زندگی کے قریب جائیے، زندگی سے محبت کیجیے

قاسم یعقوب ، ایک روزن لکھاری
قاسم یعقوب ، صاحب مضمون

(قاسم یعقوب)
ہر معاشرے کا ایک فلسفۂ حیات ہوتا ہے۔یہ فلسفہ وہاں کے لوگوں کے طرزِ حیات،عقائد، تاریخ اور جغرافیائی طبعی ضروریات کے تناظر میں پروان چڑھتا ہے۔جب یہ عناصر تبدیل ہوتے ہیں تو وہاں کا فلسفۂ حیات بھی تبدیل ہونے لگتا ہے۔مگر انھیں تبدیل کیا جاتا ہے،خود بخود تبدیل نہیں ہو جاتے۔طبعی جغرافیہ تو تبدیل نہیں ہوتا مگر اُن سے نبرد آما ہونے کے طریقے بدل جاتے ہیں۔اسی فلسفۂ حیات کی روشنی میں معاشروں میں مستقبل کے نظریات کا باآسانی پتا چلایا جایا جا سکتا ہے۔اگر لوگوں کے طرزِندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی یا عقائد، تاریخ کو سمجھنے کے طریقے ایک سے ہیں اور جغرافیائی طبعی حالات کسی قسم کی تبدیلی پیدا نہیں کر پا رہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ معاشرہ جمود کا شکار ہے۔لازمی اَمر ہے کہ وہاں کا طرزِ زندگی بھی جمود کا شکار ہو گا اوروہاں کے مقامی لوگ بھی ایک ہی طرح کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے یا مجبور کئے جاتے ہوں گے۔اس تناظر میں ہم دنیا کی بہت سی قوموں کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں کا فلسفۂ حیات جبر، عقائد اور زندگی کُش عناصر کو اولیت دینے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔اگر میں بہت مختصراً کہوں تو یہاں زندگی ایک خوش گوار تاثر نہیں بلکہ موت کی تیاری کا مرحلہ اور دوسرے لفظوں میں وقت گزاری کا نام ہے۔ہم زندگی کُش کیوں ہیں اور زندگی کو صرف وقت گزارنے کا کارِ عبث کیوں سمجھتے ہیں؟ ان سوالات پر تفصیل سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔
آپ نے کبھی روزمرّہ زندگی میں لوگوں کے محاورے سنے جو وہ اپنی گفتگو میں عام استعمال کرتے ہیں؟چلیں سنیے:
کسی سے ملاقات ہو تو سوال کیا جاتا ہے کہ کیسے ہو تو جواب آتا ہے:
’’شکر ہے رب کا، گزر رہی ہے‘‘
یا ’’اللہ کا کرم ہے‘‘_____ ’’گزارہ ہو رہا ہے‘‘
ہم نے کسی کو دعا دینی ہو تو کہتے ہیں:
’’اللہ تمھاری مشکلیں آسان کرے‘‘______’’اللہ تمھیں آسانیاں دے‘‘
’’اللہ تمھیں نیک اولاد دے‘‘
’’اللہ تینوں تتّی و ا نہ لائے‘‘ یعنی اللہ تمھیں گرم ہوا نہ لگائے
آپ ذرا ان محاوروں پر غور کریں۔خدا کا شکر ادا کرنے کا مطلب ہے کہ میں ان لوگوں میں شامل نہیں جو انتہائی مصیبت میں ہیں اور مر مر کے زندگی گزار رہے ہیں۔ گزارہ ہونا یعنی وقت کسی نہ کسی طرح چل رہا ہے، اللہ کی عنایت سے یہ سب ممکن ہوا ہے۔ہماری دعائیں بھی لوگوں کو زندگیوں کی مشکلات سے نکالنے کی خواہشات پر مبنی ہوتی ہیں۔نیک اولاد یعنی جو تمھاری لیے آسانی پیدا کر سکے۔جغرافیائی دعائیں بھی عام ہیں جیسے اللہ تمھیں گرم ہوا نہ لگائے، چوں کہ گرمی اتنی زیادہ پڑتی ہے اس لیے لوگوں کی عام دعا بھی گرمی کی شدت سے بچنے پر مبنی ہوتی ہے۔
