سہتی، رانجھا سے کیوں ہاری

سہتی، رانجھا سے کیوں ہاری

سہتی، رانجھا سے کیوں ہاری : ہیر وارث شاہ کا نثری ترجمہ

از، نصیر احمد

نوٹ:(وارث شاہ پنجابی کے ایک عظیم شاعر ہیں اور ان کی شاعرانہ فصاحت و بلاغت کا ترجمہ کرنا ناممکن ہی سمجھیں۔ لیکن ہم نے سہتی اور رانجھے کے درمیان مکالمے کا ترجمہ کر ہی ڈالا۔ اب  ترجمہ توخواجہ نصر الدین کی یخنی کی یخنی کی مانند ہے۔ لیکن جب ہم نے کوئی سترہ اٹھارہ سال پہلے یہ ترجمہ کیا تھا، تب لڑکے بالے ہی تھے اور لڑکے بالے ایسے ہی ہوتے ہیں، وہ عظمتوں کے اتنے اسیر نہیں ہوتے اور داد و فریاد کی بھی چنداں پروا نہیں کرتے۔ لڑکے بالے تو خیر ہم اب بھی ہیں۔

یہ مکالمہ اس لیے اہم ہے کہ یہ عورت اور مرد کے درمیان جذبات، مفادات، ذات کا ہی جھگڑا نہیں ہے بلکہ دانائی کا مقابلہ بھی ہے۔ پڑھیں اور فیصلہ کر لیں کہ اس دانائی میں سے کتنی سنبھالنی چاہیے اور کتنی کو  فکر و عمل سے بے دخل کرنے کی ضرورت ہے۔

جیفری چوسر کی کہانیوں کے کرداروں کو درمیانے زمانے کے انگلستان کی آرٹ گیلری کہا جاتا ہے۔ وارث شاہ کی کردار نگاری اور سماجی شعور اور شاعرانہ عظمت جیفری سے تو کہیں زیادہ بڑھ کر ہے اور گیلری سے زیادہ زندگی میں شمولیت کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن ترجمے میں شاید  لڑکے بالے وہ بات نہیں پہنچا سکتے لیکن پھر بھی شاید وارث شاہ اور ان کے عہد کے تصور دانائی سے تھوڑی بہت شناسائی بھی کافی اہم ہے۔ اور یہ تصورات وارث شاہ سے پہلے بھی رائج تھے، اب بھی ہیں، اس لیے انھیں جان کر جیسے حافظ کہتے ہیں اس دانائی میں شامل بیش تر تصورات کی بنیادیں ہی اکھاڑ دیں۔ یہ ہمارا نکتہ نظر ہے، آپ کا جیسے جی چاہے۔)

سہتی: کہے اے شاہد باز تیرے من میں کیا بات ہے؟ آنگن میں گھستے ہی تو نے کلیجے میں کانٹے چبھونے شروع کر دیے، کہانیاں کرنے لگا۔ بادشاہ کے باغ میں چاہ کے ساتھ گھومتے ہوئے گلاب کا پھول توڑنے کی فکر میں ہو؟ وارث شاہ شُترِ بے مہار کو لاٹھی سے ہی ہنکایا جاتا ہے۔

رانجھا: او کنواری، کرودھی ناری، سینے کے زور سے دھکے مت دے۔ توضرور کان میں بندے، ناک میں نتھلی ڈالے مور کی طرح بن سنور کے بیٹھے گی۔ لڑکی، کہانیاں مت کہہ کے شور کرنے سے بات بگڑ جاتی ہے۔ بقول وارث شاہ تو مجھ غریب کی کسی کینے سبب دشمن ہے

سہتی: کل تو نے مجھے بھری محفل سے بڑے نازو انداز دکھاتے ہوئے نکالا تھا۔آج کل کی نفرت جگاتے میرے آنگن میں آن دھمکے ہو۔تجھے تیری شامت یہاں لائی ہے۔وارث شاہ کہتے ہیں تجھے رضائے الٰہی مار کھلوانے کے لیے صیحیح جگہ لے آئی ہے۔

رانجھا: او ٹونے کرنے والی کچی کنواری، واسنا کی ماری، کہہ لے جو کچھ کہنا ہے۔ تجھے بروں کی چاہت ہے تو بھلوں کے ساتھ کیوں برا کرتی ہے۔ ہم بھوکوں نے ہاتھ پھیلایا تو غیب کے قصے کہنے لگی۔گانٹھ کی پکی، چور اچکی مسافروں کا شکار کرتی ہے۔ ہم نے تو سردار کا گھر جان کر بھیک مانگی تھی اور تو ہماری بے عزتی کرنے لگی ہے۔ او بد مست چنچل لڑکی، جو کچھ کہنا ہے،کہہ لے۔ آخر پردیسیوں کے ساتھ تیرا بیر کیا ہے؟ راہ جاتے فقیروں کے منہ نوچیاں ہی لگتی ہیں۔

