھتا تھا، اسی حوالے سے اس نے قومی تعلیم کے حوالے پرایک اہم کتاب The Problem of National Education in India بھی لکھی۔

1920ء تحریکِ عدم تعاون کے نتیجے میں جب قومی تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے کہا گیا، تو لالہ لاجپت رائے نے1920ء میں لاہور میں کچہری کے قریب ریٹی گن روڈ پر واقع بریڈلا ہال میں نیشنل کالج کی بنیاد رکھی۔ نیشنل کالج کا مقصد تعلیم ایک متبادل نظریہ پیش کرنا تھا ،جو کہ باقی کالجوں سے مختلف تھا، کیوں کہ ان تمام تعلیمی اداروں کا ہدف گورنمنٹ کے فنڈز اورانتظام کی مدد سے ایسے گریجویٹس تیار کرنا تھا، جو صرف حکومتی نوکری کر سکیں۔ اس کے برعکس نیشنل کالج کے قیام کا واحد مقصد ایسے طلبا تیار کرنا تھا، جن میں بھرپور قسم کی سیاسی و سماجی بیداری اجاگر ہو اور جو برطانوی حکومت سے آزادی کے لیے اور ہندوستان کے تشخص کی بحالی کے لیے بھرپور کردارادا کر سکیں۔

نیشنل کالج ہندوستان کے ایسے طلبا کو متبادل ذریعۂِ تعلیم فراہم کر رہا تھا، جو کہ ہندوستان کے سرکاری تعلیمی اداروں میں نہیں پڑھنا چاہتے تھے۔ کالج میں کلاسوں کاآغاز بریڈلا ہال (Bradlaugh Hall) میں ہوا جو کہ ریٹی گن روڈ (Rattigan Road) پر واقع تھا۔ بریڈلا ہال کا افتتاح 1901ء میں ہوا تھا اور یہ اپنے وقت کی انقلابی اور وطن پرست سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ مہاتما گاندھی، محمدعلی جناح، ابو الکلام آزاد، عطاء اللہ شاہ بخاری اورمولانا ظفر علی خاں جیسے نامور رہ نماؤں نے بریڈلا ہال کا دورہ کیا۔

نیشنل کالج، مذہب و طبقات سے بالا تر ہو کر ان تمام لوگوں کے لیے باہیں کھولے کھڑا تھا، جن میں برطانوی راج سے آزادی کی چنگاری سلگ رہی تھی۔ نیشنل کالج کے تمام اساتذہ سیاسی طور پر بھی خاصے سر گرم تھے۔ بھائی پرمانند کالج کے چیف ایڈمنسٹریٹر تھے۔

وہ یورپین تاریخ بھی پڑھاتے تھے۔ جگل کشور کو کالج کا پرنسپل مقرر کیا گیا۔ انتظامی امور سنبھالنے کے علاوہ وہ سیاسیات بھی پڑھا سکتے تھے۔ ان کے بعد شبل داس (Chhabil Das) کالج کے پرنسپل بنے۔ پروفیسر جے چند ودیالنکر، جن کے بہت سے انقلابیوں سے گہرے مراسم تھے۔ قدیم تاریخ پڑھاتے تھے۔ وہ ایک پرعزم شخصیت کے مالک پروفیسر تھے، جو ہمیشہ اپنے طلبا میں آزادی کی جوت جگا کر رکھتے تھے۔ پروفیسر سوندھی، ہندوستانی تاریخ پڑھاتے تھے۔ غلام حسین ایک اور پروفیسرتھے، جو سوشلزم پڑھاتے تھے اور انہیں بعد میں کان پور، کیس میں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

