مشہور آدمی اور مانگے کے سگریٹ

سلمان حیدر

مشہور آدمی اور مانگے کے سگریٹ

از، سلام حیدر

پاکستان کی تاریخ کے حساب رکھیے تو آج میری مختصر اغواء سے باز یابی کو تین سال ہو رہے ہیں۔ مجھے رات کو کوئی آٹھ ساڑھے آٹھ بجے سہالہ کی ایک ویران سڑک پر گاڑی سے اتارا گیا اور آنکھوں سے پٹی کھولنے سے پہلے ہتھ کَڑی کھول کر میرے ایک ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ اور دوسرے میں ایک ڈبہ تھما دیا گیا۔

شاپنگ بیگ میں میرے کپڑے جو میں نے اغواء کے وقت پہن رکھے تھے، ایک چیک بک اور کچھ کاغذات جو میری گاڑی کے ڈیش بورڈ سے نکالے گئے تھے، میری بیلٹ، موزے، ہاتھ کا کڑا اور چھلا، جوتوں کے تسمے، بٹوا اور الم غلم جانے کیا کچھ تھا۔

ڈبہ ایک جِگسا پزل کا تھا جو مجھے اغواء سے قبل تِھیئٹر والے کے دفتر سے نکلتے ہوئے میری دوست نے میرے بیٹے کے لیے دیا تھا۔

رخصت کرنے سے قبل مجھے ایک سفید شلوار قمیض پہننے کو دیا گیا تھا جسے دیکھ کر میں نے کہا تھا کہ میں اپنی جینز اور شرٹ ہی پہن لیتا ہوں، لیکن مجھے اس کی اجازت نہیں دی گئی۔

گاڑی سے اتارنے اور سامان تھمانے کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ ہم پٹی کھول رہے ہیں پلٹ کر دیکھا تو گولی مار دیں گے۔ پٹی کھولنے کے بعد ہدایت جاری کی گئی کہ اسی سڑک پر سیدھے چلتے جاؤ، آگے ریلوے کراسنگ ہے وہاں سے تمہیں گاڑی مل جائے گی۔

جب مجھے گاڑی کے چلے جانے کی آواز سنائی دیے کچھ منٹ گزر گئے اور گولی کی آواز سنائی نہیں دی تو میں بھاگ کر سڑک کنارے جھاڑیوں کے پیچھے چُھپ گیا۔ مجھے لگا انہوں نے مجھے غلطی سے چھوڑ دیا ہے۔

خیر کچھ دیر میں ایک آدھ موٹر سائیکل اور گاڑی وہاں سے گزر گئی اور ڈالا واپس نہیں آیا تو میں نے سڑک کنارے چلنا شروع کر دیا اور دیکھا کہ کوئی بورڈ، یا کوئی چیز ایسی نظر آئے جس سے اندازہ ہو کہ میں کہاں ہوں۔

تھوڑی دور چل کر سڑک کنارے ایک بورڈ نظر آیا جس پر بوائز ہائی سکول لکھا تھا اور نیچے سہالہ بھی لکھا ہوا تھا۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ میں اسلام آباد سے زیادہ دور نہیں۔ اتنے میں دو ایک موٹر سائیکل والے گزرے جنہیں میں نے ہاتھ کے اشارے سے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں رکے۔

آگے چل کر ویلڈنگ کی سی ایک دکان نظر پڑی جس کے باہر ایک اندھا بلب جل رہا تھا اور اس کے نیچے ایک جوان جنوری کی سردی کی پروا کیے بَہ غیر اپنی محبوبہ سے گفتگو میں مصروف تھا۔ اتنی سردی میں باہر نکل کر میں نے کسی کو ابا یا بھائی کو فون کرتے نہیں دیکھا۔

خیر اس کے میرے پاس تم ہو کو ڈسٹرب کرتے ہوئے میں نے اس سے پوچھا کہ جی ٹی روڈ کتنی دور ہے۔ اس نے کہا اسی سڑک پر چلتے جاؤ، ایک گھنٹے میں پہنچ جاؤ گے۔ میں نے چلنا شروع کیا۔ بیس پچیس منٹ بعد مجھے وہ ریلوے کراسنگ نظر آ گئی جس کے پاس سے گاڑی ملنے کا مجھے آئی ایس آئی والے اغواء کاروں نے بتایا تھا۔

