کیا بھارتی سماج ہم سے پہلے بالغ نظر ہو جائے گا؟

Dr Irfan Shahzad

کیا بھارتی سماج ہم سے پہلے بالغ نظر ہو جائے گا؟

از، ڈاکٹر عرفان شہزاد

یہ خوب صورت نوجوان، جتنا خوب صورت چہرہ رکھتا تھا، اس کے کہیں زیادہ خوب صورت اس کا دل اور دماغ تھا۔ شاہد اعظمی ممبئی میں 2010 میں قتل کر دیا گیا۔ جرم یہ تھا کہ وکیل کی حیثیت سے ان کے کمزور اور بے بس لوگوں کے کیس لڑتا تھا جنھیں دہشت گردی کے الزام میں پولیس دھر لیتی تھی اور تفتیش کے نام پر وہ برسوں جیل میں سڑتے رہتے تھے۔ مووی “شاہد” اس نوجوان کی کہانی پر مبنی ہے، جسے راج کمار راؤ نے بہت خوبی سے نبھایا ہے۔

بھارتی سماج۔۔۔ شاہد اعظمی
شاہد اعظمی

یہ نوجوان اوائل جوانی میں عسکریت پسند مسلم تنظیموں کے ہتھے پر چڑھا لیکن جلد ہی وہاں سے بھاگ آیا۔ پھردہشت گردی کے ایک کیس میں اسے پولیس نے گرفتار کر لیا، جیل میں مقدمہ چلتا رہا اور یہ بری ہوگیا۔ جیل میں ہی اس نے تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا اور وکالت کی ڈگری حاصل کر لی۔ اپنی بے گناہ اسیری نے اسے ایسے بے گناہ اسیروں کا مسیحا بنا دیا، اور اسی راہ میں وہ شہید کر دیا گیا۔


مزید دیکھیے: انسان اور سماج،آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

بھارت کو ٹیگور کے خیالوں پر آخر کیوں نہیں سجایا جا سکتا  از،  پروفیسر منوج کمار جھا


انڈیا اور پاکستان ایک ہی سماج ہے۔ اس کا ایک نمایاں ثبوت یہ بھی ہے کہ وہاں یا یہاں دہشت گردی یا توہین مذھب یا ملت و وطن کے الزام میں جو بھی دھر لیا جائے، لوگوں کے نزدیک، میڈیا کے نزدیک وہ جرم خود بخود ثابت ہو جاتا ہے۔ ممبئی حملے کے الزام میں گرفتار جس ملزم کا کیس لڑنے پر شاہد قتل کیا گیا، انڈیا کی سپریم کورٹ نے  تین ماہ بعد اسے عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا تھا۔ مگر سماج کے ایک انتہا پسند طبقے کے لیے یہ فیصلہ قابل قبول نہ تھا۔ ہمارے ہاں بھی یہی ہوتا ہے۔ شھباز بھٹی کو قتل کرنے والوں نے اپنا فیصلہ اس پر پہلے نافذ کیا اور آسیہ بی بی چند برسوں بعد بری قرار پائی۔

انڈیا اور پاکستان البتہ ایک فرق ہے، وہاں انتہا پسندوں کے سینے پر منگ دل کر ایسی فلمیں بن جاتی ہیں، لوگ بڑی تعداد میں دیکھتے بھی ہیں اور کامیاب بھی ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں کوئی شہباز بھٹی پر فلم نہیں بنا سکتا۔

یقین جانیے کہ آزادی اظہار کی اس بہتر پوزیشن کی وجہ سے انڈیا کا سماج ہم سے بہت پہلے بالغ نظر ہو جائے گا جیسے وہ تعلیم میں ہم سے سبقت لے چکے اور معاشی ترقی میں بھی باوجود کثیر آبادی کے آگے نکل رہے ہیں۔ عام آدمی کی کامن سینس کو آواز دیجیے وہ بہت طاقت ور ہو سکتی ہے۔ پھر ریاست کو کبھی ایک اور کبھی دوسرے انتہا پسند کے ہاتھوں یرغمال بننا نہیں پڑے گا۔ پھر شاہد اور شھباز کو حق کا ساتھ دینے کی وجہ سے قتل ہونا نہیں پڑے گا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.