aik Rozan ایک روزن
DigiMAP logo

aik Rozan ایک روزن

a post-humanist visage of an evolving society

  • مرکزی صفحہ
  • اداریہ
  • ترجمے زبان و ادب دیگراں
  • مطالعۂِ خاص و فکر افروز
  • مصنف اور تصنیف و تالیف: روزن تبصرۂِ کتب
  • خبر و تبصرہ: لب آزاد ہیں تیرے
  • ماحولیات، پائیدار مستقبل اور تعلیم و ترقیات
  • جمالِ ادب و شہرِ فنون
  • رابطہ
    • ہمارے بارے میں
      • ہمارےلیے لکھنے کا طریقہ
  • Roman Script Languages: English Parlour
14th February 2026

آبادی کا بم اور بے دل سیاست و ریاست

10th September 2017 امتیاز عالم مطالعۂ خاص و فکر افروز Comments Off on آبادی کا بم اور بے دل سیاست و ریاست
imtiaz Alam aik Rozan writer
امتیاز عالم، صاحبِ مضمون

آبادی کا بم اور بے دل سیاست و ریاست

امتیاز عالم

لیجیے ایک اور بم دھماکہ چھٹی مردم شماری نے ظاہر کر دیا۔ جی ہاں! یہ بم دھماکہ سب سے مہلک ہے: زمین کے لیے، قدرتی ذرائع کے لیے، ملکی خوشحالی کے لیے، وطن کی سلامتی کے لیے اور سب سے بڑھ کر انسانوں کی بھلائی کے لیے۔ اور یہ ہے آبادی کا دھماکہ۔ 19 برس میں ہم تیرہ کروڑ سے تقریباً 21 کروڑ (20 کروڑ 78 لاکھ) ہو گئے ہیں۔ پہلے ہی کیا ہماری بھاری اکثریت کے لیے زندگی کرنے کا عذاب کیا کم تھا کہ اب مزید آٹھ کروڑ لوگوں کا بوجھ آن پڑا ہے۔ البتہ لڑکیوں کی پیدائش کو عذاب سمجھنے والے حضرات کی دُختر کُشی یا پھر پدر شاہی نظام میں عورتوں سے کی جانے والی زیادتیوں کے باعث اب عورتوں کی تعداد کم ہو چلی ہے۔

اکثر بچیوں کا قتل شکمِ مادر میں ہی کر دیا جاتا ہے۔ اب اگر 105 مرد ہیں تو عورتیں فقط 100۔ ایک طرف بچیوں کی پیدائش پہ نوحہ خواں اور دوسری جانب کثیر الزوجی پہ اصرار۔ کوئی ہے جو اس منافقت کو فاش کرے؟ پہلے ہی پاکستان کے پاس قدرتی وسیلے محدود ہیں اور علاقہ بھی متعین۔ آخر آبادی میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہا تو ان حشرات الارض کا کیا ہوگا۔ فقط اللہ پر چھوڑنے سے مملکت اور حکومتوں کی آبادی اور خاندان کی منصوبہ بندی سے مجرمانہ غفلت پہ پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔

بچے زیادہ سے زیادہ پیدا کرنے کی جہالت میں کیا ہم بھول گئے ہیں کہ اِس مملکت خداداد میں دو تہائی سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر کے اُوپر نیچے ہیں۔ 84 فیصد کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ آدھی سے زیادہ آبادی ناخواندہ اور تقریباً 99 فیصد جاہل ہیں۔ 44 فیصد بچے ذہنی و جسمانی طور پر لاغر ہیں، 55 فیصد بچے غیرصحت مند ہیں اور بیروزگاروں، بیکاروں، لاغروں، جاہلوں، کنگالوں اور غریبوں کا ایک جمِ غفیر ہے جو ہم سے زندگی کی بنیادی سہولتوں، صحت و تعلیم، پانی، ایندھن، مناسب خوراک، اچھا ماحول اور چھوٹی موٹی خوشیوں کا تقاضا کر رہا ہے۔