ہمارا مجموعی طرزِ زندگی حیات آفریں نہیں بلکہ حیات کُش ہے۔ زندگی سے نفرت ہمیں گٹھی میں ملتی ہے۔ہم زندگی کو ایک بے کار شے اور وجود کا بھاری بوجھ سمجھ کے گزارتے ہیں۔کسی نہ کسی طرح کاٹ رہے ہوتے ہیں۔ہماری تفریح میں بھی زندگی سے زیادہ ہوس(Lust)اور کسی انجانی گھڑی کے بے موقع مل جانے والی خوشی ہوتی ہے۔ہم تفریح میں Liveنہیں کرتے بلکہ اُسے غنیمت سمجھ کے جلد جلد گزار دینا چاہتے ہیں۔ہم تعلیمی ادروں سے علم نہیں حاصل کرتے بلکہ معاشرے میںSurvivalکی جنگ لڑتے لڑتے کچھ زخمی ہونے کا کارِ مشکل انجام دیتے ہیں۔Survival کی جنگ یعنی اپنے وجود کے پیدا ہونے کے گناہِ عظیم سے نکلنے کا جتن۔ہم اس گناہِ عظیم کے احساس سے ہر وقت لتھڑے ہوتے ہیں۔ہم روزی رزق اس لیے کماتے ہیں کہ کچھ وقت گزر جائے ورنہ بغیر روزی رزق کے کیسے زندگی گزرے گی۔ہم بچے اس لیے پیدا کرتے ہیں کہ زمانہ کہتا ہے، رسمِ دنیا ہے فطری عمل نہیں جو ہمارے وجود کا حصہ ہے۔ورنہ ہمیں اولاد ایک بوجھ سے زیادہ کچھ نہیں لگتی۔مستنصر تارڈ نے سفر نامہ ’’ہنزہ داستان‘‘ میں ایک نیم پاگل شخص کی زبانی کہا ہے کہ میں بچے پیدا نہیں کرنا چاہتا کیوں کہ وہ پہلے سے موجود بچوں کے رزق کا حق ماریں گے۔ میں اُن بچوں کو پہلے خوش حال دیکھنا چاہتا ہوں۔
مارکس نے کسی جگہ کہا تھا جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ میں انسانی فکر کو معاشی چکر سے آزاد کرانا چاہتا ہوں تاکہ وہ انسانی کلچر اورثقافت یعنی پیداواری(Productive) کاموں میں اپنی تخلیقیت صَرف کر سکے۔مگر یہاں تو معاشی چکر سے آزاد لوگ بھی زندگی سے محروم ہیں،یعنی معاشی گرادب سے نکلنے سے پہلے والی صورتِ حال میں ہی رہتے ہیں۔اصل میں ہم سب Survivalکے فلسفے کے زیرِعتاب ہوتے ہیں، جو ذرا معاشی چکر سے آزاد ہوتا ہے وہ اسی خوشی میں بقیہ زندگی گزار دیتا ہے کہ وہ معاشی چکر سے آزاد ہے۔ وہ اپنی آسائشوں، سہولتوں کو قابلِ فخر چیز سمجھتے ہوئے زندگی گزارتا ہے۔وہ باور کراتا ہے کہ وہ معاشی چکر سے آزاد ہے۔ وہ غربت پر طنز کرتا ہے ۔ایسے شخص کی زندگی میں واضح فرق محسوس کیا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح بد حالی سے ایک فاصلے ’’خوش حالی‘‘ پر جا چکا ہے۔ہمارے ہاں خوش حالی کا سارا تعلق ہی بد حالی سے علیحدہ ہونے کا ہے۔
آپ زندگی کے ہر میدان میں اس ’’بچ‘‘ جانے کا مظاہرہ دیکھ سکتے ہیں۔ جو زندگی کی ’’کاری ضَرب‘‘ سے بچ جاتے ہیں وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں اور ساری زندگی دوسروں کو احساس دلاتے ہیں کہ وہ ’’بچے ہوئے‘‘ ہیں۔ اعلیٰ افسران، طاقت ور اور معاشی خوش حال افراد کی زندگیوں کو ذرا دیکھیے۔ ایسا لگتا ہے وہ ہر ہر قدم پر یہ احساس دلا رہے ہیں کہ وہ اُن افراد سے مختلف ہو گئے ہیں جومحکوم، مجبور اور معاشی گرادب میں زندگی کرنے کا جتن کر رہے ہیں۔
آپ نے وہ ایک واقعہ نہیں سنا : ایک گاؤں کی بوڑھی عورت کو کسی جگہ ڈپٹی کمشنر ملتا ہے۔ وہ اُس کے سر پر ہاتھ پھیر کے دعا دیتی ہے ۔ ’’اللہ تمھیں پٹواری بنائے‘‘ یہ اس لیے کہ اُس نے زندگی میں سب کچھ پٹواری ہی دیکھا ہے۔ہماری طاقتور اشرافیہ اور معاشی خوش حال طبقات بے چارے ذہنی غربت کی اُسی سٹیج پر رہتے ہیں لہٰذا وہ ’’خوش حال‘‘ ہوکے بھی بد حالی سے ہی ایک فاصلے پر کھڑے رہتے ہیں۔ہماری زندگی کی سب سے بڑی خو شیاں طاقت کا حصول، گھر بار حاصل کرلینا یابچوں کے اچھی معاشی و سماجی اہداف حاصل کرلینے تک محدود ہے۔