سول ملٹری تعلقات ، شخصیات کے تابع کیوں؟

ایک روزن لکھاری
نعیم بیگ، صاحبِ مضمون

سول ملٹری تعلقات ، شخصیات کے تابع کیوں؟

نعیم بیگ

پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں چار مارشل لاء حکومتوں کی میعاد تقریباً پینتیس برس رہی۔ دوسرے لفظوں میں آج تک کے پورے عرصے میں سول، ملٹری شراکت نصف نصف رہی۔ پہلے حصے میں (۱۹۴۷۔۱۹۷۱ء) تو جمہوری آئین ہی نہ بن سکا تھا، جس کے جواز پر سول حکومتوں کا دھڑن تختہ ہوتا رہا ، لیکن اگلے حصے میں ( بعد از علیحدگی مشرقی پاکستان) ہر دو مارشل لاء (ضیا، مشرف) تقریباً بائیس برس تاریخ کا حصہ بنے۔ اب وجوہات کچھ بھی رہی ہوں ،وہ معروضی حالات میں مباحث کی طالب رہیں گی ، تاہم ان غیر جمہوری اقدامات پر ہم عالمی سطح پر شرمندہ ہوئے، بلکہ اس حد تک بدمزگی پیدا ہوئی کہ سولائزڈ دنیا نے ہر دو مارشل لاؤں کے بعد ہمارا معاشی و سماجی ناطقہ بند کر دیا۔

فوج کا سر فہرست الزام ہمیشہ سول انتظامیہ کا مالی کرپٹ ہونا ٹھہرا۔ جبکہ سول انتظامیہ ہمیشہ اختیارات کی کمی اور فوج کی بے جاٗ مداخلت کا رونا روتی رہی۔ حال ہی میں سابق صدر پاکستان پرویز مشرف نے ایک انٹرویو میں سول انتظامیہ کو پرلے درجہ کا نااہل اور کرپٹ قرار دیا ہے۔ان کا یہ کہنا کہ آئین اتنا اہم نہیں، جتنا ملک اہم ہے۔ یہ وہی نقطہ نظر ہے جو ایک بار ضیا الحق نے سیاست دانوں کے بارے میں انھیں ہڈی کے پیچھے آنے والا جانور کہا تھا اور یہ کہ آئین کوئی آسمانی صحیفہ نہیں۔ اسے جب چاہوں پھاڑ دوں۔ ایسے دو ٹوک بیانات خالصتاً فوجی ذہنیت کے غماز تھے، جو کسی بھی جمہوری نظام میں ناکامی کا باعث ہو سکتے ہیں اور ایسا ہوا بھی۔ یہ میرا حسن ظن ہے کہ میں ایسے بیانات کو ان حضرات کے شخصی بیانات سمجھتا ہوں، جس میں فوج کی اجتماعی سوچ کا عمل دخل کم ہی ہے۔

سیاست دانوں کا مطمع نظر یہ ہے کہ سول اور فوجی بیوروکریٹس کی قیادت نے اپنی مراعات کو لیگلائز کر لیا ہے، جبکہ سیاست دانوں کی چھوٹی موٹی غلطیوں (بقولِ خود )کو احتساب کی نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں، اگر احتساب ہو تو پھر سب کا ہو ورنہ سب آزاد۔ یہ نقطہ نظر بھی جمہوری روایات سے رو گردانی کے مصداق ہے۔ جمہوری تقاضے ہمیشہ احتساب کے ہمراہ پا بہ رکاب ہوتے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں جو بھی ہوگا۔

(یہاں انتظامیہ کے سبھی حصہ داران بشمول سول ، فوجی بیوروکریٹ اور سیاست دان) انھیں سہ طرفہ احتساب کا سامنا کرنا ہوگا ، پہلا احتساب انتظامی اداروں کے ذریعے اور دوسرا احتساب عدلیہ اور تیسرا احتساب عوامی سطح پر ووٹوں کے راستے، یہی جمہوریت کا جوہر ہے ورنہ جمہوریت صرف انسانوں کی گنتی کا نام نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ آج فکری بالیدگی کے فقدان کی وجہ سے پورے ملک میں انتہا پسندی، دہشت گردی اور لسانی و فقہی تفرقہ بندی ایک زہر کی طرح پھیل چکی ہے۔ ایسے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کوجب اقدامات کرنے پڑتے ہیں، تو ان جرائم پیشہ عناصر کی پشت پر سیاسی قیادت کی موجودگی کا احساس ہوتاہے، جیسے کراچی کے ایک بڑی لسانی جماعت کو قانون کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ان عناصر کو پنپنے کس نے دیا ۔۔۔۔ یہ ایک ایسی جہت ہے ، جو انتہائی غور طلب ہے۔

ملکی سیاست میں یہ وہ افقی منظر ہے ،جو ایک سنجیدہ اور پڑھے لکھے شہری کو نظر آتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ ہر شخص اپنی محب الوطنی کی دوسرے فریق سے تصدیق کرائے۔ دونوں فریق آخر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اداراتی نظم کو جنم کیوں نہیں دیتے۔ وہ کیوں اداروں کے درمیان ورکنگ ریلشنز کو شخصیات کے حوالوں سے دیکھتے ہیں۔ ایسے میں جب شخصیات کے مفادات کا ٹکراؤ ہوتا ہے، تو یکلخت دو ادارے سول انتظامیہ و عسکری ادارے ایک دوسرے کے سامنے یا پس پردہ ٹکراؤ کی پوزیشنوں پر چلے جاتے ہیں۔ بد اعتمادی کی ایسی فضا پھیلتی ہے ،جس کے اثرات بعد میں پوری قوم کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ اس میں غیر پروفیشنل اور مالی مفادات کے تحت منقسم میڈیا کا ایک حصہ مزید پٹرول چھڑکنے کا کام کرتا ہے۔

