خفتہ جسموں میں جاگتی شریانیں : من ہرن (حسی امتزاج کی نظمیں) از سعادت سعید

من ہرن

خفتہ جسموں میں جاگتی شریانیں : من ہرن (حسی امتزاج کی نظمیں) از سعادت سعید
از، نعیم بیگ

اب اس کے لہجہ میں بکھری صدائے معطر کی
زہریلی آتش سے اٹھتے عذابوں کا نوحہ سناؤ
اے اس کے کہرامی سانسوں کے نقشے دکھا کر کہو
’’ ہم نے سارے دکھوں کے دریچے مقفل کئے‘‘
فقط ایک روزن کہ مہتاب خون ہے
ابھی تک ہواؤں کے اجڑے مناظر
ہماری رگوں کی فصیلوں میں تازہ کرے!

کہتے ہیں دنیا میں ہر قید سے انسان کی رہائی کا امکان ہے، مگر اس شخص کے رہائی کے امکانات بہت کم ہیں، جسے علم ہی نہیں کہ وہ اسیر ہے۔ عصر جدید میں بد قسمتی سے دنیا کے ایک بڑے حصے میں انسانوں کے غول کے غول اِس ان دیکھی قید کے اسیر ہیں جس میں بظاہر کوئی غلام نہیں۔آزادی اور زندگی کے آدرش ان کے سامنے رکھ دئے گئے ہیں ۔ یہ استحقاق بھی انھیں دے دیا گیا کہ وہ نظام کے اندر رہیں لیکن فطرت سے اغماض کرتے ہوئے زندگی کی وہ تمام مشینی اور سائنسی سہولیات سے بہرہ مند ہوں ، جنھیں صرف اسیر انسانوں کی بظاہربھلائی کے لیے ایجاد کیا گیا ہے، لیکن درحقیقت ایک ایسے بورژوا نظام کی جڑیں مضبوط کرتا ہے جس میں انسان اپنی حسیات کھو بیٹھتا ہے۔

خارجی حسیات کا ایسا جل کہ انسان ڈوبا ہی چلا جائے، عذابوں کا نوحہ جب لہجے کی بکھری آتش سے نمودار ہو تو عہد حاضر کا انسان خفتہ جسموں کے ساتھ ایسے نظاموں کے اندر مقید کر دیا جاتا ہے کہ سعادت سعید جیسے انسان کا قلم لہو بکھیر دیتا ہے اور ان کا نوحہ تاریخی مدو جزر کا حصہ نظر آتا ہے۔ وہ چلاتا ہے اپنی نظموں میں۔ اپنے نوحوں میں وہ اس بات کی مسلسل تکرار کرتا ہے کہ شعری مفروضوں کے دکھ ، دکھ نہیں ہوتے ۔ وہ کہتا ہے ’’ لفظ زندہ حقیقتیں ہیں۔‘‘

وہ امیجری کے ایسے تصور خلق کرتا ہے کہ انسانی کیفیات تجرید اور علامتوں کی صورت شعر میں ڈھل جاتی ہیں۔ شاعر کا شعری استغراق اگر عام روش سے ہٹ کر نئے شعری رشتوں پر حاوی ہوتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ الفاظ کی لفظی مصوری نئی معنوں کو تفہیم دے رہی ہے اور وہ معنوی وسعت کی حامل شاعری ہے۔ حسی امتزاج کی نظمیں درحقیقت اسی معنوی وسعت کا ثبوت ہیں۔

سعادت سعید اپنی شاعری اور باطنی خلاء کے حوالوں سے اپنی نئے شعری مجموعے ’من ہرن‘ کے ابتدائیہ میں کہتے ہیں ۔ ’’ تاریخ کی غلامی اور اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہم معنی صورتِ حال ہے۔ انسان معاشرے میں زندہ رہنے کے لیے مختلف اعمال سر انجام دیتا ہے لیکن اجارہ دار طبقہ اس ہلاک کر دیتا ہے۔ یہ ایک لایعنی صورتِ حال ہے کہ انسان زندہ رہنے کا انتخاب کرتا ہے لیکن موت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں انسان کو زندہ رہنے یا موت قبول کر لینے کے علاوہ تیسرا کوئی رستہ نظرنہیں آتا۔ جو انسان اپنی موت کو سامنے پاکر زندہ رہنے کی جدوجہد کرتے ہیں ۔ وہ آزادی اور امکانات کی اقلیم دریافت کرتے ہیں۔‘‘