سہتی: بہنو، یہ چُغد جوگی، بڑا جھوٹا اور کسی جگہ کا سب سے بد طینت شخص ہے۔ یہ کسی گاؤں کا بد ترین جھگڑا لو،گھاگ گناہ گار اور بد تمیز آدمی ہے۔ اس کے طور پردیسیوں کے نہیں دکھتے کہ یہ تو ہیر کے نام سے واقف ہے۔ بات کہہ کر فورا ہی مکر جاتا ہے۔آپ ہی آگ لگاتا ہے اور آپ ہی بجھاتا ہے۔ دیکھنا ابھی یہ کاسہ توڑ کر، مالا پھینک کر جاٹوں کے جوڑے کھینچ لے گا۔اگر میں ابھی ایسے بے آبرو کر دوں تو یہ کون سا کسی گاؤں کا سر پینچ ہے۔ یہ کیا کر لے گا؟ یہ تو کوئی ڈوم، موچی اور ڈھیٹ کنجر ہے۔ یا پھر کسی سرائے کا چُوہڑا ہے۔ وارث شاہ میں تھک کے ہار گئی ہوں لیکن یہ جھگڑے سے باز نہیں آتا۔

رانجھا: او منڈی پیشانی والی، بد کردار اور بد نصیب عورت تو تلوار اور ڈھال لے کر میرے پیچھے کیوں پڑ گئی ہے؟ تو ایک چنچل پنچھی، فسادی چپٹے ناک والی زانی عورت ہے۔ تو فوج فساد کی وہ پیشوا ہے جو شیطان کی بھی کمر توڑ دے۔ اگر ہم جاٹ عورتوں کے ساتھ جھگڑتے تو زہد و تقوٰی کیوں اپناتے، دکھ کیوں سہتے۔ میرے مُنھ نہ لگ، میرا پیچھا چھوڑ دے، جاتے ہوئے کا تعاقب نہیں کرتے۔

سہتی: چکی میں بیٹھی منڈلیوں میں اس کے تذکرے ہیں۔ تنوروں اور بھٹیوں پر اس کی دھوم مچی ہوئی ہے۔ یہ تو پکا اٹھائی گیر ماجھے کا ٹھگ ہے۔ یہ تو فاحشہ کے کوٹھے کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ آٹھ دھاتوں سے لاٹھی بنانے کا مشکل کام مانگ کر کھانے والے مُشٹندوں سے کب ہو سکتا ہے؟ مشنڈے تو آسانی سے پہچانے جاتے ہیں، یہ کوئی بات بگاڑنے والا، گھر اجاڑنے والا کوئی جاٹ ہے۔ یہ تو پٹ سن سے لدا ہوا کوئی گدھا ہے یا پھر یہ بیلنے کا ڈنڈا ہے۔ وارث شاہ اس سے میٹھی بات نہیں ہو سکتی کہ یہ تو کاٹھے کماد کی گانٹھ کی طرح ہے۔


مزید دیکھیے: جو ثقافتی فلسفہ انسان دشمنی کو فروغ دیتا ہے؟


(لڑائی دیکھتی عورتیں کہتی ہیں): اسے کچھ مت کہو، یہ بے چارہ کوئی بَن باسی ہے۔ یہ دیس تیاگ کر مانگ کر کھانے والے آرزو کے خیمے نہیں لگاتے، یہ بھگوان کا جاپ کرنے والے، جھگڑنا کہاں جانے ہیں۔ یہ سدا اداس نراس رہنے والے الاؤ دہکا کر جاڑے کی راتیں گزارے ہیں۔ وارث شاہ کو مگر جھگڑے کا راز معلوم ہے کہ لڑکی لڑکا ہم عمر ہیں۔

سہتی: یہ ہیر کے نین دیکھ کر آہیں بھرتا اور عاشقوں کی طرح آنکھیں مِیچتا ہے۔ یہ گزری ہوئی باتیں ایسے دہراتا ہے جیسے کوئی بد خصلت شوہر اپنی بیوی کو بد نام کر رہا ہو۔ یہ مکار عورتوں کی طرح مکر کرتا ہے اور محبت شکن ہے۔ یہ فریب سے جھولی پھیلا کے بیٹھ جاتا ہے۔ مجھے تو یہ کوئی امام مسجد دکھتا ہے۔ کمر میں چٹکیاں بھرتے ہوئے یہ الزام بھی دوسروں کو دیتا ہے۔ یہ بھکشو نہیں بلکہ کسی پلید کا چیلا ہے۔ نہ ہی یہ کوئی جن بھوت ہے اور نہ ہی کوئی بندر جو تم مجھے اس سے ڈراتی ہے اور نہ ہی یہ زمانے کا ستایا ہوا ہے کہ میں اس پر ترس کھاؤں۔

