تعزیری نظام کے خلاف مزاحمت کا استعارہ، اللہ میاں کا کارخانہ

Allah Mian Ka Karkhana Urdu Novel
اللہ میاں کا کارخانہ کی تصویر کریڈٹس بہ حق محسن خان

تعزیری نظام کے خلاف مزاحمت کا استعارہ، اللہ میاں کا کارخانہ

تبصرۂِ کتاب از، شافع قدوائی

 انسانی معاشرہ کو تضادات، نوعی تناقفات اور مذہبی، ثقافتی، جذباتی، نسلی اور لسانی برتری اور جذباتی تحفظات و تعصبات اور سماجی محرکات کی غیر عقلی تاویلوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مساوات اور عدل کو اساسی تصور کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ معاشرہ میں انصاف کی اطلاقی جہت کو بَہ رُوئے عمل لانے کے لیے سزا اور جزا کا ایک مربوط نظام وضع کیا گیا۔ جرم اور سزا میں بَہ ہر صورت تناسب کا التزام رکھنے کی سعی کی جاتی ہے۔ یہ تعزیری نظام مذہب، مسلکی قوانین، معاشرتی رسومیات، سماجی تحدیدات، ضابطۂِ اخلاق، مروجہ سیاسی نظام اور حکومت کے طرزِ عمل سے مکمل ہم آہنگی یا مطابقت کے حوالے سے مرتب اور متشکل ہوتا ہے۔

جرم کی سنگینی، سزا کے تعین اور اس پر عمل در آمد کی مختلف صورتوں کو رُو بَہ عمل لایا جاتا ہے۔ عوام کی اکثریت کے نزدیک یہ نظام ایک نوع کی الُوہی جہت رکھتا ہے کہ اس کے توسط سے ممکنہ تمام خرابیوں کا سد باب کیا جا سکتا ہے۔ عوام پر محکومی کا شکنجہ کسنے اور صاحب اقتدار طبقہ کے مفادات کی پاس داری کے نئے نئے امکانات کی آبیاری کرنے والا فہمِ عامہ سے ماخوذ اس بیانیے کو سماجی سطح پر قبول عام حاصل ہوتا ہے۔

تعزیری ضوابط جنھیں اعلیٰ انسانی اقدار اور اخلاقی تقاضوں کے عین مطابق گردانا جاتا ہے، مگر فی نفسہٖ ان کی نوعیت سماجی تشکیل (social construct) کی ہوتی ہے جسے مقتدرہ فطری اور زندگی کرنے کے بنیادی رمز کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اخلاقی، مذہبی اور معاشرتی اصولوں سے شعوری یا لا شعوری رُو گردانی انسان کو احساسِ جرم کے زائیدہ ایک گہرے المیاتی احساس سے دوچار رکھتی ہے کہ اس کا تعلق تخلیقِ کائنات کے الُوہی تصور یعنی اولین گناہ (original sin) سے بھی ہے۔

غلطی یا جرم کے احساس کی جڑیں مذہبی اقدار یا تصورِ کائنات سے کہیں زیادہ ثقافت میں پیوست ہوتی ہیں۔ کائنات کے مختلف مظاہر یہ باور کراتے ہیں کہ جرم اور سزا کا رشتہ خود ساختہ، معاندانہ اور انصاف کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہوتا ہے۔ تغیر آسا کائنات میں جبر و تعدی کا بازار گرم رکھنے والا تو واضح طور پر نظر نہیں آتا، مگر نا کردہ جرم یا غلطی پر سزا بھگتنے والے اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی تعداد لا محدود ہوتی ہے۔

معاشرہ کو ممکنہ تمام خرابیوں سے پاک کرنے کا دعویٰ کرنے والا نظام انصاف اپنی اصل میں عوام دشمن، ناقص، نا قابل اعتبار، معروضیت اور عقلی جواز سے بڑی حد تک عاری ہے۔

مذہبی، سیاسی اور اخلاقی نظام کو ہدفِ ملامت بنایا جاتا ہے اور مختلف ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات اس امر پر دال ہیں مگر تعزیری نظام کو انسانی حرمت اور وقار کو پامال کرنے کے مؤثر ترین حربے کو اپنے تخلیقی ارتکاز کا مِحوَر بنانے کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔

دستوفسکی کے شہرۂِ آفاق ناول کا عنوان ہر چند کہ جرم و سزا ہے مگر یہ اصلاً راسکولنکاف کے وجودی سروکاروں کا ایک مرتعش بیانیہ ہے جس میں قتل اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کو ناول کی بافت میں اساسی اہمیت دی گئی ہے۔

راسکولنکاف اپنی غلطی پر گہرے قسم کے احساسِ پشیمانی میں مبتلا ہوتا ہے۔ فرانز کافکا (1883-1924) نے عالمی جنگِ اول کی ہول ناکی اور فاشزم کے استبداد اور جبر کو اپنی تخلیقی تفتیش کا مِحوَر بنایا اور سزا کے اخلاقی، سیاسی، معاشرتی اور ما بعد الطبیعیاتی تصور کے وسیع تر مضمرات کو فن کارانہ شعور کے ساتھ پیش کیا۔

کافکا کی تحریروں، علی الخصوص قانون کے رُوبَہ رُو (Before the Law, 1915) اور مقدمہ ( The Trial, 1925)، پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ جرم کی پاداش میں سزا سنائی گئی مگر غلطی اور سزا میں تناسب کا لحاظ نہیں رکھا گیا ہے اور جرم اور سزا میں تناسب کی نوعیت معکوسی (inverse proportion) ہے۔

معاشرہ میں جب رواداری، اخوت، باہمی اشتراک اور ثقافتی اور لسانی ارتباط کا تصور شکست ہونے لگتا ہے تو تعزیری نظام کی سختی دو چند ہو جاتی ہے۔ معمولی سے جرم پر سخت سے سخت سزا کا قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے اور سزا قانون کے دائرہ سے ما ورا ہو کر ذرائع ابلاغ اور پھر عوام کی بَہ راہِ راست دست رس میں آ جاتی ہے۔ میڈیا ٹرائل اور ہجومی تشدد (mob violence) روز مرہ کی عام سرگرمی بن جاتی ہے اور محض افواہ پر کسی شخص کی ہجوم کے ہاتھوں سڑک پر ہلاکت (mob lynching) روز مرہ کی عام سرگرمی بن جاتی ہے۔

