میرے پاس تم ہو کی چنیدہ قباحتیں اور آف سکرین ہیجان

Naeem Baig

میرے پاس تم ہو کی چنیدہ قباحتیں اور آف سکرین ہیجان

از، نعیم بیگ 

… 

حصۂِ اول

حال ہی میں ایک ٹی وی ڈرامہ میرے پاس تم ہو خوب مقبول عام ہوا۔ اس کی آخری قسط سینماؤں میں نمائش کے لیے پیش کی گئی، جس کی ایڈوانس بکنگ مکمل ہو گئی۔

اتفاق سے اس ڈرامے کے بارے میں فیس بک اور میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اس ڈرامے میں عورتوں کو بے وفا دِکھا کر مرد بالا دست سوسائٹی میں اس کی تضحیک کی گئی ہے، اور اسے لگام دیے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کچھ کا اس کے بر عکس خیال ہے کہ پوسٹ ماڈرن عہد کی مکمل عکاسی ہوئی ہے اور عورت کی بے وفائی اور لالچ پر عورت اور مرد کو یک ساں رگڑا دیا گیا ہے۔ چُوں کہ میں نے یہ سیریل نہیں دیکھا لہٰذا میڈیا پر ہونے والی گفتگو سے چند جملے عرض کرتا ہوں۔

طاہرہ عبداللہ کا یہ بیان: “عورت بھی انسان ہے۔”

“بے حیائی اور فحاشی کے اس دور میں جانی خلیل الرحمان قمر ہماری آخری امید ہے۔” (اقبال خورشید)

خلیل قمر کو منٹو سے ملانے والے وہی ڈھکن ہیں جو پڑھ تو منٹو کو رہے ہوتے ہیں، لیکن دماغ میں وہی وہانوی ہوتا ہے! (اقبال حسن خان)

یہ طنزیہ لیکن حقیقی جملے مشتے نمونہ از خروارے ہیں۔ مزید بھی بہت ہیں لیکن میں نے یہ جملے اپنے دوست معروف ڈرامہ نویس و ناول اقبال حسن خان اور صحافی و ادیب اقبال خورشید کی فیس بُک وال سے لیے ہیں۔

اس ڈرامے کی آخری قسط کی نمائش پر پابندی لگانے کے لیے اس پر لاہور کی ایک عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔

اس پسِ منظر کی روشنی میں آج اتفاق سے رات کھانا کھاتے ہوئے میں نے اپنی شریکِ حیات سے پوچھا کہ میڈیا میں بڑی ہل چَل مچی ہوئی ہے کیا ہے یہ ڈرامہ؟ کیا کنٹرورشیلیٹی زیرِ بحث ہے اس ڈرامے میں؟

تو بیوی نے سادہ زبان میں اس کی کہانی بتانی شروع کر دی۔ ابھی اس نے دو جملے ہی کہے تھے کہ میں نے اسے روک دیا اور کہا:

رکو، رکو، میں تمہیں ایک کہانی سناتا ہوں بتاؤ کیا یہ وہی کہانی ہے؟ کہنے لگی اچھا پہلے آپ بتائیں تو میں کنفرم کروں گی۔

میں نے 1993 میں ریلیز ہونے والی ڈیمی مور اور رابرٹ ریڈفورڈ کی فلم اِن ڈیسنٹ پروپوزل کا خلاصہ سنا دیا۔ بیوی نے کہا بالکل یہی کہانی ہے۔ ڈرامے میں لڑکی کی ابتدائی خواہش کو روپیے کی بَہ جائے زیور کی خواہش میں بدل دیا گیا۔ انگریزی معاشرہ ہونے کے باوجود بَہ راہِ راست ایک رات کی قیمت ایک ملین ڈالر کی بَہ جائے یہاں کچھ اور دِکھا دیا۔

… 

اس اظہاریہ پر چنیدہ اہم  دوستوں نے کچھ یوں اپنی رائے دی۔

ادیب، اقبال خورشید، کراچی:

یہ ڈرامہ ایک کیس اسٹڈی ہے، صرف وہ متن نہیں، جو اسکرین پر پیش کیا، بل کہ وہ بھی، جو انٹرویوز اور ٹاک شوز میں پیش کیا جاتا رہا، یعنی آف اسکرین۔ ڈرامے کی کام یابی پر بحث نہیں۔ اس کی مقبولیت طے شدہ ہے۔ میرے اس پر اعتراضات در اصل آف اسکرین متن پر ہیں۔ اسکرین پر جو کچھ ہوا، اسے کی چند اقساط دیکھیں، کوئی خاص متنازِع، پریشان کن بات نہیں تھی۔ کچھ انوکھا بھی نہیں تھا۔

معروف صحافی اور نقاد رفیع اللہ میاں کراچی:

یہ تو تاریخی تسلسل ہے، ادب میں چند بھی ‘بڑی چیزیں’ اخذ شدہ ہیں۔

شاعرہ، تسنیم کوثر، لاہور:

ڈرامہ جو بھی تھا بَہ ہر حال ہماری گھریلو رانیوں کو بہت بھایا۔ گھریلو کام جلد نمٹا کے ٹی وی سکرین پہ نظریں جمائے ان خواتین کو اس دوران کسی ضروری کام سے اٹھنا کسی مہمان کا آنا بھی نا گوار گزرتا تھا۔

معروف ڈرامہ نگار اور فلم سکرپٹ رائٹر  اقبال حسن خان، اسلام آباد:

سر ملا جلا کام تھا، اِن ڈیسٹ پروپوزل، میڈم باوری اور وئیر لوو ہیز گون

سلمیٰ جیلانی، افسانہ نگار، آسٹریلیا:

بالکل درست تجزیہ میں نے بھی شروع کی اقساط نہیں دیکھیں، لیکن جب فیس بک پر اس ڈرامے کے ڈائیلاگز کے چرچے سنے تو دیکھنا شروع کیا؛ مگر مجھے کافی عامیانہ لگا۔ کوئی لڑکی جو اپنی ذمے دار زندگی چھوڑ کر کسی امیر شخص کے ساتھ چلی گئی ہو وہ ایسے شرمندہ ہو کر واپس نہیں آتی اور نہ اس طرح ذلت برداشت کرتی ہے۔

وہ جب چلی گئی تو اس سے آگے ہی جاتی اور سابق شوہر اور بچہ موو آن ہو جاتے۔ اصل زندگی میں تو ایسا ہی ہوتا ہے مجھے بھی ایسا ہی لگا تھا کہ کسی مغربی کہانی سے متاثر ہو کر لکھا گیا ہے، کیوں کہ اس کی تِھیم پاکستانی معاشرے سے میچ نہیں ہوتی سوائے آخری حصے کہ جب عورت پر ہی ہر ملبہ ڈال دیا جاتا ہے اور اسے بری عورت کا درجہ دے کر سنگ سار کر دیا جاتا ہے۔

افتخار بیگ، شاعر و ایکٹیوسٹ لاہور:

اِنڈیسنٹ پروپوزل والی بات درست ہے، باقی رائٹر نے مودودیت کا تڑکا لگا دیا ہے۔

شکیل عدنان ہاشمی ٹی وی پروڈیوسر اسلام آباد:(ان کا نقطۂِ نظر نیچے تفصیلاً دیا گیا ہے)

پروفیسر اورنگ زیب نیازی، لاہور:

ذرا سی بات تھی اندیشۂِ “لبڑلم” نے اسے بڑھا دیا ہے/ فقط زیبِ داستاں کے لیے۔

فلم زندگی تماشا کے خلاف مولوی نکلے ہوئے ہیں اور اس ڈرامے کے خلاف لبڑل۔ وہ اپنی جگہ آرٹ ہے، یہ اپنی جگہ آرٹ۔ مجھے تو لگتا ہے ان دونوں شدت پسند گروہوں کو مارکیٹنگ کے لیے سرمایہ داروں کی طرف سے پیسے ملتے ہیں۔

حصۂِ دوئم

یہ تھے وہ چنیدہ تبصرے جو احقر کی فیس بک وال پر سامنے آئے۔

تبصرے ان سطروں کے محفوظ کرنے تک جاری ہیں کہ میرے دوست شکیل عدنان ہاشمی نے کچھ سوالات مزید اٹھا دیے اور میرا نام لکھتے ہوئے ایک اظہاریہ شائع کیا، جو درج ذیل ہے۔

نعیم بھائی آداب!

