ملیر اور الیکشن دو ہزار اٹھارہ

ملیر اور الیکشن

ملیر اور الیکشن دو ہزار اٹھارہ

از، آدرش حفیظ

الیکشن کا دور دورہ ہے ساری جماعتیں زور و شور سے تیاریاں کر رہی ہیں۔ الیکشن کا موسم ابھی شروع ہی ہوا ہے چوں کہ رمضان کا با برکت مہینہ اختتام پذیر ہو چکا ہے۔ اب عید کے بعد اور زور شور سے نعرے لگنا شروع ہو جائیں گے۔

نعروں سے یاد آیا کہ ہم ملیر واسیوں کو سِوائے نعروں کے اور کچھ بھی نہیں ملا۔ ستر سے لے کر آج تک ہم ہر الیکشن میں نعرے ہی سنتے آئے ہیں۔ نعرے ہی لگاتے ہیں۔ جب الیکشن کا سیزن ختم پھر ایک طویل سناٹا ہماری قسمت میں لکھا جاتا ہے۔

یہاں سے منتخب نمائندے مال بنانے میں اور ملیر کے لوگ اپنی زندگی کے دنوں کو گزارنے میں لگے رہتے ہیں۔ منتخب نمائندوں کی زبان گنگ مگر عیاشیاں لگی رہتی ہیں اور ملیر کے لوگ اپنا سب کچھ لُٹتا دیکھ کر حیرانی میں زندگی گزارتے آئے ہیں۔

پھر الیکشن کا نعرہ لگتا ہے، مداری اپنا تماشا دیکھاتا ہے اور ملیر کے تماش بین دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ یہی ہوتا آیا ہے، لگتا ہے یہی ہوتا رہے گا۔ جب تک ملیر کے لوگ خود کو نہیں بدلیں گے اور جب تک سوچ نہیں بدلے گی تب تک حالات نہیں بدلیں گے۔

ملیر کے حالات تو ہر الیکشن کے بعد بد تر ہوتے جاتے ہیں۔ خاص کر دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے بعد سے اب تک ملیر خود کو اجڑتا بکھرتا اور مِٹتا دیکھ رہا ہے۔ ملیر کے لوگ زردار کی سیاست کو تعجب سے، حیرانی سے اور صدمے سے دیکھ رہے ہیں۔

صدمے سے یاد آیا ہے جو صدمہ ملیر واسیوں کو ان کے کردار سے ہوا جو ملیر کے اپنے فرزند تھے؛ شیر محمد بلوچ، ساجد جوکیو، حکیم بلوچ، شفیع محمد جاموٹ یہ سب ملیر کے ہی ہیں۔ یہیں پیدا ہوئے، یہیں پلے بڑھے یہیں سے ووٹ لے کر ایوانوں میں گئے۔ شیر محمد بلوچ تو اپنی نا اہلیت کو لے کر ریٹائر ہو گئے۔

مگر یہ دوسرے شیر سالار بن کر آج بھی ملیر کے نام پر لوگوں کو چُونا لگا رہے ہیں۔ کبھی راجونی اتحاد کبھی ملیر اتحاد کبھی جئے بھٹو، جئے بلاول زرداری بھٹو۔ ڈگڈگی ان کے ہاتھ میں ہے اور لوگوں کو نچانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ یہ جو بھی ہیں مگر یہ سوائے نعروں، جھوٹ، بز دلی اور نا اہلی کے کچھ بھی نہ دے سکے ـ ملیر لٹتا رہا اور یہ چپ کا روزہ رکھ کر انہی قوتوں کا ساتھی رہے جو ملیر کو لوٹ رہے تھے۔


مزید دیکھیے: 1۔ ملیر کے پرندے، چل اُڑ جا پنچھی یہ دیس ہوا بیگانہ

ملیر کا مجرم کون؟


بات اگر لوٹ مار کی ہے تو انہی مہا پُرشوں نے ملیر کے ساتھ وہ کیا جو شاید غیر ہوتے تو نہ کرتے۔ ملیر کے نام سے سیاست کرتے ہیں اور سادہ دل ملیر کے  لوگوں نے ان پہ بار بار اعتماد کیا مگر یہ مُنتخب ہو کر صرف مراعات لیتے رہے۔ وزارت کے پرٹوکول کے مزے لیتے رہے۔ فنڈ کے ان کی سبیل میں جا کر ہضم ہو جاتے۔

ملیر سکڑتا رہا ان کے مَحَل بنتے رہے۔ لوگوں کی زمینیں مصر کے بازار میں کوڑیوں کے مول بکتی رہیں اور یہ نا اہل اسی منڈی میں دلال کا کردار ادا کرتے رہے۔ ابھی تک ان کی ہوَس ختم نہیں ہوئی۔ یہ پھر سے اپنا اپنا چُورن لے کے بازار میں پہنچنے والے ہیں۔