تعزیری نظام محض ملکی قوانین یا معاشرتی رسومیات یا مذہبی تعلیمات اور اخلاقی اقدار سے صورت پذیر نہیں ہوتا بَل کہ اس کی تشدد آمیز اطلاقی جہت کا اندازہ والدین اور اولاد، استاد اور شاگرد اور دیگر قریبی افراد کے باہمی تعامل (interaction) سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ ہمارا موجودہ معاشرہ بڑی تیزی سے dystopian سوسائٹی کے طور پر منقلب ہو رہا ہے جہاں ہر شے برائی کی ممکنہ حدوں سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہاں کسی کو شخصی آزادی حاصل نہیں ہے اور ہر شخص کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ نئی اطلاعاتی ٹیکنالوجی حکومت کے جبر کو پوری سختی سے لاگو کرنے کا وسیلہ بن جاتی ہے۔ اس صورت حال کا خیال انگیز بیانیہ مشرف عالم ذوقی نے اپنے ناول مرگِ انبوہ میں رقم کیا ہے۔

تعزیری نظام ملکی قوانین اور مذہبی و اخلاقی اقدار سے ماخوذ ضوابط کا محض مجموعہ نہیں ہے بل کہ یہ معاشرے میں بچے سے لے کر پختہ عمر تک کے انسان کے زندگی کرنے کے ڈھنگ کا مرکزی حوالہ بھی ہے۔

جرم اور سزا کے ما بین کسی قسم کے تناسب یا تطابق کی تلاش اس عہد میں بے معنی ہو گئی ہے۔ حکومت کے خلاف معمولی سے احتجاج پر ملک سے غداری کا مقدمے درج کیے جاتے ہیں اور مذہبی سرگرمیوں میں شمولیت کو ملک دشمنی پر محمول کرنے کی روش عام ہو گئی ہے۔ ملک تیزی سے فاشزم کی راہ پر گام زن ہو گیا ہے اوریہ صورت حال صرف ہندوستان کی نہیں بل کہ پوری دنیا میں دائیں بازو کے انتہا پسندوں کو بالا دستی حاصل ہو گئی ہے۔

امریکہ میں ٹرمپ کی کام یابی سے فاشزم کی آہٹ صاف سنائی دے رہی ہے، دنیا بھر میں عدالتیں اور نظامِ انصاف حکومتِ وقت کے سامنے سر نِگوں نظر آ رہی ہیں۔ امریکی ناول نگار فلپ راتھ کا ناول امریکہ کے خلاف پلاٹ (The Plot Against America, Haighton Miffin, 2004) انسانوں میں اضطراب اور تشویش کی افزونی اور قوتِ برداشت کی واضح کمی کی داستان رقم کرتا ہے۔

اس معاشرتی صورتِ حال کی ہول ناکی فلپ راتھ نے نیو جرسی کے ایک کنبے کے حوالے سے بیان کی ہے جس کا ہیرو ایک نو جوان ہے۔ اس کردار کی گھریلو زندگی اور داخلی کائنات کے سروکاروں، تضادات اور حسِیّاتی تجربات سے ایک پہلو دار بیانیہ مرتب کیا گیا ہے۔

اردو میں کسی ایک مسئلے کے ممکنہ امکانات کو تمام تر تضادات اور تناقفات کے ساتھ پیش کرنے اور مروجہ اقدار پر سوالیہ نشان قائم کرنے کی مثالیں شاذ ہی ملتی ہیں۔ مسئلے کو فلسفہ طرازی اور دانش ورانہ posturing کے بَہ غیر اور جذبہ انگیز یا شاعرانہ نثر کے بَہ جائے functional prose میں پیش کرنے کے ہنر کا عرفان اردو فکشن میں عام نہیں ہے۔

مقام مسرت ہے کہ زہرہ جیسے معرکۃُ الآراء افسانہ کے خالق محسن خاں (زہرہ، سوغات، اشاعت سوم، بنگلور میں شائع ہوا تھا اور محمود ایاز جیسے سخت گیر مدیر نے اداریے میں اس افسانہ کی بڑی تعریف کی تھی) کی تخلیقی ریاضت کا ثمرہ ناول اللہ میاں کا کارخانہ کی صورت میں منصۂِ شہود پر آیا ہے۔

کائنات کا بنیادی رمز مکافاتِ عمل کو تعزیری نظام سے مربوط کر کے دیکھنے کی خیال انگیز کوشش کی گئی ہے اور تخلیقی سطح پر اس بات کا اثبات کیا گیا ہے کہ مذہب، اخلاقی اقدار، معاشرتی رسومیات، روایات اور تصور کائنات سے نمُو پذیر ہونے والا جرم اور سزا کا نظام اپنی اصل میں غیر منصفانہ، یک سانیت (status quo) کو بدلنے کی ازلی خواہش اور مقتدرہ (خواہ اس کا تعلق خاندان کے بزرگوں سے ہو یا مذہبی عالموں سے، خواہ یہ معاشرتی روایات سے متعلق ہو یا اخلاقی اقدار سے اور خواہ اس کا بَہ راہِ راست رشتہ مروجہ سیاسی نظام اور حکومت وقت سے ہو) کو چیلنج کرنے کی انسانی خواہش پر قدغن لگانے کا سب سے طاقت ور وسیلہ ہوتا ہے۔

محسن نے مرکزی کردار، ایک کم سِن لڑکے جبران کی عام زندگی کے واقعات اور ملکی سطح پر رُو نما ہونے والے وقوعات کے نتائج کو عواقب کا ایک مرتعش حِسّی بیانیہ خلق کیا ہے جو سزا اور جزا کے نظام کی ہر جنبش سے ایک نئی صورت پکڑتا ہے۔

محسن خاں نے نچلے متوسط طبقے کے ایک بچے کے حوالے سے ایک ایسے معاشرے کی عکاسی کی ہے جو بنیادی انسانی وصف انصاف سے عاری ہو گیا ہے؛ جہاں بچے کی معصوم شرارتوں، بلوغت کی دہلیز پر پہنچنے والے کی معمولی سی غیر اخلاقی حرکت اورایک ادھیڑ عمر کے آدمی کو بے ضرر قسم کی مذہبی سرگرمیوں میں شرکت پر سخت ترین سزا دی جاتی ہے اور ان کی زندگی کا شیرازہ بکھر جاتا ہے۔

سزا دینے والوں میں ماں، باپ، سگی چچی، رشتے کے چچا، محلے کے دکان دار، قرآن پڑھانے والے حافظ جی اور حکومت کے کارندے سب شامل ہیں۔

محسن خاں نے جس دل دوز معاشرتی صورت حال کی عکاسی کی ہے اسے پڑھ کر شیکسپیئر کا ایک جملہ ذہن میں تازہ ہو جاتا ہے۔ جب اس نے معاشرتی جبر اور استبداد کو خاطر نشان کرنے کے لیے لندن کو سزا اور عقوبت کا گہوارہ قرار دیا تھا:

London was a non-stop theatre of punishment

شیکسپیئر کے اس جملے کی بازگشت ہنوز سنائی دیتی ہے اور محسن خاں کا ناول اس اجمال کی تفصیل پر گواہ ہے کہ ناول نگار ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہا ہے جہاں سڑکوں پر ہجومی تشدد کا بازار گرم ہے۔ گائے کا گوشت رکھنے کے مبینہ الزام  یا جے شری رام کہنے سے انکار پر بر سرِ عام پیٹ پیٹ کر بے گناہوں کو مار دیا جاتا ہے اور حکومت ان افراد کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ تعزیری نظام نافذ کرنے والی عدالتیں جرم ا ور سزا میں اس گہری عدم مطابقت پر یک سر خاموش ہیں۔

ناول کے مرکزی کردار ایک نو خیز جبران اور اس کی بہن نصرت ہے۔ جبران بچپن سے ہی نماز ادا کرنے کے لیے مسجد جاتا ہے جہاں بچے شرارتیں بھی کرتے ہیں اور بسا اوقات ان سے نا زیبا حرکات بھی سر زد ہو جاتی ہیں۔ نماز کے دوران پیچھے سے کوئی جبران کے کولھے میں انگلی کر دیتا ہے۔ یہ عمل دہرایا جاتا ہے۔ جبران کے صبر کا پیمانہ لب ریز ہو جاتا ہے۔ اس کے آگے کا بیان جبران کی زبانی:

’’جب پہلی بار انگلی ہوئی تو میں نے اس لیے مڑ کر نہیں دیکھا کہ نماز پڑھتے وقت ادھر ادھر دیکھنے یا کھجانے سے نیت ٹوٹ جاتی ہے اور اللہ میاں نا راض ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب دوسری بار زیادہ زور سے انگلی کی گئی تو میں نے بَہ غیر ارادہ مڑ کر دیکھا۔ میرے پیچھے عابد چچا نیت باندھے کھڑے تھے۔

“مجھے خوب زور کا غصہ آ گیا۔ نیت باندھے باندھے جا کر عابد چچا کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور جیسے ہی عابد چچا رکوع میں گئے میں نے اتنی ہی زور سے ان کے چوتڑوں میں انگلی کر دی جتنی زور سے میرے کی گئی تھی۔ میں نے سوچا کے عابد چچا کے پلٹ کر پیچھے دیکھنے سے پہلے میں جلد ہی دوسری صف میں چلا جاؤں گا مگر عابد چچا نے خرگوش کی طرح پھرتی سے اچھل کر پیچھے دیکھا اور ایک زور کا کنٹاپ میری کنپٹی پر مار دیا۔ جو نمازی سلام پھیر چکے تھے ہماری طرف دیکھنے لگے۔ ابا بھی سلام پھیر چکے تھے۔ جلدی سے میرے پاس آ کر انھوں نے عابد چچا سے پوچھا،”کیا بات ہے؟ تم نے اس کو کیوں مارا؟‘‘1

 اس کے بعد ابا نے جبران سے کچھ پوچھے بغیر خوب مرمت کی اور کہا:

’’گھر پہنچو، وہاں آ کر ابھی اور خبر لیتا ہوں۔‘‘ گھر پہنچ کر کھانا کھائے بغیر جبران کوٹھری میں جا کر لیٹ گیا۔ ابا نے آ کر اسے پوچھا اور پھر اماں سے پوری بات بتائی۔ ’’ماں‘‘ کو عموماً شفقت، عفو و در گذر اور دل آسائی کا پیکر سمجھا جاتا ہے۔ کم از کم ماں کو سزا دینے سے قبل جبران سے اس سلسلے میں پوچھنا تو چاہیے تھا مگر ان کا طرز عمل بالکل مختلف تھا:

 ’’اماں کھانا چھوڑ کر کوٹھری میں آئیں اور انھوں نے مجھ سے کچھ پوچھے بغیر مجھے مارنا شروع کر دیا۔ اتنا مارا کہ تھک کر ہانپنے لگیں۔‘‘ 2

عابد چچا بچے کا جنسی استحصال کرنے کے درپے ہیں مگر بچے کو جوابی کارروائی کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس کو اپنی بات کہنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ یہ ہے ہمارے معاشرے کا تعزیری نظام جسے مذہب اور اخلاق کی حمایت حاصل ہے۔

جبران مدرسہ میں حافظ جی سے قرآن پڑھتا ہے اور اکثر ان کا سودا سلف بھی لاتا ہے۔ اس نے ایک بار ان کی ایک چونی خُرد بُرد کرنے کی کوشش کی اور بعد میں یہ چونی انھیں دے بھی دی مگر اس کی سزا ملاحظہ کریں:

’’کچھ دیر بعد حافی جی نے کہا: ’’چونّی رکھ دو اور ہاتھ کھول کر کھڑے ہو جاؤ۔‘‘ میں تو سمجھ ہی رہا تھا کہ ابھی یہ سب ہونے والا ہے۔ میں نے چونی حافی جی کے تکیے کے پاس رکھ دی اور وہی والا ہاتھ ان کے سامنے پھیلا دیا جس پر چونی رکھی تھی۔ اس کے بعد حافظ جی نے میری ہتھیلی پر اتنی تیزی سے عبرت کی چھڑیاں برسائیں کہ ان کی گنتی بھی نہیں کی جا سکتی تھی۔ میرا ہاتھ سُن ہو گیا۔ میں رو رہا تھا مگر دھیمی آواز کے ساتھ۔ زور زور سے اس لیے نہیں رو رہا تھا کہ میرے زور سے رونے سے ناصر کو اور زیادہ خوشی ہوتی۔ دو دن پہلے ہی میرا اس سے اس بات پر جھگڑا ہو گیا تھا کہ وہ میری جگہ پر بیٹھ گیا تھا اور میں نے اسے دھکا دے دیا تھا۔ جی بھر کر عبرت کی چھڑیاں مارنے کے بعد حافظ جی نے کہا اب مرغا بن جاؤ۔ میں مرغا بن گیا۔ حافی جی نے دو تین چھڑیاں اور مار کر گاؤ تکیے پر اطمینان سے ٹیک لگالی۔‘‘ 3

مدرسے کا وقت ختم ہو گیا۔ سب بچے چلے گئے مگر جبران بَہ دستور مرغا بنا رہا اور شام ڈھلے اسے گھر جانے کی اجازت دی گئی۔

جبران نے دیگر بچوں کے ساتھ مل کر دھوبی کے گدھے کو پکڑ کر اس کی دُم میں پِیپا باندھ کر اسے دوڑایا اور پھر دیر تک تماشا دیکھتا رہا۔ ظاہر ہے یہ بھی ایک عام سی شرارت ہے۔ اس بات کا علم دھوبی کو ہوا۔ وہ شکایت لے کر جبران کے گھر پہنچا تو جبران کی ماں کا، جن کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی، رد عمل دیکھیے:

’’پہلے تو انھوں نے دو ہاتھوں سے میرے کان پکڑ کے خوب زور سے نوچے۔ پھر یہ کہہ کر پیٹھ پر دوہتھڑ برسانے لگیں کہ تمھارے ابّا تم کو حافظِ قرآن بنانا چاہتے ہیں اور تم شیطان بنتے جا رہے ہو۔ گدھوں کی دموں میں پیپے باندھ کر انھیں دوڑاتے پھرتے ہو۔ اماں کی طبیعت تو خراب تھی ہی، مجھے مارنے کے بعد وہ نڈھال ہو گئیں اور روہانسی آواز میں مجھے بد دعائیں دیتی کمرے میں چلی گئیں۔‘‘ 4

سزا کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا اور معاملہ حافی جی (حافظ صاحب) کے پاس پہنچتا ہے جو اس شرارت میں پیش پیش رہنے والے دو لڑکوں جبران اور خالد کو بلاتے ہیں۔ اب سزا کی دل دوز تفصیل ملاحظہ کریں:

’’میں نے سر اوپر کر کے کن اَکھیوں سے حافی جی کو دیکھا تو انھوں نے اپنے سر کو اس طرح ہلایا جیسے غور کر رہے ہوں کہ کون سی سزا دی جانی چاہیے۔ ذرا دیر سوچنے کے بعد انھوں نے مجھ سے کہا،’’اکڑوں بیٹھ جاؤ۔‘‘ پہلے تو میں سمجھ ہی نہیں پایا کہ حافی جی آج کون سی سزا دینے والے ہیں۔ میں اکڑوں بیٹھ گیا تو انھوں نے خالد سے کہا، ’’تم اس کے کندھوں پر بیٹھ جاؤ۔‘‘

خالد میرے کندھوں پر نہیں بیٹھا تو حافی جی نے اس کے چوتڑوں پر عبرت کی چھڑی مار کے کہا، ’’میں کہہ رہا ہوں کہ کندھوں پر بیٹھ جاؤ اور تم کھڑے ہنس رہے ہو۔‘‘ خالد جب میرے کندھوں پر بیٹھ گیا تو حافی جی نے مجھ سے کہا، ’’اب تم کھڑے ہو جاؤ۔‘‘ میں نے اپنے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھنے کی کوشش کی مگر نہیں اٹھ سکا، پیچھے کی طرف جھک گیا۔ خالد میری پیٹھ سے پھسل کر گر گیا۔ سب بچے زور زور سے ہنسنے لگے۔

“حافی جی نے میری پنڈلی پر عبرت کی چھڑی مار کے کہا، ’’کیا تمھاری ٹانگوں کی ساری طاقت گدھوں کو دوڑانے میں صرف ہو گئی؟ اب کے نہ کھڑے ہوئے تو چابکیں مارکے کھڑا کروں گا۔‘‘ جب خالد دوسری بار میرے کندھوں پہ سوار ہوا تو میں نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہہ کر پورا زور لگایا اور کھڑا ہو گیا۔

 ’’اب برآمدے کے چکر لگاؤ،‘‘ حافی جی نے کہا۔ میں برآمدے کے ایک سرے سے دوسرے سرے کی طرف جا کر رک گیا تو حافی جی نے کہا ایک اور چکر لگاؤ۔ میں نے ایک اور چکر لگایا تو حافی جی نے کہا، ’’ابھی ایک چکر باقی ہے۔‘‘

میرے کندھے شل ہو گئے تھے اور پاؤں تھرا رہے تھے۔ خالد نے دونوں ہاتھوں سے میرے بال پکڑ رکھے تھے جس کی وجہ سے کنپٹیوں کی کھال کھنچی جا رہی تھی۔

 جب میں تیسرا چکر لگا چکا تو حافی جی نے خالد سے کہا، ’’اب تم اپنے اعمال کا بوجھ اس گنہ گار کے کندھوں پر رکھ کر چکر لگاؤ۔‘‘ خالد اکڑوں بیٹھ گیا اور میں اس کے کاندھوں پر چڑھ گیا۔ خالد جلدی جلدی چکر لگانے لگا۔ جب خالد نے تین چکر لگانے کے بعد مجھے نیچے اتار دیا تو حافی جی نے کہا، ’’اب ذرا سلیقے سے کان پکڑ کے مرغا بن جاؤ۔‘‘ 5

اذیت انگیز جسمانی سزا کے اس دراز تر سلسلے کے بعد حافی جی نے ان بچوں کے ناموں اور ان کے عمل میں تضاد کو اجاگر کرنے کے لیے طعن و تشنیع کا سہارا لیا اور بچوں میں احساسِ کم تری اور شدید قسم کا احساسِ جرم پیدا کرنے کی کوشش کی:

’’ہم لوگ کان پکڑ کے مرغا بن گئے۔ جب ہم لوگ مرغا بنے ہوئے تھے تو حافی جی نے کہا، ’’ایک وہ مفکر اور عالم فاضل خلیل جبران تھے جنھوں نے دنیا کو علم کا خزانہ بخشا اور ایک یہ شیطان اور متفنی جبران ہیں جنھیں علم سے اللہ واسطے کا بَیر ہے۔‘‘ پھر انھوں نے خالد کے بارے میں کہا، ’’ایک وہ خالد بن ولید تھے جو میدان جنگ میں گھوڑے دوڑا کر منافقین اور مشرکین کی صفیں الٹ دیا کرتے تھے اور ایک یہ خالد ہیں جو گدھوں کی دُم میں پیپے باندھ کر انھیں دوڑا رہے ہیں۔‘‘ 6

جبران کی اپنے ایک ہم عمر دوست احمد سے پتنگ بازی کے سلسلے میں ہاتھا پائی ہو جاتی ہے۔ جبران کا مُکا احمد کی ناک پر لگا اور خون نکل آیا۔ احمد کی ماں نے جبران کی والدہ سے شکایت کی:

’’اماں تیزی سے کوٹھری میں آئیں۔ ان کے پیچھے احمد کی امی بھی آئیں۔ اماں نے مجھے دونوں ہاتھوں سے اس طرح مارنا شروع کر دیا جیسے دھوبی کپڑے دھوتا ہے۔ احمد کی امی نے بھی دو تین طمانچے مارے اور کہا: ’’باپ دوسروں کے گھروں میں تبلیغ کرتا پھر رہا ہے اور اپنے گھر میں ابلیس پال رہا ہے۔ اور یہ بھی کہا کہ تھانے میں اس کی رپورٹ لکھوائی گئی۔ یہ بچہ نہیں ہے بد معاش اور شاطر چور ہے۔ اس نے حافی جی کی چونّی چرائی تھی۔ اب مجھے شبہ ہو رہا ہے کہ اسی نے میرے گھر سے گھڑی چرائی ہے۔‘‘ 7