نیشنل کالج کے فارغ التحصیل طلبا نے تحریکِ آزادی کی جد و جہد میں بھرپور کردارادا کیا۔ ان طلبا میں نمایاں ترین بھگت سنگھ اور سکھ دیو بھی شامل تھے، جنہوں نے بعد میں 1926ء میں نوجوان بھارت سبھا قائم کی تھی۔ وہ دونوں ہندوستان سوشلسٹ ایسوسی ایشن کے بانی ممبران بھی تھے، جس کی بنیاد فیروز شاہ کوٹلہ، نئی دہلی میں 1928ء میں رکھی گئی تھی۔ بعد میں بھگت سنگھ اورسکھ دیو کوسانڈرز کے قتل کے الزام میں تختہ دار پرلٹکا دیا گیا تھا۔ نیشنل کالج کے کچھ اور ممتاز طلبا میں بھاگوتی، چرن ودہرا، رانا چندرا بنارسی داس، گھبیر سنگھ اور پش پال نمایاں ہیں۔

نیشنل کالج کا نصاب سرکاری کالجوں سے مختلف تھا اور اس کا میدان طلبا میں سماجی و سیاسی بیداری اجاگر کرنا تھا اور طلبا میں دنیا کے مختلف علاقوں کی انقلابی تحریکوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھا۔ کالج میں سیاسیات، تاریخ اور معاشیات کے مضامین پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ یہ تینوں مضامین کالج میں پڑھائے جانے والے لازمی مضامین میں شامل تھے اور بعد میں طلبا انہی میں سے ایک مضمون میں سپیشلائزیشن کرتے تھے۔

زبانوں (languages) کا مطالعہ بھی نصاب کا ایک اہم ترین حصہ تھا۔ طلبا کے لیے ہندی، پنجابی اور اُردو میں سے ایک زبان پڑھنا لازمی تھا اور انہیں تحریک کے لیے اُردو یا گور مکھی رسم الحظ میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جاتا تھا۔

طلبا کے لیے پہلے سے طے شدہ کوئی نصاب کتب نہیں تھیں، کیوں کہ اساتذہ خود کتابوں کا انتخاب کرکے طلبا کو نصاب کا متعلقہ حصہ پڑھاتے تھے۔ باقاعدہ کلاسوں کے علاوہ مخصوص خطابات لیکچرز کا اہتمام کیا جاتا تھا، جن میں نامور دانش ور عصرِ حاضر کے موضوعات پر خطاب کرتے تھے۔

نیشنل کالج میں تعلیم کے مقاصد میں ایک بڑا مقصد طلبا میں جذبہ قومیت کو پروان چڑھانا تھا۔ اساتذہ، طلبا کے ساتھ کلاس رومز کے باہرغیر رسمی مراسم رکھتے تھے اور ان کے ساتھ مختلف موضوعات پرگفت و شنید کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ہم نصابی سرگرمیوں جیسے ڈرامہ وغیرہ کے لیے الگ سے کلب قائم تھے۔ ان تمام سرگرمیوں کا واحد مقصد طلبا کی حقیقی نموکو یقینی بنانا تھا۔
تحریک ِآزادی میں نیشنل کالج کا کردارنہایت ہی اہم رہا۔ اس ادارے نے ایک تھنک ٹینک کا کردار ادا کیا، جس نے سیاسی طور پر ایسے متحرک اوربیدار جوان پیدا کیے، جنہوں نے آزادی کے کے عظیم مقصد کے حصول کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔

اگر آپ کو کبھی لاہور جانے کا اتفاق ہو تو کچہری کے قریب واقع اس تاریخی عمارت کو دیکھنے ضرور جائیں، جسے بریڈلا ہال کہتے ہیں، جو سالوں سے مقفل پڑا ہماری بے حسی پر ماتم کناں ہے، جو کبھی تحریک ِآزادی میں حریت پسندوں کا مرکزہوتا تھا۔ جہاں کبھی نیشنل کالج ہوا کرتا تھا، وہیں کہیں کچی زمین پر آپ کو اُن آشفتہ سروں کے قدموں کے نشان ملیں گے، جن کی آنکھوں میں آزادی کے ست رنگے خواب تھے اور جو اُن خوابوں کی تعبیر کی تلاش میں اُن وادیوں میں اُتر گئے، جہاں جا کر کوئی واپس نہیں آتا۔

About ڈاکٹرشاہد صدیقی 52 Articles
ڈاکٹر شاہد صدیقی، اعلی پائے کے محقق، مصنف، ناول نگار اور ماہر تعلیم ہیں۔ آپ اس وقت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.