رانجھا: سُن  ری، جگ میں مشہور ہے کہ رب سے بڑھ کر کوئی کریم نہیں ہوتا۔ لاہور کی بنی ہوئی کمانیں بے نظیر ہوتی ہیں اور بنگال کا جادو اٹوٹ ہوتا ہے۔ دیپال پور کوٹ چغلی کے لیے مشہور ہے اور قہر میں نمرود کا ہم سر کوئی نہیں۔ نقش چین اور مشک ختن کا ثانی کوئی نہیں اور جناب یوسف جیسا کسی کا چہرہ نہیں۔ وارث کی باتوں میں حقیقتوں کے راز چھُپے ہیں اور ان کے شعر سحر انگیز ہیں۔

ابھی تو جہان میں میرا ہم پلہ ولی نہیں،، بجواڑ میں دستاریں خوب بنتی ہیں اور قصور کے جولاہوں سے بہتر کون بن سکتا ہے۔ کشمیر جیسا ملک کہیں نہیں نہ ہی چاندنی جیسی روشنی کہیں ملتی ہے۔ معشوق نظروں کے سامنے بھلے لگتے ہیں اور ڈھول دور کے ہی سہانے لگتے ہیں۔ تیرے جیسے لچھن کسی اور لڑکی کے نہیں، صُورِ اسرافیل کے سوا زلزلے کون برپا کر سکتا ہے؟ حُور سے بڑھ کر سندری کہاں ملے اور سہتی سے زیادہ جھگڑا لو لڑکی کہاں ٹکرے۔ بیت معمور جیسا مقام کہیں نہیں اور کھیڑوں سے زیادہ خوش نصیب کوئی نہیں۔ سیدھے سبھاو سے رہنے والے نیکوکاروں سے بہتر کوئی شخص نہیں ہوتا اور فساد سے برا کوئی کام نہیں ہوتا۔ کچور سے خوشبو دار عِطر کہیں نہیں ملتا اور ہِینگ سے زیادہ بد بو کسی شے میں نہیں ملتی۔ اور جہاں میں وارث شاہ سے زیادہ گناہ گار کون ہے؟

سہتی: ذرا یہ تو بتا جوگ شروع کیسے ہوا؟ سنیاس بیراگ ایجاد کب ہوا؟ جوگ کے کون سے رستے ہیں، جوگ کا راگ کہاں سے نکلا؟ یہ کاسہ، یہ مالا، یہ ناد کیوں ہیں؟ وارث شاہ تن پر راکھ ملنے کی بنا کس نے ڈالی اور آگ کون پوجتا ہے؟

رانجھا: مہا دیو نے جوگ کا پنتھ بنایا اور سنیاسیوں کا گرو دیو دت ہے۔ راما نند نے بیراگ کی بنا ڈالی اور پرم جوت اداسیوں کا بانی ہے۔ برہمنوں کا گرو برہما، ہندوؤں کا رام  اور راست بازوں کا گرو مہیش ہے۔ ستھرا ستھروں کا، نانک داسوں کا اور شاہ مکھن لنڈ منڈ لونڈوں کا رہنما ہے۔ جاہ و جلال کے متلاشی شاہ جلال سے فیض پاتے ہیں جبکہ تہی کاسہ اویس قرنی کی دہلیز پر سر رگڑتے ہیں۔ شاہ مدار مداریوں کا اور انصار انصاریوں کا امام ہے۔ بیراگیوں کا نگہبان وششٹھ ہے اور گوپیوں کا مہربان شری کرشن کہلاتا ہے۔ نوشاہی حاجی نوشہ کو پیر مانتے ہیں۔ اور جولاہے بھگت کبیر کے دوارے کی خاک کو متبرک جانتے ہیں۔ قادری سلسلے کا دست گیر ہادی اور چشتیوں کا پیر فرید ہے۔ موچیوں کا پیر طاہر اور سناروں کا شمس ہے۔ مسافروں کا سہارا خواجہ خضر ہیں اور ترکھانوں کا آسرا حکیم لقمان ہیں۔ ڈھول تاشے والے سخی سرور کو پیر مانتے ہیں جبکہ مہتروں کا مرشد لعل بیگ ہے۔ شیث ابن آدم بافت بانوں کے آقا ہیں اور میراثیوں کا پیر شیطان ہے۔ وارث شاہ جس طرح ہندو رام نام جپتے ہیں اسی طرح مومنین ذکر الٰہی میں گم رہتے ہیں۔ کمھار حاجی گل گو کے در پر جاتے ہیں اور شیعہ حضرت علیؑ کی مدح و منقبت کرتے ہیں۔ نائی سلمان پارس کے مرید ہیں اور درزی جناب ادریس کے غلام ہیں۔ عاشقوں کا پیر عشق ہے اور سر مستوں کی قسمت میں بھوک لکھی ہے۔ جن بھوت جناب سلیمان سے ڈرتے ہیں اور تیلی حسو تیلی کی مالا جپتے ہیں۔ بگڑے ہوئے لوگوں کا علاج ڈنڈا ہے اور جناب داؤد زرہ سازوں کے سردار ہیں۔

