ہم زاد

Zaigham Raza

ہم زاد

افسانہ از، ضیغم رضا

بالآخر میں نے خود کو اپنی ذات کے کنویں میں گرا دیا۔

ان آوازوں سے بہت دور جو میرے کان میں پڑتے ہی میرے گرد خوف کا حصار کھینچ دیتی تھیں۔ اپنا سر گھٹنوں میں چھپائے، کانوں میں سرسراتی آوازوں کو تا دیر سنتے سنتے جب میں تھک جاتا تو چیخ اٹھتا۔ میں نہیں جانتا تھا چیخ بے معنی ہے، ان لوگوں کے لیے جو اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لینے کے عادی ہیں۔ انہیں سے یہ عادت مجھے بھی پڑ گئی۔۔۔ منظر بدلنے کی بہ جائے آنکھیں دوسری طرف کر لینا، آوازوں پہ کان دھرنے کی بجائے کان بند کر لینا، ایک طرح کی روایت تھی جسے میں بھی نبھانے لگا تھا۔

میری سیمابی طبیعت جو ٹھہرے ہوئے پانی کو زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتی تھی، جلد بے زار ہونے لگی۔ میری چیخ پہ ٹھٹھکا ہوا مجمع جب ایک پل کو زیرِ لب مسکراتے ہوئے اپنی راہ لیتا تو میری بے بسی دیدنی ہوتی۔ زمین کی پیٹھ پہ تھڈے مارتے رہنا میرا مشغلہ بن گیا؛ اس وقت تک کہ میری سکت باقی رہتی۔ میری شکایتی نظروں پہ زمیں و آسمان میں کوئی بھونچال نہ آیا تو میں ہر طرح سے مایوس ہو گیا۔

میرے مشاغل اب اجاڑ کھنڈر حویلیاں، کائی زدہ تالاب، ٹنڈ منڈ پیڑ، اور صدیوں سے بے کروٹ پڑے صحرا کی خاک چھاننا ہی رہ گیا۔ وہ سکون جو ابدی ہو، میرا مقدر نہیں ہے؛ یہ احساس میرے لیے قدرے اطمنیان بخش تھا یا کم سے کم میں نے یہی سمجھ لیا تھا۔۔۔ اپنی شکستگی سے فرار حاصل کرنے کے لیے ایک ایسے موحد کی طرح جو اپنی نا کامی کو حتمی جانتے ہوئے بالآخر انجام خدا کی مرضی پہ چھوڑ کر مطمئن ہونا چاہتا ہے۔ میں بھی بے سکونی کو رازِ حیات جان کر پُر سکون رہنے لگا۔ ارد گرد سے لا تعلق، بَل کہ بسا اوقات خود سے بھی۔۔۔ وہ چند گھڑیاں یا میرے انہماک کی بدولت، وقت کی تیز رفتاری جنہیں چند گھڑیوں تک محدود کر دیتی تھی، میرے لیے خود منکشفی کا وقت ہوتا۔ مناظر سے اکتائی ہوئی میری نظریں میری ذات کے تعاقب میں لگ گئیں، میں اپنی ذات میں گہرائی تک اتر گیا۔

میرے پاؤں جوں ہی تہہ پہ ٹکے، گھپ اندھیرے نے میری آنکھوں کو دھندلا دیا۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی بھی دیتا تو یقیناً میں مزید اندھیرے کو تلاشتا کہ روشن مناظر جلد ہی اکتاہٹ سے ہم کِنار کر دیتے ہیں۔ یہ اندھیرا ظاہر ہے عارضی تھا سو جلد ہی میری آنکھیں تاریکی میں دیکھنے کے قابل ہو گئیں۔ تبھی مجھ پہ انکشاف ہوا کہ کوئی بھی جذبہ نا قابلِ برداشت اس وقت تک ہوتا ہے جب تک کہ ہمارا وجود اس سے نہ آشنا ہوتا ہے۔

