22/05/2019

پگڑی سنبھال او جٹا : اس گیت کے ساتھ جڑی تاریخ کے گمشدہ پنّے

پگڑی سنبھال او جٹا
بھگت سنگھ

پگڑی سنبھال او جٹا : اس گیت کے ساتھ جڑی تاریخ کے  گمشدہ پنّے

(محمد عامر حسینی)

پگڑی سنبھال او جٹا، ایک پنجابی نظم ہے جس کی باز گشت اکثر سنی جاتی ہے چند سال گزرے جب ’بھگت سنگھ دی لیجنڈ ‘ اور  کچھ اور فلمیں اس موضوع پہ بنیں تو ان میں وہ نظم گیت کی صورت میں پھر سنائی دی۔ لیکن اس گیت کے ساتھ جڑی تاریخ کے پنّے گمشدہ ہی رہے۔پاکستان  چونکہ تاریخ کو دفن کرنے کا کلچر عام ہے اس لیے ظاہر ہے اس گیت کو پذیرائی نہیں ملی۔ ویسے بھی پنجاب میں آج کل ’ہم سب پاکستانی ہیں‘ کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ ایسی تاریخ جو تقسیم کی بجائے جوڑنے کی بات کرے اسے رد کرنا ہی بہتر ہے۔ خیر گیت کچھ یوں ہے۔پگڑی سنبھال او جٹاپگڑی سنبھال  اوئےتیرا لٹ لیا مال اوئے

لٹ لیا مال اوئے ہائے

توں ساری دنیا دا داتا، تیریاں جیباں نے خالی

تیرے سر وچ پہ گیا ہنیرا لوکاں کری دیوالی

تیرے بچے دُدھوں ترسن ،توں گاواں دا پالی

تیری دنیا وچ گلامی ، توں ایں باغاں دا مالی  اوئے

پگڑی سنبھال او جٹا ۔۔۔

 

یہ نظم 20 ویں صدی کے اوائل میں وجود میں آئی تھی۔ اس وقت بہت سے آزادی پسندوں نے یہ محسوس کیا کہ اس وقت ہندوستان میں آزادی کی ماڈریٹ اپروچ سے اچھے نتائج نہیں مل رہے اور اس کے لیے انہوں نے زرا زیادہ ریڈیکل طریقے اپنانے کا فیصلہ کیا۔

پنجاب میں ایک زیر زمین سوسائٹی بنی جو کہ بھارت ماتا سوسائٹی یا محبوب وطن سوسائٹی کہلاتی تھی۔  مہاشے گھسیٹا رام، سیوا رام  سنگھ  اور صوفی امبا پرشاد جیسے لوگ اس سے جڑے تھے۔ یہ نام موجودہ ہندوستان کی نصابی کتب میں بھی مشکل سے ملتے ہیں۔

اس کی سب سے توانا اور سب سے طاقتور آواز سردار اجیت سنگھ  کی تھی۔ ان کا کردار جتنا زیادہ تھا، انہیں اتنا ہی کم یاد کیا جاتا ہے۔ اکثر لکھاری انہیں بھگت سنگھ کے چچا کے طور تعارف کے بعد آگے بڑھ جاتے ہیں۔

(دائیں سے بائیں) بھگت سنگھ کے چچا اجیت سنگھ، دادا سردار ارجن سنگھ اور والد کشن سنگھ۔

ان کا ایک اور بھائی سردار سیوا رام سنگھ  تھا جو 23 سال کی عمر میں ٹی بی کے مرض میں جیل میں ہی مر گیا تھا، وہ بھی آزادی کا مجاہد تھا۔

یہ وہ زمانہ تھا انگریز نے دو ایکٹ پنجاب میں متعارف کرائے تھے۔ ایک کا لونائزیشن ایکٹ تھا تو دوسرے کا نام دوآب باری ایکٹ تھا۔

سکھ درشن نت نامی لکھاری ہمیں بتاتا ہے کہ ان دنوں پنجاب میں کیا ہورہا تھا:

’ان دو قوانین کے متعارف کرانے کا پس منظر یہ تھا کہ برٹش حکومت نے پنجاب میں دریا چناب سے نہریں نکالیں اور ان کو لائل پور تک لے گئی جو نیا نئی کالونی شہر تھا۔

کئی رعایتوں کے ساتھ حکومت نے مفت زمین دینے کا وعدہ کیا اور جالندھر، امرتسر اور ہوشیارپور سے کسانوں اور سابق فوجی ملازمیں کو ان نئے علاقوں میں آباد ہونے کی ترغیب دی تھی۔

اس مضمون کو بھی ملاحظہ کیجئے: ارون دھتی رائے کو ایک ناول لکھنے میں 20 سال کیوں لگے؟

ان علاقوں سے ہزاروں کسان خاندانوں نے نئی زمینوں کی طرف ہجرت کی اور بے کا پڑی ٹیلوں والی زمین کو کاشت کے قابل بنانے کا کام شروع کردیا لیکن جونہی انہوں نے یہ کام مکمل کیا تو حکومت نے ایسے قوانین متعارف کرائے جس سے ان زخیز زمینوں کی وہ خود مالک بن گئی اور کسانوں کو حقوق ملکیت دینے سے انکار کرڈالا۔