لیکن اُن کی آہ و بُکا سننے والا کوئی نہیں، نہ جمہوریت پسند، نہ آمریت پسند، نہ سرکار، نہ عدالتیں، نہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور نہ سلامتی کے محافظ۔ ایک طرف امیروں کی عالیشان نجی اور ڈیفنس کی بستیاں ہیں جہاں جدید زمانے کی ہر سہولت اور آسائش موجود ہے اور دوسری طرف کروڑوں گھروندے ہیں جہاں غلاظت ہے، تاریکی ہے، بھوک و افلاس ہے، جہالت ہے، بیماری ہے، آہیں ہیں اور اُمید کی کوئی کرن بھی نہیں۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ اور ہم کب تک اپنے مقدروں کو کوستے رہیں گے؟

اگر کسی بستی میں آبادی کی انسانی سلامتی و خوشحالی نہیں تو وہ بستی کیسے آباد رہ سکتی ہے؟ اس کی نہ حکمران جماعتوں کو فکر ہے، نہ مقتدر اداروں کو۔ امرا کی ترقی اور ریاستی طاقت کے فروغ کے پاکستان کے سیاسی و معاشی ترقی کے ماڈل میں عوام الناس کی کوئی گنجائش ہے نہ کوئی مواقع۔ استحصالی اشرافیہ اور مقتدر اداروں کو بس اگر فکر ہے تو اپنی، بھاڑ میں جائے عوام کی سلامتی۔ اگر ترقی و معاشی نمو کا تصور ہے تو بس اتنا کہ امیر امیر تر ہوتے جائیں اور سول و ملٹری بیوروکریسی اَور بھاری بھر کم ہوتی جائے۔

اوّل تو امیر لوگ ٹیکس دینے کو تیار نہیں (آدھی سے زیادہ کارپوریٹ کمپنیاں ٹیکس ریٹرنز ہی جمع نہیں کراتیں، تاجر دمڑی دینے کو تیار نہیں اور زمیندار اشرافیہ کو ٹیکس معاف ہے) اور جو ریونیو اکٹھا بھی ہوتا ہے تو وہ یا تو بے ثمر قرضوں کی نذر ہو جاتا ہے، یا پھر فوجی سلامتی پر اور مانگے تانگے کے پیسوں سے کار سرکار کا دھندہ چلایا جاتا ہے۔ جو نام نہاد ترقیاتی بجٹ ہوتا ہے، اس کا بڑا حصہ بھی امرا کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ سرمائے کا چند ہاتھوں میں ارتکاز اس بنیاد پر ہے کہ عوام کی عظیم اکثریت اسے پیدا کرنے کے باوجود اس سے محروم رکھی جائے۔

ہماری ترقی کا ماڈل بس دو بڑے مراکز تک محدود ہے اور وہ ہیں کراچی اور وسطی پنجاب۔ بھلا ایسے استحصالی نظام میں لوگ جئیں تو کیسے؟ نہ محنت کا صلہ اور نہ کسی کام کا گزارہ۔ زور اس بات پر ہے کہ ہم پانچویں بڑی نیوکلیئر اور فوجی طاقت ہیں جو ہر ہمسائے سے دست و گریباں ہے اور یہ بھلاتے ہوئے کہ ہم ایک مفلوک الحال قوم ہیں۔ ہم سلامتی کی جنگجو ریاست تو ضرور ہیں، لیکن اس میں عوام کی سلامتی اور بھلائی کی کوئی گنجائش نہیں۔ پھر بھلا کوئی آبادی کی منصوبہ بندی کیا خاک کرے اور خاندانی منصوبہ بندی تو ویسے ہی حرام قرار دی گئی ہے۔

کیا المیہ ہے کہ آبادی کا بم پھٹ پڑا ہے اور کسی پارٹی، کسی میڈیا، کسی عالم، کسی جج اور کسی جرنیل کو مجال ہے کہ فکر لاحق ہوئی ہو۔ اگر کوئی مباحثہ شروع بھی ہوا ہے تو وہ اس پر کہ ہماری آبادی کیوں نہیں بڑھی اور یہ بھولتے ہوئے کہ جو پہلے سے موجود ہیں اُن کے تن پر آپ نے کوئی کپڑا یا اُن کا کوئی نوالہ آپ نے چھوڑا ہے۔ مختلف قومیتوں اور لسانی گروہوں کے نمائندہ حضرات کو فکر ہے تو قابلِ تقسیم ٹیکسوں میں اپنی آبادی کی بنیاد پر اپنا حصہ بڑھانے کی۔ بھلا کسی کے جائز حصے پر کوئی کیوں اعتراض کرے گا، لیکن اس کے لیے آبادی کے بم کی تباہ کاری کی شرح میں اضافے کا مدعا مضحکہ خیز نہیں تو کیا ہے؟

