ہم کس سے آنکھیں چرا رہے ہیں بھائی

Yasser Chattha

ہم کس سے آنکھیں چرا رہے ہیں بھائی

از، یاسر چٹھہ 

ڈیجیٹل میڈیا، گیمز، سوشل میڈیا، روایتی ٹی وی بچوں/طالب علموں اور بڑوں میں ذہنی انتشار یعنی attention span کے لیے موجودہ اور مستقبل قریب میں بہت بڑے چیلنجز کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔

ان معلوماتی، تفریحی اور معاشرتی میل ملاپ (socialise) کرنے کا ذرائع کا استعمال قطعی طور پر متروک کر دینا، بھی موجودہ وقت اور مستقبل قریب میں ملازمتوں، ذاتی کار و باروں، اپنے اور معاشرے میں مفید فرد کے طور پر موجود رہنے کے لیے بھی کسی طور پر بھی تجویز نہیں کیا جا سکتا۔ مطلب یہ کہ ان کا بالکل استعمال نا کرنا افرادِ معاشرہ کو نئی قسم کی job markets، employability اور معیشت میں متعلقہ (relevant) رہنے کے لیے اشد ضروری ہے۔ ان ہی پلیٹ فارمز پر یا ان سے متعلقہ پلیٹ فارمز پر حال قریب (recent time) اور مستقبل قریب میں انحصار ہے۔ یہ صورت حال کچھ کچھ gig economy کے موجودہ ذرائع، مثلاً کریم، اوبر، فوڈ پانڈا، ڈیجیٹل بینکنگ، آن لائن تعلیم، آن لاین فری لانسنگ ملازمتیں، Internet based technology برقی مصنوعات  میں کسی قدر واضح ہے۔ مختصراً یہ کہ ہم ان ذرائع سے بہت بھاری قیمت پر ہی ہم بھاگ سکتے ہیں۔ انسانی تاریخ کی بڑی تصویر میں دیکھیے تو نئے امکانات اور نئی ٹیکنالوجیز کے سامنے آنکھیں بند کرنے والے شتر مرغ نما معاشروں اور افراد کو دیگر اقوام اور معاشروں نے غلام بنا لیا۔

پر ساتھ ہی جیسا کہ اوپر عرض کیا کہ attention span اور distraction بہت بھیانک مسائل کے طور پر دندناتے آ گئے ہیں، اور آ گئے ہیں۔ 5G ٹیکنالوجی کے بس متعارف ہونے کی دیر ہے، بہت جلد دنیا کی ایک کثیر آبادی قطعی طور پر نئے وقت کی مہارتوں سے بیٹھے بیٹھے بالکل بے بہرہ ہو جانے والی ہے۔ 

صورتِ حال زیادہ المیاتی جِہتیں (tragic proportions) پکڑتی اس لیے محسوس ہوتی ہے کہ تعلیم جو انسانی وسائل human resources کی ترویج میں کلیدی حیثیت کی حامل ہوتی ہے وہاں بیٹھے ذمے داران کی اکثریت اپنے ای میل اکاؤنٹس، سوشل میڈیا آؤٹ ہینڈلز، اپنے ادارے کے اندر digital ٹیکنالوجی سے دوستانہ طور پر منسلک نہیں۔ وہ وہاں جمعہ مبارک اور پکڑن پکڑائی والی نا معلوم ذرائع کی پوسٹیں شیئر کرنےکو زیادہ بڑا کارِ ثواب اور کارنامہ سمجھتے ہیں۔ انہیں مستقبل کے چیلنجز کا بہت ہی کم ادراک ہے۔ کم ادراک کی ترکیب میں احتیاط سے زیادہ خاطرِ احباب کی فکر ہے۔

ان کی باتوں اور جملوں کے اندر جو لفظ بار بار بولا جاتا ہے وہ power ہے؛ یعنی انتہائی اول اول درجے کی حیوانی خصلت، جس میں کوئی طاقت کے ارتکاز کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھتا ہے، اور اسی سے اپنی سماجی مرتبت اور شناخت کو کلی طور پر جوڑے رکھتے ہیں۔ دوسری طرف اساتذہ بھی اپنے آپ کو پیشہ ورانہ طور پر نئی مہارتوں سے آراستہ کرنے میں کچھ خاص دل چسپی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ ان سے بات کیجیے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے بچوں کو والدین اور امتحانی نظام کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہے۔ (یہ ہر سطح پر کسی سود و زیاں کے احساس کی شدید کمی کے نشانات ہیں۔) 

کہیں تصور وقت اور اس کے تقاضوں کا فقدان ہے، قیادت کرنے کی جِبِلی سطح پر اٹکے رہنے کی خصلت ہے تو کہیں ہزار حُجتیں ڈھونڈنے کی سستی آموز نفسیات۔

اس سلسلے میں کچھ حل اس لنک پر دیکھے جا سکتے ہیں، جو کسی حل کی جانب محض اشاریے ہیں۔

About یاسرچٹھہ 155 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