ہمارے سماج کا بنیادی مسئلہ:  قانون شکن ذہنیت

ڈاکٹر سید عون ساجد 

وہ کون سے بنیادی و فرعی  مسائل ہیں جن کی وجہ سے یہ کشور حسین، ستر سالوں میں مرکز یقین نہیں بن سکا ؟ کیا ہم  منزل مراد پاسکتے ہیں ؟ ارباب حل و عقد کی توجہ اس بنیادی مسئلے کی جانب مبذول ہونا ضروری ہے.

  شناخت کے سادہ ترین عمل سے ریاضی، منطق و فلسفہ کے پیچیدہ ترین معموں کو سلجھانے اور رنگ و آواز سے متاثر ہونے سے ذوقیات کے اعلی مدارج تک جہاں انسان کے انفرادی شعور نے طویل ارتقائی سفر طے کیا ہے، وہیں انسان کے سماجی و اخلاقی شعور نے بھی ظہور اقدار سے قانون سازی اور قانون پسندی سے اقدار کی باز آفرینی تک کے سفر میں کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں ، ان طویل ارتقائی مراحل میں انسان نے اپنی فکری و عملی زندگی کی بقاء و بالیدگی کے لیے فطرت کے تناظر میں بنیادی منفعتوں اور ضرر کو دریافت کیا ہے، جس نے اسے ان راہوں سے روشناس کروایا ہے جو اعلی آئیڈیل معاشرے کی جانب جاتی ہیں۔
آج پیشرفتہ و پسماندہ معاشرے کی حد امتیاز قانون پسند و قانون شکن ذہنیت ہے۔

جہالت ہمارے معاشرے کا اولین مسئلہ ہے اور اس کا بدترین نتیجہ قانون شکن ذہنیت ہے۔

میری رائے کے مطابق قانون شکن ذہنیت و تجاوز ، چند دیگر مسائل کے ساتھ ہمارے معاشرے کا بنیادی مسئلہ ہے جو نصابی آمریت اور غیر نصابی جہالت کی پیداوار ہے۔

ہماے مذہبی نظام میں موجود دائرہ تقدس کی روز بروز وسعت و تجاوز اور سیاسی نظام میں موجود آمرانہ رویے,  فکر کو مفلوج بنانے کے برجستہ ترین عوامل ہیں۔ ایسے معاشروں میں ” ماننے والوں ” کی تحسین اور ” جاننے والوں ” کی تقبیح کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں صائبان فکر تو دور کی بات صاحبان فکر کا پیدا ہونا بھی بعید ہے۔

مہذب و پیشرفتہ معاشروں نے قدر کے قانون بننے اور پھر قانون کے قدر بننے کا دو مراحل پر مشتمل عمل طے کیا ہے۔ مثلا زیبرا کراسنگ سے سڑک عبور کرنے کا قانون نظم و ضبط کی قدر کی بنا پر وجود میں آیا لیکن آج مہذب معاشرے میں اگلے مرحلے میں قدر کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ وہاں اس کی پابندی کسی قانونی جبر کے تحت نہیں بلکہ افادیت کے شعور کی بنا پر ہے.

یہ تب ممکن ہوسکا ہے جب قانون کی قوت نافذہ کے طور پر معرفت و آگاہی کو خوف و جبر پر ترجیح دی گئی جو جمہوری معاشرے میں ہی ممکن ہے۔
سرخ بتی پر کسی تادیبی کاروائی کے خوف سے رکنا اور بات ہے جبکہ معاشرتی نظم و نسق کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کے افادہ عام کی خاطر رکنا کچھ اور ہے۔ ثانی الذکر رویے کا آمرانہ معاشرے میں پنپنا ممکن نہیں۔ کیونکہ وہاں خوف و جبر ہی بنیادی قوت نافذہ ہوتی ہے،
جبکہ جمہوری معاشرے میں معرفت و آگاہی کو بطور قوت نافذہ ترجیح دی جاتی ہے اور اس کے لیے دو سطوحات پر کام کیا جاتا ہے۔ ایک نصابی سطح اور دوسری عمومی معاشرہ سازی۔

ہمارے ہاں نصاب کے کنٹرول پر دو انتہا پسندانہ رویے پائے جاتے ہیں۔ دایاں بازو تو اسے مملکت کی سالمیت کا ضامن اور دینی مؤکد فرائض میں سے قرار دیتا ہے جبکہ بائیں بازو کی ایک تعداد آزادی کی مطلقیت کی قائل ہے اور کسی بھی قدغن کو انسانیت کشی قرار دیتی ہے۔ حالانکہ دنیا کی بہترین جمہوریتوں میں بھی قومی مفاد کی سرخ لکیریں عبور کرنا قانونی گناہ تصور ہوتا ہے۔ البتہ قومی مفاد کا تعین وہاں ماہرین اور صاحبان  فکر و دانش کرتے ہیں۔

لہذا نصابی آمریت اور آزادئ مطلق کے مابین راہ اعتدال تو یہ ہے کہ قومی مفاد کے تعین کے لیے ارباب قلم پر بھروسہ کیا جائے اور نصاب کو تحریف و نرگسیت سے پاک کرکے افکار خوانی کی بجائے فکر آموزی کا وسیلہ بنایا جائے۔

