ہراسانی

Naseer Ahmed
نصیر احمد

ہراسانی

از، نصیر احمد

وہ آج ٹیلی پر ہراسگی، ہراسیت یا ہراسانی کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔ ایک مردوے نے تو بالکل ہی الٹی بات کر دی کہ شمالی ہندوستان کے علاقوں کے مردوں میں کوئی جینیاتی نقص ہے کہ جس کے باعث صنفی علیحدگی کا ایک نظام وضع کیا جائے تاکہ خواتین مردوں کے ضرر سے محفوظ رہیں۔ ان صاحب نے اس جینیاتی نقص کی نوعیت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

مطلب یہ ہے کہ ایک معاشرتی پالیسی ان کے کسی آوارہ اندازے کی بنیاد پر تشکیل دے دی جائے تا کہ قوم کی فلاح ہو۔ وہی ہمدرد بن کر ظلم کو رائج کرنے کی ذہنیت جو ہر قسم کی ہراسیت کا طریقہ واردات ہے اور انتہا پسند سوچ کا ایک عکسِ رخ جو بارہا سامنے آتا رہتا ہے۔

خواتین کو ہراساں تو ایک بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کی وجہ مردوں کے جینز میں نہیں، زندگی، معاشرے، اخلاقیات، قانون اور علم کے بارے میں نظریوں میں ہے۔ اور خواتین کے خلاف ہراسیت میں کمی لانے کے لیے ایک بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت ہے۔

سب سے پہلے تو خطے کے مذاہب کی تفاسیر میں جتنی بھی خواتین کی برابری، اہلیت اور حقوق کے بارے میں منفی گفتگو ہے، اس کو مسترد کرنا پڑے گا کہ جو زیادتی اٹل صداقت اور تقدیس کی شکل اختیار کر لے، اس کا استقلال توڑنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے لیے ان مذاہب کی روشن خیال تفسیروں حکومتوں کو بہت زیادہ کام کرنا پڑے گا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر خندہ و تبسم میں بھی کچھ روشنی کی جھلک دکھائی پڑے تو دھرم کی بنیادیں خطرے میں گھر جاتی ہیں یا عرش کے کنگرے گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور جذباتیت کا ایسا طوفان برپا ہو جاتا ہے کہ بات چیت کی حالت طوفان میں گھرے شجر کی سی ہو جاتی ہے کہ بس سب کچھ طوفان کی پیروی میں کھو جاتا ہے اور روشن خیال تعبیریں اس طوفان سے بچنے کے لیے محفوظ گوشے ڈھونڈتی پھرتی ہیں۔

اسی طرح ادب بھی خواتین دشمنی سے اٹا بھرا ہے۔ مقامی ادب میں سادھو ، سنتوں، فقیروں، درویشوں اور صوفیوں کی شاعری میں خواتین کے بارے میں منفی گفتگو بہت زیادہ ہے اور ان ولیوں کو قبول عام بھی بہت حاصل ہے جس کی وجہ سے یہ منفی گفتگو منفی رویے مسلسل تشکیل دیتی رہتی ہے۔

انسانی زندگی یہی ہے کہ جس کے بارے میں تحقیر آمیز گفتگو ہو گی، وہ تشدد کا بھی شکار ہو گا۔ اس گفتگو کی کچھ روک تھام ہو جائے تو خواتین کے خلاف تشدد میں بھی کمی آ جائے گی۔ اصل میں تو یہ ادب ساری انسانیت کا ہی دشمن ہے مگر اس انسان دشمنی کا شکار خواتین بہت زیادہ بن جاتی ہیں کیونکہ ان کے تحفظ کا انتظام بہت کمزور ہے۔

یہ انتظام قوانین کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے لیکن دھرم ، دین، سنسکار، اور خواتین کے معاشرتی مقام کے بارے میں منفی خیالات کا نظام اس قدر قدیم اور توانا ہے کہ قوانین اگر اچھے بھی ہوں، ان پر عمل در آمد نہیں کروایا جا سکتا۔

