پیرس پر (ثقافتی) حملہ یا پیرس کے نو آبادیاتی حملوں کی کرچیاں

پیرس پر (ثقافتی) حملہ
Art work by the Syrian artist Nizar Ali Badr who specializes in pebbles work

پیرس پر (ثقافتی) حملہ یا پیرس کے  نو آبادیاتی حملوں کی کرچیاں

از، یاسر چٹھہ

سید کاشف رضا خوش فکر انسان ہیں۔ شاعرِ خوش نوا ہونا ان کی ذات کا ایک حوالہ ہے ہی، چار درویش اور ایک کچھوا ان کی جانب سے حالیہ شائع ہونے والے ناولوں میں سے کسی بیدار مغز انسان اور ان ایسے بیانیاتی اسلوبی نُدرت innovative narratological stylistics کے ادیب کا پاکستانی سماج پر ایک اہم تہذیبی نقد، تجزیہ اور فن پارہ ہے۔ ( یہ راقم اپنے علمی و ادبی مفروضہ جات کی بناء پر شاید کچھ تشکیلی عناصر بھی دیکھتا ہے)۔

آج کل سید کاشف رضا یورپ کی سیر پر ہیں۔ آج کل میں آپ نے بین الاقوامی مہاجرت یعنی international migration  کے موضوع پر ایک اہم اور زرخیز فکر بیان بطور فیس بک سٹیٹس لکھا۔ اس پر راقم کو بھی کچھ کہنی نا کہنی سُوجھی۔ پہلے ذیل کی سطروں میں وہ متن مُقتبس دیکھیے۔ اس کے بعد راقم کا چند کوڑیوں (two cents) کا تبصرہ ملاحظہ کیجیے۔

پیرس پر حملہ

پیرس پر تین غیر ملکی خطوں نے بہ یک وقت ہلہ بول رکھا ہے۔ ان میں افریقا، برصغیر پاک و ہند اور چین شامل ہیں۔ دو ہزار گیارہ کی مردم شماری کے مطابق صرف پیرس میں اکیس لاکھ سترہ ہزار ایسے افراد ہیں جو بیرون فرانس پیدا ہوئے۔

یہ تعداد پیرس کی آبادی کا اٹھارہ فی صد بنتی ہے۔ ان کے فرانس میں پیدا ہونے والے بچوں اور غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو شمار کیا جائے تو تعداد تیس لاکھ ہو جائے یعنی قریب چھبیس فی صد۔

جرمنی کے کسی شہر سے پیرس آنے والے کو دونوں میں واضح فرق محسوس ہوتا ہے۔ پیرس کی لوکل ٹرام اور اس کا اسٹیشن افریقیوں اور پاک و ہند کے باشندوں سے بھرے ہوتے ہیں۔ اسٹیشن میں صفائی ستھرائی کا فقدان ہے۔

پیرس میں افریقیوں، پاکستانیوں، بھارتیوں اور چینیوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر دل ڈوب جاتا ہے۔ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہوں کہ پیرس کی عظیم تہذیب ان غیر ملکیوں کے ہاتھوں خطرے سے دو چار ہے جو خود کو پیرس کی تہذیب میں [شاید] کبھی جذب نہیں کر [ پائیں] گے۔

یورپ میں غیر ملکی اثرات کے ہاتھوں مفتوح ہونے والا پہلا بڑا شہر پیرس ہوگا۔ پیرس کی روا داری اسے لے ڈوبے گی۔ تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی۔”

اقتباس از، سید کاشف رضا

مہاجرت کے مظہر پر سید کاشف رضا کا میٹروپولیٹن ممالک میں پائی جانے والی آراء کا ایک تلخیصی بیان ہے۔ مہاجرت یعنی migration کے مظہر و مباحث پر پر دیگر نکات یہ ہو سکتے ہیں:

■ مہاجرت مغربی نو آبادیات قائم کرنے کا ایک ضمنی نتیجہ ہے۔ نا صرف مغربی، بل کہ ہمسایہ ممالک کو جنگ زدہ کرنے اور تزویراتی گہرائی وغیرہ کا جائے وقوع بنانے یا ان ہمسایہ ممالک کو اپنے ارضی جغرافیائی جثہ کا لطیف حصہ (soft under belly) وغیرہ ماننے کا بھی، ضمنی نتیجہ ہو سکتا ہے۔