غیر نصابی جہالت سے مراد معاشرے کی تربیت کا وہ عمل ہے جو کسی آفیشل نظم و نسق کے تابع نہیں۔  معاشرے کی تعمیر کی ذمہ داری جس مقدس مآب طبقے کو بالارادہ یا بلا ارادہ تفویض کی گئی ہے ۔انہوں نے تو دین و مذھب کا وہ جادوئی تصور ہی پیش کرنا ہے جس میں بلند ترین ہستی کے ایسے کردار کو پیش کیا جاتا ہے جو ہماری خواہشات کی خاطر ضوابط کائنات کو توڑ دیتا ہے، اور ہر فرد کو سزا و جزا میں استثنا دیتا ہے۔ ظاہر ہے ایسے ایقانات کا حامل معاشرہ قانون پسند کیسے ہوسکتا ہے۔ استثناء طلبی ایسے معاشرے کے رگ و پے میں سرایت کر جاتی ہے ۔ رشوت اور سفارش تو استثنا طلبی کے ظاہری آلات ہیں۔ یہ دائرہ استثنا بڑھتے بڑھتے اصل قانون کو ہی نگل جاتا ہے۔ یہی قانون شکن ذھنیت ہے جو معاشرے کو ” قدر سے قانون ” بننے کے مرحلے پر روک کر ریورس گئیر میں ڈال دیتی ہے اور پھر اقدار کا بھی تیا پانچہ ہو جاتا ہے۔جو یقینی طور پر معاشرہ شکنی کا عمل ہے جسے  غیر نصابی  جہالت کہا جا سکتا  ہے۔
یہاں بھی راہ حل جنگجو سوچ کے تحت معاشرے میں مفلوج الفکر پیادے پیدا کرنے کے لیے ملائیت کی پشت پناہی کی بجائے زمام معاشرہ تعمیری فکر کے حامل اہل دانش کے ہاتھ میں دینا لازم ہے تاکہ ترقی و پیشرفت کے وہ سوار پیدا ہوں جن کی سرعت عمل اور رفعت فکر اس مفلوک الحال قوم کو “ترجمان ماضی” کی منزل پر جامد نہ ہونے دے بلکہ “جان استقبال” بننے کی ایسی لگن دے جو منزل مراد تک پہنچا سکے.

About ڈاکٹر سید عون ساجد 1 Article
وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر کےطور پر کام کر رہے ہیں دینیات اور سماجیات پہ گہری نظر رکھتے ہیں۔ فارسی ادبیات پر بھی ان کو عبور ہے۔ عون صاحب سماجی مطالعات میں تجریری امکانات کی بجائے عملی اقدامات کے حامی ہیں۔

3 Comments

  1. میرے خیال میں بنیادی مسلہ…. یہ ہے کہ ہمارے قوانین کو ترتیب دینے والے اور مقتدر لوگ جب تک خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے رہیں گے ایسے مسائل کا تدراک مکمن نہیں باقی اس بگاڑ میں بنیادی کراد میں بہت سارے عوامل ہیں….. اپنی تہذیبی شناخت کا نہ ہونا …..قابل تحسین اقدامات کا فقدان….. تربیتی عمل میں پوشیدہ کمزوریاں….. نصاب سازی کا نہ ہونا….. زمانی ارتقاء سے ہم آہنگ نہ ہونا….. متعصب فضاء…. بہرکیف ایک اعلٰی تحریر…. اگر چہ تشنگی کا احساس ہوتا ہے پھر بھی اعلٰی کاوش

  2. قانون کی بالادستی ایک بار قانون کے رکھوالے طے کر لیں تو کسی کی مجال نہی کہ وہ انکار کرے … فورسز کو اس ضمن میں ذات سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہو
    اچھا لکھا ہے

  3. “جہالت ہمارے معاشرے کا اولین مسئلہ ہے اور اس کا بدترین نتیجہ قانون شکن ذہنیت ہے”
    قانون شکن ذہنیت معلول ہے۔ نتیجہ ہے۔ ہم اسے ردعمل بھی کہہ سکتے ہیں۔ جہالت کی جو فیکٹریاں لگائی گئی تھیں ان کی چمنیوں سے ایسا ہی کثیف دھواں خارج ہو سکتا تھا۔ جب تک استاد کا مقام بحال نہیں ہوتا اور تعلیمی اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر فعال نہیں بنایا جاتا ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ایسے اذہان و قلوب معاشرے کو ملتے رہیں گے جو متقدمین سے زیادہ قانون شکن اور غیر مہذب ہوں گے۔
    جب قومیں سنجیدہ طرز فکر کی حامل ہو جائیں اور ارباب اختیار ایک واضح نصب العین کے ساتھ قوم کی قیادت کرنے لگیں تو معاشرے تطہیر کی راہ پر چل پڑتے ہیں اور رویوں کی خوشگوار تبدیلی سے لے کر قومی ترقی تک کے اس سفر میں عظیم لطافتیں استقبال کرنے لگتی ہیں۔
    آپ نے درست نشاندہی کی۔

Comments are closed.