ساری باتیں درست سہی، چربہ ہے، وہ لکھاری نہیں ہے، منٹو بننے کی نا کام کوشش، Indecent Proposal وغیرہ۔

میری جانب سے کچھ سوالات ہیں۔

1۔ کیا ڈرامہ مقبولیت کی انتہائی حدوں کو چُھو رہا ہے؟

2۔ کیا یہ ڈرامہ ہم ٹی وی کے معروف مینو فیسٹو، یعنی metoo کے concepts سے متحارب ہے؟

3۔ کیا اس ڈرامے میں عورت کو بہ طور antagonist اور پھر اسے بَہ طور character Arc بنا کر transformation کے عمل سے نہیں گزارہ گیا؟

5۔ کیا ہمارا معاشرہ، ہمارا لٹریچر، ہمارا کلچر عورت کو شر انگیزی کا symbol بنا کر اسے صدیوں سے معتوب قرار نہیں دے رہا؟

6۔ خلیل نے کیا نئی بات کی ہے جس کا حوالہ اردو لٹریچر کی دریافت تاریخ میں موجود نہیں؟

7۔ کیا یہ کوئی مخاصمانہ جنگ تو نہیں جو اے آر وائی اور ہم ٹیلی ویزن نیٹ ورک کے مابین ہو رہی ہے؟

6۔ تو پھر خلیل الرحمٰن سے یہ توقع کی جار ہی ہے کہ وہ ایک ڈرائی کلینر کا کردار ادا کریں گے۔ اگر ہم نے کبھی عورت کو معصوم نہیں سمجھا تو آج یہ بحث و تکرار کیسی؟ عورت کو ہمارے مرد جہاں متعین کرتے ہیں، خلیل نے اسے وہیں رکھا ہے، اسے دھو دھا کے، کلف اور استری نہیں کیا تو اعتراض کیسا؟

ہم عورت کو جیسا سوچتے ہیں خلیل نے اسے ویسے ہی portray کیا؛ للہ اللہ خیر سلا۔

ہمیں اپنی سوچ کا ننگا پن پریشان کر رہا ہے شاید!

اس  اظہاریہ پر احقر کی گزارشات

شکیل عدنان بھائی!

آپ کی پوسٹ فیس بک کی مہربانی سے آج دیکھی۔ اس مخلوط الخیال (آپ اسے ہائیبرڈ) بل کہ ہائپر ڈرامے پر مماثلت/چربہ سازی اور عورت کے حوالے سے جو نتائج اخذ کیے گئے ان پر احقر نے سرسری سی گذارشات کی تھیں جو میری وال پر آویزاں ہوئیں۔

اس نوٹ میں میرا نقطۂِ نظر واضح تھا اور میرا بیانیہ، سماجی و ثقافتی سطح پر جو میڈیائی ہائپ (صارفی مارکیٹنگ ٹولزکے تحت) پیداکیا گیا ہے، کے تناظر میں تھا جس کا مالی فائدہ سرمایہ دار تک پہنچتا ہے اور منفی اثرات عوامی سطح پر اُس نسل پر در آتے ہیں جو ابھی اسی سرمایہ دارانہ نظام میں تعلیم تک نہیں حاصل کر پائے ہیں۔ (یہ ایک الگ بحث ہےکہ اس وقت کئی کروڑ بچے تعلم سے محروم ہیں اور اس hyper اور انتہا پسند سماج کا حصہ بنتے جانے کے دوران معاشرتی اور تمدنی محرومیوں سے آشنا ہو چکے ہیں) جس کا مظاہرہ ہم سڑکوں پر ہر روز دیکھتے ہیں۔

