سنجو کی کہانی

حسین جاوید افروز
حسین جاوید افروز

سنجو کی کہانی

از، حسین جاوید افروز

بولی وُڈ میں ہر دور میں مشہور سیاست دانوں، کھلاڑیوں اور قومی ہیروز پر فلمیں بنتی رہی ہیں اور ایسی فلموں کو معاشرے کی غالب اکثریت پسندیدگی کی سند سے بھی نوازتی ہے۔ لیکن اس بار جب راج کمار ہیرانی جیسے منجھے ہوئے فلم ساز نے سنجے دت کی زندگی پر مبنی فلم ’’سنجو‘‘ پر کام کرنے کا بیڑہ اٹھایا تو جیسے فلم بینوں کی عید ہوگئی ہو۔ کیوں کہ سنجے دت کی زندگی محض ایک ایکٹر کی زندگی ہی نہیں ہے بل کہ اس کی زندگی میں ہی کئی کہانیاں بسی ہوئیں ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اس فلم کے پروموز نے سوشل میڈیا پر جیسے آگ سی لگا دی۔ اس کے با وجود سب کے ذہن میں یہی ایک سوال کلبلا رہا تھا کہ کیا رنبیر کپور، سنجے دت جیسے ہنگامہ خیز انسان کا کردار عمدگی سے نبھانے کے قابل ہوں گے بھی یا نہیں۔

فلم کی کہانی سنیل دت اور نرگس کے بیٹے سنجے دت کی ابتدائی زندگی کے گرد گھومتی ہے کہ کیسے ایک شرمیلا سا نوجوان فلمی دنیا میں اپنے نامور باپ کی انگلی تھامے داخل ہوتا ہے اور کیسے وہ اپنی پہلی فلم کی ریلیز سے قبل ہی غلط صحبت کا شکار ہوکر نشے کی لت میں پڑ جاتا ہے؟ اس پر ستم یہ کہ سنجے کی پہلی فلم راکی کی رہلیز سے قبل ہی اس کی ماں نرگس امریکہ میں کینسر کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے جس کے سنجے دت پر نہایت منفی اثر ات پڑتے ہیں اور وہ اس غم سے فرار کی کوشش میں نشے کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔

لیکن پھر اپنے باپ سنیل دت کے عزم اور عزیز دوست کملیش کی بدولت وہ زندگی میں واپس آ کر ایک کام یاب ادا کار کے طور پر سامنے آتا ہے۔ لیکن پھر بھی بطور دوست بطور بیٹا اور بطور عاشق اس کے مزاج میں جھوٹ، لا پروائی اور لا ابالی پن ختم ہونے میں نہیں آتا۔

اس کے بعد بد قسمتی سے وہ بمبئی میں 1993 مارچ میں ہونے والے خوف ناک دھماکوں کے ذمہ داروں سے تعلق رکھنے اور غیر قانو نی اسلحے رکھنے کی پاداش جیل کی سلاخوں کے پیچھے پھینک دیا جاتا ہے۔ اس کی رہائی کے لیے سنیل دت اور کملیش دن رات ایک کر دیتے ہیں اور کافی اتار چڑھاؤ اور جیل کی تلخ زندگی جھیلنے کے بعد سنجے کا کڑا امتحان ختم ہوتا ہے اور وہ ضمانت پر رہا ہو جاتا ہے۔

لیکن کئی سال بعد جب سنجے دت کو عدالتی حکم کے تحت دو بارہ جیل بھیجا جاتا ہے تو اسے اپنی زندگی پر کتاب لکھنے کے لیے کسی قابل رائٹر کی تلاش ہوتی ہے جو کہ اس کے اندر کا سچ باہر لا سکے۔ کیا سنجے دت کو اپنے اندر کے سچ کو باہر لانے کے لیے کسی رائٹر کی خدمات حاصل ہو جاتی ہیں؟