سہتی: جو آوارہ گردی کو دستور حیات بنا لیتے ہیں وہ اپنی مایوں سر پر اٹھا کے پھرتے ہیں۔ در در کی ٹھوکریں دن رات آوارہ پھرنے والوں کا مقدر بن جاتی ہیں۔ سورج، چاند اور گھوڑا ہر وقت چکر میں رہتے ہیں اور نظر، شیر اور پانی بنجارے ہیں۔ گدھ، گدھے، کتے، تیرو ترکش اور نوجوان لونڈے ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں۔

بلی جیسی آنکھوں والی عورت، فقیر، اور آگ لے جانے والی لونڈی، سب کو گھر گھر پھرنے کی لت پڑی ہے۔ تو ان سب میں سے نہیں، تجھے تو بس لڑائی جھگڑے کا چسکا ہے۔ وارث شاہ بھکاری تو لاکھوں کی تعداد میں ہوتے ہیں، صبرو فقر، قول و اقرار کے بندھنوں میں بندھے فقیر اور ہوتے ہیں۔

رانجھا: جگہ جگہ گھومنا پھرنا بے کار اور بے روزگار لوگوں کے لیے برا ہوتا ہے۔ نوجوان لڑکی کے ساتھ قول و قرار کر کے پھر جانا اور وفا شعار کا گھر بار چھوڑ دینا نا معقول بات ہے۔ زمیندار شاہی کارندوں سے کبھی خوش نہیں ہوتے اور احمق کبھی ملول نہیں ہوتے۔

سہتی: عدل کے بنا بادشاہ شجر بے ثمر ہے اور بے وفا عورت کے لیے آگ ہے۔ داد کے بنا رقاصہ مردہ ماہی ہے اور بے عقل مرد نِرا گدھا ہے۔ انسانیت کے بغیر انسان بے معنی ہے اور اگر آب نہ چڑھی ہو تو تلوار کند ہو جاتی ہے۔ بے ہمت نوجوان اور بے حسن دلبر بے مزہ کھانے کی مانند ہوتے ہیں۔ شرم کے بغیر مونچھیں رکھنا، عمل کے بغیر داڑھی اگانا اور بے ضرورت لشکر رکھنا بے فائدہ کام ہیں۔ بے سمجھ وزیر، بے نماز مومن اور بے علم دیوان بھی باعثِ زیاں ہیں۔ وارث، عورت، تلوار، فقیر اور گھوڑا قابل تحقیر ہوتے ہیں کہ کسی کے وفادار نہیں ہوتے۔

رانجھا: مرد کام کے معاوضے جیسے ہوتے ہیں جبکہ عورتیں نیک کمائی کی دشمن ہوتی ہیں۔ مرد نیکیوں کے بحری جہاز ہوتے ہیں جبکہ عورتیں برائی سے لدی پھندی بیڑیاں ہوتی ہیں۔ ماں باپ کا ننگ و ناموس غرق کر دیتی ہیں اور اپنے عزت دار بھائیوں کو بے آبرو کر دیتی ہیں۔ یہ قصائیوں کی ان کلہاڑیوں کی طرح ہوتی ہیں جو حرام و حلال کی تمیز کیے بغیر گوشت اور ہڈیاں کاٹ دیتی ہیں۔یہ احمق نائیوں کی قینچیوں کی طرح لبوں کے بڑھے بال کاٹتے ہوئے داڑھی بھی صاف کر دیتی ہیں۔ ری تو کس بات پر نازاں ہے تجھے تو آنے پائی کا حساب نہیں آتا۔ ذرا ان نند بھابی کے اوصاف تو دیکھو فقیر کے ساتھ تکرار کرتی ہیں۔ وارث شاہ فریب کاریوں کی سب گٹھڑیاں باندھ کر تیرے مُنھ پر دے ماریں گے۔