نئے قوانین نے ان کو بٹائی دار بناڈالا۔ نہ تو وہ ان زمینوں پہ لگے درختوں کو کاٹ سکتے تھے، نہ ہی وہ گھر یا چھونپڑے بناسکتے تھے اور یہاں تک کہ انہیں زمینوں کی خرید و فروخت کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ نئے قوانین نے یہ بھی کہا گیا کہ کسی  مزارع کی وفات کے بعد زمین پہ کاشت کا حقدار بڑا بیٹا ہوگا۔

اگر بڑا بھائی بچپن میں فوت ہوگیا ہو تو زمین اس سے چھوٹے بیٹے کو منتقل نہیں ہوگی بلکہ حکومت کے پاس واپس چلی جائے گی۔  حکومت نے 15 سال میں 20 لاکھ ایکٹر زمین کو سیراب کرنے کے لیے نہروں پہ جو سرمایہ کاری کی تھی نہ صرف وہ واپس لے لی تھی بلکہ اس نے ہر سال قریب قریب سات لاکھ روپے آبیانے کی مد میں وصول کیے تھے۔ اجیت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے کسانوں میں پھیلی بے چینی اور حکومت کے ناروا سلوک سے پھیلی ناراضی کو مقبول عوامی مزاحمت میں بدلنے کی کوشش کی‘۔

کسانوں نے تاہم پہلے معروف کانگریسی لیڈر لاجپت رائے سے رجوع کیا۔ وہ کرشن نگر لاہور میں رہتے تھے اور معروف وکیل تھے۔ لاجپت رائے نے ان کو یہ کہہ کر مایوس کردیا کہ کانگریس کچھ کرنے کے قابل نہیں رہی کیونکہ یہ بل پہلے ہی اسمبلی سے پاس ہوچکا ہے۔

اس وقت کسانوں نے اجیت سنگھ اور ان کی بھارت ماتا سوسائٹی کو قبول کرلیا جو کہ ان کسان مخالف قوانین کے خلاف سخت مزاحمت کررہی تھی۔

اسی دوران لاہور اور اس کے گردونواح میں ریلیوں، مظاہروں اور بڑے بڑے جلسوں کی لہر دیکھنے کو ملی جس میں ہزاروں لوگ شریک ہوتے تھے۔

ان انقلابی جلسوں سے اجیت سنگھ نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے خود کو ان ظالمانہ قوانین کی مخالفت تک محدود نہیں رکھا بلکہ برطانوی کالونیل ازم کے خلاف مکمل بغاوت کی کال دے دی۔ اجیت سنگھ کی تقریروں نے عوام میں بھرپور جوش و جذبہ جگایا جبکہ برٹش سامراج نے اسے 1857ء کی جنگ کے تناظر کے طور پہ لیا اور ان کی پریشانی بڑھنے لگی۔

انگریز کلکٹروں اور ڈپٹی کمشنروں کو سرکلر بھیجا گیا کہ عام لوگوں، خاص طور پر سپاہیوں کو ان کی تقریریں سننے سے روکا جائے لیکن ارجیت سنگھ کی مقبولیت بڑھتی گئی۔ اس تحریک کی علامت ترنگا جھنڈا تھا۔ یہ جھنڈا ڈھائی سے تین فٹ لمبے ڈنڈے پہ لہرا رہا ہوتا تھا۔ ارجیت سنگھ ہر جلسے میں اپنی تقریر میں کہتا:  ’انگریجاں نوں ایسے سوٹے نال کٹاں گے‘ (انگریزوں کو اسی ڈنڈے سے مار لگائیں گے)۔

تین مارچ 1907ء کو لائل پور میں ہوئی ایک یادگار کسان ریلی میں ’جھنگ سیال‘ کے ایڈیٹر بانکے دیال نے شہرہ آفاق نظم ’پگڑی سنبھال او جٹا‘ سنائی اور جلد ہی یہ نظم کسان تحریک کا ماٹو بن گئی۔ بعد ازاں تحریک کا نام ہی پگڑی سنبھال او جٹا پڑ گیا۔

اس نظم  کو پہلی بار 1942ء میں بنی ایک پنجابی فلم میں شامل کیا گیا جس کا نام ’گوانڈی‘  تھا۔ اس گیت  کا میوزک پنڈت امر ناتھ نے دیا تھا اور اسے پنڈت شیو دیال سنگھ باتش نے گایا تھا اور یہ بہت مقبول ہوا تھا۔ بھگت سنگھ  انقلابی کسان گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور اسے اپنے والد اور دو چچاؤں کا حریت پسند انقلابی ورثہ ملا تھا۔ اس کے چچا کی جیل میں نوجوانی میں شہادت نے بھی اس کی سوچ میں انقلابی سوچ کو جنم دیا تھا۔

بعد کے واقعات تو اتہاس کے پنّوں پہ درج ہیں لیکن پاکستان بننے کے بعد آہستہ آہستہ اس تاریخ کو گمنامی میں دھکیل دیا گیا۔ جب تک بائیں بازو کی تحریک مضبوط تھی اور کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے زیر اثر کسان رابطہ کمیٹاں پنجاب میں سرگرم تھیں تو کسانوں کی جدوجہد کی تاریخ کہیں نہ کہیں ہماری یادداشت کا حصّہ تھی لیکن بائیں بازو کے زوال کے ساتھ ہی یہ یاديں دھندلی ہوتے ہوتے غائب ہی ہوگئیں۔


Courtesy:nuktanazar.sujag.org