مابعد جدیدتھیوری صارفی معاشرے کی ایجاد?

قاسم یعقوب ، ایک روزن لکھاری
قاسم یعقوب ، صاحب مضمون

(قاسم یعقوب)

مابعد جدیدتھیوری مقامی کلچرز کے فروغ پر زور دیتی اور تنوعات کو قبول کرتی ہے۔ حاشیوں پر موجود اشیا کو مرکز میں لانے اور مرکزکی اشیا (تصورات، خیالات، نظریات) کو حاشیوں پر دھکیلنے پر زور دیتی ہے۔ جب کہ معیشت بنیاد فلسفے صرف معاشی سرگرمی کو سامنے رکھتے ہیں۔آزاد منڈی کا تصورہر حالت میں معاشی سرگرمی کو الیت دیتا ہے۔کسی بھی قیمت پر تجارت اور سرمایہ کاری کا فروغ چاہتا ہے۔اُس کے ہاں کوئی بھی فلسفہ یا فکر اُس وقت کارآمد ہوتی ہے جب تک وہ فلسفہ اُس کا ساتھ دیتا اور معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا رہتا ہے ایسا بھی ہو سکتا ہے، جو کہ اب واضح طور پربھی نظر آنے لگا ہے کہ اگر صارفی کلچر گلوبلائزیشن کے آگے بند باندھنا شروع کر دیتا ہے اور مقامی کلچرز کی حفاظت پر نکل پڑتا ہے تو یہ آزاد منڈی اپنی چال بدل لیتی ہے اور مقامیت کے روپ میں سامنے آ جاتی ہے۔

ایسی صورتِ حال میں مقامی کلچر ،زبانیں اور رسمات اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لباس، مذہبی رسومات،مقامی روایات وغیرہ بھی اب تجارتی سرگرمیوں کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ادبی میلے، مذہبی اجتماعات اور روایتی ثقافتیں مقامی سطح پر ہی فروغ دی جانی لگی ہیں جس میں ملٹی نیشنلز کی خاص ’’عنایات‘‘ نظر آتی ہیں۔ لہٰذا ان معاشی سرگرمیوں کی صورتِ حال کو مابعد جدید تھیوری سے جوڑنااس کی غلط تفہیم ہے۔تھیوری ایک مفروضہ (hypothesis) کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے اور اُسے اُنھی سائنسی اصولوں سے رد کیا جاتا ہے جس سے اُس کی حیثیت چیلنج ہو جائے۔
مارکس نے سرمایہ‘ کے دیباچے میں صارفیت پر مختصر بحث کی ہے۔ ہمارے ہاں سرمایہ جیسی کتابوں پر سوال اٹھانے کی زحمت کم کی گئی ہے ۔ ہر عقیدائی نظریات کی طرح مارکسیت کو بھی من و عن قبول کرنے کی روش عام ملتی ہے۔سبطِ حسن صاحب مارکس کے سرمایہ کے دیباچے کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

’’چیزیں اگر نہ کی جائیں تو ان کے استعمال کا سوال ہی نہ اُٹھے۔ یعنی پیداوار کے صَرف کا باعث ہوتی ہے مگر صَرف بھی پیداوار کا سبب بنتا ہے۔ وہ یوں کہ اگر چیزیں استعمال میں نہ آئیں تو ان کو پیدا کیوں جائے؟ صَرف دو طریقوں سے پیداوار کا سبب بنتا ہے۔ پیداوار حقیقی معنی میں پیداوار کہلانے کی اسی وقت مستحق ہوتی ہے جب وہ استعمال میں آئے۔۔۔۔۔ استعمال کا عمل معاشرے کو نئی نئی چیزیں پیدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور پیداوار کا داخلی سبب بنتا ہے۔‘‘
اب بھلا مارکس کو کیا پتا تھا کہ اگر کوئی چیز قابلِ استعمال نہیں بھی ہے تو سرمایہ دار اُسے قابلِ استعمال بھی بنا سکتا ہے۔ صارف کی ضرورت نہ بھی ہو تب بھی وہ صارف پیدا کر سکتی ہے۔پچھلی کچھ دہائیوں سے طلب اور رسد کا پرانا توازن درہم برہم ہو گیا ہے۔ سرمایہ دار صرف یہ سوچتا ہے کہ کون سی چیز پیدا کرنی ہے اُس کی صارفیت اُس کا مسئلہ نہیں رہا۔ ہر چیز اپنا صارف پیدا کر سکتی ہے اور اُسے قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے۔مگر کیسے____طاقت کی مختلف شکلوں نے طلب (demand)پر حملہ کیا ہے اور صارف کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ نہ چاہتے ہوئی بھی اُن اشیا کا صارف بنے۔ ان میں میڈیائی کشش نے بہت اہم کام کیا ہے، اس کے ساتھ نِت نئے طریقے ایجاد ہوئے ہیں کہ صارف کو کیسے پیدا کرنا ہے۔