میرے دوست سندھی قوم پرست اور پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو نے ’’سندھ کے خلاف سازش‘‘ کو خوب بھانپا ہے، اس کے باوجود کہ سندھ کی آبادی میں اضافہ قومی شرح سے تھوڑا زیادہ ہی ہے۔ (2.41 فیصد) اور سندھیوں کا پاکستان کی کل آبادی میں تناسب (23 فیصد) اتنا ہی ہے جتنا 1998ء میں تھا۔ اُن کے ساتھ دُہائی میں اگر شامل ہوئے بھی ہیں تو ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار لیکن سندھی مخالف بنیاد پر کہ شہری آبادی، خاص طور پر کراچی کی آبادی، جتنی زیادہ بڑھنی چاہیے تھی بڑھی نہیں۔ حالانکہ سندھ واحد صوبہ ہے جس کی اکثریت (52 فیصد) اب شہروں میں رہتی ہے۔ لیکن ہمارے مہاجر خلوت پسند شاید بھول بیٹھے ہیں کہ اب سندھی شہروں میں اُردو بولنے والے مہاجروں کی اکثریت نہیں رہی۔

جتنی کراچی کی آبادی بڑھے گی، اُتنی ہی مہاجروں کی تعداد نسبتاً کم ہوتی جائے گی۔ اُن کی حمایت میں اگر اُترے بھی ہیں تو ہمارے کراچی کے سماجیاتی دانشور جنہوں نے شہری علاقے کی انتظامی تعریف کا معاملہ اُٹھا کر کراچی کی آبادی میں کم اضافے کا رونا رویا ہے۔ رونا تو انہیں اس پہ چاہیے کہ گزشتہ بیس تیس سالوں میں کراچی کا جو حشر لسانی دہشت گردوں اور بعد ازاں فرقہ پرست دہشت گردوں نے کیا تو کراچی کی جانب انخلا کی بجائے۔ اُلٹا لوگ کراچی سے بھاگنے کے رستے تلاش کرنے لگے۔ پھر بھی کراچی کی آبادی میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ اس میں منگھوپیر اور مغربی کراچی شامل نہیں ہیں۔

فاٹا کے لُٹے پٹے لوگوں کا سوال اپنی جگہ، لیکن آبادی کے بم سے سب سے زیادہ فیضیاب ہمارے خیبرپختون خوا اور بلوچستان کے پشتون علاقے ہوئے ہیں۔ اس فیضیابی میں فاٹا سے لوگوں کا شہروں کی جانب انخلااور افغان مہاجرین کی بڑی بڑی تعداد کا مردم شماری سے فیض پانا ہے۔ خیبرپختون خواکی آبادی ہماری دُعاؤں کے طفیل 2.89 فیصد کی سالانہ رفتار سے بڑھی ہے، جبکہ کوئٹہ ڈویژن کی آبادی تقریباً تگنی ہو گئی ہے۔ (سترہ لاکھ بیس ہزار سے بیالیس لاکھ)۔ یوں پختونوں کو نیشنل فنانس کمیشن سے آبادی کی بنیاد پر مالی وسائل بھی زیادہ ملیں گے اور قومی اسمبلی میں پانچ چھ نشستیں اور مل جائیں گی۔