ماں نے احمد کی والدہ کا الزام بَہ غیر کسی تصدیق کے تسلیم کر لیا اور جبران کو گھڑی کی چوری کا ذمے دار بھی ٹھہرایا:

’’احمد کی امی کے جانے کے بعد اماں نے میرے مُنھ پر دو چانٹے اور مار کے پوچھا: ’’سچ سچ بتا دے گھڑی کہاں ہے ورنہ تیرا وہ حشر کروں گی کہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔‘‘

میں تو اماں سے سچ بول رہا تھا مگر انھیں یقین نہیں آ رہا تھا۔ بس یہی پوچھے جا رہی تھیں کہ گھڑی کہاں ہے۔ اماں نے الماری کھول کر دیکھی، تخت کا گدھا ہٹا کر دیکھا، تخت کے نیچے جھانک کر دیکھا۔ گھڑی تو میں نے چرائی ہی نہیں تھی جو انھیں ملتی۔ ہاں گھڑی کی تلاش کے دوران میری پتنگ اور ڈور اماں کے ہاتھ لگ گئی۔ پتنگ کو تو انھوں نے وہیں پر دسویں کے تعزیہ کی طرح شہید کر دیا اور ڈور کا گلا لے جا کر چولھے میں ڈال دیا۔ اس کے بعد یہ کہتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئیں کہ یہ لڑکا ایک دن ساری دنیا میں ہمیں رسوا کروائے گا۔‘‘ 8

یہاں بَہ غیر کسی ثبوت کے الزام کو سچ مار کر سزا دی جا رہی ہے۔ جبران کی بے گناہی اس صریحاً نا انصافی پُر شُکوہ سنج ہے۔

جبران کے والد تبلیغی جماعت کے رکن تھے۔ ایک بار وہ جماعت میں گئے تو کئی ماہ تک واپس نہیں آئے۔ پتا چلا کہ گجرات پولیس نے انھیں پاکستانی خفیہ ایجنسی کا ایجنٹ ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ جبران کے گھر پر پولیس کا چھاپہ پڑا۔ گھر سے کوئی قابلِ اعتراض شے تو نہیں ملی، سیپارے اور دعاؤں کی کتابیں پولیس بَہ طورِ ثبوت اپنے ساتھ لے گئی۔

گجرات پولیس نے انھیں گرفتار کیا اور مہینوں تک انھیں عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔ الزام اور جرم میں کوئی تفریق روا نہیں رکھی گئی اور سزا کا سلسلہ فوراً شروع ہو گیا۔ مذہبی سرگرمیوں میں شریک ہونا کیا ایسی ملک دشمن سرگرمی ہے جس پر بَہ غیر کسی ثبوت سزا دی جا سکتی ہے۔ آئین پر مبنی ملک کا تعزیری نظام اس سوال کا جواب اثبات میں دیتا ہے۔ الزام، جرم اور سزا یہ تینوں مرحلے چشمِ زدن میں طے ہو جاتے ہیں اور آزادئِ رائے اور زندہ رہنے سے متعلق بنیادی حقوق کی بر سرِ عام پامالی عام بات ہو جاتی ہے۔

محسن خان نے اس معاصر صورتِ حال کو بَہ غیر کسی جذباتی خروش اور مصنوعی رقت انگیزی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ واقعہ کا بے کم و کاست بیان کس طرح آرائشی نثر کی بے مائیگی کو خاطر نشان کرتا ہے اور اس نوع کا بیانیہ نثر میں شاعری کرنے والے افسانہ نگاروں (جن کی بد ترین مثال قاضی عبدالستار کی تحریریں ہیں) سے الگ کس طرح اپنا ایک منفرد وجود قائم کرتا ہے۔ ناول اللہ میاں کا کارخانہ کو اس کے قابلِ قبول ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

جبران کے والد کی گرفتاری کے بعد اس کی والدہ دورانِ حمل انتقال کر جاتی ہیں۔ جبران اور اس کی چھوٹی بہن نصرت کو اس کے چچا اپنے گھر لے آتے ہیں۔ چچا بھی زیادہ دن زندہ نہیں رہتے۔ قلبی دورہ سے ان کی دفعتاً موت ہو جاتی ہے۔ جبران سِنِ بلوغت کو پہنچ رہا تھا اور ایک بار اس کی ماں نے دکان سے شکر منگوائی تو دکان دار نے شکر اخبار کی پڑیا میں دی۔

اخبار کے صفحہ پر کسی عورت کی نیم عُریاں تصویر چھپی ہوئی تھی۔ جبران یہ کاغذ احتیاط سے اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ چچا کے گھر میں اخبار کا یہ صفحہ اس کے ساتھ تھا۔ ایک دن وہ تنہائی میں یہ تصویر دیکھ رہا تھا؛ ظاہر ہے یہ تصویر اخبار میں چھپی تھی تو اسے pornography کے زمرے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ جبران کے اس بے ضرر اور کسی حد تک اخلاقی طور پر معیوب عمل کی سزا اور اس کے تناسب کا بیان ناول نگار کی زبانی سنیے:

’’اچانک مجھے خوب صورت چھاتیوں والی لڑکی کی تصویر یاد آ گئی۔ چچا جان کے گھر جانے کے بعد میں اسے اکثر دیکھا کرتا تھا اور کچھ دیر دیکھنے کے بعد نہا کر تخت کے نیچے پٹی میں پھنسا دیا کرتا تھا۔ اس کو چھپانے کے لیے اسٹور میں سب سے اچھی جگہ وہی تھی۔

“اسٹور کے دروازے میں باہر سے تو کنڈی لگائی جا سکتی تھی مگر اندر کوئی کنڈی نہیں تھی۔ اس لیے میں تصویر دیکھتے وقت دروازہ بِھیڑ کر اسٹول یا لکڑی کا اڑنا لگا دیا کرتا تھا۔

“اس دن میں نے یہ بے وقوفی کی کہ دروازے میں اڑنا نہیں لگایا اور تصویر دیکھنے بیٹھ گیا۔ ابھی میں تصویر دیکھ ہی رہا تھا کہ اسی وقت دھڑام سے دروازہ کھلا اور چچی جان اندر آ گئیں۔ شاید وہ اسٹور سے کوئی سامان لینے کے لیے آئی تھیں۔ میں نے جلدی سے تصویر پیٹھ کے پیچھے چھپا لی۔ چچی جان نے تصویر چھپاتے ہوئے دیکھ لیا اور پوچھا، ’’کیا چھپا رہے ہو؟‘‘ میں نے کہا، ’’کچھ نہیں۔‘‘ انھوں نے کہا، ’’کچھ تو ہے،‘‘ اور جھپٹ کر تصویر میرے ہاتھ سے چھیننے کی کوشش کی۔ “تصویر کے دونوں ٹکڑوں کو جوڑ کر انھوں نے غور سے دیکھا اور ایک زور کا طمانچہ میرے مُنھ پر مار کر کہا، ’’اب تم یہ بد معاشیاں بھی کرو گے۔‘‘