سہتی: تجھ سے جوگیوں کی ریت نہ نبھائے جائے گی، تو نے بس یونہی زلفیں بڑھائی ہوئی ہیں۔ لاکھ عطائی تان سین جیسے راگ نہیں بنا سکتے۔ تو نے او رنگیلے ابھی پریم کی ماریوں اور ہجر کی آگ میں جلنے والیوں کی آنکھیں نہیں دیکھیں۔ تیری چراچر  زبان ان جوتیوں کی طرح چلتی ہے جنھیں سائی دے کر بنوایا جاتا ہے۔ اچھے گھروں کی بیٹیاں لُچوں لفنگوں کے ساتھ بد زبانی نہیں کرتیں۔ مہتر کعبے سے نا واقف ہی رہتے ہیں بس غلاظت میں ہی لتھڑے رہتے ہیں۔ تجھے بھینسیں چرانے کا ہنر آتا ہے، حقیقت کے رازوں سے تجھے کیا واسطہ۔ جو خچروں کی طرح ویرانے میں بچہ جنتی ہیں انھیں دائیوں کی کیا قدر۔ گدھے کی طرح تجھے جب مستی چڑھتی ہے تو تو پرائی عورتوں کی باہوں میں گھستا ہے۔ ابھی تک تو تو آغوش مادر کی مہربانیوں کے مزے لے رہا ہے، تجھے پتا اس وقت چلے گا جب کوئی باپو تجھ سے ٹکرے گا۔ جب مار دھاڑ آن دھمکے گی، تب تجھے کون چھڑائے گا؟ یہ مفت کی روٹیاں اڑانے والے چاک عشق سے بے خبر ہی رہتے ہیں۔ جن کے ہاں وارث شاہ بیٹیاں نہیں ہوتیں، انھیں دامادوں کے مرتبہ و مقام سے آگاہی نہیں ہوتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رانجھا: سہتی ہم تیرے تیکھے تیوروں اور تیکھے نینوں سے بالکل بھی نہیں ڈرتے۔ ہاتھی قلعہ تصویر نہیں ڈھاتے اور شیر مکھیاں نہیں مارتے۔ لڑائی میں وار اصل میں ڈھائی ہوتے ہیں باقی سب تو بکھیڑا ہے۔ تیرے طعنوں سے میرا جوگ نہیں جائے گا کہ پھوہار پتھروں کا سینہ چیرنے سے عاری ہے۔ جب چوہڑے پر آسیب آتا ہے تو جوتوں سے ہی جھاڑتے ہیں۔ تو تو ہمیں پیٹنے کی فکر ہی کرتی رہے گی، ہم تجھے ابھی پیٹتے ہیں۔ جو جیسا کرے گا ویسا بھرے گا میرے پروردگار کے سچے وعدے ہیں۔ وارث شاہ بھونکتی عورت کو درویش چھڑیوں سے مارتے ہیں۔

سہتی: تیری مالا سے ہم نہیں ڈرتے۔ بتا بھلا بھانڈ کے تماشے سے کون ڈرے گا؟ اس گاؤں سے ڈر کر تو ایسے بھاگتا جائے جس طرح اذان سے ڈر کر کافر بھاگ جاتے ہیں۔ تو سر چھپا کر اس طرح اپنی راہ لینے کی کرے گا جیسے لاٹھی کو دیکھ کر سانپ  کھسکتا ہے۔ اپنا کاسہ اور اپنا چمٹا چھوڑ کے تو ایسے کھسکے گا جس طرح کھٹکا سن کر چور کھسکتا ہے۔

رانجھا: ہمارے ساتھ تو نے یہ کیا متھا لگا لیا ہے۔ ہم تو عورت کو ریوڑی جانتے ہیں۔ چبا کر پل میں کھا جاتے ہیں، سدا بیر کے تنبو نہیں تانتے۔ لوگ جاگتے ہوئے حسینوں کا دل لبھاتے ہیں، ہم خواب میں مزے لیتے ہیں۔ لوگ بھنگ اور شربت چھانتے ہیں ہم نظروں سے آدمی چھانتے ہیں۔ بیاہ میں گریہ، ماتم کے سمے گیت اور محفل میں ستر کھول دینا تو بد تہذیبی ہوتی ہے۔ کم ذات کو حاکم بنا دینے اور دوستوں کے ساتھ دشمنی کرنا تو رذالت ہے۔ زبان سے پھر جانا، پیروں کا سنگ چھوڑ دینا بد طالعی کے سبب سے ہوتا ہے۔ کھیڑوں نے میرے ساتھ بد سلوکی کی ہے، سب تیری دغابازیوں کا نتیجہ ہے۔ میری نصیحت یاد رکھ اچھوں کے ساتھ اچھائی کر اور بروں کے ساتھ برائی۔ جن کے مقدر میں رزق ہے وہ حکم الٰہی کے بغیر نہیں مرتے۔ بد رنگ کو بھی رنگ چڑھ جاتا ہے، یہ سب قدرت کے کرشمے ہیں۔ ایسا جادو جگاؤں گا کہ تو میرے ارد گرد پھرے گی۔ وارث شاہ ہم نے جادو جگا کر کئی رانیاں باندیاں بنا ڈالی ہیں۔

