تتلیوں کے دیس سے سچ مچ کہانیاں

Naeem Baig

تتلیوں کے دیس سے سچ مچ کہانیاں: 12 اکتوبر ۹۹ء کی اداس شام اور مارشل لاء

میں ان دنوں لاہور میں اپنے بینک کے مرکزی دفتر نیلا گنبد میں سینئر وائس پریذیڈنٹ تعینات تھا۔ میری فیملی ابھی تک بچوں کے کالج کی وجہ سے کوئٹہ ہی  رہائش پذیر تھی اور میں ڈیفنس میں کرایے کے اَپر پورشن میں رہ رہا تھا۔ لاہور میں ایک عرصہ کی غیر حاضری نے پرانے دوستوں کو تتر بتر کر رکھا تھا تاہم چند قریبی دوست، جن میں ایک دو سِوِل سرونٹ اور بینکر تھے، سے ملاقاتِ مسلسل تھی۔

 لاہور کی ادبی دنیا سے تو کالج کے زمانے سے کٹ چکا تھا۔ اس کی وجہ لاہور سے طویل غیر حاضری تھی۔ تاہم فن کاروں میں عابد علی ہی صرف ایسے فن کار تھے جن سے بے تکلفی تھی، لیکن وہ اکثر مصروف رہتے۔ جمال شاہ، ان کی بیگم فریال گوہر سے کوئٹہ ہی میں بلوچستان یونی ورسٹی کے ڈاکٹر فاروق احمد کی وجہ سے انھی کے گھر رسمی ملاقات رہتی تھی اور ان کے توسط سے مدیحہ گوہر اور اجوکا تھیٹر سے رسم و راہ بھی بڑھی۔

میری تقریباً روزمرہ کی روٹین یہ رہتی کہ ساڑھے پانچ بجے تک دفتر سے نکلتا اور مال روڈ، کیولری سے ہوتا ہوا زیڈ بلاک میں گھر پہنچ جاتا۔

راستے سے اگر کچھ شام کے لیے خریدنا ہوتا تو رکتا، ورنہ گھر پہنچ کر کم از کم آدھ گھنٹہ آرام کرتا اور پھر دوستوں کی آمد شروع ہو جاتی۔ سب سے پہلے تو ایل ڈی اے والے دوست عرفان ملک پہنچتے۔ کچھ اور دوست ملتے۔ تب ہم کسی ڈھابے کی تلاش میں نکلتے جہاں رات کا کھانا کھایا جائے اور پھر مال روڈ پر پینوراما کے بالکل سامنے ایٹ اینڈ سِپ پر رات دیر گئے تک کرسیوں کے دائرے میں محفل جمتی، اور چائے کے کئی دور چلتے، اور دنیا بھر کے ادبی و سیاسی موضوعات زیرِ بحث آتے۔ اس سِٹّنگ میں کچھ دوست دوسرے مشروبات سے بھی لطف اندوز ہوتے رہتے۔

مال روڈ پر ایٹ اینڈ سِپ آج بھی اسی طرح کمال کی جگہ ہے۔ ہم رات گئے تک بیٹھے رہتے اور بھر پُور سیاست پر گفتگو جاری رہتی۔ لطف کی بات یہ تھی کہ ہر نیا آنے والا شخص گفتگو کی ڈور کہیں سے پکڑتا اور اس موضوع کو مزید آگے بڑھاتا اور جب چاہتا اپنی چائے کے پیسے ادا کر کے نکل جاتا۔

ان دنوں میاں نواز شریف اپنے پورے عُروج پر تھے اور ہیوی مینڈیٹ (قومی اسمبلی میں تین چوتھائی اکثریت) کے اِن پر مکمل اثرات تھے۔ مزید بُراں اوپر تلے کے چند واقعات جنھیں وہ اپنی کام یابیاں کہتے تھے، جن میں نومبر 1997ء میں سپریم کورٹ پر حملہ، جنرل جہانگیر کرامت کا نیشنل سیکورٹی کونسل کی تجویز پر اکتوبر 98ء میں حکومتی دباؤ پر مستعفی ہونا،  تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں آئینی ترمیم جن میں علی التّرتیب 58 ٹو بی کا خاتمہ، فلور کراسنگ پر ممبر قومی اسمبلی کی رکنیت کا خاتمہ اور شریعہ قوانین کا نفاذ جس کے تحت وزیرِ اعظم کا امیر المؤمنین بننا طے ہوا۔ (گو یہ پندرھویں ترمیم کبھی سینٹ سے پاس نہ ہو سکی) جیسے اقدامات نے ملک کے اندر عسکری اسٹیبلشمنٹ کو سخت وارننگ دے دی تھی۔