مجھے یہ دیکھ کر قدرے مسرت کا احساس ہوا کہ وہاں میری وحشت سے لگّا کھاتا کافی سامان تھا۔ چند مردہ مینڈکوں کے ڈھانچے، سانپ کی کینچلیاں، مردہ جسموں سے الگ ہو چکی مختلف اعضا کی ہڈیاں اور سب سے قابلِ توجُّہ طویل و عریض مکڑی کا جالا کہ جس کا بہت سارا حصہ میرے جسم کے مختلف حصوں سے چپک گیا تھا۔ ایک کونے میں میری نگاہ دیکھنے کے قابل ہوئی تو وہاں مجھے ایک چمگاڈر نظر آیا۔ میں اسے مردہ سمجھنے کی غلطی کر ہی رہا تھا کہ اس کے وجود میں تحرک نظر آیا۔ اس کی جسمانی تحریک نے میرے تحیر کی گرفت میں آئے جامد ذہن کو متحرک کر دیا اور مجھے یاد آیا کہ یہاں گھپ اندھیرا ہے با وجود یہ کہ میری آنکھیں اندھیرے سے رُو شناس ہو چکی ہیں۔

“مجھے نہیں بھولنا چاہیے کہ تاریکی میں دیکھنے کے قابل ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ تاریکی کے وجود سے ہی انکار کر دیا جائے۔” میں نے سوچا اور کہیں سے سنی سنائی یہ بات بھی مجھے یاد آئی کہ چمگاڈر اندھیرے میں بھی دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ لہٰذا اندھیرے میں داخل ہوتے ہی ناک پہ ہاتھ رکھ لینا چاہیے ورنہ چمگاڈر سب سے پہلا حملہ ناک پہ کرتا ہے۔ میرے تصور میں اس بوڑھے کی شبیہ آئی جس کی ناک کٹی ہوئی تھی۔ وہ جب بھی کسی مجمعے کے قریب سے گزرتا تھا تو بڑے دبی آواز میں جب کہ بچے بلند آواز میں شور مچاتے:

بھایا بھایا بھایا

ناک کٹا آیا

وہ خود بھی سنجیدہ محفلوں میں بچوں کو تنبیہ کرتا تھا کہ اندھیرے میں ناک چھپائے بغیر مت جایا کرو ورنہ میری طرح حشر ہو گا۔ اگر چِہ اس کے قریبی جاننے والے بتاتے تھے کہ وہ رات کے وقت اپنی معشوقہ سے یہ جانے بغیر ملنے چلا گیا تھا کہ کہیں اس کے بھائی اندھیرے میں چھپے ہوئے نہ ہوں۔ معشوقہ کے بھائیوں سے ناک تو کٹوا لی مگر اپنی ہزیمت کو چھپانے کے لیے اور ان سے انتقاماً ان کو چمگاڈر کا نام دے دیا۔ ناک کٹے کے یاد آتے ہی میرے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تو چمگاڈر بول پڑا:

“ہمیشہ یہی ہوتا آیا ہے۔”

میں جو آوازوں سے دور نکل آیا تھا، چمگاڈر کا بولنا مجھے حیرت زدہ کر گیا اور ابھی میں خود کو سنبھال ہی رہا تھا کہ اس نے اپنی بات مکمل کی:

“ہر مجرم اپنے جرم کا مُحرّک مجھے یا مجھ جیسوں کو بتا کر پچھتاوے سے نجات پاتا ہے۔”

یہ کون ہے؟ یہاں کیا کر رہا ہے؟ چمگاڈر بول کیسے سکتا ہے؟ میرے خیالات اس نے کیسے پڑھ لیے؟؛ یہ اور اس طرح کے لا تعداد سوال تھے جو اس وقت میرے ذہن میں تھے۔ دفعتاً اس پہ میری نگاہ پڑی تو مجھے لگا اس کی آنکھوں سے آنسو ڈھلک رہے ہیں۔ میرے وجود میں بسی اداسی کا تناؤ مزید بڑھ گیا۔ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اس سے آنسوؤں کا سبب دریافت کر کے ہم دردی کے کچھ بول بولوں کہ وہ خود بول پڑا:

“تم جب آئے تھے تو میں خوشی سے کھل اٹھا تھا اگر چِہ تم دیکھ نہیں سکے۔”

وہ رکا، شاید یہ جاننے کے لیے کہ میں اس کی طرف مُتوجُّہ ہوں کہ نہیں اور پھر بولتا چلا گیا:

“یہ مت سمجھنا کہ میں نے خوشی تم سے چھپائی ہے۔ مجھ میں اس منافقت کا شائبہ تک نہ پاؤ گے جو ہمیں خوشی کو چھپانے اور دکھ کا ڈھنڈورا پیٹنے پہ اکساتی ہے۔ در اصل، تم اس وقت اندھیرے میں دیکھنے کے قابل نہ تھے، مگر میں نے تمہیں دیکھ لیا تھا تبھی مجھے خوشی ہوئی۔”

“تم خوش کیوں ہوئے تھے؟ اور۔۔۔”

” اب رویا کیوں؟ یہی پوچھنا چاہ رہے ہو نہ؟”

“ہاں۔۔۔۔”

“میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں۔”

کہانیاں میں نے اپنے گھر کے بزرگوں سے سنی تھیں یا کبھی کبھار ہم چند دوست جمع ہوتے تھے تو اپنے بزرگوں سے سنی ہوئی کہانیاں دُہراتے تھے۔ اگر چِہ وہ سب ایک ہی کہانی کے اجزا ہوتے تھے مگر نئی زبان سے سن کر یک سانیت محسوس نہ ہوتی تھی۔ مگر ایک چمگاڈر کے پاس بھی کہانی ہو سکتی ہے؛ میرے لیے ایک نئی بات تھی۔

” تم بھی کہانی کہہ سکتے ہو؟

” ہر ذی روح کے پاس کہانی ہوتی ہے یا وہ خود کہانی ہوتا ہے تبھی وہ کچھ نیا سننے کے لیے دوسروں کی کہانی سنتا ہے۔”

“تم اپنی کہانی سناؤ،” میں نے اپنی بے تابی چھپانے کی کوشش نہیں کی۔

“یہ کہانی ایک عورت کی ہے مگر اب مجھے اپنی ہی لگتی ہے۔”

“ایک عورت جسے دیو نے قید کر لیا تھا۔۔۔ اب خدا جانے عورت کو دیو نے قید کر لیا تھا یا دیو ہی عورت کو قید کرتا ہے۔۔ خیر! بات تو ایک ہی ہے۔ تو وہ دیو مُنھ اندھیرے ہی غار سے، جس میں اس نے عورت کو قید کر لیا تھا، چلاجاتا تھا اور شام ڈھلے واپس آتا تھا۔ کئی دن وہ عورت تنہائی کا کرب جھیلتی اس غار میں مقید رہی تا آں کہ وہاں ایک بھٹکا ہوا مسافر یا تجسس کا مارا انسان نمو دار ہو گیا۔ اس کو دیکھتے ہی قیدی عورت جی کھول کر ہنسی یہ دیکھ کر نو وارد ٹھٹھکا ہی تھا کہ عورت کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ نو وارد نے ماجرا پوچھا تو اس عورت نے خوشی کا سبب یہ بتایا کہ عرصہ ہائے دراز بعد ایک انسان کا چہرہ دیکھا ہے مگر افسوس شام ہوتے ہی دیو آجائے گا اور تمہیں کھا جائے گا۔”

چمگاڈر خاموش ہوا تو میں نے دیکھا وہ ہانپ رہا تھا، اس کے بڑھاپے اور اعضائی کہولت نے اسے ہانپنے پہ مجبور کیا تھا یا ایک تکلیف دہ کہانی کہنے کے بعد اس پہ لرزہ طاری تھا، مجھ پہ مُنکشف نہ ہو سکا۔

“تم بھی جب یہاں وارد ہوئے تو میرے ہنسنے اور رونے کا سبب کچھ ایسا ہی تھا۔”

چمگاڈر نے کہانی کے اختتام پہ اس سنجیدگی کو طاری کیے بغیر کہا جو ہمارے بزرگ یا مشّاق قصہ گو بالعموم کہانی کے اختتام پہ اخلاقی سبق قسم کا وعظ سناتے ہوئے چہرے پہ طاری کر لیتے ہیں۔

“مجھے بھی یہی لگا کہ شاید میری تنہائی دور ہو گئی مگر۔۔۔” یہ کہتے کہتے وہ رکا، اس کے وجود میں جنبش ہوئی اور وہ اڑ کر میرے آس پاس منڈلانے لگا۔

