سلطان سکندر راجہ چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان 

sultan sikandar raja aikrozan
سلطان سکندر راجہ، چیف الیکشن کمشنر پاکستان

سلطان سکندر راجہ چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان 

از، یاسر چٹھہ 

سکندر سلطان راجہ ایک ریٹائرڈ پاکستانی سرکاری افسر ہیں جو جنوری 2020 سے پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا تعلق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (Pakistan Administrative Service) سے ہے اور وہ حسین اصغر اور فواد حسن فواد جیسے نام ور سی ایس پی آفیسرز کے بَیچ میٹ ہیں۔

سلطان سکندر راجہ BPS-22 گریڈ میں سے سول سروس سے ریٹائر ہوئے۔ انھیں اعلیٰ بیوروکریٹک عہدوں پر کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے جیسے کہ سیکرٹری ریلوے، سیکرٹری پٹرولیم، سیکرٹری سیفرون، وفاقی سیکرٹری ایوی ایشن اور آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان دونوں کے چیف سیکرٹری بھی رہے۔ سلطان سکندر راجہ، سعید مہدی کے داماد ہیں، جو وزیر اعظم پاکستان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اور چیف سیکرٹری سندھ رہے ہیں۔ سکندر کو اس وقت کی حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے جنوری 2020 میں متفقہ طور پر چیف الیکشن کمشنر مقرر کیا تھا۔

 بھیرہ، سرگودھا کا سپوت 

سلطان سکندر راجہ ضلع سرگودھا کے قصبے بھیرہ کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ سے حاصل کی اور بعد میں کیڈٹ کالج حسن ابدال سے ایف ایس سی کی اور پھر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونی ورسٹی میں ایم بی بی ایس کیا۔ بعد ازان پنجاب یونی ورسٹی سے ایل ایل بی بھی کیا۔ اس کے بعد انھیں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) میں شامل کیا گیا اور سنہ 1989 میں اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد کی حیثیت سے اپنے کریئر کا آغاز کیا۔

 سلطان سکندر راجہ نے پنجاب میں مختصر طور پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب (ACS) کے طور پر خدمات انجام دینے سے پہلے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور پنجاب کے صوبائی سیکرٹری مواصلات اور کام (C&W)، سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن (S&GAD) اور لوکل گورنمنٹ سمیت اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ وہ گلگت بلتستان کے صوبوں کے ساتھ ساتھ آزاد جموں کشمیر کے چیف سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔ سلطان سکندر راجہ وزیر اعظم نواز شریف کے زیرِ انتظام ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ رہے۔

 سلطان سکندر راجہ کو 2017 میں وفاقی سیکرٹری کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ انھوں نے اپریل 2017 سے اگست 2018 تک سیکرٹری پٹرولیم کے اہم عہدے پر خدمات انجام دیں۔ نومبر 2018 میں، وزیر اعظم عمران خان نے سلطان سکندر راجہ کو پاکستان کا ریلوے سیکرٹری اور چیئرمین پاکستان ریلوے مقرر کیا۔ 7] انہوں نے دسمبر 2019 تک سیکرٹری ریلوے اور چیئرمین پاکستان ریلویز کے طور پر خدمات انجام دیں۔ جنوری 2020 میں، عمران خان نے انہیں پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر کے سب سے اہم عہدے پر تعینات کیا۔

سلطان سکندر راجہ کے والد پاکستان آرمی میں میجر کے عہدے رہے۔ سلطان سکندر راجہ کے چار بھائی اور چار بہنیں ہیں۔

ظفر سلطان راجہ نام سے بڑے بھائی پاک فوج سے ریٹائرڈ کرنل ہیں۔ دوسرے بڑے بھائی مظہر سلطان راجہ کا پسِ منظر زرعی ہے۔ تیسرے بڑے بھائی اظہر سلطان راجہ ہیں؛ وہ سول انجنئیر ہیں جو بہ طور چیف انجنئیر (C&W) ڈیپارٹمنٹ (پنجاب) سے ریٹائر ہوئے۔ سب سے چھوٹے بھائی فخر سلطان راجہ سی ایس پی آفیسر ہیں جن کا تعلق پاکستان پولیس سروس (PSP) سے ہے اور اس وقت ڈی آئی جی پاکستان موٹرویز کے عہدے پر تعینات ہیں۔

 سلطان سکندر راجہ کے سب سے بڑے بہنوئی نثار احمد ملک مکینیکل انجنئر تھے اور محکمۂِ آب پاشی اور بجلی (پنجاب) سے سپرنٹنڈنگ انجنئر کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ ان کے دوسرے بہنوئی نصر اللہ رانجھا ایڈیشنل سیشن جج تھے۔ سلطان سکندر راجہ کے تیسرے بہنوئی ظفر جاوید ملک ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کے طور پر ریٹائر ہوئے اور ان کے چوتھے بہنوئی امتیاز احمد دیو ان لینڈ ریونیو سروسز (IRS) سے CSP آفیسر تھے اور IRS سے کمشنر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔

 ان کا تعلق امیر علی احمد چیف کمشنر اسلام آباد، زوہیب رانجھا سابق ایس پی انویسٹی گیشن (لاہور)، محمد علی سابق ڈی سی فیصل آباد، ایس ایس پی سرفراز ورک سابق ڈی پی او جھنگ اور ایس پی بلال ظفر سابق ڈی پی او چنیوٹ سے بھی ہے۔ سلطان سکندر راجہ، سعید مہدی کے داماد ہیں، سابق اعلیٰ بیوروکریٹ جنھوں نے وزیر اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔ سلطان سکندر راجہ کی اہلیہ، رباب سکندر، کسٹمز کی ایک حاضر سروس آفیسر ہیں۔ سلطان سکندر راجہ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

About یاسرچٹھہ 230 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