“اس کے بعد چچی نے تصویر پھاڑ دی۔ کھونٹی سے میرے کپڑے نوچ کھسوٹ کر میرے مُنھ پر پھینکے اور چیخ کر کہا: ’’نکل جا میرے گھر سے۔ اب میں تجھے ایک منٹ بھی برداشت نہیں کروں گی۔‘‘ وہ مجھے کھینچتی ہوئی دروازے کی طرف لے گئیں۔ چچی جان نے مجھے دھکا دے کر باہر نکالا اور زور سے دروازہ بند کر دیا۔ میرے گھر سے نکال دِیے جانے کی وجہ سے شاید نصرت رو رہی تھی۔ مجھے چچی جان کی آواز سنائی دی۔ وہ نصرت سے کہہ رہی تھیں: ’’اگر تیرا دودھ چھلک رہا ہو تو تُو بھی اس کے ساتھ چلی جا۔‘‘

“ذرا دیر کے بعد سب اندر چلے گئے اور خاموشی ہو گئی۔ میں وہاں اس خیال سے دیر تک رکا رہا کہ شاید چچی جان دروازہ کھول کر یہ کہہ دیں کہ اب کی معاف کیے دے رہی ہوں، آئندہ ایسی حرکت کرو گے تو کبھی دروازہ نہیں کھولوں گی۔ مگر چچی جان کے گھر میں تو ایسا سناٹا ہو گیا جیسے سب سو گئے ہوں۔ وہاں کھڑے کھڑے میرے پیروں میں درد ہونے لگا۔ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنے لگی تھیں اور ڈر بھی لگ رہا تھا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کیا کروں، کہاں جاؤں۔ میرے گھر میں تو کوئی تھا ہی نہیں۔‘‘ 9

 نیم عریاں تصویر دیکھنا کیا اتنا سنگین جرم تھا کہ ایک یتیم پسر اور بے یار و مددگار کو گھر سے نکال دیا جائے۔ یہ فوری رد عمل نہیں کہ جب مدرسے کے حافی جی جبران کو ہم راہ لے کر اس کی سفارش کرنے اس کی چچی جان کے پاس پہنچے تو رد عمل دیکھیے:

’’جب حافی جی نے چچا کے دروازے کی کنڈی بجائی تو میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ کچھ دیر بعد چچی جان نے دروازے کے پیچھے سے پوچھا، ’’کون ہے؟‘‘ ’’میں ہوں، حافظ عبدالرحمٰن‘‘، حافی جی نے کہا۔ ’’کون حافظ عبدالرحمٰن؟‘‘ چچی جان نے پوچھا۔

“حافظ جی نے کہا، ’’مدرسے کا حافظ عبدالرحمٰن!‘‘ چچی جان نے دروازہ کھول کر حافی جی کو سلام کیا اور پوچھا، ’’خیریت، اس وقت کیسے آنا ہوا؟‘‘ میں حافی جی کی آڑ میں ہو گیا تھا۔ حافی جان نے مجھے کھینچ کر چچی جان کے سامنے کیا اور میرے مُنھ پر ٹارچ کی روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ’’اسے لے کر آیا ہوں، یہ راستے میں بھٹک رہا تھا۔‘‘

چچی جان نے کہا، ’’اسے لے کر کیوں آ گئے۔اب میں قیامت تک اسے گھر میں نہیں گھسنے دوں گی۔‘‘ حافی جی نے کہا، “بچہ ہے، معاف کر دیجیے، بچوں سے غلطیاں ہو ہی جاتی ہیں۔‘‘ ’’اب یہ بچہ نہیں رہا، ننگی لڑکیوں کی تصویریں دیکھنے لگا ہے۔ میرے گھر میں میری بیٹی جوان ہو رہی ہے۔ ایسے بد معاشوں کا رہنا ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ یہ کہہ کر چچی جان نے دروازہ بند کر لیا۔‘‘ 10

جبران کے کردار کے حوالے سے افسانہ نگار نے انسانی زندگی کی بُو قلمونی، پیچیدگیوں اور تضادات کو کسی قسم کی رقت انگیزی کے بَہ غیر حد درجہ معروضی انداز میں پیش کیا ہے۔ سزا کے نظام کے مذہبی، اخلاقی، ثقافتی اور سیاسی مضمرات پر ایک خیال انگیز ڈسکورس قائم کیا ہے جس کی مثال اردو فکشن میں نہیں ملتی۔

سزا کا تصور انسانی معاشرے کی بقاء کے لیے ضروری ہونے کے با وُجود اپنی اصل میں دوسروں کو مغلوب کرنے کی ازلی انسانی خواہش کا استعارہ ہے۔ انسانی حرمت اور تقدیس کا تصور مروجہ تعزیری نظام سے مطابقت نہیں رکھتا۔ معاشرے میں جرم اور سزا کے رائج اصول سے اس کے انسان دوست یا اس کے غیر انسانی ہونے کا بَہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

جبران کے علاوہ اس ناول کا سب سے پہلُو دار اور متاثر کن کردار مدرسے کے حافظ جی (حافی جی) کا ہے جس کا طرزِ عمل مذہبی تعلیم دینے والے عام مدرس سے بہت کم مطابقت رکھتا ہے۔

حافظ جی زیادہ تعلیم یافتہ تو نہیں ہیں مگر گہری انسانی بصیرت سے ضرور متصف ہیں اور اور جامد تقلید کے قائل نہیں ہیں۔ ان کے والد نے ان کے ساتھ بے اعتنائی برتی تھی اور جب ان کے انتقال کی خبر ملی تو حافظ جی روایتی طور پر اظہارِ غم کرنے کے بَہ جائے ماں کے نام اپنے خط میں مکافاتِ عمل اور سزا کے تصور پر بھی روشنی ڈالی۔ حافظ جی کا یہ خط کسی روایتی عالم کے نقطۂِ نظر سے خاصا مختلف ہے:

’’آپ کے ارسال کردہ خط سے ابّا کے انتقال کی خبر ملی۔ دکھ ہوا مگر اتنا نہیں جتنا باپ کے مرنے پر بیٹے کو ہونا چاہیے۔ ان کے مرنے کی اطلاع کا تار مجھے نہیں مل سکا۔ شاید ڈاک کی بد نظمی کی نذر ہو گیا۔ اگر مل بھی گیا ہوتا تو وہاں آ کر کیا کرتا۔