” میرے ساتھ آؤ،” میرے کانوں میں اس کی سر گوشی گونجی تو میں اس کی اڑان کے تعاقب میں، راستہ ٹٹولتا چلنے لگا۔

ایک جگہ جا کے اس نے پرواز روکی اور ایک دیوار سے چپک گیا، جس کے نیچے میں نے دیکھا تو ایک انسانی ڈھانچہ پڑا تھا۔ وہ مرد کا ڈھانچہ تھا یا عورت کا، گئے زمانوں کی یاد گار تھا تبھی اس کو دیکھنا ہیبت میں مبتلا کر رہا تھا۔

” کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ عورت کا دکھ بھی عورت اٹھاتی ہے اور مرد کا دکھ تو ہوتا ہی عورت کا ہے۔”

“یہ کون ہے؟” میری آواز میں لرزش تھی۔

“جوانی کی حدود میں داخل ہوتی ایک خوب رُو لڑکی۔۔۔ مگر ایک دیو کی نظروں میں آ گئی۔ وہ حاکم تھا سو رضا مندی سے نہ سہی بہ زورِ تلوار قیدی بنا سکتا تھا۔ باپ اڑ گیا، سید تھا اس لیے گوارا نہ کیا کہ اپنی بیٹی کو ایک ایسے درخت کا پیوند بننے دے جس کا بیج مشکوک تھا۔ بس ایک ہی حل تھا۔ کچھ دن کا وقت مانگ کر یہاں مار پھینکا اور خود اپنے خاندان سمیت دیس بدر ہو گیا۔۔۔”

” کیا باپ کا فیصلہ ٹھیک تھا؟” میں نے اپنا ذہنی خلجان آشکار کیا۔

“اور کوئی راستہ نہیں تھا، اس نے انکار کیا تھا سو مار دیا جاتا یا چپ کرا دیا جاتا۔۔۔” یہ کہہ کر وہ رکا اور پھر میری طرف چمک دار آنکھوں سے ایسے دیکھا جو الہام سے لبریز تھیں:

“اسی لیے میں آب دیدہ ہوگیا تھا، تم چپ کے مارے انسان ہو مگر افسوس یہاں بھی تمہارے لیے آسودگی کا سامان نہیں ہے۔” یہ کہہ کر وہ رکا اور پھر مجھے ایک ایسے تفتیش کار کی طرح دیکھا جو سامنے بیٹھے شخص کی مکمل طور پر تحلیلِ نفسی کرنا چاہتا ہو۔

” تم کچھ کہنا چاہتے ہو؟

“ہاں مجھے اپنا باپ یاد آ رہا ہے۔۔۔ اس کے سامنے بھی اگر اسے غلط ثابت کیا جاتا تو وہ بہ جائے اپنے بیٹے پہ فخر کرنے کے جھاپڑ رسید کرتا تھا۔۔”

“اور وہ استاد۔۔؟”

“تم میرے بارے میں اتنا کچھ کیسے جانتے ہو؟” میں نے حیرت سے پوچھا۔

“معلوم ہو جائے گا پہلے اپنی کہو۔”

” وہ بس پڑھانا جانتا تھا، تبھی میں کچھ نہیں سیکھ سکا اس سے بل کہ۔۔۔ کسی سے بھی نہیں۔۔”

“یہاں بھی تم جیسی کئی لاشیں آئیں جن کے اب ڈھانچے ہی باقی رہ گئے۔۔۔ وہ جو سر پہ کتابیں باندھے رہتا تھا مگر اس کا باپ اسے کام سے اتنی مہلت بھی نہیں دیتا تھا کچھ دیر بیٹھ کے پڑھ سکے، وہ جس نے امام صاحب کو روٹی کا مزدور کہا تھا اور وہ جو لکھے کو نہیں مانتا تھا، وہ سب یہاں ہیں اور تم بھی ان میں شامل ہو گئے۔”

یہ کہتے کہتے چمگاڈر جُوں ہی خاموش ہوا مجھے لگا کہ میرا وجود تحلیل ہو رہا ہے۔ گھپ اندھیرے میں مجھے اپنا آپ کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

” میں کہاں ہوں؟” میں چیختا رہا مگر میری آواز میرے علاوہ اور کوئی نہیں سن رہا تھا۔