چودھویں رات کی سرچ لائٹ : افسانہ از، فرخ ندیم

چودھویں رات کی سرچ لائٹ

چودھویں رات کی سرچ لائٹ

افسانہ از، فرخ ندیم

دریائے سوانا سے کوئی سو گز دُور جنگلی حیات ایک اور مشکل دن کی تھکن اُتار رہی ہیں۔ ٹمٹماتے ستاروں بھری راتیں گھاس اور گوشت کے درمیان ایک فطری اور ناگزیر تفاعل کی تمثیلیں دیکھنے کی عادی ہیں۔ جب سے زمین نے ہوش سنبھالا ہے ہر روز سورج چاند کئی سوالات سمیت ابھرتے اورغروب ہوجاتے ہیں۔ دریائے سوانا خاموش ہے یا پھر اپنے بہاؤ میں گدلاہٹ کے سوال سے تہہ در تہہ کھول رہا ہے۔ برفیلی چٹانوں سے سمندروں کے ساحلوں تک کتنے ہی مدوجزر اس کے تسلسل کو تجربات بخشتے ہیں۔ یہ خاص خطہ، جہاں سوانا کے آس پاس مختلف نسلیں اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہی ہیں، تاریخی ارتقاء کو ہمیشہ سے رنگین کرتا رہا ہے۔ آ ج کل اس کرّہِ ارض کی ان تھک رودادیں اور بھیانک فلمیں پوری دنیا کے کیمروں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔ تمام حیات کی گود ہونے کے سبب اس علاقے کی حرمت خاص و عا م پر واجب تھی لیکن کچھ جانوروں نے نہ صرف اس کے مستقبل کو روند ڈالا بلکہ جانوروں کی طرح اس کے تقدّس کو پا مال بھی کر دیا۔

نیشنل جیو گرافک کے نمائندے متحرک اور غیر متحرک کیمرے لیے سوانا کے قریب اسی وادی میں اُترتے ہیں۔ یہ نمائندے پہلے بھی اس خطے میں بڑی دلچسپ دستاویزی شہادتیں رقم کر چکے ہیں مگر اس بار ان کی ریسرچ کا مرکزی خیال کچھ اور ہے۔ صرف ٹی وی پر ہی نہیں میرے کمرے میں بھی آدھی رات کاوقت ہے۔ میں جب بھی رات کو اپنے روزمرہ کے کام سے اُکتاہٹ محسوس کرتا ہوں تو ایک بٹن دبانے سے میرا رشتہ فطرت کی ایک ایسی انوکھی دنیا سے جڑ جاتا ہے جو میرے احساسات میں کبھی امید جگاتی ہے اور کبھی سانسوں کو سراسیمگی سے جوڑتی رہتی ہے۔اس میں عجیب اپنائیت ہے اور وحشت بھی، جو بشری بیانیوں کے اثرات کا بڑا ہی انوکھا مگر دلخراش ثمر ہے۔ میرے کمرے میں روشنی صرف ٹی وی سکرین کی تھی جو ڈاکیومنٹری کے رنگوں میں تنوع کے سبب آسمانی بجلی کی طرح اُچھلتی بکھرتی اور غائب ہوجاتی۔ اس تاریک اوروحشت زدہ جنگل میں ان نمائندوں کے ساتھ ایک گوری چٹی مبصر لڑکی دیکھ کر میں بہت حیران ہوا۔ انگریز خلا میں جائیں یا جنگل میں عورت ضرور ساتھ ہوتی ہے۔

سرچ لائٹ کی روشنی میں اس لڑکی نے اپنے پراجیکٹ پر بولنا شروع کیا:

