لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

از، یونس خاں

یہاں دو حکومتیں ہیں ایک وہ جو آپ کو نظر آتی ہے اور ایک وہ جو آپ کو نظر نہیں آتی۔ ان دونوں میں ہر وقت کشمکش رہتی ہے۔ وہ حکومت جو نظر نہیں آتی اصل پاور اس کے پاس ہے وہ اپنا چہرہ تو ہر وقت اجالتی ہے اور ائین کے مطابق ان کے خلاف کوئی بات بھی نہیں ہو سکتی جب کہ اس کی مسلسل کوشش ہوتی ہے کہ جو حکومت نظر آتی ہے اس کا چہرہ اتنا مکروہ بنا دیا جائے کہ اسے کوئی دیکھنا بھی پسند نہ کرے۔ ہمارے ہاں لوگوں کی ایک خاص نہج پر برین واشنگ کی گئی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارا زہن کسی بھی دوسری بات کو قبول نہیں کرتا جو ہمارے مائنڈ سیٹ کے خلاف ہو۔ ایک میڈیکل ڈاکٹر کا اپنا ایک طریقہ کار ہے ایک سول انجنئیر کا اپنا۔ اسی طرح سیاست ہے۔ ہم نہ تو لبرل ہیں اور نہ ہی ہمارا کوئی سیاسی شعور ہے ہم صرف ایک چہرے کے پیچھے بھاگتے ہیں ۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ ایک چہرہ جو ہمیں اچھا نہیں لگتا اسے دفعہ دور ہو جانا چاہئے اور جو چہرہ ہمیں اچھا لگتا ہے اسے ہمارے سامنے ہونا چاہئے اگر چہ وہ کسی چور راستے سے ہی کیوں نہ آئے۔ اگر یہاں جمہوریت مسلسل رہی ہوتی تو ہمارا مائنڈ سیٹ بھی جمہوریت کو قبول کر رہا ہوتا۔ ہمیں ہمیشہ مسخ شدہ تاریخ پڑھائی گئی۔ صحیح حقائق عوام تک آنے ہی نہیں دئے گئے۔ یہ ایک لمبی بحث ہے۔ ہماری تاریخ 14 اگست 1947ء سے شروع ہوتی ہے لیکن اصل ڈاکومنٹ جس کی بیناد پر پاکستان بنا تھا یعنی 3 جون 1947ء کا انڈی پینڈنٹ ایکٹ ۔ نہ تو اسے ایم۔ اے پوٹیکل سائنس کے طالب علم پڑتے ہیں اور نہ ہی اس کے استاد ۔ وہاں عوا م کا کتنا سیاسی شعور بلند ہو سکتا ہے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ہمارے ہاں پہلا الیکشن 1970ء میں ہوا پہلی دفعہ سموتھ ٹرانسفر اف پاور 2013ء میں ہوئی، ہم نے 1973ء میں آئین بنایا جسے اب تک 3 دفعہ توڑ چکے ہیں۔ جہاں حکومتوں کو ہر پل یہ دھڑکا لگا رہے کہ وہ اب گئے یا تب گئے وہاں کیا ڈیلیور ہو سکتا ہے ؟ جب کہ آپ کے اردگرد مسلسل ایک منفی پرپیگنڈا بھی مسلسل ہو رہا ہو ۔ایسا ہی پراپیگنڈا طبیب اردگان کے خلاف بھی ہو رہا تھا کہ وہ کرپٹ ہے ڈکٹیٹراور مغربی میڈیا بھی یہی پراپیگنڈا کر رہا تھا لیکن ترکی کے لوگوں نے جمہوریت کا ساتھ دیا ہے وہاں کی عوام اس دجالی میڈیا کے دام میں نہیں آئی ۔ ترکوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے یہ وہ لمحہ ہے جس نے وقت کا دھارا بدل دیا ہے۔ یہ ایک تاریخ ساز لمحہ ہے۔ جمہوریت کو ایک بڑھاوا ملا ہے ترکوں نے ایک روایت سیٹ کی ہے اب اگر وہاں کے باغیوں کو پھانسیاں ہو جاتی ہیں تویہ ایک بہت بڑا بریک تھرو ہو گا۔
اُٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلقِ خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.