ہمارے معاشرے میں خوشیاں خوشی کے طور پر رائج نہیں بلکہ دکھوں کا غم ہلکا کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ آپ نے وہ واقعات نہیں سنے کہ شادی بیاہ کے موقوں پرشراب کے کثرتِ استعمال سے اموات کا ہوجانا۔ آپ اندازہ کیجئے ہم خوشی میں اتنی شراب بھی پی سکتے ہیں کہ مر جائیں۔ ویسے یہ بھی کتنی عجیب بات ہے کہ ہماری زندگیوں میں سب سے اہم واقعہ شادی ہوتا ہے۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک عام آدمی بھی اُس دن وی آئی ہونے کا احساس رکھتا ہے ورنہ تو عام یا غریب آدمی ، ہمارے معاشرے میں کسی نالی کے کیڑے سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔
ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں یہاں زندگی چند مشکلات پر قابو پانے کا نام ہے ۔زندگی پیداواری(Productive)کاموں میں صَرف نہیں کی جاتی۔پیداواری کام کیا ہوتے ہیں؟ یہ زندگی آموز کام کیا ہوتے ہیں؟ زندگی کا رَس کیا ہے؟ہم زندگی میں رہتے ہوئے زندگی سے دور کیوں ہوتے ہیں؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ زندگی فطرت کا ایک حصہ ہے ہم زندگی کو جب بوجھ محسوس کوتے ہیں تو زندگی اپنے رَس سے خشک ہو جاتی ہے۔پیداواری کام زندگی کو محسوس کرنا ہے، وہ تمام اعمال جو زندگی کو فطرت کے معیار کے قریب لے جائیں، حیات پرور سرگرمیاں کہلاتے ہیں۔کیسی عجیب بات ہے ہمیں محبت نہیں کرنی آتی، ہم کسی سے بھی محبت نہیں کر سکتے۔ اپنے رشتوں سے محبت، اپنے ماحول سے محبت، فطرت سے محبت،اپنے جسم سے محبت ، اپنے آپ سے محبت۔ہمیں تو اپنے عقائد سے بھی محبت نہیں کرنی آتی۔ ایک منافقت کے ساتھ ہم اپنے خدا اور اُس کے عقائد کو مانتے ہیں۔نفرت کے ساتھ محبت نہیں کی جاتی۔خدا سے محبت ہو ہی نہیں سکتی جب دل میں خدا کے نہ ماننے والوں سے نفرت ہو۔بچوں سے محبت ہو ہی نہیں سکتی جب دوسروں کے بچوں سے نفرت ہو۔عورت سے محبت ہو ہی نہیں سکتی جب کسی بھی عورت سے نفرت ہو۔محبت ہو ہی نہیں سکتی جب ہوس کی اشتہا کا ذائقہ بھی زبان پر تیر رہا ہو۔
زندگی کو اولیت دیجیے۔ محبت کیجیے اور Survivalکی جنگ سے نکلیے۔ جنگ کسی بھی حالت میں ہو ایک بے کار کام ہے۔ حیات آموز رویوں کو فروغ دیجیے ۔ معاشی چکروں سے نکلیے اور اپنے وجود کے ساتھ کچھ دیر گزاریے ۔ دوسروں کو بغیر کسی مقصد کے قریب آنے دیجیے۔ بغیر کسی مقصد کے دوسروں کے قریب جائیے۔ زندگی میں فائدہ اور لالچ کو خیر باد کہیے۔شاید اس طرح ہم کچھ بہتر معاشرہ بنا سکیں۔

About قاسم یعقوب 69 Articles
قاسم یعقوب نے اُردو ادب اور لسانیات میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے ماسٹرز کیا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل کے لیے ’’اُردو شاعری پہ جنگوں کے اثرات‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھا۔ آج کل پی ایچ ڈی کے لیے ادبی تھیوری پر مقالہ لکھ رہے ہیں۔۔ اکادمی ادبیات پاکستان اور مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد کے لیے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ قاسم یعقوب ایک ادبی مجلے ’’نقاط‘‘ کے مدیر ہیں۔ قاسم یعقوب اسلام آباد کے ایک کالج سے بطور استاد منسلک ہیں۔اس کے علاوہ وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر بھی وابستہ ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.