جی ایچ کیو کے اہم عہدے داروں نے جنرل جہانگیر کرامت کے بعد نئے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف پر یہ باور کرا دیا تھا کہ اگر اس بار کسی معمولی سی بات پر آرمی چیف کو مستعفی ہونے پر دباؤ ڈالا گیا تو نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا۔ ان باتوں پر طرّہ یہ ہوا کہ کارگل کا واقعہ ہو گیا۔

کارگل  کے واقعے اور سِوِل اور فوج میں کیمونی کیشن تنازع پر جنرل مشرف کو یہ یقین ہو چلا تھا کہ انھیں بھی جنرل جہانگیر کرامت کی طرح مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا جائے گا۔ جس پر اب سینئر جنرل ڈٹ چکے تھے کہ ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ شنیدن سری  لنکا جانے سے پہلے یہ طے ہوگیا تھا کہ اگر کوئی حکومتی موو ہوئی تو اس کا بھر پُور جواب دیا جائے گا۔

بہ ہر حال، یہ تجزیہ نگاروں کا معاملہ ہے کہ وہ دیکھیں کہ پہل کس نے کی۔ اسی روز دوپہر کو نواز شریف کی تقریر کرنی تھی جسے کسی فوری فون کال پر ملتوی کر دیا گیا۔ واقعات میں کچھڑی پک رہی تھی۔ محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ ہونے والا ہے کیا؟ کوئی نہیں جانتا تھا۔ اسی روز جنرل مشرف کی سری لنکا سے واپسی تھی۔

مجھے اتنا یاد ہے کہ میں شام کو دفتر سے نکل کر گھر کی طرف جا رہا تھا کہ رستے میں مجھے میرے سول سرونٹ دوست کا فون آیا کہ آپ کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میں گھر جا رہا ہوں۔ کہنے لگے، اچھا اب گھر میں ہی رہیے گا۔ کچھ موومنٹ متوقع ہے۔

میرے یہ دوست شہری انتظامیہ کا حصہ تھے۔ مجھے یقین تھا کہ جو کچھ کہہ رہے ہیں یقیناً مصدقہ معلومات پر مبنی ہو گا۔ مشرف کے طیارے اور کراچی مین لینڈنگ، ایئر پورٹ پر آئی جی سندھ اور غوث علی شاہ کی موجودگی، مشرف کے طیارے کو لینڈنگ سے روکنے کی سینہ گزٹ خبریں آ رہی تھیں۔

یوں رات گئے تک یہ بات ملک میں پھیل چکی تھی کہ مارشل لاء لگ چکا ہے اور ملٹری نے مکمل ٹیک اوور کر لیا ہے۔  دوسرے دن دفتروں میں یہی موضوع زیرِ بحث رہا۔ جنرل مشرف کی تقریر کے بعد اندازہ ہوا جیسے انھیں سول حکومت نے نا چاہتے ہوئے اس مارشل لاء میں گھیسٹا گیا ہے۔ پھر ان کے چودہ نکات آ گئے جس میں انھوں نے ملک کی بہتری کے لیے نئی تبدیلی کا پیغام دیا، اور بہتری میں کئی ایک اقدامات تجویز کیے جو وعدوں کی حد تک ہی رہے۔

دو تین روز بعد جب میں مال روڈ سے دفتر جاتے ہوئے چییئرنگ کراس سے گزرا تو دیکھا، کہ یار لوگوں نے جنرل مشرف کی وردی میں ملبوس ایک بڑی پورٹریٹ لگا دی تھی جس میں وہ شکار شدہ شیر کی لاش پر پاؤں رکھے کھڑے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ دو تین روز کے بعد ہی اس تصویر کو اتار دیا گیا تھا۔

یہ بات طے ہے کہ یوں فوج نے ایک بار پھر سول سیٹ اپ کو ختم کر دیا۔ یہ ملکی تاریخ میں چوتھا موقع تھا کہ ملک کے سول سیٹ اپ کو معطل کرکے فوج نے بَہ راہِ راست قیادت سنبھالی تھی۔