دوستو بازار کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ بازار والے بھی اپنا دھندہ ایمان داری سے کرتے ہیں مگر یہ ملیر کے نام نہاد سیاست دان جن کے پاس نہ ویژن ہے، نہ پروگرام نہ یہ اتنا جگر گردہ رکھتے ہیں کہ ملیر کے حقوق کا دفاع کر سکیں۔ کیوں کہ ماضی کا ٹریک ریکارڈ ان کی سیاہ کاری کا مُنھ بولتا ثبوت ہے۔

ساجد جوکیو 2002 سے لے کر 2013 کے الیکشن میں جیت کر صوبائی اسمبلی میں گئے، مگر نتیجہ صفر۔ اتنے سال ایوان میں بیٹھ کر یہ وزیر بھی بنے، دس سال حکومت کا حصہ رہے۔ مگر ملیر کے لیے ایک قانون بھی پاس نہ کرا سکے۔ نہ ہی صحت یا تعلیم کے حوالے سے انہوں نے کچھ کام کیا۔

اپنے آخری دنوں میں یہ صاحب بحریہ ٹاؤن کی بروکری کرتے رہے۔ ملیر سے منتخب ہونے والی ان مہا شے نے کبھی بھی ملیر واسیوں کے حقوق کی بات ایوان اقتدار میں نہیں کی۔ شاید کبھی بُھول کے آپ نے ملیر کا نام لیا ہو۔ ان کے آبا و اجداد زراعت سے وابستہ تھے۔ مگر ان صاحب نے ملیر کی  زراعت کی بہتری کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ۔

اسی کچھ کا رونا حاجی عبدالحکیم بلوچ کے لیے  بھی رویا جاتا ہے۔ صوبائی وزیر رہے، وفاق میں مملکتی وزیر رہے، مگر نتیجہ وہی صفر۔ صوبائی وزیر رہے تو اتنا غرور آیا کہ حاجی صاحب کے فیصلے آج بھی ملیر کے لیے موت ثابت ہو رہے ہیں۔ کبھی راجونی اتحاد بنا کر تو کبھی ملیر اتحاد بنا کر خوب لوگوں کو بے وقوف بنایا۔ مسلم لیگ سے ٹکٹ لے کر ملیر واسیوں کو تبدیلی کا نعرہ دیا، جیت کر تین سال وزارت کے مزے لوٹے۔ ملیر میں تبدیلی تو کُجا خود تبدیل ہو کر جئے زرداری کا لگا کر تبدیل ہوئے۔ اب کسے شرم سے ڈوب مر جانا چاہیے: ملیر واسیوں کو یا حاجی صاحب کو جن کو چاپلوسی میں سالار بھی کہتے ہیں۔

اب کہنے کو جاموٹ صاحب کو بھی بہت کچھ کہا جاتا ہے مگر ابراہیم حیدری کی تصویر کو دیکھ کے بہت کچھ سمجھ میں آتا ہے کہ کہ لوگوں کے اعتماد کے ساتھ کس طرح بلاتکار ہوا ہے۔ کہاں ملیر کے لیے کچھ کرے۔ باقی اللّٰہ دے بندہ لے یہ حاجی جاموٹ صاحب ایوانوں کی بہتی گنگا میں نہا کے ابھی تک بور نہیں ہوئے۔

بور تو حاجی مرتضیٰ بلوچ صاحب بھی نہیں ہوئے اپنے چھوٹے سے چند سالوں کی صوبائی اسمبلی کی یاترا سے اچھا خاصا تجربہ کر کے آئے ہیں۔

اس الیکشن میں ان تجربہ کار بزنس مینوں ـــــ معذرت، سیاست دانوں میں کچھ نئے سرمایہ دار ــــــ معذرت سیاست دان بھی نظر آتے ہیں جنہیں دیکھ کر سعادت حسن منٹو کی کہی باتیں بہت یاد آتی ہیں۔

اب کیا بات کریں شاید ملیر کی قسمت میں ایسا کوئی رہنما ہی نہیں جو ملیر کے دکھوں کا مداوا کر سکے۔ اب تو ملیر اپنی بقا کے سوالیہ نشان پہ کھڑا ہے۔ آگے ملیر کا نام ہو گا یا نہیں، یہ پتا نہیں۔ کے مجرموں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔ وہ چاہے میر جعفر ہوں کہ میر صادق انہیں ان کی آنے والی نسلوں کو عبرت کا نشان بنا کے چھوڑتی ہے۔