’ہربی وور herbivore، کارنی وور carnivore اوراومنی وور omnivore، یہ محض جانوروں کی منفرد صفات ہی نہیں بلکہ کیمرے کی ننگی آنکھ سے دیکھیں تو کسی حد تک درست زمینی حقائق بھی ہیں۔ سمبا کو اپنی طاقت پر غرور ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ گھاس کھانے والوں کا گوشت نہ صرف اس کی ضرورت بلکہ حق بھی ہے۔ اونچی مچانوں میں بپھرتا ہوا جب دھاڑتا ہے تو چرند پرند سمجھ جاتے ہیں کہ خونِ نا حق حتمی ہے۔ کچھ پرندوں کے لیے یہ صورت ناقابلِ برداشت ہوتی ہے اس لیے وہ موسموں کی پروا کیے بغیر دوسرے درختوں کو ہجرت کرجاتے ہیں۔ کچھ پرندے تو اس کی عادات کو سمجھ چکے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جب تک یہ سوتا ہے، جنگل کی دنیا خونریزی سے محفوظ رہتی ہے۔ لیکن جونہی اس کی آنکھ کھلتی ہے گھاس چرتے کسی نہ کسی جانور کی آنکھ بند ہوجاتی ہے۔ ایک بھیانک انگڑائی کسی خاندان کو ادھورا کرسکتی ہے۔ حکمت اور تجربہ جب ایک ہو جاتے ہیں تو شکار اور اس کی سانس میں ایک چھلانگ کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔ اور جب تک ہڈیاں خالی نہ ہوجائیں درختوں پر بندروں کی اچھل کود ایسے بند رہتی ہے جیسے بھوک ہڑتال ہو۔جنگل کی سمبا پرست روایت میں دو ہی دستور ہیں، کھا جانا یا کھائے جانا۔ جہاں بھی کچھ جانور سینگ جوڑ کر کچھ سوچنا شروع کرتے ہیں، گھاس روندتی ہوئی ایک دھاڑ سنائی دیتی ہے اور پھر طویل خاموشی۔

جلولو، جس کا ماضی گواہ ہے کہ تیز رفتاری میں کوئی ثانی نہیں رکھتا، بنیادی طور پر سمبا ہی کے خاندان کا مختصر مگر پھرتیلا اور دُوراندیش جانور ہے۔ اس کے شکار کرنے کا طریقہ صدیوں پہلے کی اختراع ہے جس کے سبھی جانور قائل ہیں۔ اس جنگل کا شاید ہی کوئی ایسا کونہ ہو جہاں اس کے پنجوں نے دھول نہ اُڑائی ہو۔ اس کی تاریخ میں اتنے دھبے ہیں کہ موسلا دھار بارش بھی نہیں دھو سکتی۔بڑے بڑے سورماؤں کے سامنے اس نے کئی بار اپنی حکمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ صدیوں پہلے اس نے درختوں کی انچائیوں سے وسائل تلاش کرنا سیکھ لیا تھا۔ جب یہ شکار پر لپکتا تو جنگل کے دوسرے جانور ایسے رشک سے دیکھتے تھے جیسے اپنی شکست خود کلامی کر رہے ہوں۔’گھات لگانا تو کوئی اس سے سیکھے، ‘ وہ بے اختیار کہہ دیتے۔ یہ بے وجہ دھاڑتا نہیں، نہ ہی بے سبب مچان چھوڑتا ہے۔ پنجون اور جبڑوں کا صحیح اور بر وقت استعمال کرتا ہے اور جونہی شکار آخری سانس لیتا ہے، مچان تک پہنچا کر ہی دم لیتا ہے بھلے میلوں گھسیٹنا پڑے۔