اگر کوئی آبادی کے تناسب میں اپنے ہی صوبے میں پیچھے رہ گیا ہے تو وہ غریب بلوچ ہیں۔ ژوب اور نصیر آباد میں یہ کمی 2.1 فیصد، قلات اور سبی میں 1.6 فیصد اور مکران میں 0.6 فیصد ہے۔ بلوچ قوم پرست رہنماؤں نے پہلے ہی جائز اعتراض کیا تھا کہ افغان مہاجر مردم شماری میں شامل کر لیے جائیں گے اور غالباً ایسا ہی ہوا ہے۔ اس سے بلوچوں میں پختونوں سے علیحدہ صوبے کی آس بڑھے گی۔ لیکن شاید پہلی بار پنجاب اچھے گھاٹے میں رہا ہے اور اس کی آبادی میں بڑھوتری کی شرح قومی اضافے کی شرح سے کم رہی ہے (2.13 فیصد)۔ اس طرح کل آبادی میں پنجاب کا تناسب 55.6 فیصد سے کم ہو کر 52.9 فیصد رہ گیا ہے۔

اسی تناسب سے پنجاب کا مالی حصہ کم ہوگا اور پانچ یا چھ قومی اسمبلی کی نشستیں بھی کم ہو جائیں گی۔ لیکن آبادی کا ایک بڑا ہجوم لاہور (اکیاون لاکھ سے ایک کروڑ گیارہ لاکھ) اور اس کے اردگرد کے اضلاع گوجرانوالہ، شیخوپورہ، فیصل آباد، سیالکوٹ اور اوکاڑہ میں جمع ہو گیا ہے۔ یوں وسطی پنجاب سیاست اور معیشت کا موثر ترین مرکز بن گیا ہے۔

ظاہر ہے سرائیکی وسیب میں اس پر ردّعمل آئے گا جو ترقی میں عدم شمولیت اور تختِ لاہور کے استحصال کا شاقی ہے۔ گو کہ ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خاں اور سرگودھا کی آبادی اب پنجاب کی آبادی کا 46.71 فیصد ہے، اس کی محرومی و پسماندگی پر سرائیکیوں کا غصہ وسطی پنجاب کی چمک دمک کے باعث کچھ زیادہ ہی بڑھتا نظر آتا ہے۔ نتیجتاً سرائیکی صوبے کی تحریک چلانے کے لیے لوگ بیتاب بیٹھے ہیں۔

طبقاتی محرومیوں کے ساتھ ساتھ یقیناً بہت وسیع علاقائی نابرابریاں بھی ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے۔ لیکن محروم علاقوں کے وڈیرے اور سردار کونسا اپنے علاقوں کو اپنی غلامی سے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ تو بس اپنے حصے کے لیے سرگرداں ہیں اور اُن کے ہاری، اُن کی رعایا اُن کی غلامی کا بھاڑ جھونکتی ہے۔ آبادی کے بم پر قابو پانا ہر جگہ ضروری ہے اور خاندانی منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ آبادی کی خوشحالی، روزگار، صحت و تعلیم اور خوشی کے لیے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو نوجوانوں اور غریبوں کا جمِ غفیر بپھر کر ایسے استحصالی نظام کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتا ہے جس میں اس کی کوئی جگہ نہیں۔ لیکن کیا ریاست و سیاست و معیشت بدلنے کو تیار ہے؟ افسوس کہ آبادی کے بم سے نپٹنے کو سیاست و ریاست کے پاس دل نہیں!

بشکریہ: روزنامہ جنگ

  • Census 2017
  • Census in Pakistan
  • Fertility Rate Pakistan
  • NFC Share
  • Pakistan Census 2017
  • Population Explosion
  • انتخاب
Dr Shah Muhammed MarriPrevious

یہ بورژوا سیاست ، یہ اتنی مہمل سیاست

بے نظیر بھٹو شہیدNext

بے نظیر بھٹو : خوں جو رائیگاں گیا

Related Articles

ہمارے معاشرے میں درندگی
مطالعۂ خاص و فکر افروز

ہمارے معاشرے میں درندگی کیوں بڑھ رہی ہے؟

16th April 2017 رضا علی مطالعۂ خاص و فکر افروز Comments Off on ہمارے معاشرے میں درندگی کیوں بڑھ رہی ہے؟

ہمارے معاشرے میں درندگی کیوں بڑھ رہی ہے؟ (رضا علی) مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں بے دردی سے قتل ہونے مشعل خان نے اس سوتی ہوئی قوم کو پھر جھنجوڑ دیا ہے- عام طور […]