زندگی کے بارے میں جو جدید فلسفہ پڑھایا جاتا ہے وہ بھی انسانوں کی درجہ بندی کو تقویت پہنچاتا ہے۔ یعنی خواتین کو جو ناٹزی مقام دیتے ہیں (کہ ہم تو بچے ہٹلر کے لیے جنتی ہیں) وہی مودودی وغیرہ کی سیاسی تحریروں میں ملتا ہے اور جناب حکیم کی شاعری بھی اسی قدیم زیادتی کی جدید شکل ہے جو سمرتیوں میں ملتی ہے۔

علم کے بارے میں تصورات بھی کچھ ایسے ہیں کہ زندگی کی سائنسی تفہیم کو مراقبوں، چلوں، زاویوں، اور جھاڑ پھونک کی جدید قسموں کے ذریعے کاملیت پرستی پر مبنی ثقافتی تفہیم کے تحت کر دیا جاتا ہے اور خواتین کے حقوق اس گرد وغبار میں گم ہو جاتے ہیں۔

وہی بات جو ہم مسلسل کہتے رہتے ہیں کہ کوئی جینیاتی مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی صنفی علیحدگی کے معاشرتی نظام کی ضرورت ہے بس زندگی کے گیت کی دھن بدلنا لازمی ہے۔

ہمارے ذہن میں ہے کہ ایک صنفی نابینائی کی کیفیت تعلیم کی جائے جو جمہوری خیالات، جمہوری رویوں، جمہوری اقدار اور جمہوری قوانین کی پاسداری پر اصرار کرے۔

صنفی نابینائی سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ فرد ہونا صنف ہونے سے پہلے کی بات ہے اگر آپ فرد کے حقوق پر اصرار کریں گے تو صنف اتنی اہم نہیں رہ جائے گی۔ یعنی انسانی، آئینی، اخلاقی لحاظ سے برابر دو انسانوں کے درمیان گفتگو کو صنفی شناختوں پر ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ اور جو ذرا سا جسمانی اختلاف ہے، اس کو حمزہ کا قصہ بنانے کی اتنی ضرورت نہیں ہے کہ اس اختلاف کا صلاحیتوں سے کوئی رشتہ نہیں۔ اگر ہوتا تو کوئی خاتون سائنسدان یا خلا باز نہ بن پاتی۔ مطلب یہ کہ پرکھوں کی زندگی کی تفہیم خام تھی تو اس کی سزا جینے والوں کو دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اگر تعلیم کی بنیادیں درست ہو جائیں تو یہ عمل معاشرتی جہالت میں کمی لانے میں بہت مددگار ثابت ہو گا اور انسانوں کی ساری قسمیں خوف و ہراس سے بہتر انداز میں نمٹنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ اچھی تعلیم جہالت کی معاشرتی حمایت کمزور کرنے میں بالآخر کامیاب ہو جاتی ہے۔

خواتین کو دیویاں بنانے کی کوئی ضرورت نہیں، انھیں انسان رہنے دیں، بس ان کے جمہوری ، انسانی اور اخلاقی حقوق کا تحفظ ریاست، حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری ہے اور ان سب کو اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے خلوص کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔
نسلی علیحدگی کی طرح صنفی علیحدگی کے نظام بھی انسانیت کے معیار کو بری طرح مجروح کرتے ہیں۔ وہ جیسے شیلی نے اپنی فلسفہ محبت نامی نظم میں لکھا تھا کہ دنیا میں اک ازلی آئین کے تحت تنہا کوئی نہیں اور کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی کسی نے کسی ملتا ہے تو ہم تم سے جدا کیوں رہیں۔ اس لیے یہ علیحدگی ہمیں منظور نہیں۔

مردوں نے اگر سسٹر فلاورز کی تحقیر سے محفوظ رہنا ہے تو ان کے آئینی، قانونی اور معاشرتی حقوق کی فراہمی کی تدبیر کریں۔ اس پر ہمیں ولی ایمبروز بھی یاد آئے مگر گفتگو کی سنجیدگی دھری کی دھری رہ جائے گی۔