عورت، سماج اور جنسی جرائم کا کھلا بازار

Naeem Baig
نعیم بیگ

عورت، سماج اور جنسی جرائم کا کھلا بازار

از، نعیم بیگ

’’مجھے زنا بالجبر کا شکار ہوئے ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے، لیکن آج بھی اپنے خوابوں میں، اپنے بچوں کے درمیان روز مرہ معاشرتی ملاقاتیں کرتے ہوئے اپنے ارد گرد لوگوں سے خوف محسوس کرتی ہوں۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں بھول چکی ہوں لیکن یہ ایک ادھورا سچ ہے۔ میرا ماضی میرے جسم پر لکھ دیا گیا ہے جسے میں ہر روز اپنے ساتھ لیے پھرتی ہوں۔ یہ ماضی ایک دن مجھے مار دے گا، کیوں کہ اس ہول ناک جبر کا بوجھ مجھ سے اب نہیں اٹھایا جاتا۔‘‘

نیو یارک کے بیسٹ سیلر ناول نگار، روزنے گے اپنی معروف کتاب میرے جسم کی یاد داشتیں میں لکھتی ہیں۔

مجھے یہ الفاظ منگل کی شام رنگ روڈ اور لاہور سیال کوٹ موٹروے پر ہونے والے شرم ناک اور دل دہلا دینے والے جنسی جرم کے واقعے سے یاد آئے۔ بچوں کے سامنے ماں کے جسم اور متاعِ احساس کو پامال کیا گیا۔ لمحہ بھر میں مال، متاع اور اپنے جَسد کے اوپر اپنے اختیار کا احساس لُٹ گیا۔

ذرا سوچیے، ماں کا جو حال ہوا سو ہوا، ان بچوں کے معصوم اذہان پر اس سماج کے کیا نقش ثبت ہوئے ہوں گے؟ کیا یہ عورت اور بچے کبھی کسی انسان، اس سماج اور ان حفاظت کے ذمے دار اداروں اور ملک کے وفا دار رہیں گے؟

ہم اپنے سماج کے چہرے کو کیوں روز بَہ روز تنزّلی کے اس درد ناک درجے پر لا رہے ہیں۔ ہم کیوں ایسا نہیں سوچ رہے ہیں کہ ہم اجتماعی حکومتی و سماجی ذمے داریوں میں نا کام ہو رہے ہیں۔ ہم قانون کی بالا دستی اور قانون کے تسلی بخش نفاذ پر توجہ کیوں نہیں دے رہے؟

کیا یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں نہیں ہو چکی کہ ریپ ہمارے ہاں ایک معمولی جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر دو گھنٹے بعد گینگ ریپ کا ایک واقعہ ہوتا ہے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں اس خبر کی تمام تفصیلات موجود ہیں۔ مجھے اس واقعے کی تفصیل میں  نہیں جانا، کیوں کہ موٹروے پولیس کی نا اہلی اور وقوعے کے الم ناک نتائج  پر اب چارج لینے والے پنجاب پولیس کے نئے چیف اس واقعے پر نوٹس لے چکے ہیں۔ تاہم مجھے اس خوف ناک جنسی جرم پر ایک سماجی مکالمہ کرنا ہے۔

عورت کیا ہے؟ اس کی حرمت اور اس سماج میں اس کی بے چارگی کو ہم نے کن کن بہانوں سے گُھٹنے کے نیچے دبا رکھا ہے۔ ریب اور جنسی جرائم کے جواب میں کبھی اس سماج کے با اختیار ڈیلرز ہمیں عائلی قانون کی دُہائی دیتے ہیں، کبھی مذہب میں دی گئی شادیوں کی اجازت پر عدمِ عمل کا طعنہ دیتے ہیں۔ کبھی عورت مارچ کے حوالے سے عورت کی خود رو بڑھتی ہوئی بے جا آزادی پر لعن طعن کرتے ہیں۔ لیکن بات وہی کہ کج آرائی کے کئی باب کھولیں گے اگر نہیں بولیں گے تو عورت پر ہونے والے جبر پر نہیں۔

عورت… عورت اور اس کے ساتھ جڑی عِصمت سے ہمارے ذہنوں میں صرف جنس اور وحشی پن کا خیال کیوں جنم دیتا ہے۔ عورت ہمارے سامنے کبھی انسان کی صورت نمایاں کیوں نہیں ہوتی؟ اس کا آفاقی مقام، اس سے جڑے مقدس رشتے، ماں، بہن، بیٹی ہم تمام مردوں کے لیے باعثِ آزار کیوں بن چکے ہیں؟

گالی ہو تو عورت کی۔ عزت لُٹے تو عورت کی۔ گھریلو تشدد ہو تو عورت پر۔ غیرت پر قتل ہو تو عورت کا۔ عورت کیا کیا بھوگ سمیٹے گی اپنے اندر۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے معاشرے کے کسی مرد نے جنس سے ہٹ کر عورت بارے سوچا ہے؟

سوالوں کا ایک لا مُتناہی سلسلہ ہے جو میرے اندر ایک طوفان پربا کر چکا ہے۔ مجھے اپنے آپ سے شرم آنے لگی ہے۔

About نعیم بیگ 138 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