Farrukh Nadeem
مطالعۂ خاص و فکر افروز

فکشن، مقامی فلم، معاشرہ اور تصور وقت

23rd October 2018 فرخ ندیم مطالعۂ خاص و فکر افروز 1

فکشن، مقامی فلم، معاشرہ اور تصور وقت از، فرخ ندیم ماضی میں، فکشن میں تصور وقت فکشن کی مکانی دنیا کو نظر انداز کر کے متنایا گیا۔ اور ایسے وقت کو ترجیح دی گئی جو […]

فراریت پر مبنی رویے
مطالعۂ خاص و فکر افروز

فراریت پر مبنی رویے

7th September 2017 NoteworthyReads رہنما تحریریں مطالعۂ خاص و فکر افروز Comments Off on فراریت پر مبنی رویے

فراریت پر مبنی رویے شبنم گل زندگی کے کئی روپ ہیں۔ یہ روپ انسان کو وقت اور حالات کے تحت بدلنے پڑجاتے ہیں۔ معاشرے کی طرف دیکھیے تو ہر سمت نقاب در نقاب چہرے اداکاری […]

تازہ ترین مضامین

  • Khalid Fateh Muhammed
    جمالِ ادب و شہرِ فنون

    شنکر جے کشن: راگ، جاز اور فلمی موسیقی کے سنہری سال

    کیا آپ جانتے ہیں شنکر جے کشن نے فلمی موسیقی کو عوام اور خواص کا مشترکہ خواب کیسے بنا دیا؟ اس جوڑی کے کمال دھن، جاز فیوژن اور راگوں کی بے مثل پیشکش کی کہانی پڑھیے، وہ جو آج بھی دلوں پر راج کر رہی ہے! […]

  • Khalid Fateh Muhammed
    جمالِ ادب و شہرِ فنون

    ون مین آرکسٹرا سجاد حسین: ایک ناکام مگر با کمال موسیقار کی داستان

    سجاد حسین کی زندگی اور موسیقی کی داستان: مینڈولین کو کلاسیکل موسیقی میں مقام دلانے والا یہ با کمال موسیقار اپنی کاملیت پسندی اور اصول پسندی کے باعث فلمی دنیا میں تنہا رہ گیا۔ پڑھیے خالد فتح محمد کی تحریر “ون مین آرکسٹرا”۔ […]

  • der se ruki hui zindagi short story
    جمالِ ادب و شہرِ فنون

    دیر سے رکی ہوئی زندگی

    ایسے شخص کی کہانی ہے جو سمندری طوفان کے بعد ماضی کی یادوں سے نجات چاہتا ہے۔ کیا وہ اپنی بکھری ہوئی یادوں کو سمندر میں بہا کر ایک نئی زندگی شروع کر پائے گا؟ ایک گہری جذباتی اور پُر اسرار داستان۔ […]

  • rahim moeeni kirmanshahi
    جمالِ ادب و شہرِ فنون

    رحیم معینی کرمانشاہی، نیّر مسعود اور صبرِ خدا 

    رحیم معینی کرمانشاہی کی بصری شاعری، نیّر مسعود کا دلگ داز ترجمہ صبرِ خدا، اور ایرانی شعری روایت کے جمالیاتی اور فکری پہلو… ڈاکٹر ارسلان راٹھور کے اس مضمون میں گیت، نظم، تنہائی اور تخلیق کے اسباب پر ایک خوب صورت اور بصیرت افروز گفتگو […]

  • fazal kabir peshawar pakistan
    مصنف اور تصنیف و تالیف: روزنِ تبصرۂِ کُتب

    ادب کی محفل کا چراغ، ناصر علی سید

    خیبر پختون خوا کے ادبی منظرنامے کے مہکتے چراغ، ناصر علی سید کی فکری، تخلیقی اور تہذیبی جہتوں کا ایک خوب صورت تعارفی نوٹ۔ خیالِ خاطرِ احباب میں ان کے اسلوب کی لطافت، ادب سے دوستی اور تخلیق کار سے دل کی بات سننے کا ہنر جھلکتا ہے۔ […]

