جب آئس کریم  ہی محبت کا نصاب اور عنوان ٹھہری

سلمان حیدر

 


مدیر کا انتہائی اہم نوٹس:

اردو کے صف اول کے سماجی و سیاسی مزاج نگار و شاعر، ابن انشا، اپنے سفر نامے “آوارہ گرد کی ڈائری” کے دیباچے میں معروف امریکی مزاح نگار، مارک ٹوین کے ایک ناول کے حرف آغاز میں دی اس عبارت کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“اگر کوئی شخص اس کہانی میں  سے مقصد تلاش کرتا ہوا پایا گیا تو اس پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ اگر کسی شخص نے اس کتاب سے سبق لینے کی کوشش کی تو اسے ملک بدر کردیا جائے گا؛ اور اگر کسی نے اس میں پلاٹ تلاش کرنے کی جرات کی تو اسے گولی مار دی جائے گی۔”

معزز قارئین، گو کہ ہم مارک ٹوین کے ان خیالات پر اس انداز سے اعتقاد نہیں رکھتے، جس طرح کہ ہمارے یہاں کے صاحبان ایمان و عشق کا شیوہ ہے، یعنی صرف  لفظی مطلب سے مطلب، لیکن احتیاط بہر طور لازم ہے۔ مگر ہوشیار رہئے کہ سلمان حیدر کے زیریں مضمون میں سے پلاٹ نا ڈھونڈنا شروع ہو جائیے گا کہ ہمارے دوست ہر گز پراپرٹی ڈیلر نہیں ہیں۔ اور مضمون میں سے مقصد نا تلاشنا شروع کردیجئے گا۔ مضمون پڑھ کر آئس کریم کھانے البتہ جانے کی اجازت دی جاسکتی ہے، وہ بھی اگر آپ کی تنخواہ اب تک آ چکی ہو تو!

سلمان حیدر

مجهے لگتا ہے کہ سینما کے بعد نوجوان نسل کے لیے ہمارے معاشرے کی اردو سپیکنگ مڈل کلاس میں آئس کریم نے رومانس کی ایک چهوٹی سی گنجائش پیدا کی تهی. سینما ختم ہو چکا تها اور وی سی آر نے فلم کو گهر میں لا کر براہ راست بڑوں کی نگرانی میں دے دیا تها سو سینما جانے کی نگرانی سے محفوظ نوجوان نسل کی تفریحی کم رومانوی سرگرمی دم توڑ گئی تهی. لنچ یا ڈنر پر جانے کی اجازت کس کم بخت کو تهی اور ہو بهی تو گهر سے باہر کھانا کھانا ابهی اتنا مروج بهی نہیں تها اور مہنگا بهی تها.

جوائنٹ فیملی کے اس وقت میں آئس کریم ایک ایسی چیز تهی جو ایک بےروزگار زیر تعلیم نوجوان اپنی محبوبہ کو، جو ان حالات میں عموماً ایک ہم عمر یا تهوڑی سی کم عمر کزن ہوا کرتی تهی، اور اس کے آدھا درجن بہن بهائیوں کو کهلا سکتا تها. آئسکریم میں ایک راز یہ بهی تها کہ کوئی ماں یہ نہیں سکتی تهی کہ گهر میں بیٹهو میں کل بنا دوں گی. اس آئسکریم کے پیسے عموماً بچوں کو آئسکریم کهلانی ہے کہہ کر اماں سے لیے جاتے تهے اگرچہ کبهی کبھار کسی خصوصی موقع پر اپنی جیب سے بهی یہ قربانی دینی پڑتی تهی.

آئس کریم گلی محلے میں نکڑ کی دکان پر دستیاب تهی جہاں تک نوجوانوں کے بزرگوں کی سرپرستی کے بنا جانے سے ان کا اخلاق بگڑنے کے امکانات بہت زیادہ نہیں تهے کہ بہر حال وہ محلہ تها. دوسرے یہ بهی کہ بزرگ ابهی شوگر اتنی عام نا ہونے کے باوجود شاید عادت نا ہونے یا نئی چیز ہونے کی وجہ سے آئس کریم کوئی بہت زیادہ پسند نہیں کرتے تهے سو ان کے ساتھ جانے کے امکان نا ہونے کے برابر تهے. گهر کے دروازے سے دکان تک کا فاصلہ لڑکا اور ممدوحہ بچوں سے چند قدم آگے چلتے ہوئے طے کرتے تهے .