مجھے یہ بھی اچھی طرح  یاد ہے کہ جس دن نواز شریف نے 58 ٹو بی کی آئینی ترمیم کی تھی تو ان کے بزر جمہر حکومتی عہدے داروں کی بے تحاشا پیغامات میڈیا میں رپورٹ ہوئے تھے کہ ہمیشہ کے لیے صدارتی مارشل لاء کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے۔

میرا خیال تھا کہ صدارتی سہولت ختم کر کے یہ سہولت واپس چیف آف آرمی سٹاف کو دے دی گئی ہے۔ میں نے اپنے اسی سول سرونٹ دوست کو کہا کہ اب میاں صاحب نے بَہ راہِ راست مارشل لاء کا راستہ کھول دیا ہے۔ لیکن وہ میری بات سے متفق نہیں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اب سول سیٹ اپ اس قدر مضبوط ہو چکا ہے کہ کسی جنرل کو مارشل لاء کی ہمت نہ ہو گی۔ یہ ان کی خام خیالی ہی تھی۔

 تاہم اس بار جنرل ضیا کے تاریک دور کی طرح اسلامی کوڑوں کی تیکنیک استعمال نہ کی گئی، بَل کہ سول قیادت اور ان کے حواریوں کی دیگر مِس منیجمنٹ کو احتساب کے سامنے لانے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا اور نیب آڈیننس معرضِ وجود میں لایا گیا۔

آج جب میں عمران خان کی حکومت پر سیلیکٹ ہونے کے بارے میں سنتا ہوں، جس میں سول سیٹ اَپ کو سول طریقے سے ہی ٹیکنیکلی تبدیل کر کے بَہ قولِ بلاول بھٹو سلیکٹڈ وزیر اعظم کی سربراہی میں احتسابی عمل جاری رکھا گیا تو مجھے مشرف دور یاد آ جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی آج ملکی معاشی حالت کی ابتری، تاجروں اور صنعت کاروں میں حکومتی اقدامات پر مایوسی اور جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات، ڈاکٹرز اور انجینئرز، کلرکوں اور نرسوں کی ہڑتالیں، مہنگائی کا نہ ختم ہونے والا طوفان دیکھتا ہوں تو سبھی متوسط پاکستانیوں پر ترس سا آتا ہے کہ اب ایک عام آدمی دو تین جابز کر کے بجلی کے بلوں کی ادائیگی نبٹاتا ہے۔

عمران خان کے ذریعے کیے گئے سارے وعدے جلسوں اور الیکشن کے وعدے ہی نکلے اور مایوسی کی فضا مزید پھیلی۔ لوگ پہلے رشوت ستانی سے تنگ تھے، اب مزید تنگ ہیں کہ ریٹ بڑھ گئے ہیں۔ تھانہ لیول کی پولیس کار کردگی مایوس کن ہے۔ کرپشن کے خاتمے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات مایوس کن حد تک رہے۔ اظہارِ تقریر و تحریر زیرِ عتاب ہے۔ زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نظر نہیں آتا جس میں حکومتی سطح پر فخر کیا جا سکے۔

اگر حکومت کا خیال ہے کہ لنگر خانے کھول کر غربت مٹائی جا سکتی ہے تو یہ اس کی خیام خیالی ہے، انھیں بے وقوفوں کی جنت سے باہر نکل آنا چاہیے۔ لنگر کھولنے سے بہتر تو یہ تھا  مقامی لوگوں کی اعزازی کمیٹیاں مقرر کر کے دس ہزار سکول کھولنے کے اقدامات کو عملی شکل دی جاتی جسے مقامی چندے ہی سے چلایا جا سکتا تھا۔

میں یہ تجویز پہلے بھی دے چکا ہوں۔ میں کئی برسوں سے چیخ رہا ہوں کہ ڈھائی کروڑ بچے مجرم بننے کے لیے تیار ہو رہے ہیں، بس ذرا ان کا قد بڑا ہونے دیں، لیکن میری چیخ صدا بہ صحرا ہے۔

پاکستان میں لکھی جانے والی ان کہانیوں کو میں نے تتلیوں کے دیس میں سچ مچ کہانیوں کا عنوان دے رکھا ہے۔ یہ تاریخ فیصلہ کرے گی کہ یہ سول مارشل لاء کس قدر پاکستان کو تقویت پہنچاتا ہے۔

از، نعیم بیگ    

About نعیم بیگ 120 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