ان دونوں کے بعد تیسری سرداری ہائنا کی ہے جو شاہی معاملات میں رسپوٹین کی طرح اپنے وجود کو آزمانا چاہتا ہے۔ اس کی اپنی کوئی باقاعدہ سلطنت نہیں۔ یہ اب بھی، زیادہ تر، سمبا اور جلولو کا ہی جوٹھا کھاتا ہے مگر جب بھی موقع ملے کسی بیمار، اپاہج یا کم سن دشمن کی کھال تک کھا جاتا ہے۔ اس کی بھوک کا عالم یہ ہے کہ مرے ہوئے جانور پر بھی اتنا خوش ہوتا ہے کہ اپنے جسم کو اس پر رگڑتا ہے۔ اس کا گوشت کھاتا ہے۔ جب پیٹ بھر جائے تو اس کے خون پر لوٹنیاں لگاتا ہے تاکہ فتح کی بو کا اثر دیرتک رہے۔ ایک انوکھی بات جو آج تک کسی شکاری جانور میں نہیں دیکھی گئی وہ یہ کہ ہائنا شکار کو مرے بغیر کھانا شروع کردیتے ہیں اور وہ بھی پچھلے حصے سے۔ حالانکہ سمبا اور جلولو بھی گردن پرجبڑے پیوست کیے شکار کے سانس بند ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ اس سے بڑی بات یہ کہ کسی بچھڑے کا سینگ لگنا تو کیا غلطی سے اُس کا پاؤں بھی دُم پر آجائے تو سارے مل کر اتنے بین کرتے ہیں کہ جنگل کی نیند اُڑجاتی ہے۔

مبصر لڑکی کے بقول یہ خطہ جس کا ہر دن کسی نہ کسی جان کے نذرانے سے شروع ہوتا اور دلخراش دھاڑوں پہ ختم ہوتا، اس کی ملکیت کا حق جلولو کا تھا نہ سمبا کا۔ پھر بھی یہ سردار، اپنی کچھاروں سے نکل کر، اس جزیرے کے چاروں طرف اپنے پنجوں سے گرد اُڑاتے،دھاڑتے، غراتے اور جھاڑیوں پر پیشاب کر کے اپنی طاقت کی مہر لگاتے۔ سب چرند، پرند ان کی آمد کا اعلان بھرپور احتجاج سے کرتے۔ درختوں پر اُچھل کود ہوتی۔ سارا جنگل شور میں ڈوب جاتا مگر اچانک کوئی شکار سمبا کی ایک ضرب سے تقسیم ہوجاتا اوردوست جمع ہوجاتے۔ دیکھتے ہی دیکھتے شکارکا وجود کرنگ ہوجاتا یا ختم ہوجاتا اور وجودیت تماشائی پرندوں کی آنکھوں سے ٹپکنے لگتی۔

سرچ لائٹ کا رُخ اب ایک بپھرے ہوئے ہجوم کی طرف ہے جسے ایمی طنزیہ لہجے میں دوسرا تمدن کہتی ہے… گائے نہ بھینس۔ یہ ولڈر بیسٹ ہیں۔ افراتفری کے عالم میں بے سمت بھاگتے ہوئے یہ جانور چراہ گاہوں میں دہشت پھیلا رہے تھے۔ گوشت خوروں کو اپنی نسلوں کے کچلے جانے کا ڈر تھا اس لیے وہ کچھاروں میں گھات لگائے بیٹھے تھے۔ نیل و نیل، نیل گایوں میں کچھ غصے میں تھیں لیکن منہ بند، ایسے بند جیسے زبان گنگ ہو گئی ہو۔اس بھگدڑ میں کئی مائیں بین کرتی اپنے بچے تلاش کر رہی تھیں۔ تہذیبوں کا ٹکراؤ رات کی تاریکی کو تاریخی بنا رہا تھا۔ سمبا خاندان نے ایک ایک کر کے سبھی جانوروں کو تگنی کا ناچ نچا دیا ۔ کچھ گھاس خور تھک کر ریتلے ٹیلوں پر گر چکے تھے اور کچھ گھنے درختوں کی آڑھ میں چھپ کر سرکشی بکھیرنے لگے ۔ لیکن اگلی صفحوں والے صورت حال بھانپ چکے تھے اس لیے وہ چپ چاپ وار آن ٹیرر دیکھنے لگے ۔گنتی کرنے سے قاصر یہ جانور بھول رہے تھے کہ روایت کے مطابق آج پھر کچھ جانور ریوڑسے غائب ہیں۔ سبھی نے دیکھا اور محسوس کیا کہ انہی کے خاندان کے ایک دو جانور چکرا کر گرے تو تھے مگر پھر نظر نہ آئے۔ ضرب تقسیم کی لذت سے گوشت خوروں کے جبڑوں میں ببریت چپڑ چپڑ کرتی تیزتر ہوتی جا رہی تھی۔ جو پیچھے رہ گئے تھے وہ ایک جھنڈ کے پاس کھڑے کولہوں پر لگے تازہ زخم سہلا رہے تھے۔ وہ کچھ سوچ رہے تھے لیکن کیا سوچ رہے تھے، بقول ایمی، شاید اس کا ادارک کسی کو قیامت تک نہ ہو سکے۔ سمبا جلولو دُور ہو تو ان سب کا غصہ دیکھنے والا ہوتا ہے ۔ اپنے ہی گرد کی کھڑی فصلوں کو ایسے ملیامیٹ کرتی ہیں جیسے سارے خرابے کی وجہ انہی دانوں اور پتوں میں ہوحالانکہ ساری کی ساری مل کر اگر پھونکنا شروع ہوجائیں تو سمبا ، جلولواورہائنا تودرختوں اور پتھروں سے ٹکراتے ہوے لولے لنگڑے ہو جائیں۔اور سارے کا سارا جنگل ننگا ہوجائے۔ مبصر لڑکی جس کا نام ایمی بریمر ہے حیرانی سے بولی ’’مٹھی بھر گوشت خوروں کے لیے اتنے زیادہ وسائل…؟ مجبوری ہے …چارٹانگوں کے درمیان دیکھنا ہے جہاں معاش بھی ہے اور معاشرت بھی۔ اسے کہتے ہیں غیر مشروط زندگی…‘‘