کیا جیل میں کئی برس گزار دینے کے بعد سنجے اپنی بے گناہی کے داغ دھو پاتا ہے؟ وہ کیا وجہ ہوتی ہے کہ جس کی بناء پر اس کا جگری دوست کملیش سنجے سے دوری اختیار کرلیتا ہے؟ کیا سنجے دت خود کو انڈر ورلڈ کے دباؤ سے آزاد کر پاتا ہے؟

ان سب سوالوں کا جواب ہمیں راج کمار ہیرانی کی فلم سنجو میں ہی ملے گا۔ بلا شبہ کہانی کے تانے بانے انسانی رشتوں کے درمیان گھومتے ہیں جیسے کہ نرگس اور سنجے دت کا تعلق، سنجو اور کملیش کی لا زوال دوستی اور سب سے بڑھ کر سنیل دت اور سنجے دت کے درمیان باپ بیٹے کا انمٹ رشتہ جو حساسیت، جذباتیت اور بے غرض اپنائیت سے بھرپور تھا۔

ہیرانی کی تحریر کردہ کہانی کی خوب صورتی یہ رہی کہ فلم میں سنجو کے محض مثبت پہلوؤں پر ہی روشنی نہیں ڈالی گئی بل کِہ اس کے منفی گوشوں کو بھی کھل کر آشکار کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ایک ایسا نوجوان جو کہ اپنی ماں کی بیماری، اپنے باپ کی فکرمندی اور اپنی گرل فرینڈ کے جذبات سے غافل نشے کی لعنت میں گرفتار لا پرواہی سے زندگی گزار رہا تھا۔

لیکن ذرا ٹھہریے یہاں چند خامیوں کی نشان دہی بھی بے حد ضروری ہے جیسے فلم میں سنجے کی فلمی کام یابیوں پر گویا پردہ ڈالا گیا ہے۔ حالاں کہ اگر ایک ہی منظر میں رنبیر سنگھ کو بطور کھل نائیک، واستو کے رگھو بھائی کے کردار میں فلمایا جاتا تو گویا چار چاند لگ جاتے۔


مزید دیکھیے: پدماوت، جس نے سنجے لیلا بھنسالی کو متنازع بنایا


اسی طرح جہاں سنجے کی زندگی کے تاریک پہلوؤں جیسے نشے کی لعنت اور قید کی زندگی پر جہاں فوکس کیا گیا ہے وہاں سنجے کی پہلی بیوی ریچا جو کہ کینسر سے چل بسی اوردوسری بیوی ریہا پلائی جو کہ جیل کی اذیت بھری زندگی میں سنجے کا مضبوط سہارا بن کر سامنے آ ئی کو نظر انداز کیا گیا۔

اسی طرح سنجے کی بڑی بیٹی ترشیلا جو سنجے کے ساتھ نہیں رہتی پر بھی بات کی جا سکتی تھی۔ اور خصوصاً مادھوری ڈکشٹ کے ساتھ سنجے کا گہرا رومانس جو شاید کھل نائیک کے بعد شادی پر بھی مُنتج ہو جاتا، اور پھر جس طرح سنجے کی جیل یاترا کے سبب مادھوری نے اس سے قطعِ تعلق کر لیا۔

ان تمام سچائیوں پر رائٹر کی خاموشی پر سوالیہ نشان ہنوز موجود ہے۔ تاہم ایکٹنگ کے شعبے پر چرچا کی جائے تو دوستو یہ رنبیر کپور کا سولو شو ہے۔ اگر چِہ راک سٹار اور برفی کے بعد رنبیر نے بطور ہیرو نہایت خراب دور دیکھا، مگر فلم سنجو نے رنبیر کو دوبارہ بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔

شرمیلے سنجے سے ماچو سنجے تک، اور وہاں سے ادھیڑعمر کے سنجو بابا تک رنبیر نے اپنے شان دار گیٹ اپ، جان دار کردار نگاری سے گویا سماں باندھ دیا۔ رنبیر کی خوب صورتی یہ رہی کہ آپ کو وہ فلم میں اپنی چال ڈھال اور مکالموں کی ادائیگی سے مکمل طور پر سنجو ہی نظر آئے گا مگر بطور رنبیر کپور بھی اس نے اس مشکل کردار میں اپنی گہری چھاپ چھوڑی ہے۔

چاہے اپنی ماں کی موت کے بعد راکی کے فنکشن میں باپ کی آغوش میں رونے کا منظر ہو، یا نشے کی جانب مائل کرنے والے دوست کی پٹائی کرتے ہوئے غصیلا سنجے دیکھنا ہو، چاہے نشے کی حالت میں اپنی گرل فرینڈ کو ذلیل کرنے کا منظر ہو یا اپنے باپ سنیل دت کو خراج تحسین پیش کرنے میں نا کامی پر تلملانے کا منظر ہو، رنبیر نے اپنی حساس ادا کاری سے ثابت کیا کہ اس کی رگوں میں محض کپور خاندان کا خون دوڑتا ہی نہیں بل کہ جوش بھی مارتا ہے۔ جب کِہ سنیل دت کے کردار میں پاریش راول نے یاد گار نقوش چھوڑے ہیں۔

کیسے سنیل دت نے سنجے کے فلمی کیرئیر سے لے کر اسے جیل کے تلخ تجربات کے دوران مضبوطی سے تھامے رکھا اور اسے ہر ممکن تحفظ فراہم کیا؟ پاریش راول نے ان تمام جذبات کو عمدگی سے پردے پر اتارا۔ نرگس کے کردار میں منیشا کوئرالہ نے بھی مختصر کردار میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ جب کہ سنجے کی بیوی مانیتا کے کردار میں دیا مرزا نے بھی پروقار ادا کاری کے جوہر دکھائے۔ جب کِہ ایک کامیاب اور پروفیشنل لکھاری کے کردار میں انوشکا شرما نے بھی نہایت مہارت اور سنجیدگی سے اپنا کردار نبھایا۔

سنجے کے دوست کملیش کے کردار میں وکی کوشل نے اپنی جذباتی کردار نگاری سے فلم بینوں کی توجہ سمیٹی۔ سنجے دت کی ابتلاء کے دور میں ایک مخلص دوست کے طور پر وکی نے بے مثال کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ فلم کی ہدایت کاری کے عمل میں راج کمار ہیرانی ہمیشہ کی طرح اثر انگیز رہے۔ جب کِہ ایک بائیو پِک bio-pic فلم میں جہاں سکرین پلے کی نزاکت کا بھی مکمل احساس کیا گیا وہاں،اسکرپٹ، ایڈیٹنگ سے لے کر سنیماٹوگرافی تک تمام اصناف میں بھی انصاف ہوتا محسوس ہوا۔

البتہ فلم کا میوزک قابل فراموش رہا۔ لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ فلم کی رفتار متاثر کن رہتی ہے اور فلم بین فلم میں ڈوبتے ہی چلے جاتے ہیں۔ مجموعی طور پر فلم ’’سنجو‘‘ تفریح اور جذباتیت کا دل فریب مرقع ثابت ہوئی۔ جس میں آپ کو باپ بیٹے کے رشتے کے تمام زاویے، روح کو گرماتے محسوس ہوں گے۔ فلم باکس آفس پر اب تک پدما وت اور ریس تھری کو پچھاڑتے ہوئے محض چار روز میں ہی ایک ارب کما چکی ہے۔ میں اس فلم کو 4/5 ریٹ کروں گا۔

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

About حسین جاوید افروز 37 Articles
حسین جاوید افروز جیو نیوز سے وابستہ صحافی ہیں۔

1 Trackback / Pingback

  1. فلم پی کے میں کھویا ہوا بھگوان — aik Rozan ایک روزن

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*