گمنام گاؤں کا آخری مزار از، رؤف کلاسرہ

Naeem Baig
نعیم بیگ

گمنام گاؤں کا آخری مزار از، رؤف کلاسرہ

تبصرۂِ کتاب از، نعیم بیگ

“شعیب کا ایسے موقعوں پر مخصوص انداز رہا ہے۔ کہنے لگا، “استاد پہلے کچھ کھا لیتے ہیں پھر سوچتے ہیں کہ ہوسٹل کیسے پہنچنا ہے؟” شعیب کی اس عادت سے ہم سب بہت تنگ تھے، مگر اس نے بھوک کا ذکر کیا۔ میرے پیٹ میں بھی چوہے دوڑنے لگے۔

ہم نے کسی سستے ہوٹل کی تلاش شروع کر دی۔ میں نے کہا چنے کی پلیٹ اور دو نان لے کر ناشتہ کرتے ہیں، جس پر دس روپے خرچ ہوں گے۔ ہم سٹیشن سے مڑ کر ایک گلی میں داخل ہوئے ایک چھوٹا لیکن صاف ستھرا ہوٹل نظر آیا، جہاں خاصی بھیڑ تھی۔ ہم دونوں جا کر بیٹھ گئے۔

ایک دس سالہ بچہ ہمارے پاس آیا اور پوچھا صاحب کیا کھانا ہے۔ میرے مُنھ سے نکلا کہ جی تو بہت کچھ کے لیے چاہ رہا ہے، لیکن تم ایک پلیٹ چھولے اور دو نان لا دو۔ وہ بچہ چونک سا گیا اور بولا تو بہت کچھ کیوں نہیں کھاتے۔

میں نے بے زاری سے کہا، “ہمارے پاس صرف دس روپے ہیں۔”

وہ بچہ چپ چاپ مڑ گیا۔ تھوڑی دیر بعد لوٹا اس نے ہماری میز پر تین پلیٹین رکھ دیں۔ نہاری پائے اور مغز۔ شعیب اور میں حیران ہوئے۔ اس سے کہا، “وہ کسی اور کا آرڈر غلطی سے ہمارے پاس لے آیا ہے۔”

وہ معصوم چہرے کے ساتھ بولا، “نہیں یہ آپ کے لیے لایا ہوں، آپ کھائیں۔ آپ بس اتنا کیجیے گا کہ جب آپ بل دینے لگیں تو کاؤنٹر پر جانے سے پہلے مجھے بتا دیں۔”

ہم کافی دیر تک اپنے سامنے پڑی پلیٹوں کو دیکھتے رہے۔ شعیب نے مجھے اور میں نے شعیب کو دیکھا۔ شعیب ایسے موقعوں پر ایک سرائیکی فقرہ کہتا ہوتا تھا کہ استاد “ڈھٹی ویسی۔” (دیکھی جائے گی) اور ہم نے کھانا شروع کر دیا۔

ہم نے کھانا ختم کیا تو وہ بچہ لسّی کے دو بڑے گلاس لے آیا۔ ہم دونوں نے جی بھر کر کھانا کھایا، لسی پی اور پھر دونوں سوچنے لگے اب کیا ہو گا۔

میں اٹھ کر کاؤنٹر کی طرف جانے لگا۔ کافی رش تھا۔ اس بچے نے دیکھ لیا اور بھاگ کر کاؤنٹر پر آیا اور کہا، “استاد جی ایک پلیٹ چھولے، دو نان۔”

میں اور شعیب سر جھکائے ہوٹل سے نکل آئے۔


متعلقہ تحریریں:

اقبال فہیم جوزی، غیر مانوس جمالیات تک کا سفر  از، رفیع اللہ میاں

ازہر ندیم کی کتاب، نظم میرا زینہ ہے، کا ایک جائزہ  تبصرۂِ کتاب از، سمیرہ رفیق


یہ مختصر سا اقتباس رؤف کلاسرہ کی زیرِ گفتگو نئی کتاب سے ایک کہانی ہے۔ ایک ایسی بھر پُور کہانی، جس میں انسان لہو روتا ہے۔

مغرب میں بھوک و افلاس پر کہیں بہتر ناول، افسانے اور ادبی تحریریں عالمی ادب کا جُھومر بنیں۔ روس سے ٹالسٹائی نے پیالہ لکھ کر، فرانس سے ژاں پال سارتر نے دوام اور دیوار لکھ کر اور یاں یانے نے بھوک لکھ کر، فرانز کافکا نے محتاج اور انصاف لکھ کر اور امریکا سے او ہنری نے بے گناہ لکھ کر بھوک کو عالمی سچ کہا۔

تاہم رؤف کلاسرہ نے جس انسانی افلاس کو زبان دی اور آفاقی سچ کا اظہار کیا وہ اس تہذیب کا ایک انوکھا بیان ہے۔ وہ افلاس زدہ کروڑوں پاکستانیوں کی اقدار کی بات کرتے ہیں اور ان کی تہذیب کا وہ پہلو سامنے لاتے ہیں جسے طبقات میں بَٹے معاشرے میں کوئی اہلِ ثروت اہمیت نہیں دیتا۔