تھوڑے سے فاصلے پر سرچ لائٹ کا رُخ دوسری طرف مڑ اجہاں کچھ اور گھاس خور محض اپنے آپ کی گنتی کر کے مطمئن نظر آرہے تھے۔ کچھ جھاڑیوں کے پیچھے جگالی کرنے میں مصروف تھے۔ ان میں سے کچھ منچلے نر دوسرے جانوروں کو دانت دکھا رہے تھے تاکہ پرائیویسی میں کسی بھی قسم کی مداخلت نہ ہو۔ ایک جگہ سہمی سہمی سی مادائیں بچے جننے میں مصروف تھیں۔ باقی ان زخموں کوجھیل رہے تھے جو گوشت خوروں کے جبڑوں سے یا پھر خود ساختہ بلوے میں ایک دوسرے کے سینگوں سے لگے تھے۔ اس طرح یہ جانور اپنی اپنی تھکن اُتارتے۔ ایک دوسرے کے سامنے جگالی کرتے اور غول میں کسی زلزلے کی آمد تک ماداؤں کی گردنوں پہ سر رکھ کر سوئے رہتے۔ ایمی بریمر گاڑی اس نہتی حیات کے قریب لاتے ہوئے بولی، ’یہ بھینس نسل اپنے سروں پر موجود خم دارتلواروں کے بل بوتے جی رہی ہے۔ جبڑوں اور پنجوں کے مقابلے میں ان خم دار تلواروں کا استعمال بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے، ایمی بریمر نے ایک واقعہ بیان کیا جس میں ایک سمبا ان وحشی جانوروں کے نرغے میں آجاتا ہے اور اس کی ہڈی پسلی ایک ہو جاتی ہے۔ لیکن ایسا بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی حملہ آور ان کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو یہ ایک قدم آگے اور دو پیچھے کی طرف اٹھاتے ہیں، جس سے حملہ آور مزید شیر ہو جاتا ہے۔ فطرت کی گود میں ایسے ارتقا کی بھی شاید کوئی اپنی ہی فطرت ہے۔

