4th December 2020

ہماری زنگ لگی مڈل کلاس کی ذہنیت

عامر رضا
عامر رضا، صاحبِ مضمون

ہماری زنگ لگی مڈل کلاس کی ذہنیت

(عامر رضا)

ہمارے اردگرد ’پوش‘ سوسائٹیز اب بھی کلونیل دور کی یاد دلاتی ہیں جن میں پختہ سٹرکیں صفائی ستھرائی کا بہترین انتظام، روشنی کا عمدہ بندوبست، نکاسی آب کے اچھے منصوبے اور کھیلنے کودنے کے لیے بڑے بڑے میدان اور جم موجود ہیں۔

یہاں دن اپنی تمام تر امیدوں اور رات اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ اترتی ہے۔یہاں دولت، طاقت اور اختیارات کا ارتکاز ہے۔یہاں کی غلام گردشوں میں کیا کیا واقعات رونما ہو جاتے ہیں کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔

ان میں سے بہت سی آباد یاں غریب کمزور اور بے بس لوگوں کو ان کی جگہوں سے اکھاڑ کر بنائی گئی ہیں۔

کراچی میں دو ایسی سوسائٹیاں ہیں جن پر انگریزی رونامہ ڈان تحقیقاتی رپورٹس شائع کر چکا ہے۔جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس طرح سے زمیں اور منافع کے لالچ میں مقامی لوگوں کو ان کے زمین سے بے دخل کیا جاتا ہے اور کیسے ایک مخصوص طبقہ لوٹ مار کے زمینوں پر ’میرا گھر میری جنت‘ کا خواب پورا کر رہا ہے۔

گزشتہ سال جب ڈان نے بحریہ ٹاؤن کراچی پر اپنی رپورٹ شائع کی تھی تو میڈیا میں ایک غیر معمولی رجحان دیکھنے میں آیا تھا۔

ڈان ٹی وی کے علاوہ ہر ٹی وی چینل پر بحریہ ٹاؤن کے اشتہارات کا دورانیہ بڑھ گیا تھا۔غیر معمولی طویل دوراینہ کے اشہتارات کے لیے جو وقت منتخب کیا گیا وہ نیوز اپ ڈیٹس سے پہلے اور فوری بعد کا تھا۔

ہماری زنگ لگی مڈل کلاس کی ذہنیت
اے آر وائی کے پروگرام کے دوران بحریہ ٹاؤن میں سانحہ کا منظر

یہی وہ وقت ہوتا ہے جب چینل زیادہ آئی بالز کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہوتے ہیں۔ان اشتہارات کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ٹی وی چینل جو خبروں پر گِدھوں کی طرح پِل پڑتے ہیں اور گھنٹوں ’سب سے پہلے اور سب سے آگے یا سب سے بہتر‘ کے پرومو چلاتے نہیں تھکتے، اس خبر پر خاموش رہے۔

وہ ٹی وی اینکر جو خود کو غریبوں کا ’مشکل کشا‘ سمجھتے ہیں انہوں نے بھی چپ سادھ لی کسی نے اس خبر پر کوئی ٹاک شو نہیں کیا اور نہ اس کا حوالہ دیا۔

اسی طرح لاہور میں 2012ء میں پنجاب گروپ آف کالجز کے ایک کانسرٹ کے دوران میں بھگڈر مچنے سے تین طالبات جان بحق ہو گئی تھیں لیکن ٹی وی چینلز اس خبر کو پرائیویٹ کالج کے حوالے سے نشر کرتے  رہے اور جب اس واقعے کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوا تو یہ یہ میڈیا  کی آزادی کا ایشو بن گیا کیونکہ یہی گروپ میڈیا چینلز اور اخبارات بھی چلاتا ہے۔

گروپ کے مالک میاں عامر محمود کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر ایک گھنٹے میں واپس لے لی گئی۔

چند دن پہلے لاہور میں گُردوں کی غیر قانونی پیوند کاری کا بہت بڑا نیٹ ورک پکڑا گیا۔زیادہ تر میڈیا اس بات پر بھی خاموش رہا کہ ڈاکٹر کس علاقے میں آپریٹ کر رہے تھے؟

خبروں میں صرف ایک پوش علاقے کا ذکر تھا۔علاقے کو چھپانے کا مقصد کیا تھا کہ کہیں اس علاقے کی نیک نامی داو پر نہ لگ جائے؟