ایک اپنے سے کم لیکن بچوں میں نسبتاً بڑی عمر کے بچے کو باقی بچوں کی نگرانی کے لیے ان کے ساتھ چلنے کو کہا جاتا تها. اس بچے کے بارے بهی یہ خدشہ رہا کرتا تهاکہ اس کی نگاہیں اپنے زیر نگرانی بچوں پر اور کان آپی اور بهیا کی طرف ہیں. محلے میں موجود اس دکان کا انتخاب کیا جاتا تها جو گلی دو گلی پرے ہو. دکان پر پہنچنے میں جلدی کرنا منع تها اور اس دوران ہر وہ بات کی جاتی تهی جس سے بغیر واضح طور پر کہے محبت جتائی جا سکے.

دکان پر پہنچ کر بچوں کو جلدی جلدی آئس کریم کے کپ یا کون میں لگا کر ممدوحہ سے پوچها جاتا تها کہ وہ کیا لے گی. وہ کم بخت بے نیازی سے کچھ بهی کہا کرتی تهی اور عاشق صاحب مصر ہوا کرتے تهے کہ رنگ پھول اور خوراک کے علاوہ آئس کریم میں اس کی پسند معلوم کر کے محبت کی ایک اور منزل طے کر لیں. کچھ وقت اس اصرار بتاؤ نا اچها یہ کھاو گی میں لگایا جاتا تها. اس کے بعد اگر محبت میں ایک قدم آگے بڑھ گئے تو جو آئس کریم محبوبہ نے پسند کی خود بهی وہی لی جاتی تهی اور کتنی ہی نا پسند کیوں نا ہو مسکرا مسکرا کر کھائی جاتی تهی. لڑکی عموماً آئسکریم ہاتھ میں لے کر کھولنے اور کھانے سے انکار کر دیا کرتی تهی. جس پر یہ اصرار کیا جاتا تها کہ دونوں ساتھ کهاتے ہیں اور اسے بهی محبت کا اظہار سمجها جاتا تها.

اس دوران بچے اپنی اپنی کون ختم کر کے مزید کا مطالبہ کر دیا کرتے تهے جس کے پیسے عموماً نوجوان کے پاس نہیں ہوا کرتے تهے. اس انکار پر وہ رونا شروع کر دیتے تهے. اس پر نوجوان پہلے مدد طلب نگاہوں سے نگران بچے کی طرف دیکها کرتے تهے جو یا تو آنکھوں ہی آنکھوں میں مزید رشوت طلب کر لیتا تها یا بے اعتنائی کے ساتھ اپنی آئسکریم کھاتا رہتا تها. رونے والے بچے نوجوان کی اکلوتی قابل آئس کریم کهلائی پینٹ سے اپنے سنے ہوئے ہاتھ اس عمل کے دوران پونچه چکے ہوتے تهے. اپنی غربت کا بهانڈا پھوڑنے  اور پینٹ تباہ کرنے بچوں کے بارے جذبات کا صریح اظہار بهی ان کے محبوبہ کا بهائی ہونے کی وجہ سے نوجوان کے لیے ممکن نہیں ہوا کرتا تها.

اس وقت لڑکی مدد کم، اظہار محبت زیادہ کے لیے آگے بڑهتی تهی. اور بڑے لاڈ سے اپنے بدتمیز بهائی کو گود میں لے کر پیار کرتے ہوئے اور پینٹ پر نا لگ سکنے والی آئس کریم ہاتهوں سے ٹشو پر لگواتے ہوئے کہتی تهی ضد نا کرو مان جاؤ دیکھو بهیا ہیں تمہارے. یہاں آئس کریم کے پیسے پورے ہو جایا کرتے  تهے اور نوجوان آئس کریم کا کم اس تمہارے کا زیادہ لطف لیتا گهر کو چل پڑتا تها. پہلے سے دوگنا سست رفتاری سے ایک اور آئس کریم بلکہ ایک اور تمہارے کا موقع پیدا کرنے کے بارے سوچتا ہوا.

About سلمان حیدر 7 Articles
سلمان حیدرفاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں شعبہ نفسیات میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں؛ با معنی اور جرات اظہار سے تابندہ شاعری کرتے ہیں؛ سماجی اورتنقیدی شعور سے بہرہ ور روشن خیال اور ترقی پسند آدرشوں کے حامل انسان ہیں۔ اس سے پہلے ڈان اردو کے لئے بلاگز لکھتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تنقید ڈاٹ آرگ کے اردو سیکشن کے مدیر ہیں- "تھیئٹر والے' کے نام سے ایک سنجیدہ تھیئٹر گروپ کا اہم حصہ ہیں۔ اعلی درجے کی سماجی و سیاسی طنز ان کی تخصیص ہے۔