اور وہ دیکھو ہرن میاں، اپنی پیٹھ پہ دُم گھماتے ہیں، مکھیاں اُڑاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کسی بڑی آفت سے نجات مل گئی۔ پنجے نہ جبڑے، ان کے پاس کچھ بھی نہیں، یہاں تک کہ آواز تک نہیں نکلتی۔ جونہی پشت پر جلولو کا پنجا پڑا، دھڑام سے نیچے گرے اور آنکھیں بند۔ بس اتنی سی زندگی تھی۔یاد داشت اتنی کم کہ پانچ سات منٹوں میں گنتی بھی بھول گئے۔ اور یہ گدھے کے جنگلی بہن بھائی زیبرے زمبورے۔ شناختی علامت : جسم پر زخم کا نشان۔ گھاس چرتے کہیں بھی نکل جاتے ہیں اور سمبا جلولو سے بچ بھی جائیں تو ان کے پنجوں جبڑوں سے نشانات لگوا کر واپس آتے ہیں۔ فطری ارتقا نے ان کو بھی پنجے بخشے نہ جبڑے، دھاڑ نہ رفتار۔ مقدر پرست اطمینان ہی ان کا نصیب ہے۔ ایمی بول رہی تھی کہ فطرت پسندی کا چلن بہت عام ہے اور فطری حسن کے تخیل میں کھو کر رومان کی لذت سے بیانیہ کلامیہ تعمیر کرنا آسان ہے مگر رات کے اس پہر جنگلی فطرت کی حقیقت نگاری اور اس کی تعبیر کرنا کتنا مشکل عمل ہے۔ فطرتی حسن کی یک طرفہ خوشگوار حیرتیں ایک طرف اور بدبو دار تاریخیں دوسری طرف۔ اس طرف جہاں گوشت خوروں اور گھاس خوروں کے درمیاں ایک خونی مکالمہ ہے جو اکثر ادیبوں کی نگاہوں سے اوجھل ہی رہا۔ حالانکہ درندگی بھی تو فطرت کا ہی حصہ ہے۔

اس جنگلی متن سے کچھ سسکاریاں سی میرے بستر کی طرف رینگنے لگیں تو نیند پھڑ پھڑاتے ہوئے میرے بدن سے اُڑ ی اور غائب ہوگئی۔ جھر جھریاں آنے لگیں تو میں سگریٹ کے لمبے لمبے کش لینے لگا۔ رات کے اس سناٹے دار پہر میں ایمی بریمر کی آواز اور بھی واضح ہوگئی تھی۔ خاکی پینٹ اور سفید شرٹ کے اوپر خاکی لیدر جیکٹ پہنے ایمی آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہوئے جنگلی بھینسوں کے قریب ہونے لگی۔ اس کی آنکھیں غزال کی نہیں بلکہ بالوں کی طرح بھوری بھوری اور چوکس تھیں۔پتہ نہیں مجھے ایسا کیوں لگا جیسے سمبا اور جلولو جیسی ہوں۔ میرایہ حال تھا کہ کبھی انگریزی میں گم اور کبھی انگریز میں۔وہ تو بہت کچھ بول رہی تھی لیکن میں دونوں طرف سے بے بس ہو چکا تھا۔جیسے کسی کسان کی کھڑی فصل اس کی آنکھوں کے سامنے، اغیار کے ہاتھوں، کٹ رہی ہو اور ایسی منڈیوں تک جا رہی ہو جہاں سے دو لفظ تسلی کے بھی نہ ملیں، اور اسے ملال بھی نہ ہو۔ میرے وجود کی قلمرو میرے ہی سامنے نڈھال ہوتی جا رہی تھی۔شکست خوردگی حد سے بڑھنے لگی تو میں نے ریموٹ کنٹرول کا ایک بٹن دبایا اور مشہور مقامی چینل دیکھنے لگا، جہاں ایک سانڈ اپنے ساتھیوں کو جھاگ پیدا کیے بغیرجگالی کرنے کے نئے طریقے متعارف کروا رہا تھا۔ دوسرے مُنڈیاں ہلا ہلا کر ہاں میں ہاں ملا رہے تھے۔خوفناک حد تک دیسی موضوع تھا، سو میں نے چینل بدل دیا۔ یہاں السی پینے کے فوائد بتائے جا رہے تھے۔ یہ بھی نہیں… بٹن دبادیا… اِدھرہرنوں کی شادی میں دھوم دھام سے دم ہلانے کا مقابلہ جاری تھا… اور یہاں سینگ کی شان میں آںںںں، آںںںں، جاری تھی۔ بالکل نہیں…چینل بدلا اور پھر سلسلہ جہاں سے ٹوٹاتھا ، وہیں سے جڑ گیا۔سامنے ایمی آہستہ سے کچھ بول رہی تھی۔ پھر وہ رینگتے ہوئے ایک سوئی ہوئی بھینس کے قریب ہوتے اور اس کے مڑے ہوئے سینگوں کو چھوکر مسکرائی اور آہستہ سے بولی، ’یہ ہیں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار…!!!‘