نواز شریف کے دوسرے دور میں جنرل جہانگیر کرامت نے انتہائی دیانت داری سے اشتراک اقتدار کی عملی شکل کو قانونی درجہ دینے کی تجویز دی تھی، جس پر ہیوی مینڈیٹ نے انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ جنرل وحید کاکڑ کے بعد  آنے والے دونوں جنرلز جہانگیر کرامت اور پرویز مشرف کا سویلین حکومت سے ٹکراؤ اسی تسلسل میں تھا، جو سیاسی حکومت کی اپنی مکمل بالادستی کی خواہش کا ہونا تھا تب حالات بالآخر مارشل لاء پر منتج ہوئے۔

آئین کی شِق۲۔۵۸ بی کے ختم ہوجانے بعد اکثریت کی رائے تھی کہ آئین میں پریشر والو ختم ہو گیا ہے، جس سے مارشل لاء کا راستہ پھر کھل گیا ہے ۔ کسی حد تک بات درست تھی۔ بعد ازاں یہ ثابت ہو گیا۔ وجہ کوئی بھی رہی ہو، ۱۹۹۹ء میں ملک میں ایک بار پھر مارشل لاء لگ گیا۔ ایسے معروضی حالات میں قومی ترقی، معروف عالمی جمہوری تقاضوں کے پیش نظر ایسا کیا کیِا جائے ؟ کہ مارشل لاء اس ملک سے دور رہے۔ یہ آج کا اہم ترین قومی مسئلہ ہے جسے اگر حل نہ کیا گیا، تو یہ اختلاف سیاسی و عسکری شخصیات کے اپنے اپنے چوائس پر منحصر رہے گا۔

کیا عسکری اداروں کو انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ سے دور رکھا جائے؟ یا پھر انہیں شامل حال کر کے ہمیشہ کے لیے انتظامیہ کے دائرہ کار کا کوئی ایسا منصوبہ تیار کیا جائے جس میں محکماتی اور اداراتی تقسیمِ کار طے ہو جائیں۔

یہ جہت ابھی غور طلب ہے۔ اصولی اور آئینی طور پر تو عسکری ادارے انتظامیہ کا جزو لاینفک ہیں۔ سینٹ میں چیرمین سینٹ کے اٹھائے گئے حالیہ سوالات اور ملفوظات کو بادی نظر میں ہم نواز شریف کے ایک دو روز پہلے کے بیانات کی روشنی میں دیکھیں، جہاں انھوں نے گرینڈ نیشنل ڈائیلوگ کی بات کی ہے تو یوں محسوس ہوگا کہ سیاسی قوتیں اب اس طرف راغب ہیں کہ طاقت کے آئینی سرچشمے صرف تین ہی ہیں جو آئین میں رقم ہیں۔ انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ ۔ ہم کیوں نہ انھی تین اداروں کو آپس میں مربوط کریں۔ لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے میں فوج کہاں کھڑی ہوگی؟

میری عرض یہ ہے کہ فوج چونکہ انتظامیہ کا مضبوط حصہ ہے، اسے انتظامیہ کے ساتھ مل کر ایک ایسے لائحہ عمل پر اتفاق کرنا ہوگا، جس میں انہیں انتظامی سہولتیں مہیا کر دی جائیں اور نیشنل لیول پر نہایت پر وقار طریقے سے وہ سیاسی قیادت کو مربوط مالی، سماجی، اورفکر و دانش کا ایسا پلیٹ فارم مہیا کرے جہاں ان کیمرہ ڈائیلوگ مسلسل جاری رہیں۔ (اس ضمن میں نیشنل ڈیفنس کالج کے اندر قومی سطح کی سیاسی چیئر بھی قائم کی جا سکتی ہے۔) جب ایشوز اس سطح پر ہوں، تو انہیں پبلک کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی میڈیا کو اس میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

یہاں کے فیصلے بعد ازاں جب مقننہ میں لائیں جائیں تو بھلے پورا میڈیا اس پر اپنا معمول کا ٹرائل کرے، لیکن جو بات پہلے ہی سیاسی طور پر فورم پر طے ہو چکی ہو اس پر اثر نہیں پڑے گا۔ بعد ازاں ان ایشوز کو قانون کا حصہ بنا کر عوامی سطح پر پیش کر دیا جائے۔ جب ایسے نازک معاملات میڈیا کی دخل اندازی سے بچیں رہیں گے، تب یہ ممکن ہو سکے گا کہ اختلافات اپنی ابتدائی شکل میں حل ہو جائیں گے بجائے اس کے کہ دیگر ادارے اس میں اپنا اَن وانٹڈ کردار ادا کریں۔ یہاں میڈیا کو اس ابتدائی مراحل سے دور رکھنا درحقیقت نازک معاملات کو عالمی سطح کے میڈیائی اثرات سے محفوظ رکھنا ہے۔

یہ ایک خام تجویز ہے اس کو اہل علم و دانش مزید ریفائن کر سکتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اختلافات جو انتطامیہ کے اندر ( فوج اور سول میں) پیدا ہوتے ہوں انہیں وہیں ختم یا طے کر لیا جائے اور وہ شخصیات کے طابع نہیں رہیں گے۔ دوسرے خارجی اور داخلی معاملات پر کسی لائحہ عمل سے پہلے سول اور ملٹری دانش ایک پیج پر آجائے گی۔ اس طریق کار کا سب سے بڑا فائدہ ملکی سیاسی تسلسل اور ترقی کا بہاؤ متاثر نہیں ہوگا۔

About نعیم بیگ 141 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