“بہ ہر حال آپ کے خط سے ان کی بابت بہت سی باتیں معلوم ہوئیں۔ یہ بھی پتا چلا کہ اخیر وقت میں انھوں نے بڑی عُسرت اور بے چارگی میں دن گزارے۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے اور اس کے گناہوں کی سزا اسی دنیا میں اسے مل جاتی ہے۔ اللہ غفور الرحیم ہے۔ وہ اپنی نا فرمانیوں کو تو معاف کر دیتا ہے مگر انسان کے حق میں کی گئی نا انصافیوں اور کوتاہیوں کو معاف کرنے یا نہ کرنے کا اختیار اس نے انسان کو دے رکھا ہے۔

“انھوں نے ہم لوگوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا اس کے لیے انھیں زندگی میں تو معاف نہیں کیا جا سکتا تھا، مگر اب ان کی موت کے بعد ان باتوں کو بھلا کر انھیں معاف کر دیا جائے تو بہتر ہے۔‘‘ 11

حافظ جی کی فکر اس اعتبار سے روایتی ہے کہ وہ کائنات کو سبب اور نتیجے پر استوار سمجھتے ہیں۔ انسان جیسا کرتا ہے اس کے سامنے آتا ہے، یہ تصور بہت مقبول ہے کہ یہ فہم سے ماخوذ ہے۔ مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ برائی کرنے کے با وُجود انسان سرخ رُو بھی رہتا ہے اور کبھی اس کو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ اس ضمن میں کوئی بات حتمی طور پر نہیں کہی جا سکتی۔

انسان اسے تسلیم کر کے خود کو مطمئن کر لیتا ہے جو اصلاً خود فریبی کی ایک شکل ہے۔ اسی طرح خراب دن لازماً اچھے دنوں میں تبدیل نہیں ہوتے۔ انسان چراغ کی طرح بجھ جاتا ہے۔ سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ فریبِ پَیہم اس میں زندہ رہنے کی خواہش کی آبیاری کرتا ہے۔

حافظ جی انسانی آرزُو مندیوں اور خواہشوں کا استعارہ ہیں۔ وہ بچوں کو قرآن پڑھاتے ہیں، ریڈیو پر خبریں اور گانے سنتے ہیں اور جبران سے وہ تصویر دکھانے پر اصرار کرتے ہیں جس کے باعث اسے اپنے چچا کے گھر سے نکلنا پڑا تھا۔

قادرِ مطلق سے تعلقِ خاطر کے با وُجود اسے خواب میں دیکھنے اور انسان کی روز مرہ کی زندگی کا حصہ بننے کا ذکر بہت کم کیا جاتا ہے۔ جبران اپنی پامال خواہشوں، ذہنی اضطراب اور جسمانی دکھوں کا مداوا اللہ میاں کے خواب میں تلاش کرتا ہے۔ اس نے کئی بار اللہ میاں کو خواب میں دیکھا۔ اللہ تو جسمانی یا مرئی وجود سے ما وراء ہے مگر بچے کے ذہن میں خدا کا جو تصور ہے، اس کی تجسیم کر لیتا ہے جو خدا سے اس کے غایت تعلق کا غماز ہے۔

’’اس دن جب میں سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ہمارے گھر کا دروازہ تیز آواز کے ساتھ کھلا اور اللہ میاں ہمارے گھر میں داخل ہوئے۔ ہم نے بڑی حیرت سے انھیں دیکھا۔ وہ خوب لمبے چوڑے تھے۔ ان کا چہرہ چاند جیسا تھا۔ منھ، ناک اور آنکھیں نہیں تھیں، کپڑے برف کے سے سفید تھے۔ وہ ہمارے پاس آ کر ابا کی پٹری پر آرام سے بیٹھ گئے اور ہمارے سروں پر اپنا رُوئی جیسا نرم ہاتھ پھیر کر بولے: ’’تم لوگ کیا پڑھ رہے ہو؟‘‘

“میں نے کہا آپ کا سیپارہ پڑھ رہے ہیں تو انھوں نے کہا، ’’خوشی خوشی کیوں نہیں پڑھتے۔‘‘ میں نے انھیں بتایا کہ میری کالی مرغی کو، جسے آپ نے بنایا تھا، بلی لے کر چلی گئی، اس لیے ہم لوگ خوش نہیں ہیں۔ انھوں نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کہا، ’’میں تمھاری اس کالی مرغی کو پھر بنائے دیتا ہوں،‘‘ اور اپنی بڑی بڑی بڑی جیبوں سے بہت سارے کالے پر نکال کر ہوا میں اچھالے تو ہماری کالی مرغی بڑے اطمینان سے آنگن میں اتری اور دانہ چگنے اور کھٹا کھٹ انڈے دینے لگی۔ ذرا سی دیر میں اتنے دے دیے کہ سفید انڈوں سے میرا آنگن چھپ گیا۔” 12

جبران نے نہ صرف اللہ میاں کو خواب میں دیکھا بل کہ ایک بار اپنی ماں کے اس قول کی صداقت کو بھی پرکھا کہ اگر سچے دل سے اللہ کو یاد کیا جائے تو وہ آ جاتے ہیں۔ جبر ان کو خیال آیا کہ صدق دل کے ساتھ اگر اللہ میاں کو بہ آواز بلند پکارا جائے تو شاید وہ آ جائیں۔ خواب میں تو وہ اللہ میاں کا دیدار کر چکا تھا مگر عالم بیداری میں خدا کو دیکھنے کے تصور سے وہ بری طرح خائف ہو گیا۔ اس کے با وُجود اس نے بڑے زور سے اللہ میاں کو پکارا:

’’میری آواز قبرستان میں گونجنے لگی اور بدن میں جھرجھری دوڑ گئی۔ درختوں پر بسیرا کرتے ہوئے پرندے چیختے ہوئے اڑ گئے اور بکری میری بغل سے رسی چھڑا کے مدرسے کی طرف بھاگنے لگی۔ میں نے دوڑ کر اس کی رسی پکڑ لی۔ اسی وقت مجھے اللہ میاں کی آواز سنائی دی۔ انھوں نے کہا، ’’لو میں آ گیا۔‘‘

“ڈر کے مارے میرا بدن لرزنے لگا۔ میں جلدی سے چچا جان کی قبر پر بیٹھ گیا۔ چچا جان نے کہا اللہ میاں کو سلام کرو۔ میری آواز نکل تو پا نہیں رہی تھی، بڑی مشکل سے کہا، ’’السلام علیکم اللہ میاں۔‘‘ ’’وعلیکم السلام۔‘‘ اللہ میاں نے میرے سلام کا جواب اسی تپاک سے دیا جیسے چچا جان دیتے تھے۔ اس کے بعد اللہ میاں نے پوچھا، ’’تم نے مجھے اتنے زور سے کیوں پکارا؟‘‘ میں نے ڈرتے ڈرتے ان سے کہا ’’آپ آسمانوں میں اونچائی پر رہتے ہیں، اسی لیے اتنی زور سے پکارا تھا۔‘‘