ایمی تو فلم بنا رہی تھی مگر میرے وجود سے ٹھنڈے پسینے نکلنے لگے۔ ٹی وی کی روشنی میری آنکھوں کو چندھیا نے لگی اور لفظ اُس فصیل کو چاٹنے لگے جس کے پارمیں اپنے آپ کو جیتا جاگتا معاشرتی حیوان؟ نہیں، بلکہ اشرف المخلوقات سمجھتا تھا۔دماغی ریشوں میں شعور کی برقی رو گزری تو کئی منزلیں میں اپنے ہی اندر گرا۔ گاڑی چلتی گئی اور سرچ لائٹ میں زمبوروں کی لمبی قطار نظر آئی۔ کچھ فاصلے پہ لگڑ بگڑ فطری حسن کے بخیے ادھیڑ رہے تھے۔ سیاہ نہ سفید زیبرے ان لگڑ بگڑوں کی جشن بھری چیخیں سنتے اور ایک دوسرے کے پیچھے چھپ کر گھاس تلاش کرنے لگ جاتے ۔ایمی کے بقول یہ جانور اپنی شناخت اس وقت کھو گیا جب ارتقا میں فیصلے کی گھڑی آئی۔اب یہ دن کو چھپ سکتا ہے نہ رات کو۔ کہیں بھی ہو جبڑے اس کے منتظر رہتے ہیں۔سمبا اور جلولو تو کیا ہائنا بھی بڑی آسانی سے اس کے خون سے ہولی کھیل سکتے ہیں۔

اس جنگل میں جس کو بھی شہزادہ بننا ہے اس کے لیے تین واضح اصول ہیں۔ ایک طاقت، دو رفتا ر اور تین موقع پرستی مگر اس دو رنگے زمبورے کے پاس تو یادداشت تک نہیں۔ باربار مشق کرنے سے اتنا ماہر ہو گیا ہے کہ کسی بھی بڑے حادثے کو چند لمحوں میں فراموش کرسکتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کھڑی گھاس میں ایک خطرناک مامبا پھن پھیلائے قائمہ زاویہ بنانے لگا۔ زمبورے نے بڑی مشکل سے گلا صاف کیا۔ اِدھر اُدھر دیکھا۔ اس کے سر پر تو دوتلواریں بھی نہیں تھیں۔ دولتیاں چلائیں، اتنی بے سمت کہ اپنی ہی قبیل کے جانور کی جگالی ہوگئی۔ اتنی دیر میں شاہین نسل کا ایک پرندہ اپنی بصارت اور بصیرت کے سہارے مامبا پر ایسے جھپٹا کہ چونچ پھن کے آرپار نکل گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے مامبا لیرولیرہوگیا۔ زمبورا اتنا خوش ہوا کہ بھاگتا ہوا اپنی مادہ کے پاس گیا مگر فوراَ ہی راستہ بدل لیا۔ شاید یہ سن کر کہ تم باپ بننے والے ہو۔ ڈرتا ہے کہ آنے والا کل جلولو کے پنجے ہی نہ مانگ لے۔ لگڑبگڑ کا منہ پھٹ بچہ پاس سے گزرتا ہے اور مجھے ایسا لگا جیسے تمسخر اُڑاتے ہوئے کہہ رہا ہو ’’گھاس کھاؤ گھاس، روایت کی دی ہوئی گھاس… کیونکہ تمہاری ثقافت میں بقا کی جنگ نہیں بلکہ رسم پوری کرنے کا رواج ہے‘‘۔ زمبورے نے کوئی جواب نہ دیا تو ایمی کے منہ سے بے اختیار نکلا’’ زمبورا بول نہیں سکتا!…‘‘