  • Khalid Fateh Muhammed
    خبر و تبصرہ: لب آزاد ہیں تیرے

    پاکستان اور ہندوستان جنگی خبط، عوامی دکھ اور رابطوں کی بحالی کی امید

    جنگی خبط، عوامی دکھ، اور رابطوں کی شکست و ریخت
    کیا پاکستان اور ہندوستان کبھی نفرت سے آگے بڑھ کر عوامی روابط کی میز پر آ سکیں گے؟
    خالد فتح محمد کے اس فکرانگیز […]

  • fazal kabir peshawar pakistan
    خبر و تبصرہ: لب آزاد ہیں تیرے

    زبان، طاقت اور شناخت بہ حوالہ گوگی وا تھیونگو کا ادبی و فکری منظر نامہ

    گوگی وا تھیونگو کی فکری و ادبی مزاحمت کا جائزہ، جو زبان، طاقت، اور شناخت کے درمیان گہرے رشتوں کو آشکار کرتا ہے۔ یہ تحریر دکھاتی ہے کہ ادب صرف جمالیاتی اظہار نہیں، بَل کہ آزا […]

  • Naeem Baig
    جمالِ ادب و شہرِ فنون

    خِردِ شفاعت گر

    نعیم بیگ کی مختصر کہانی ’خِردِ شفاعت گر‘ میں ایک خاتون کی فیس بک ہیکنگ اور مصنوعی ذہانت سے نبرد آزمائی کو فکری، طنزیہ اور جذباتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کہانی ڈیجیٹل زمانے کی انسانی بے بسی کا عکاس ہے۔
    […]

  • dr rafiq sandelvi
    مطالعۂ خاص و فکر افروز

    تخلیقی عمل میں غیب و حضور کا قضیہ

    شاعری مرصع سازی کا وہ فن ہے جو ریاضت کے بغیر ممکن نہیں۔ الفاظ کو ایک خاص ترتیب میں لانا اور انہیں ایک دلکش شکل دینا، بالکل ایسے ہی ہے جیسے نگینوں کو جَڑنا۔ مطلب یہ کہ تخلیقی عمل محنت، مہارت اور بصیرت کا متقاضی ہوتا ہے۔ […]

  • yasser chattha aprilmay2025
    Roman Script Languages: English Parlour

    Between the lines of conflict: a conversation across Borders

    In this reflection from a tense April–May 2025, I share a phone call with a friend in India, the pain in my younger brother’s voice, and the heartbreaking honesty of my son, Fereydoun.
    This isn’t a story of politics. It’s a call from one human heart to another. […]

عنوانات
  • اداریہ
  • خبر و تبصرہ: لب آزاد ہیں تیرے
  • جمالِ ادب و شہرِ فنون
  • ترجمے زبان و ادبِ دیگراں
  • مطالعۂ خاص و فکر افروز
  • مصنف اور تصنیف و تالیف: روزنِ تبصرۂِ کُتب
  • ماحولیات، پائیدار مستقبل اور تعلیم و ترقیات
  • Roman Script Languages: English Parlour
aik Rozan on Facebook
رابطہ
  • ایک روزن کی ٹیم
  • ایک روزن پہ کیسے لکھا جائے
ادارتی نوٹ
  1. پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا قطعی ضروری بھی نہیں ہے۔ کاپی رائٹ “ایک روزن” ڈاٹ کام ہے۔
  2. بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے۔ اس سے بھی زیادہ یہ ایک اخلاقی جرم ہے۔ پیشہ ورانہ اخلاقیات قانونی پابندیوں سے بہ قدرے زیادہ مؤثر و توانا ہونا اچھے اور دیانت دار معاشروں کا اہم اشاریہ ہوتے ہیں۔
  3. البتہ “ایک روزن” ایک نان کمرشل ادارہ  ہونے کی وجہ سے آرٹیکلز نقل کرنے کی مشروط اجازت دیتا ہے کہ آپ اس کا مناسب حوالہ اور ساتھ لنک دیجیے۔

حوالہ اور لنک دے کر شائع کیا جا سکتا ہے۔