■ عالم گیریت کے مظہر کا ایک عمومی ضمنی حوالہ ہے۔

■ عالمی طاقتوں کی آپسی رَسّہ کشیوں کی بِناؤں پر تھوپی گئی asymmetrical عالمی جنگوں کی کَترن ہے۔

■ عالم گیریت کے نتائج میں سے ثقافتی بحران و کشا کش اور تناؤ کا معاشرتی و ثقافتی site یعنی جائے وقوع ہے۔

■ جب کہ دوسری طرف جو مہاجرت اختیار کرتے ہیں ان پر بھی (اگر انہیں احساس ہو تو) کچھ اخلاقی ذمے داریاں بنتی ہیں۔ آپ کسی کے مقام و گھر جا کر جوں ہی کسی قدر اکثریت و طاقت میں ہو جائیں، کہ وہاں پر آپ اپنا آپ جتانے کے قابل ہو جائیں تو نو آباد کاروں جیسی زعمِ پا رسائی کا شکار نا ہوں۔ (اگر چہ نا تو نو آباد کار کسی خاص اخلاقی مجبوری کو اپنے اوپر حاوی ہونے دیتے تھے اور نا ہی آپ پر ہونے کی توقع ہے۔) پر ایسا نا ہو کہ مہاجرت کے لیے پُر کشش مقامات کے آزادی سے عبارت ماحول و قوانین بھی سب کے لیے ویسے ہی ہو جائیں جیسے آپ کے چھوڑے ہوئے معاشروں اور ممالک کے ہیں: یعنی مچھر جتنی قدر کی حامل پوری دنیا ہی جہنم  جیسی ہو جائے۔

■ اب ایک اہم تہذیبی و معاشرتی سوال سر اٹھاتا ہے کہ کیا اب آدم زاد ایسے انسانوں میں ڈھل چکے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی مسجد میں جائیں تو جائے سجدہ کی اینٹیں نہیں اکھاڑیں گے، داخلے کی اجازت دیں گے، آمین کی آواز کو ایک دوسرے کی روایت کے مطابق مدہم و بلند کریں گے، سفید فام آدمی کی ذمے داری، یا گندمی مرد و زن کی جانب سے مغربی معاشروں کو آگ اور جہالت کے گہرے کنویں میں گرنے سے بچانے کی ذمے داری سے بوجھل نہیں ہو جائیں گے۔

■ سید کاشف رضا صاحب کو جو پیرس پر حملہ محسوس ہوا ہے اس میں مغربی میٹرو پولیٹنز کے دائیں بازو کی نفسیاتی گونج  psychological echo کی تھوڑی سی آمیزش دِکھتی ہے۔ ساتھ ہی ہم ان چیزوں کے خدشات بھی نظر انداز نہیں کر سکتے کہ ہمارے وہاں جانے والے بھی پنجابی زبان میں ایک محاورے کی تمثیل کے مطابق منجی پر بیٹھنے کی اجازت ملتے ہی خود اپنے لیٹنے کے لیے منجی والے کو اٹھانے لگتے ہیں۔ لیکن یہ شاید ان کے تحت الشعور میں موجود نو آبادیات کے پورے پراجیکٹ کی سطح کا  البتہ کسی طرح بھی نہیں ہو گا۔

بطور ادنٰی تبصرہ کار اس معاملے پر موقفوں کی سرحد پر بیٹھنا پسند کروں گا۔ مجھے اس پر واضح موقف بھی نہیں لینا۔ کچھ کہنا بھی ہے اور کچھ بھی نہیں کہنا؛ نا معلوم کہ یہ پیرس پر حملہ ہے، یا پیرس کے حملوں کی معکوسی کشش کا نتیجہ، یا اپنے ثقافتی اغواء کار سے انسیت کا کوئی رنگ۔

لیکن مجھے تاریخ کے اس لمحے کے جبر/ یا تشکیل و وضعی کے طربیے پر خاموش بھی نہیں رہنا۔ وجہ شاید یہ ہو کہ تاریخی، تہذیبی، سماجی و معاشرتی تبدل و تغیرات کا جبر، ان تبدل و تغیرات سے وابستہ یاد داشت/یاد داشتوں کی کرچیاں، آدم زاد کے دُرون میں موجود انسانیت کے امکانات پر انگشت بہ دندانی مجھے واضح موقف اپنانے سے مانع ہے۔


مزید دیکھیے: ماحولیاتی تبدیلیوں سے ویرانیوں کی دھما چوکڑیاں


About یاسرچٹھہ 99 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔

1 Trackback / Pingback

  1. تجدید عزم و وفا — aik Rozan ایک روزن

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.