یہ مخبوط الحواس اور مخلوط الخیال میڈیائی ہائپ نیوز اور ٹاک شوز میں تو پہلے سے مروج ہے، جس کے عوامی سطح پر اثرات آپ تک بھی یقینا پہنچے ہوں گے۔

ممکن ہے کہ آپ بَہ راہِ راست میڈیا کا حصہ ہونے پر زیادہ متاثر نہ ہوئے ہوں، لیکن یہ masses level پر نا مناسب عمل ہے جو پوسٹ ماڈرن حوالوں سے قابلِ گفتگو ہے۔ بہ ہر حال آپ نے اپنا فوری ردِّ عمل میرے اس نوٹ پر بھی دیا تھا جس کا مختصر جواب خاکسار نے آپ کی نذر وہاں بھی کیا۔ تاہم اب آپ نے اب الگ سے اس موضوع پر نوٹ لکھا ہے تو میرا سنجیدہ نقطۂِ نظر سامنے آنا لازم ٹھہرا ہے۔

میرے خیال میں  اس وضاحت کی ضرورت نہیں تھی کہ آپ مجھے گذشتہ تین/ چاردھائیوں سے جانتے ہیں۔ میرا پروفیشنل پسِ منظر بھی لیکن چُوں کہ یہ گفتگو اتفاق سے سرِ عام ہو رہی ہے، لہٰذا یہ وضاحت بے حد ضروری تھی۔

آپ کے نوٹ کے ابتدائی سوال تو مقبولیت کے حوالے سے کیے ہیں، تاہم آپ نے اس میں متحارب گروپ کے کچھ چینلز کا ذکر بھی کیا ہے۔

پہلی بات واضح کر دوں کہ میں کسی چینل یا میڈیائی گروپ کا حصہ نہیں ہوں۔ ایک نظریاتی اور ترقی پسند ادیب کی حیثیتا سے جو کچھ ادبی سطح پر محسوس کرتا ہوں اپنی تحاریر میں رقم کر دیتا ہوں۔

اپنے تنقیدی سیاسی و سماجی کالمز میں گذشتہ حکومت اور اس سے پیوستہ پچھلی حکومتوں اور حالیہ بر سرِ اقتدار حکومت پر موضوعاتی سطح پر اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتا ہوا تنقید کرتا رہتا ہوں میرے قارئین اور دوست احباب اور ادبی حلقے سبھی یہ بات جانتے ہیں۔ میں نے کبھی لگی لپٹی گفتگو نہیں کی لیکن سماجی اور اجتماعی سچائی کو کبھی پیچھے ہٹنے نہیں دیا۔

آپ خوب جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں کیپیٹلسٹ اور اِمپیریئیسلٹ نظام کی جو برائیاں پنیری کی صورت لگائی گئی تھی وہ اب تن آور درخت بن چکی ہیں۔ مذہبی انتہا پسندی سے لے کر سیاسی و سماجی سطح پر اجتماعی پا بندیاں، تعلیم سے خطر ناک حد تک بے رخی اور اجتناب، تمدنی و تہذیبی softness کی بَہ جائے سیکیورٹی سطح پر ملکی اور سماجی خد و خال وضع کیے جانے سے ملک کے اندر مالی و سماجی اور کلچرل بحران پیدا ہو چکے ہیں، ان کا درماں اب استعماری جبر میں بھی میسر نہیں رہا۔ تقسیم در تقسیم بھلے وہ ایتھنک ہو، سیکٹیرین ہو نظریاتی ہو یا لسانی وہ اپنی جڑیں مضبوط کر چکی ہے۔

اس لیے، میں اس بحرانی کیفیت میں قطعِ نظر کہ کون حکومت کر رہا ہے، سوشل میڈیا کے بارے میں ان کے خیالات کچھ ہسٹریائی سے ہیں۔ میڈیا پر پا بندیاں بالخصوص سوشل میڈیا پر پا بندیاں اور اس بات کا بار بار اِعادہ کرنا اس بات کی گواہی ہے کہ سماجی حالات مشکل میں ہیں۔

