کیا صرف دفاع پر توجہ مرکوز رکھنا مشکل امر ہے؟ — اداریہ

رواں ہفتے کے بدھ کے روز پارلیمان کے ایوان بالا میں عسکری اداروں کے زیر انتظام کاروباری اداروں کی چیدہ چیدہ تفصیلات پیش کی گئیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق عساکر پاکستان کے مختلف شعبوں کی تنظیموں کے پاس لگ بھگ پچاس کاروباری ادارے ہیں۔ یہ کاروباری ادارے شہداء اور مدت ملازمت پوری کرنے والے افراد کی بہبود کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔ یہ تفصیلات ایک سوال کے نتیجے میں پیش کی گئیں۔ اس جواب کی نوعیت بھی کچھ ایسے جوابوں جیسی محسوس ہوتی ہے، جو اپنی کوکھ سے اور زیادہ سوالوں
کو جنم دیتے ہیں۔
پاکستانی قوم اپنی تعلیمی، صحت اور دیگر انسانی ترقی کی ضروریات پر سمجھوتہ کرکے عساکرِ پاکستان کو قومی بجٹ سے مقدور بھر سالانہ رقم مہیا کرتی ہے۔ اس رقم کے استعمال اور اس کے کھاتوں کے حساب کتاب کا تقاضا کرنے کی بھی کوئی حکومت ہمت نہیں باندھ پاتی۔ “ایک سطری” بجٹ کے اعتبار پر عوام کے ٹیکسوں کی رقم کو ملکی سلامتی اور دفاع کے ذمے داروں کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ پاکستانی عوام کے اس اعتبار اور دہائیوں سے جاری و ساری اس حوصلے پر حیرانی ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں اس بات کی داد دینا بھی ضروری محسوس ہوتا ہے۔ ان حالات میں کیا یہ سوال با معنی نہیں ہو جاتا ہے کہ افواج پاکستان کو ملک کو درپیش مختلف نوعیت کے سلامتی کے چیلینجز پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے؟ یا کہ ارتکاز توجہ پر غیر صحت مندانہ اثرات کے حامل  کاروباری کاموں میں مشغول ہونا چاہئے؟ کاروبار اور دفاع و سلامتی دو مختلف طرح کی ذہنی صلاحیتوں اور سوچنے کے انداز کے متقاضی ہوتے ہیں۔ کیا اس سے دفاعی و سلامتی کے تقاضوں کے لئے ضروری یکسوئی میسر ہو پاتی ہے؟
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ملکی عوام کا ایک کثیر حصہ فوج کی نیت پر شک کم ہی کرتا ہے۔ کیا اس اعتبار کا بچانا ایک قابل قدر ترجیح قرار نہیں پاسکتا؟ لیکن اس کے باوجود افواج پاکستان کے موجودہ سپہ سالار اس قومی ادارے کے وقار کو مزید بڑھانے کے لئے ہمہ دم بہتر سے بہتر کام کرتے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کے پاس ایک بہترین تعلقات عامہ کا شعبہ بھی مدد کے لئے موجود ہے۔ کیا انہوں نے اس بات پر سوچا ہے کہ اوکاڑہ فارمز جیسے اٹھنے والے مسائل اس قومی ادارے کے سماجی احترام پر گراں نہیں گزرتے؟ اس سلسلے میں انہوں نے کوئی باقاعدہ تحقیقات کروائی ہونگی؟ ہماری تو دلی خواہش ہے کہ وہ ایسی ایک تحقیقاتی رپورٹ کسی غیر جانبدار ادارے سے مرتب کروا کے اس پر کھلے دل اور محب وطن انداز سے انداز سے عمل کروائیں۔ اسی طرح ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لئے زمین کے حصول کے سماجی ردعمل کا مطالعہ اور افواج پاکستان کی امیج پر اس کے اثرات کا مطالعہ بھی وقت کی ضرورت ہے۔
آخری بات یہ کہ شہداء کے لواحقین اور ملازمت سے ریٹائرڈ افراد کی بہبود بلاشبہ ایک بہت عمدہ کام ہے۔ اس سلسلے میں البتہ ایک بات مدنظر رہنا ضروری محسوس ہوتی ہے کہ ان کا انتظام خالصتاً غیر حاضر سروس افراد کے ذریعے ہونا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ حاضر سروس افراد اگر اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں اس طرف کو موڑ دیں گے تو بنیادی فرض کہیں پس پشت ہی نا ڈل جائے۔ مزید یہ کہ فوج کے ادارے کی باقی اداروں پر بالادستی کے مروجہ ماحول میں دوسرے کاروباری اداروں کے لئے برابری کی سطح کا ماحول میسر ہونے کی فضا کو بھی یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔

1 Comment

  1. آخری بات یہ کہ شہداء کے لواحقین اور ملازمت سے ریٹائرڈ افراد کی بہبود بلاشبہ ایک بہت عمدہ کام ہے۔ اس سلسلے میں البتہ ایک بات مدنظر رہنا ضروری محسوس ہوتی ہے کہ ان کا انتظام خالصتاً غیر حاضر سروس افراد کے ذریعے ہونا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ حاضر سروس افراد اگر اپنی توانائیاں اور صلاحیتیں اس طرف کو موڑ دیں گے تو بنیادی فرض کہیں پس پشت ہی نا ڈل جائے (اداریہ ایک روزن ) ۔۔۔۔
    بہت خوب ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.