سہتی: ہم ٹونے گھول کے پی جاتی ہیں۔ جادوگروں کو باورا کر دیتی ہیں۔ ہم نے راجا بھوج جیسے گھوڑے کر دیے ہیں، تو ہماری چالوں سے واقف نہیں۔ یہ ہماری چالیں ہی ہوتی ہیں جن کے کارن راجے سگے بھائیوں سے نفرت کرتے ہیں اور سالوں کو تخت عطا کرتے ہیں۔ ہم نے ہی یوسف کو قیدی بنا دیا اور سسی نے  ساربانوں کو دھوکا دیا۔رانجھا ہم نے ہی بھینسیں چروا کر چاکر ٹھہرایا، مگر ہیر کو تو کھیڑے لے گئے۔ عمر شاہ کو ہم عورتوں نے خوار کیا جبکہ ماروی ہم نے ڈھول کے ساتھ باندھ دی۔ ہم نے ولی بلعم باعور سے ایمان چھینا۔ دیکھ لے ہم تو اہلِ تقوٰی کو بھی لے ڈوبتی ہیں۔ عشق آشنا مہینوال کو ہم نے سوہنی سے دور کر دیا، عاشقوں سے پوچھ لے۔ جو سرادران اہلِ طریقت ہیں، ہم عورتوں نے وہ امام زادے بھی شہید کروا دیے۔ وارث شاہ جوگی تیری کیا مجال ہے، تجھے تو ہماری آہیں ہی لے ڈوبیں گی۔

رانجھا:  لڑکی، جھوٹ کے طومار کیوں باندھتی ہے،کیا قصے کہے جارہی ہے؟ مردوں سے برابری میں تو خود ہی بتا کیا بھلائی ہے؟ مجھ بے کس کا خدا اور تم نند بھابھی کے سوا ہے کون؟ جو رب کا نام لے گا اسی کی عاقبت سدھرے گی۔ وارث شاہ، جو دنیا میں برائیاں کرتے ہیں وہ آگے جا کر زبوں حال ہوں گے۔ مرد تو عالم فاضل اور قابل ہوتے ہیں عورتوں کو بھلا کون سا ہنر آتا ہے؟

سہتی: دوست وہی جو دکھ درد بانٹے یار وہی جو جان نثار کر دے۔ بادشاہ وہی جو قحط میں بھوک کاٹے اور ہر شے کی نگہبانی کرے۔ گائے وہی جو جاڑے میں دودھ دے اور حاکم وہی اچھا ہوتا ہے جو شب بیدار ہو۔عورت وہی بہتر جو مال و دولت کی تمنا نہ کرے اور پیادہ وہی اچھا جو بھوت کی طرح ہو۔ روگ بھی ایسا لگے جس کا درماں ہو سکے۔ بغیر کمان کا تیر تو بے کار ہوتا ہے۔ اصل کنجر تو بے غیرت ہی ہوتے ہیں اور میراثی کا غسل سے کیا لینا دینا۔

کنواری وہی اچھی ہوتی ہے، جس کی نظریں نیچی ہوں اور زبان قابو میں رہتی ہو۔ نوکرانیاں چالاک نہیں ہونی چاہییں اور نوکر زیاں کار نہ ہوں۔ وارث شاہ فقیر تو بے حرص و طمع یاد الٰہی میں سر مست رہتا ہے۔

رانجھا: دولت تو عطیہ خداوندی ہوتی ہے لیکن پیٹ بھرنے کے لیے دوڑ دھوپ تو کرنی پڑتی ہے۔ ایک اچھی عورت اپنی اور نیک مرد کی زندگی سنوار دیتی ہے۔ پیٹ کی خاطر امیر در در کی ٹھوکریں کھاتے ہیں۔ سید زادے بھی پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے گدھے چرانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ پیٹ بھرنے کے لیے پری تمثال شہزادیاں جِنوں اور بھوتوں کی دلداری کرتی ہیں۔ گھر بار چھوڑ کر مسافر شہر شہر جنگل جنگل صدائیں دیتے نظر آتے ہیں۔ سارا جھگڑا ہی بھوک کا ہے، پیٹ کے لیے تو خون بھی ہو جاتے ہیں۔ فقیر جب مہرباں ہوتے ہیں تو لاکھوں کی نیا پار لگا دیتے ہیں۔

سہتی: رب جیسا کوئی جگ داتا نہیں اور زمین جیسا صبر کسی میں نہیں۔ معشوق جیسا سرد اور چالاک کوئی نہیں حاکمیت جیسا مرتبہ بھی نہیں ملتا۔ نوکری سے بدتر روزگار کوئی نہیں اور یاد الٰہی سے بڑھ کر بھلا کام کوئی نہیں۔ نوچی سے بدتر پیشہ کوئی نہیں اور کم ذات کو صرف کھانے کا ہی حکم ہے۔ وارث شاہ تیری داڑھی شیطانی اعمال نہیں چھپا سکتی اور شاہد بازی  فقیروں کا عیب ہے۔

رانجھا: اندھوں کے لیے عورتوں کو تاڑنا عیب ہو گا ہمیں تو خدا نے دیدار کے لیے ہی آنکھیں عطا کی ہیں۔راؤ راجے تو صرف آنکھیں سینکنے کے لیے جانیں داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ دیدارِ یار گناہ نہیں، رب نے آنکھیں جگ دیکھنے کے لیے ہی عطا کی ہیں۔

