اقتدار اعلٰی اللہ کے ہاتھ میں ہے

اقتدار اعلٰی اللہ کے ہاتھ میں ہے

از، راشد سلیم

یوں تو اوریا مقبول جان کافی عرصے سے اخلاقی برتری کا شکار ہیں اور اپنے سوا شاید ہی کسی کو سچا ، با حیا اور نیک طینت مسلمان سمجھتے ہوں مگر حالیہ چند دنوں میں اُنہوں نے صحافیوں اور اساتذہ کو ملحد قرار دے کر مقبولیت کی نیٔی حدوں کو چھو لیا ہے اور سیدھے سادھے مسلمانوں سے داد تحسین وصول کر رہے ہیں۔ پیش تر اس کے کہ میرے اس جملے کی بنیاد پر آپ مجھے بھی لبرل سیکولر یا ملحدین لوگوں کی فہرست میں ڈال دیں  میں یہ وضاحت کر دوں کہ الحمد لللہ میں راسخ العقیدہ مسلمان ہوں اور اوریا مقبول جان کے طرِ ز عمل پر اپنی رائے دینے کو مذھبی فریضہ سمجھتا ہوں۔ میری نظر میں کسی کلمہ گو مسلمان کو ملحد قرار دینا فتنے سے خالی نھیں- اوریا مقبول جان بغیر تحقیق کے لوگوں کو ملحد قرار دے کر ان کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ مت بھولیں کہ اس سے پہلے اوریا جیسے جذباتی نیم حکیموں نے سرسید، اقبال، امام احمد رضا، مولانا عبید اللہ  سندھی ، مولانا مودودی، ڈاکٹر حمید اللہ جیسے کیء مفکرین اور علماء کو بھی ملحد قرار دیا تھا- تمام عمر اسلام کی خدمت کرنے والے بھی ان لوگوں کے الزامات سے نہیں بچ سکے جو سیاق و سباق اور پس منظر کو خاطر میں لائے بغیر محض سطحی یا ظاہری مفہوم کو بنیاد بنا لیتے ہیں اورانھیں کافر قرار دے دیتے ھیں-

ایک ایسے معاشرے میں جہاں فرقہ واریت عام ہو اور تحقیق کی روش مفقود ہو اور شدت پسندی عروج پر ہو اوریا جیسے صحافیوں کو احتیاط اور ذمے داری سے کام لینا چاہیے تاکہ کسی کا خونِ ناحق نہ ہو۔  کلمہ گو مسلمان کے ایمان پر بلا تحقیق یقینی اور حتمی رائدیناے   اسلام کے خلاف ہے اور فساد کا باعث بن سکتا ہے۔ قرآنِ حکیم میں آتا ہے۔

“اے ایمان والو اگر تمھارے پاس کویٔ فاسق خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو انجانے میں نقصان پہنچاؤ تو تمھیں اپنے کیٔے پر پچھتانا پڑے-” (الحجرات آیت ٦)

“اے ایمان والو جب تم اللہ کی راہ میں نکلو تو (دوست و دشمن) کی تحقیق کر لیا کرو اور جو شخص (اظہارِ اسلام کے لیے ) تمھیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں- ( النساء آیت ٩٤)

اسی طرح حدیث میں ہے کہ

“اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبیلہ حرقہ سے جنگ کرنے کے لیے بھیجا- هم نے صبح صبح اُن پر جا کر چھاپا مارا اور اُنھیں شکست دے دی۔ میں نے اور ایک انصاری شخص نے اُن کے ایک آدمی کا پیچھا کیا۔ جب اُس کو گھیر لیا تو اُس نے کہا لا الہ الا اللہ۔ (یہ سن کر) وُہ انصاری تو رک گیا مگر میں نے اُس کو نیزہ مار ہی دیا۔جب ہم واپس ہوئے تو یہ خبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی پہنچ گیٔ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اسامہ کیا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد بھی تو نے اُسے قتل کر ڈالا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اُس نے تو یہ کلمہ ہتھیار کے ڈر سے صرف زبانی پڑھ لیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ناگواری سے ) فرمایا تُو نے اُس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا تاکہ پتہ چل جاتا کہ اُس نے دل سے پڑھا تھا کہ نہیں۔” ایک اور طریق میں ہے کہ “آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب یہ کلمہ قیامت میں (تمھارے سامنے) آئے گا تو تم اس کا کیا جواب دو گے؟” (متفق علیہ)

نبیٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم تو انتہائی واضح نشانیوں والے منافق عبداللہ بن ابی بن سلول تک کا جنازہ اس لیے پڑھانے کے لیے تیار ہو گئے تھے کہ وہ بظاہر کلمہ گو تھا اور اُس کے بیٹے کا اصرار تھا۔۔ اللہ تعالی کی طرف سے واضع وحی آنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجتناب فرمایا۔