رینگتی ہوئی رات پچھلے پہر سے جا لگی اور ایمی ڈاکیو منٹری کو آخری شکل دینے کے لیے دریائے سوانا کے کنارے پہنچ گئی۔ ایک یہی دریا تھا جو اس تھکی ماندی بے سمت حیات کو اپنے بہاؤ کا درس دیتا اور اپنا عکس دیکھنے کا وقت دیتا۔ بقول اس لڑکی کے اس دریا کا پانی کبھی کسی تقدس کی زرخیز علامت سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب بقائے طاقت کے پیش نظر کچھ نسلوں نے اس پوتر پانی میں اپنے مستقبل کو محفوظ کر لیا ہے۔ گھاس خوروں کے لیے تو یہ پانی اب بھی مقدس ہے مگر گدلاہٹ کی وجہ سے ہر دس میں سے ایک بچھڑا اس گرم بازار کے حصص کا ایندھن بن جاتاہے۔ موٹی جلدوں اور نوکیلے جبڑوں والے مگوں نے دریا میں پانی پینے والوں پر دھاوا بول دیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے بے سمت گھاس خور جانور ایک دوسرے کو کچلتے دریا پار کرتے دوسری طرف بھاگنے لگے۔ کچھ پانی میں کھڑے اپنے ساتھیوں کو مدد کے لیے پکار رہے تھے۔ لیکن جہاں ذاتی بقا کی جنگ ہو وہاں دوسرے کی مدد کے لیے پکار بے معنی ہو جاتی ہے۔ مگر مچھوں نے چند لمحوں میں ان کے جسموں کا بٹوارا کر دیا۔ یہ خوفناک گوشت خوری جب میری آنکھوں سے ٹکرائی تو بوکھلاہٹ سے میں نے آنکھوں پر ہاتھ رکھنے کے بجائے کانوں میں انگلیاں ٹھونس دیں۔ ایمی نے اپنا تھیسز مکمل کیا۔’’گھاس خور نے ہر جگہ ہڑپ ہونا ہے‘‘۔

گوشت خور اپنا حصہ وصول کر کے واپس اپنے کچھاروں میں جانے لگے۔ اس کے ساتھ ہی ایمی بریمر کی ڈاکیمونٹری ختم ہوگئی۔ ویڈیو کیمرے کی آنکھ بند ہوئی تو میری نظر کھلی کھڑکی سے باہر پڑی۔ آسمان سے چودھویں رات کا میگا پکسل کیمرہ میری فلم بنا رہا تھا۔ ایک اومنی وورس جبڑہ جو کسی ڈائنوسار کا لگ رہاتھا میرے کمرے کی کھڑکیوں پر دانت گاڑے ہوئے تھا۔ میں نے اٹھنا چاہا تاکہ کھڑکی بند کردوں لیکن قدموں تلے گلوبل ولیج پھسلتا ہوا محسوس ہوا۔ میں نے ایک جست میں ہزاروں بار قدم جمانے کی کوشش کی لیکن گلوب کے اس سفر نے نڈھال کردیا اور لڑکھڑا کر وہیں گر پڑا۔ دور کہیں لگڑ بگڑ سمبا اورجلولو کے پیچھے جوٹھا کھانے کو بھاگ رہے تھے۔ ان کے نتھنوں میں تازہ خون کی بو خارش کررہی تھی۔ ان سب کی آنکھوں میں وحشت چمکتی ہوئی محسوس ہوئی۔ میں بہت ڈرا… ٹی وی آف کیا…بیوی کی گردن پہ سر رکھ کر جمائی لی… اور سراسیمگی پھلانگتے سو گیا۔

***

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*