رؤف کلاسرہ نے یہ کہانی لکھ کر اپنی ذات سے جڑے سچ کو بھی آشکار کیا۔ وہ بھوک و افلاس کی سچائی اور اس کی صداقت کو انسان کے وجود کی حقیقت سمجھتا ہے۔ رؤف کلاسرہ کی اس کتاب کو پڑھتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ اپنی زندگی کی کشتی کو بے کَراں سمندر کی لہروں پر کھیلتے ہوئے اِس نے ہمیشہ تین تپتے، خشک اور لا متناہی صحراؤں کا سامنا کیا ہے۔ ایک افلاس، دوسرا ہجرت کا دکھ اور تیسرا وجود کی باطنی تنہائی کا دکھ۔

تینوں دکھ اس کی ذات اور وجود کا حصہ بنے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانیاں جا بَہ جا بھٹکنے والے ان کروڑوں تنہا رہ جانے والے مفلس انسانوں کی ہیں، جو زندگی کی دوڑ میں ظلم اور نا انصافی کے خلاف لڑتے رہے اور ہجرت کرتے رہے۔

رؤف کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ وہ ہجرت علاقائی ہے۔ ملکی ہے یا بین الاقوامی ہے۔ وہ ہر جگہ، ہر لمحہ بات کرتے ہیں۔ وہ رکتے نہیں۔

جرأتِ خیال کا بے پناہ شور انھیں خاموش نہیں بیٹھنے دیتا۔ ان کے خیال میں یہ ارتکازِ دولت کا روپ ہے جو عالمی عِفرِیت کے بھیس میں سماجوں کو ہڑپ کر کے اس عالمی معاشی نظام میں اپنی اجارہ داری کو قائم رکھ رہا ہے۔

گمنام گاؤں کا آخری مزار کی کہانیاں ایک اور پہلو پر بھی بِلا امتیاز روشنی ڈالتی ہیں اور وہ ہے رؤف کلاسرہ کا وہ ناسٹیلجیا جو کثرتِ دیارِ غیر کی آزُردگیوں میں بالغ ذہن کی فکری صداقت کا تعین کرتا ہے۔ انسان کی روح کے گھاؤ بھر سکے ہیں یا نہیں؟ وہ ایک کھوجی کی طرح تفتیش کرتے ہیں۔

ہم بَہ حیثیت سماج ترقی کی جس منزل پر کھڑے ہیں یہ احساس اسے ہمیشہ دامن گیر رہا کہ بہت کچھ پیچھے رہ گیا ہے۔ ایک انہونی کسک انھیں مزید آگے بڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔

وہ بھوک اور افلاس کے عالمی منظر میں اپنے دکھوں کو بھول کر ایک جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس سیاسی جبر کے دور میں انھیں اہلِ اقتدار کے تہی ذوق ہونے کا قلق ہے تاہم وہ اپنی اعلیٰ ذوقی کا مظاہرہ کر کے اپنی تحریروں سے، اپنے لفظوں سے ایک پوری زخم خوردہ اور تنہا رہ جانے والے طبقے کی زبان و بیان بنتے ہیں۔

وہ ان کہانیوں میں خود کلامی کرتے ہیں۔ رؤف کلاسرہ کو احساس ہے کہ ہمارے درمیان ایک خلاء پیدا ہو گیا ہے۔ جس کو آج کوئی الہامی، مادی، معاشرتی اور تہذیبی حوالہ پاٹنے یا پر کرنے پر نا کام ہو گیا ہے۔ یوں انسانی قربت، محبت اور چاہت کے اٹوٹ رشتے اِن کی تحریروں میں ایک ہنر کی طرح نظر آتے ہیں۔

مجھے یہ کہنے دیجیے کہ گمنام گاؤں کا آخری مزار کی کہانیاں اور واقعات نہ صرف ادبی و شعری صداقت کے امین ہیں، بل کہ پورے شعور سے بکھری ہوئی ان انسانی آوازوں کو تلاش کرتے ہیں جو انسانوں کی بیچ پھیلے ویرانے کو گُل زار بنا دے تا کہ رشتوں کے گھاؤ خود بہ خود بھرنے لگیں۔

رؤف کلاسرہ کا یہ کرب ذات یا انسانی انحراف کی شکل میں سامنے نہیں آیا، بَل کہ انسانی وجود کے اثبات یا نفی کی علامت بن کر سامنے آتا ہے۔ یہی اس کتاب کی خوب صورتی ہے، جہاں وجود کا اثبات الہامی یا تصوراتی نہیں، بل کہ ایک مکمل حقیقت اور ادراک کی کہانی ہے، جہاں انسان اپنی پوری بصیرت اور بصارت کے ساتھ کل میں تحلیل ہونے کی کوشش کرتا ہے۔

آپ کتاب پڑھیں اور خود فیصلہ کریں کہ رؤف کلاسرہ کام یاب ہوئے ہیں کہ نہیں۔

About نعیم بیگ 140 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