خفتہ رگوں میں جاگتی شریانیں در حقیقت اسی خیال کی مظہر نظم ہے جہاں حسیات کا بہاؤ جسموں کو ریزہ ریزہ کرتا ہو آگے نکل جاتا ہے۔

ایسی ہی ایک اور نظم میں سعادت سعید کہتے ہیں۔

گنبد بے درمن ہرن
ہم کے ایام کے اک گنبد بے در کے مکیں
زنگ آلودہ شماشیر کے
دھندلائے سیہ آئینوں میں
اپنی تاریخ کے بے معنی طلسمات کے
عکس پر لکھی نظموں کو
پڑھ پڑھ کے
بہت نازاں و مسرور ہوا کرتے ہیں!
بحرِ اسود کی کسی دلدلی ساحل پہ ہے
مدفون ہمارا مہتاب!
قصرِ دارا میں سب آخرِ شب کی شمعیں
ایک اک کرکے بجھا چاہتی ہیں!
۔۔۔۔
طویل نظم ہونے کی وجہ سے نظم کا آخری مدہوش کن بند پیش ہے ۔۔۔
جاگو اس عہد کی اب کایا کلپ ہونے دو!
مضحمل خلق کو آرام سے اب سو لینے دو!
وقت کے گنبد بے در کو گراؤ
یا کسی روزن سے
کسی خوش رنگ
دھنک ہی کو نظر آنے دو!!

جدید عہد کی متلون اور وحشی کی سوچ اور فکرِ جدید کے لاینحل مسائل کو لطافت اور جمالیات کی قبا سے مزیں کرنا سعادت سعید کی شاعری کا کمال ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ آگاہ افراد کا ذوقِ ادب بہت مختلف ہوگا، لیکن انھیں معلوم ہے کہ شاعری کا عمومی رویہ کیسا ہونا چاہیے۔ ایسا شعری عمل شاعر کے پاس ہونا لازم ہے جو اپنی فکر اور طرز تخاطب کو حسیاتی امتزاج کے ساتھ پیش کرنے کا چارہ کرے۔ جہاں وہ صدیوں کی گونجتی ہوئی کھنکتی ہوئی آوازوں کا پیچھا کرے، وہیں اپنے مخصوص رومانس کے ساتھ جمالیاتی لطافت کا حسن بھی شعری کائنات میں ڈھالے۔

لیکن اس سب کے باوجودسعادت سعید سمجھتے ہیں۔’’لایعنیت میں جینا اور اسکا شعور حاصل کرنا انسانی زندگی کی دو مختلف جہتیں ہیں، لا یعنیت میں جیتے انسان لاتعلقی کی زندگی بھی بسر کرتے ہیں‘‘ آگے چل کر کہتے ہیں ’’انقلابی دانشوروں کو اس بات سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے کہ فرد کی داخلی زندگی کو نظر انداز کرکے معروضی اور خارجی دنیا میں تبدیلی کا پرچم بلند کرنا میکانکی انقلابی شعور کا سہارا لینا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ انقلابی تبدیلی خارجی ماحول سے معاشرے میں رونما ہوتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس عمل میں فرد کی داخلی زندگی کو کلی طور پر نظر انداز کر دیا جائے۔‘‘

اپنی اس فلسفیانہ فکری ہم آہنگی کو سعادت سعید نے جس عمدگی سے حسی امتزاج کی نظموں میں بیاں کر دیا ہے وہ اردو ادب میں تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ حسی امتزاج پر کہی گئی نظموں کا ایسا حسن پہلے کسی شعری حوالوں میں کم موجود ہے۔ ’’ من ہرن‘‘ کی بیالیس نظموں میں انھوں نے لسانی تجربات کرتے ہوئے زبان اور معاشرے کے باہم اشتراک سے اپنے فکری امکانات کو تجسیم کیا ہے، جسے یقیناً ادبی قاری پسند کرے گا۔ ۱۶۰ صفحات پر مشتمل اس مجموعے کو مکتبہ نسیم ۔ ۳۳ لاج روڈ لاہور نے اگست 2017 میں  خوبصورت سرورق کے ساتھ شایع کیا ہے۔

About نعیم بیگ 135 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