مضحکہ خیزی اور توہین آمیز رویے، نقالی کرتے ہوئے مقامی تہذیبی دائروں سے باہر آ جانا اور ایک ایسے معاشرے کی نمود جس میں استعماری رویوں سے نیو پوسٹ کالونیلزم اثرات واضح ہوں پر ہیجان خیزی، سماج کی بڑی اکائی عورت کے بارے میں تحقیر آمیز رویے، انسانی خامیوں اور برائیوں کو آشکار کرنے کی بَہ جائے انھیں مہمیز دینا، انسانی تشکُل سے نکل کر ہیرو ورشپ کو تجسیم کرنا، منفی کرداروں کی ہائپ سے سماج کی عکاسی کا دعویٰ کرنا اور سماجی للکار میں حریفانہ جد و جہد، بھلے وہ عورت کی ذات میں داخلی ہو یا بیرونی، اور اسی کے ساتھ یہ کہنا کہ کیا صدیوں سے ایسا نہیں ہو رہا، اس بات کو طے کرتا ہے کہ یہاں عکاسی مقصود نہیں، بل کہ منفی فکری تشخص کو جنم دینا ہے۔

یقیناً یہ ایک مخصوص سوچ ہے جس میں مرد بالا دست سماج میں عورت کے مقام کا تعین بَہ ہر حال سوالات کا متقاضی ہے۔

کسی بھی ادیب و شاعر میں اگر تازہ کاری کا فقدان ہے توسمجھ لیجیے کہ وہ اپنی بات کہہ چکا ہے۔ مزید کچھ نہیں اس کے پاس جو وہ اپنے مداحین یا قارئین تک پہنچائے۔ ایسی صورت میں مالی فائدہ کے لیے کچھ کمرشل رائٹرز تریاق سے نکل کر تزویرات کی کرداری سیڑھیاں چڑھنے لگتے ہیں۔

بارِ دگر کہوں گا بَہ حثیت  ٹی وی پروڈیوسر آپ سے زیادہ کون یہ بات جانتا ہے، جو مال کو بیچنے میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہے۔

میں کسی بھی رائٹر کو منبر پر بیٹھا مُلاں، پادری،خطیب اور واعظ نہیں سمجھتا کہ وہ اپنے ادب پاروں/ نثر پاروں/ڈراموں  میں مثبت sermon دے۔ لیکن حتمی نتائج کی ذمے داری بَہ ہر حال اس کے حصے میں آئے گی جسے اس کو قبول کرنا ہو گا۔

کوئی شخص کامل نہیں، لیکن صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے یار لوگ اپنے اعمال کو  “وٹ آ بوٹیزم” کی تھیوری تلے رد نہیں کر سکتے۔

میں سوشل میڈیا، الیکٹرونک میڈیا، فلم میڈیا اور ادب میں absolute freedom کا قائل ہوں تا کِہ فن کار کا اپنا اکتسابی نظام activate رہے، ورنہ سرکاری پا بندیوں سے خود احتسابی کا نظام deactivate ہو جاتا ہے، اور ایک ہیومینسٹ ہونے کے ناتے اسی کا پرچارک ہوں؛ لیکن اس آزادی میں فطری انسانی جبلتی توازن کا قائل ہوں اور کسی صورت صنفی امتیاز برتنے پر نسلِ انسانی کی بڑی اکائی عورت کو فیمنسٹ یا کچھ اور کہہ کر اس پر جبر کے دروازے کھول دینا، یا اس کی تضحیک و تحقیر کسی صورت قابلِ قبول نہیں؛ اور اگر سماج کا پڑھا لکھا طبقہ ایسا سوچتا ہے تو ہمیں یہ سوچ بدلنی ہو گی۔ اکیسیوں صدی میں مرد کی صنفی امتیاز کے تحت بالا دستی ہمارے سماج کا بد ترین چہرہ ہے۔

About نعیم بیگ 128 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