مزید ملاحظہ کیجیے: کون لوگ ہم پہ مسلط ہیں اس زمانے میں، از، آفاق سید

مختصراً یہ کہ کسی کلمہ گو مسلمان کو ملحد قرار دینے سے پہلے خوفِ خدا دامن گیر ہونا چاہیےاور اُس دن سے ڈرنا چاہیے جب عدالت ہماری نہیں بلکہ اُس کی لگی ہو گی جس کے پاس حاکمیتِ اعلی ہے۔

پروگرام کی ریٹنگ بڑھانے کے لیے کسی شخص کایک طرفہ میڈیا ٹرایٔیل کرنا۔  اور ملکی قوانین کو استعمال کرنے سے پہلے کسی کو مجرم قرار دے کر اُس کی سوشل میڈیا پر تشہیر کرنا۔ اُسے واجب القتل قرار دلاوانے کے بعد اپنے پروگرام میں آ کر معافی کے لیے بلوانا کیا انصاف کے زمرے میں آتا ہے؟ کیا ایسا شخص جس کو جان کا خطرہ ہو ٹی وی پر آنا یا لائیو کال لینے کا رسک لے سکتا ہے؟

اگر اوریا صاحب کو اصلاح عزیز ہوتی تو وہ متعلقہ پروفیسر صاحب سے اُن کا وضاحتی بیان اپنے آفیشل فیس بُک پیج پر ویڈیو لگانے سے پہلے لیتے۔ اور اگر پروفیسر صاحب کی وضاحت کے بعد بھی مطمٔن نہ ہوتے تو محکمانہ کارواٰٰٰئی اور تھانے میں شکایت کرتےاور روزانہ اس پر پروگرام کرنے کے بجائے محکمانہ کاروائی یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ردعمل کا انتظار کرتے۔ کیا اوریا صاحب کو اعتماد نہیں ہے کہ اُن کے علاوہ بھی کوئی سچا مسلمان ان اداروں میں موجود ہو سکتا ہے جو انصاف سے کام لے؟

اُنھیں ایک اعلانِ عام کے ذریعے طلبأ سے گزارش کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ وہ اپنے اساتذہ کوپرکھیں اور اُن پر فیصلہ صادر کریں کہ کہیں وہ اُنہیں الحاد کی تعلیم تو نہیں دے رہے۔

اوریا صاحب کا یہ اعلان کالج اور جامعات کے طلبأ و طالبات کے لیے ہے جن میں اٹھارہ سال سے کم عمر وہ طالبانِ علم بھی شامل ہیں جن کا ابھی شناختی کارڈ نہیں بنا، جو ووٹ دینے یا ڈرایٔیونگ لائسنس بنوانے کے ابھی اہل نہیں ہیں، جن کی قانونی گواہی ابھی قابلِ قبول نہیں ہے۔ ان میں وہ نوجوان بھی شامل ہیں جن کی نظریاتی اور مذہبی تربیت ملک بھر میں پھیلے ہوئے تنگ نظر فرقہ پسندوں یا اُن کے نمایٔندہ خطیبوں نے کی ہے۔ ان میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو کم نمبروں کی وجہ سے، نظم و ضبط کی وجہ سے، یا اُستاد کی ڈانٹ ڈپٹ سے نالاں ہیں۔

بہر حال اگر ایک طالب علم نے اپنے تیٔں  فیصلہ کر ہی لیا کہ اُس کا اُستاد اُسے الحاد کی تعلیم دے رہا ہے تو اب اُسے کیا کرنا چاہیے؟ اُستاد سے ادب کے دایٔرے میں رہ کر اختلاف کرنا چاہیے؟ دیگر ہم جماعتوں سے مل کر متعلقہ اُستاد کے خلاف سربراہ ٔ شعبہ یا سربراۂ ادارہ سے شکایت کرنا چاہیے؟  یا اوریا صاحب کے تجویز کردہ طریقے سے موبایٔل کا کیمرہ آن کر کے اُستاد کی (خفیہ) وڈیو بنانا چاہیے؟ اب یہ موصوف کو کون بتائے کہ اکثر کالجوں میں موبائل فون لانا منع ہے۔ جہاں لانے کی اجازت ہے وہاں دورانِ کلاس استعمال منع ہے۔ اور کسی کی اجازت کے بغیر تصویر لینا یا ویڈیو بنانا تو بالکل غیر اخلاقی اور نا قابلِ قبول ہے۔

چلیے جیسے تیسے ہی سہی ایک طالب علم نے ثبوت حاصل کر لیا۔ اب اوریا صاحب کا مشورہ یہ ہے کہ یہ ثبوت ادارے کے کسی ذمہ دار منتظم کے حوالے کرنے کے بجائے سوشل میڈیا پر مشتہر کیا جائے اور اُن کو بھی اس کی کاپی فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنی دکان چلا سکیں اور بعد میں اگر حکومتِ پاکستان کے مروجہ قوانین کسی وجہ سے ملزم کو بے گناہ بھی قرار دے دیں تو سوشل میڈیا پر موجود لاکھوں افراد اُس کی جان کے درپے رہیں اور  اُسے “واصل جہنم” کر کے خود “شہادت” کا رتبہ پایٔیں!