سہتی: جیسی نیت ویسی مراد۔ اسی لیے تو تو گھر گھر دھکے کھا رہا ہے۔ مانگتا، بھونکتا خوار پھرتا ہے۔ کیسے پاکھنڈ کرتا ہے۔ ہم جو روپ سنوار کر بیٹھیں تو وارث جی بھرمانے کے آن براجتے ہیں۔

رانجھا: رب سچے نے انسانوں کے لیے ہی کائنات بنانے کا بکھیڑا کیا ہے۔ع ورتیں، لونڈے، جن، شیاطین، کتے ،بکریاں اور اونٹ زمین پر فتنہ و فساد کا باعث بنے۔ یہ عورتیں وہ ڈائینیں ہیں جنھوں نے آدم کو جنت سے نکلوا دیا۔ یہ کسی بھی کام سے باز نہیں آتیں۔ یہ بادشاہوں کو فقیر بنا دیتی ہیں اور راؤ زادوں کو مروا دیتی ہیں۔ وارث شاہ سارے ہنر مردوں میں ہوتے ہیں اور عیب عورتوں میں۔

سہتی: سہتی نے کہا، آدم تو جوش شکم سیری میں جنت سے نکالے گئے تھے۔ ان کے دل میں میل آیا، تبھی تو دھکے ملے اور آس امید کی ڈوری ٹوٹ گئی۔ حالانکہ فرشتوں نے لاکھ سمجھایا کہ حکم عدولی نہ کرو۔ آدم نے حوا کو خوار کیا لیکن حوا نے تو اس کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ مرد خود برے کام کر کے الزام عورتوں کو دے دیتے ہیں۔ اب جھوٹ کا کون مُنھ بند کر سکتا ہے؟ بدی کا ساتھ تو مردوں کو ملا ہے سب چور، جواری اور ٹھگ مرد ہی تو ہوتے ہیں۔ جب رسول خداﷺ نے عورتوں کی بابت وحی کی عرض کی فرقانِ مجید میں اللہ تعالی نے مردوں کو عورتوں سے نکاح کا حکم دیا۔ وارث شاہ خود دیکھ لو خواتین کی رحمت سے ہی جہان آباد ہے۔

رانجھا: سیتا نے تو راون کو تباہ کر ڈالا۔ وہ عورت ہی تو تھی جس نے راجے بھوج کو بے وقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کیا۔ اصیل مرد عورت کو چھڑی کے نیچے ہی رکھتے ہیں۔ یہ کمی کمین ہوتے ہیں جو عورتوں کو سر پر بٹھاتے ہیں۔ لڑکیاں، جو بے ریش ہیں، جن کے ناک اور کان سلے ہوتے ہیں، ان کی تو گواہی بھی قبول نہیں کی جاتی۔

سہتی: شرم و غیرت سے تہی مردوں سے تو عورتیں بدرجہا بہتر ہوتی ہیں۔ یہ با پردہ خواتین ہوتی ہیں جن کے حسن و حیا کے دم سے گھر آباد رہتے ہیں۔ ایسی عورتیں گھر گرہستی میں مگن رہتی ہیں لیکن ایسی بھی ہیں جو یاروں کے لیے سنگھار کرتی ہیں۔

رانجھا: جہان بھر میں وفادار عورت ناپید ہے، بپھرے ہوئے شیر کو کون قابو کر سکتا ہے؟ گدھے کو بار اٹھانا پڑتا ہے اور خوجے کاروبار میں گھاٹا نہیں اٹھاتے اور ہیجڑوں کے رشتے کی بات نہیں چلتی۔ جوگی عورتوں کے ٹونے ٹوٹکوں کا توڑ جانتے ہیں اور ندی کا زور کنارے پر کم ہو جاتا ہے۔ سہاگنوں کا غیر مردوں سے رسم و راہ بڑھانا برا ہوتا ہے اور بازاری عورتوں کے ناک میں نتھلی اچھی نہیں لگتی۔ وارث شاہ سب دست قدرت کے کرشمے ہیں بندے کے اختیار میں کچھ نہیں ہوتا۔

سہتی: میاں بھلی عورتوں سے نکاح کار خیر ہے اور بین موت پر ہی اچھے لگتے ہیں۔ گھر گرہستی کی زینت و زیبائش اور رشتے ناتے عورتوں کے دم سے ہی ہوتے ہیں۔ بھلی عورتیں سیجوں پر ہی دلوں کے لین دین کے سودے کرتی اچھی لگتی ہیں۔ وارث شاہ جو جورو کہو تو جور و ستم کریں گی اور جو مہری کہو تو مہر و کرم کریں گی۔