“اس پر اللہ میاں نے کہا، ’’کیا تم کو تمھارے ماں باپ اور حافظ جی نے یہ بات نہیں بتائی کہ میں ہر وقت ہر جگہ موجود ہوں۔” 13

اللہ میاں جبران کے تمام سوالات کا جواب دیتے ہیں اور جبران کی اماں اور چچا کی موت کے بارے میں وضاحت کرتے ہیں۔ جبران قدرتِ خداوندی کی مصلحتوں سے واقف ہو جاتا ہے۔ جبران مدرسے کے حافظ جی کی بکری چرانے کے لیے نکلا تھا اور اب شام کے سایے گہرے ہونے لگے تھے۔ اللہ میاں نے آخر میں کہا، ’’ہاں جلدی جاؤ ورنہ بھیڑیا تمھاری بکری کو اٹھا لیا جائے گا۔‘‘

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ میاں کی آواز عالم بیداری میں سننا جبران کے لا شعور کی بازگشت ہے۔ بکری کی بھیڑیے سے حفاظت کرنا اس کا فرضِ اوّلین ہے۔ اللہ میاں بھیڑیے کو بکری سے دور رکھنے پر پوری طرح قادر ہیں پھر بھی جبران کو اس کا فرض یاد دلا رہے ہیں۔

انسان کو ممکنہ تمام کوششوں سے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ خدا کو خواب میں دیکھنے والے شخص نے اپنی زندگی کے تمام تر معاملات خدا کے سپرد کر دِیے ہیں اور مطمئن ہو گیا ہے۔ اب اسے حال اور مستقبل کی نہ تو کوئی فکر ہے اور نہ اس ضمن میں وہ صبر آزما دشواریوں کا سامنا کر رہا ہے۔ اللہ میاں کو خواب میں دیکھنے والا پُر اعتماد اور مَثبت سوچ کا حامل ہے۔

قدیم ہندوستانی متن سوپن پردیپ (Swapna Pradeep) کے مطابق اس نوع کے خواب ہمیشہ خوش آئند ہوتے ہیں۔ جبران نے جب پہلی بار اللہ میاں کو خواب میں دیکھا تو اللہ میاں نے مسکرا کر اس کی خواہش پوری کر دی (کالی مرغی کو زندہ کر دیا) مگر بعد میں اس کی ماں کا حمل کے دوران غیر متوقع طور پر انتقال ہو جاتا ہے۔ سوپن پردیپ کے مطابق دیوتاؤں کو ہنستے یا مسکراتے ہوئے دیکھنا اشارہ ہوتا ہے کسی قریبی عزیز کی موت کا۔

ہندو اساطیر کے مطابق دیوتا اسی شخص سے مخاطب ہوتے ہیں جس نے کوئی غلطی کی ہو۔ ناول نگار نے جبران سے خدا کے ربط کو ایک زندہ تجربے کے طور پر پیش کیا ہے اور عالمِ بیداری میں خدا سے مکالمہ سے جبران کی شخصیت کی مختلف پرتوں کو کھولا گیا ہے۔ جبران کے نزدیک خدا کوئی ما ورائی وجود نہیں بل کہ اس کی روز مرہ زندگی کا لازمی جزو ہے۔

معصوم جبران اللہ میاں کے کارخانے کی حقیقت کو اپنے طور پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور اللہ میاں سے متعلق اپنی ماں سے مسلسل سوال کرتا رہتا تھا۔ ماں پڑھی لکھی نہیں ہیں، مگر دانش سے عاری نہیں ہیں۔ جبران کے ابا باورچی خانے کی پٹری ٹیڑھی بناتے ہیں تو جبران سوال کرتا ہے:

’’میں نے اماں سے سوال کیا جب سب کچھ اللہ میاں کی مرضی سے ہوتا ہے تو پھر ابا سے آپ کی پٹری ٹیڑھی کیوں بنوا دی؟‘‘

اس سوال کا آسان جواب تو یہی تھا کہ اس میں بھی اللہ کی کوئی مصلحت ہو گی مگر واجبی طور پر تعلیم یافتہ ماں کا جواب دیکھیے جس میں اُلُوہی مرضی کا انسانی جواز پنہاں ہے:

’’اماں نے کہا، اللہ میاں بنوانے کے لیے نہیں آتے۔ انھوں نے انسان کو عقل اور سمجھ بوجھ یہ کہہ کر دیا ہے کہ سب لوگ اپنے اپنے کام کرو۔ اب انسان کا دماغ ہر وقت ایک طرح سے کام تو کر نہیں سکتا ہے۔ کسی وقت دماغ حاضر ہوتا ہے تو کام اچھا ہو جاتا ہے، کسی وقت آدمی ادھر ادھر کی سوچ رہا ہوتا ہے تو کام بگڑ جاتا ہے یا زیادہ اچھا نہیں ہو پاتا ہے۔ جیسے حافی جی تم لوگوں کو سبق دیتے ہوں گے تو کبھی وہ سبق آسانی سے یاد ہو جاتا ہو گا اور کبھی جب زیادہ توجہ سے نہیں پڑھتے ہوں گے تو یاد نہیں رہ پاتا ہو گا۔‘‘ 14

جبران دنیا کو چھ دن میں بنانے کے تصور، بکری کے ساتھ مرغی یا کسی ایک چیز کو اس کی متضاد شے سے منسلک کرنے اور انسانی زندگی میں تقدیر کے عمل سے متعلق سوالات کرتا ہے جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے وجود کو کائناتی تناظر میں قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

 محسن خان کا یہ ناول نہ صرف یک سر نیا موضوعاتی ڈسکورس قائم کرتا ہے بل کہ معاصر فکشن میں جب جذبہ انگیز نثر نے ایک حاوی بیانیہ کی صورت اختیار کر لی ہے، functional prose کا ایک نیا مرتعش بیانیہ عرصہ قائم کرتا ہے جس کے لیے ناول نگار ہدیۂِ تبریک کے مستحق ہیں۔

حوالے

(1) محسن خان: اللہ میاں کا کارخانہ، ایم آر پبلی کیشنز، دہلی، 2020، صفحہ 18

(2) ایضاً، صفحہ 19

(3) ایضاً، صفحہ 28، 29

(4) ایضاً، صفحہ 76

(5) ایضاً، صفحہ 78

(6) ایضاً، صفحہ 79

(7) ایضاً، صفحہ 80

(8) ایضاً، صفحہ 89

(9) ایضاً، صفحہ 90

(10) ایضاً، صفحہ 145، 146

(11) ایضاً، صفحہ 184

(12) ایضاً، صفحہ 190

(13) ایضاً، صفحہ 189

(14) ایضاً، صفحہ 38