یہاں یہ پہلو بھی مد نظر رہنا چاہیے کہ کالج اور جامعات میں معاصرانہ چشمک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک دوسرے سے عناد یا ذاتی چپقلش تصویر کو تبدیل کرنا انتہائی آسان ہےجو ایک بچہ بھی بخوبی کر سکتا ہے۔رکھنے والے استاد یا دیگر اشخاص طلبہ کو اپنے مقاصد کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ آج کل فوٹو شاپ اور دوسری ٹیکنالوجی کے ذریعے آواز یا

اگرالفاظ مکمل طور پر اصلی بھی ہوں تو بھی سیاق و سباق اور مجموعی تناظر سے ہٹا کر الفاظ کو یکسر متضاد مفاہیم پہنائے جا سکتے ہیں۔ اوریا مقبول جان صاحب  اس بات سے تو آگاہ ہوں گے ہی کہ کس طرح مولانا مودودی کے کیٔ جملوں کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اُن کے مخالفین نے اُنھیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ قوانین بنائے ہی اسی لیے جاتے ہیں کہ وہ معاملے کے تمام ممکنہ پہلووں کو مد نظر رکھ کر انصاف کی فراہمی میں سہولت بنیں۔ قوانین کو پسِ پُشت ڈالتے ہوئے طلبأ کو یا اپنے آپ کو عدالتیں لگانے کا اختیار دینا محض انتشار کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اگر اکسانے پر اور تشہیر کرنے پر کویٔ سادہ لوح مسلمان جذبۂ ایمانی سے سرشار ہو کر ملزم کو قتل کر دے تو کیا اوریا مقبول جان محض یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جایٔیں گے کہ اُنہوں نے تو کیمرے سے شُوٹ کرنے کا کہا تھا گن سے نہیں۔

بات یہ ہے کہ اوریا مقبول جان اشتعال دلا سکتے ہیں ، نفرت پھیلا سکتے ہیں مگر اس کے بعد کے نتایٔج کو روکنا اُن کے یا کسی اور کے بس میں نہیں۔ جہاں امجد صابری جیسے عاشقِ رسول کو غلط فہمی کی بنیاد پر قتل کر دیا جاتا ہو، جہاں جنید جمشید جیسے نیک نیت مسلمان کو گالیوں، تشدد اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہو وہاں حد درجہ احتیاط لازم ہے۔ کیوں کہ آپ کو علم ہونا چاہیے کہ اب جنید جمشید کی سرِ عام وضاحت اور معافی اُس کی زندگی کی ضمانت دے سکتی ہے نہ مولانا طارق جمیل جیسے عالم کی استدعا۔ اس لیے میرا اوریا مقبول جان کو یہی مشورہ ہو گا کہ کسی ناحق خون کا آلۂ کار بننے سے بہتر ہے کہ وہ کسی کو کافر یا واجب القتل قرار دلوانے سے پہلے ٹھنڈے دل و دماغ سے معاملے کو ہر طرح سے جانچ پرکھ لیں اور میڈیا ٹرایٔل کرنے کے بجائے ملکی نظام اور قوانین پر بھروسہ کریں ورنہ ہو سکتا ہے کل قیامت کے دن کسی بے گناہ کا ہاتھ آپ کے گریبان پر ہو۔ اللہ مجھے اور آپ کو دین کی صحیح فھم عطا کرے اور اس پر عمل کی توفیق دے۔ آمین! وما علینا الا البلاغ!

6 Comments

  1. very nice sir …… Allah Orya maqbool ko hidayat dy aur un ki dimaaghi halat ki darustagi ki dua sab muslamn farmaain…

  2. کیا اوریا مقبول جان کی رائے اورتجزیے کو اتنی اہمیت حاصل ہے کہ ہرلکھاری ان کے تجزیے کو موضوعِ بحث بنائے۔

    • اُن کے تجزیٔے کی بنیاد پر لوگوں کو جان کی دھمکیاں نہ ملتی ہوں تو آپ کی بات سے کامل اتفاق ہے مگر افسوس ایسا نہیں ہوتا-

      • لیکن استاد محترم نے جو زبان استعمال کی اس کی مزمت کسی بھی خود ساختہ روشن خیال ، اعتدال پسندس اور غیر جانب دار لکھاری نے نہیں کی۔ استاد محترم کے زباں و بیان کی کم از کم مزمت کی توفیق تو ہو ی چاہیے۔نا کہ مزمت کی ساری ذمہ د اری اوریا مقبول جان سونپ دی جاے جسکا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

        جب کہ ٹیکنالوجی کے استعما ل کو جواز بنا کروکالت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

  3. آپ وہی راسخ العقیدہ مسلمان ہیں ناں جن کے خیال میں شام میں ساری لڑائی داعش کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔ جی ہاں وہی لڑائی جس میں آدھی سے زیادی شامی مسلمان آبادی قتل کی چکی ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.