رانجھا: عورت، تو نے کیا شور مچایا ہوا ہے، عورتوں نے راجا بھوج کے وزیروں کو پیٹ ڈالا۔ راون کی لنکا کس گھر کے بھیدی نے ڈھائی؟ کورؤں اور پانڈوؤں کے اٹھارہ لشکر عورتوں کی چالاکیوں کے باعث تہہ تیغ ہوئے۔ انھی عورتوں نے ہی تو کربلا میں امامؑ کو شہید کروایا۔ پس، دین کے جانشین ختم کروا دیے۔ جو کوئی بھی با شرم، با غیرت انسان تھا، اس سے مال و جان چھین لیے۔ وارث شاہ، فقیر تو عورتوں سے بھاگ آیا تھا مگر تم نے اسے اس دیس میں بھی معاف نہ کیا۔

سہتی: تجھے جوبن پر اس قدر مان ہے تو کسی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ ایک عورت نے تجھے جنم دیا اور تو عورتوں کو برا بھلا کہتا ہے۔ تو خود کو غوث سمجھتا ہے مگر اتنا نہیں جانتا کہ عورتیں نہ ہوں تو جگ اجڑ جائے، دنیا سے زندگی ختم ہو جائے۔ ہم سے کیا کھیل کرتا ہے، ہم نے تو تجھے سندیسہ دے کر تو نہیں بلایا؟ تیرے کِشف و کرامات تو نظر آتے نہیں مگر شیخیاں خوب بگھارتا ہے۔ تو چاک ہے یہ کہتے ہوئے باغ سے نکلوا دوں گی۔ میرا مُنھ مت کھلوا۔ گدھے کی طرح تو بھوجن ٹھونستا ہے لیکن کلمۂ شکر ادا کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ یہ بندگی بھول کر بد چلنی اپنانے والے خود کو درویشانِ با صفا کہتے ہیں۔

رانجھا: گوپی چند جیسے باغ چھوڑ گئے۔ شداد و فرعون مٹ گئے۔ نوشیرواں بھی اپنی باری پہ بغداد سے عازم سفر ہوا۔ آدم بھولے سے دانۂ گندم کھانے کے جرم میں بہشت بریں سے بے دخل ہوا۔ شداد و نمرود نے دنیا میں جنت و جہنم بنانے کی سعی لاحاصل کی اور واصل جہنم ہوا۔ قاروں مال سمیٹ کر سر پر گناہوں کی گٹھڑی لادے  ملکِ عدم کا راہی ہوا۔ جس نے بھی خود کو خدا کہا پھر اس جہان میں رہ نہ پایا۔ بندوں پر تو الزام آتا ہے، کرتا سب کچھ خدا ہی ہے۔

سہتی: یہ پاگل غنڈا، جھگڑوں کی دکان کھول کر بیٹھ گیا ہے۔ اے من موہن بتا تو سہی ہمارے نذرانے کے تھال میں کیا ہے؟ تو خود کو بہت چتر چالاک جانتا ہے، بتا تو سہی تھال میں کیا رکھا ہے؟ بے ثبوت پیری کون مانے گا؟ نہ ہی چاول چھڑے بنا کھانے کے لائق بنتے ہیں؟ سوہنے سانولے ذرا بتا تو سہی اس برتن میں کس روگ کے راز چھپے ہیں؟ وارث شاہ اتنی جلد بازی نہ کر کام تو سہج سبھاؤ سے ہی بنتے ہیں۔

رانجھا: عورت، تو کیا کیا وسوسے ایجاد کرتی ہے؟ کبھی کبھی کرامت قہر بھی لے آتی ہے۔ تیرے عشوے، تیرے غمزے کسی نا بلد اور انجان آدمی پر ہی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ہم جوگیوں کو کیوں بہکاتی ہے، ہم تو حکم الٰہی کے پابند ہیں۔ اس تھال میں چاول، کھانڈ اور روپیوں کی نذر رکھی ہے۔

سہتی: ہاتھ باندھے، سہتی بِنتی کرتی ہے، سہتی تیری باندی ہے، تیرے حکم کی پابند ہے اور تیرے اشاروں پر ناچے گی۔

رانجھا: پھر اپنے گھر میں ناگن کی طرح کیوں پھنکاری تھی، جوگی کے ساتھ جھگڑی تھی اور پیٹ بھرے جاٹ کی طرح گرجی تھی۔ جب لڑائی میں ہار گئی تو گاؤں کی عورتوں کے سامنے فریاد کرنے لگی۔ ہاتھ میں ڈنڈے لیے ربیل باندی کے ساتھ تو ہم پر چڑھ دوڑی تھی۔

سہتی: ہم کو بنامِ خدا معاف کر دے۔ ہم سے بھول میں گناہ ہو گیا۔ درگاہ فقیر میں بے عمل درویش کو تو جوتے پڑتے ہی ہیں۔

(یوں بے چاری سہتی اچھے بھلے دلائل دیتے ہوئے آسمانی مداخلت کی وجہ سے عارضی طور پر  دانائی کا یہ مقابلہ ہار جاتی ہے۔)

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.