کمرشلزم، جنسیت،فیشن، مقتدرہ اورپیش کش کی نفسیات وغیرہ نے صارفی کلچر کو نیا رجحان دیا ہے۔ گلوبلائزیشن میں ہر چیز پیدا کی جاسکتی ہے اور چیز بِک سکتی ہے۔ ہر چیز قابلِ استعمال ہے، ہر چیز ضرورت ہے۔ڈیپارٹمنٹ سٹورز میں ہر چیز صارف کی دسترس میں دے دی جاتی ہے جہاں مرضی جائے اور ہر چیز کو اٹھا اٹھا کے دیکھے اور اپنی خریدنے کی اشتہا کو بھڑکائے۔ کسی نہ کسی طرح ،کچھ نہ کچھ خرید ہی لے۔جو پراڈکٹ دوکان پر نہیں بِک رہی وہ گھر وں میں بھیجی جاتی ہے اور اُن کے بیچنے والی خوبرولڑکیوں کا لباس اور ادائیں یہ بتا رہی ہوتی ہیں کہ یہ گلوبل کلچر ہے، اسے تو آپ خرید ہی لیں۔
یہ صارف کی پیدائش کا دور ہے۔شے کی پیدائش کو دور پرانا ہو گیا۔سرمایہ دار صارف کی بنیاد پر یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ مجھے کس میں زیادہ نفع ہے، بلکہ اپنی دلچسپی، مقابلہ اور نفع کی جمع تفریق کے بعد وہ فیصلہ کرتا ہے کہ کس چیز کو پیدا کیا جائے۔

آپ ذرا دیکھئے، صبح ناشتے کی میز پر بیٹھتا ہوں تو میرے سامنے پانی کی بوتل ایک مشہور برانڈ کے استعمال کے بعد قابلِ استعمال بنائی ہوئی پڑی ملتی ہے، پھر میں دفتر کے لیے گاڑی نکالتا ہوں تو میری گلی کی نکڑ پر مجھے اُسی برانڈ کا کھمبے پر لٹکتا اشتہار ملتا ہے۔ میں چوراہے پر اشارے پر کھڑا ہوتا ہوں تو سامنے اُسی برانڈ کا اشتہار ایک بورڈ کی صورت نظر آتا ہے جس پر بنی ہوئی خوبرو لڑکیوں کی تصوریریں میرے علاقہ اور بھی کئی رکے ہوئے افراد کو اپنی طرف متوجہ کر ری ہوتی ہیں ۔ پھر دفتر میں آتا ہوں تو میرا پئین اُسی برانڈ کو میرے مہمانوں کے لیے بطور مشروب لے آتا ہے۔ میں واپس گھر آتا ہوں تو ٹی وہ پر وہی برانڈ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہوتا ہے مجھے خرید و، میں تمھاری ضرورت ہوں۔ اب ایسی صورت میں طلب اور رسد کے توازن کیسے برقرار رہ سکتے ہیں۔ سارفیت نے پوری دنیا کو ایک منڈی میں ندل دیا ہے۔ یہ گلوبلائز صورتِ حال ہے جسے مابعد جدید تھیوری بھی احاطۂ سوال میں لاتی ہے اور اس صورتِ حال میں چھپے سرمایہ داری کے عزائم کا پردہ چاک کرتی ہے۔
نوم چومسکی گلوبلائزیشن کی معاشی چال بازیوں پر ایک جگہ لکھا ہے:

Globalization is the result of powerful governments, especially that of the United States, pushing trade deals and other accords down the throats of the world’s people to make it easier for corporations and the wealthy to dominate the economies of nations around the world without having obligations to the peoples of those nations.

لہٰذا اس کے لیے وہ کسی بھی فلسفے ، فکر اور صورتِ حال کوپیدا یا تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس وقت سیاسی سطح پر دو بڑے بیانیے عمل آرا ہیں جس سے نپٹنا ہنوز باقی ہے۔ ایک سیاسی بیانیہ جس کی سرپرستی امریکہ کر رہا ہے جس کو چومسکی نے rogueریاست کا نام دیا تھا اور دوسرا بیانیہ مذہب اسلام کے اندر ریڈیکل عناصر کا بنایا ہوا بیانیہ ہے جو ایک مہابیانیہ بن چکا ہے۔ ان کے نزدیک مذہبی فکر کی ریڈیکل فارم آج بھی قابلِ قبول ہے۔یعنی ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے زمانے کے خیالات، تصورات اور فکروں کو بدلیں، تصورات، فکروں اور خیالات کو نہیں چاہیے کہ وہ ہم کو بدلے_____ان کے نزدیک اسلام کی اسی قدیم شکل کو آج بھی نافذ کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے تشدد کا راستہ بھی اپنایا جائے تو غلط نہ ہو گا۔یہ بنیاد پرستی اینٹی مذہبی فکروں کو بھی لاحق ہے اور شاید کچھ مذہبی بنیادپرستوں سے زیادہ ہی ہے۔

امریکہ معیشت کی اندھی صارفی طاقت کا ایک rogue کردار ہے اور طالبانائزیشن بنیاد پرست مذہب کی ریڈیکل فکر کے نمائندے بن کر پوری دنیا کو فتح کرنے نکلے ہیں۔ مزے والی بات یہ کہ مہابیانیہ کے یہ دو کردار آپس میں بھی برسرِ پیکار ہیں۔یعنی ایک مذہبی فکر کی بالادستی کا نمائندہ اور دوسرا کھلی (free)معاشی راہداریوں کا متلاشی____ دونوں کا راستہ مختلف مگر باہم برسرِ پیکار_____

مابعد جدیدتھیوری اس صورتِ حال میں جنگ یا پیکار کی نفی اور ثقافتوں کے مکالمے کی بات کرتی ہے۔ غلبہ پانے کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے مقامی ثقافتوں اور فکروں کے تنوعات سے متون کی مختلف شکلوں کا احیا کرنا چاہتی ہے۔ ہمیں اسی ایک راستے کی حمایت کرنی چاہے۔لہٰذا مابعد جدید تھیوری اور صورتِ حال میں فرق ملحوظِ خاطر لازمی ہے۔

About قاسم یعقوب 69 Articles
قاسم یعقوب نے اُردو ادب اور لسانیات میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے ماسٹرز کیا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ایم فل کے لیے ’’اُردو شاعری پہ جنگوں کے اثرات‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھا۔ آج کل پی ایچ ڈی کے لیے ادبی تھیوری پر مقالہ لکھ رہے ہیں۔۔ اکادمی ادبیات پاکستان اور مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد کے لیے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ قاسم یعقوب ایک ادبی مجلے ’’نقاط‘‘ کے مدیر ہیں۔ قاسم یعقوب اسلام آباد کے ایک کالج سے بطور استاد منسلک ہیں۔اس کے علاوہ وہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر بھی وابستہ ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.