چند روز پہلے ایک ایسا ہی ایک اور واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک بڑی سوسائٹی اورچینل دونوں کی نیک نامی کو بچانے کی کوشش کی گئی۔

گزشتہ دنوں اسلام آباد میں بحریہ ٹاؤن میں اے آر وائی کے پروگرام کی ریکارڈنگ کے دوران میں سٹیج ٹوٹ کر زمین بوس ہو گیا۔ بہت سے لوگ زخمی ہوئے اور اس کے ساتھ ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئیں لیکن کسی ٹی وی چینل نے اس وقت تک اس خبر کو رپورٹ نہیں کیا جب تک سوشل میڈیا پر اس ایشو کو بار بار نہیں اٹھایا گیا۔

ٹو یٹر پر جب بحریہ انکلویو اور اے آر وائی زندگی ٹرینڈ کرنے لگا تو اس کے بعد چینلز کو خیال آیا کہ اس خبر کو دنیا ضروری ہے۔پھر کہیں جا کر قطرہ قطرہ برسنے لگا پہلے حامد میر اور پھر اس کے بعد ’ذرا ہٹ کے‘ اور پھر دیگر چینلز نے اس واقعے کو رپورٹ کرنا شروع کیا۔
https://youtu.be/PkUDi4nBTgMاگر یہی واقعہ کسی پوش سوسائٹی میں نہ ہوا ہوتا اور کوئی چینل اس واقعے میں ملوث نہ ہوتا تو اب تک میڈیا چینلز اس حادثے کی جگہ، اس میں مرنے والے افراد کی تصاویر اور گھر والوں کے آنسو سے بھرے ہوئے امیجز کو  استاد نصرت فتح علی خان کے الاپ کے ساتھ بیچ چکے ہوتے۔

سکرینوں پر ابھی تک اس واقعہ کے کی کوریج کے سب سے پہلے سب سے آگے ٹائپ پروموز چل رہے ہوتے لیکن چونکہ پوش علاقوں دولت، طاقت اور اختیارات کا ارتکاز ہے اس لیے وہاں سے خبر یں جلد منظرعام پر نہیں آتیں۔

معاشرے میں بدنیتی کے  باعث پیدا ہونے والا حرص اور لالچ سے بھرپور سانحہ بھی مسلسل جاری ہے جو انسانوں کو بندروں کی طرح نچا رہا ہے۔

جتنے بھی گیم شو ہمارے ٹی وی چینلز پر نظر آتے ہیں، خاص طور پر رمضان میں، ان میں حصہ لینے والے لوگ مڈل یا اپر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں لیکن وہ کار، موٹر سائیکل یا پھر ایک برانڈ سوٹ کے لیے کبھی ناگن بن کر ناچتے ہیں تو کبھی ناک سے لکیریں نکالتے ہیں۔

اس بھی نہیں کچھ بن پڑتا تو سیدھا مانگنے پر اترتے آتے ہیں۔جب معاشروں کے اندر اشیا کی قلت پڑتی ہے تو وہ انسانوں کو گراوٹ کا شکار کر دیتی ہے۔

ہمارے ہاں انسان سستے اور اشیا مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔

بحریہ انکلیو کے واقعے میں مرنے والی ایک عورت کے بیٹے کا انٹرویو سما ٹی وی پر نشر ہوا جو کہ ٹویٹر اور سوشل میڈیا پر بھی گردش کر رہا ہے۔ بچہ اپنی والدہ کی موت کی المناک کہانی بیان کرتا ہے آخر میں وہ جو اپیل کر رہا ہے وہ اس سے زیادہ دل خراش اور المناک ہے۔

’میں صدر پاکستان وزیر اعظم اور اے آر وائی اور بحریہ انکلیو کے مالک ملک ریاض صاحب سے اپیل کرتا ہوں کہ یا تو وہ مجھے میری ماما واپس دیں یا پھر میرے اور میرے بھائی بہن کے فیوچر کے بارے میں کچھ بہتر سوچیں‘۔

اس جملے سے کوئی بھی معنی اخذ کرنا ضروری نہیں ہے۔ یہ شاید اپنے آپ میں خود بہت کچھ کہہ جاتا ہے۔ خاص طور پر مڈل کلاس اشرافیہ کے ذہنی ساخت اس جملے سے بڑی حد تک عیاں ہوتی ہے۔