اس کراسنگ پر گاڑی تو کوئی نہیں تھی ایک پولیس موبائل کھڑی تھی اور اس کے ساتھ ایک پولیس والا کھڑا تھا۔ مجھے نکلنے سے پہلے کہا گیا تھا کہ آپ کے خلاف توہینِ رسالت کا پرچہ درج ہو گیا ہے۔

میں پولیس موبائل کو دیکھ کر ڈر گیا کہ لو فوجیوں سے جان چھوٹی ہے تو اب کم بخت یہ پکڑ لیں گے۔

میں نے فیصلہ کیا کہ میں پولیس والے کو دیکھے بَہ غیر گزرنے کی کروں گا، اس نے بلایا تو چلا جاؤں گا، اور نہ بلایا تو خیر رہی۔ میں ابھی موبائل سے کچھ دور ہی تھا کہ پولیس والے نے مجھے آواز دی، اوئے ایدھر آ۔

میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے پوچھا، پیچھے تم موٹر سائیکلوں کو روک رہے تھے؟ میں نے کہا، ہاں۔

اس نے پوچھا، کون ہو اور کہاں سے آ رہے ہو؟

میں نے اسے بتایا کہ میرا نام سلمان حیدر ہے اور میں فاطمہ جناح یونی ورسٹی میں پڑھاتا ہوں۔

یہ سن کر اس نے اچھی بھلی اونچی آواز میں کہا: اوئے پروفیسر صاب، آپ وہی ہیں نا جنہیں لوہی بھیر کے علاقے سے اٹھا کر لے گئے تھے۔ میں نے کہا ہاں میں وہی ہوں۔

اس نے کہا، آپ کے لیے تو بڑے مظاہرے شزاہرے ہو رہے ہیں۔ آپ تو مشہور آدمی ہیں، لیکن آپ کو کیا پتا ہو گا آپ تو اغواء تھے۔

پھر اس نے بڑے فخر سے بتایا کہ میری گاڑی اسی نے بر آمد کی تھی۔

اس کے بعد اس نے اپنا سگریٹ مجھے پکڑایا اور گاڑی میں گھس کر وائرلیس نکال لیا۔ وائرلیس پر اس نے میرے دریافت ہو جانے کی اطلاع چلائی۔ اس دوران میں اس کا سگریٹ پی گیا۔ مجھے سگریٹ پیتے دیکھ کر کہنے لگا، آپ نے کچھ کھایا ہے۔ یہ گاڑی میں کینو پڑے ہیں اندر بیٹھ جائیں کینو کھا لیں۔

میں نے کہا، نہیں، شکریہ کینو نہیں چاہییں سگریٹ اور ہے تو ایک دے دو۔

اس نے جیب سے دنیا نکال کر مجھے دی جس میں تین چار سگریٹ تھے۔

میں نے سگریٹ سلگایا تو اس نے مجھے پھر گاڑی میں بیٹھنے کو کہا۔

میں نے اشارہ کیا کہ سگریٹ پی رہا ہوں۔ اس نے کہا کوئی نہی پروفیسر صاحب اندر ہی پی لیں۔ اس دوران اسے وائرلیس پر حکم مل گیا کہ مجھے تھانے پہنچا دیا جائے اور مجھ سے سوال جواب نہ کیے جائیں۔

اس نے اس ہدایت کے بعد مجھ سے اٹھائے جانے کے بارے تو کچھ نہیں پوچھا، لیکن یہ ضرور پوچھا کہ پروفیسر آپ اٹھائے جانے سے پہلے بھی مشہور تھے، یا بعد میں مشہور ہوئے ہیں؟

میں نے اسے کہا، یار آپ پہلے آدمی ہو جس نے مجھے بتایا ہے کہ میں مشہور آدمی ہوں اور اگر میں مشہور ہو بھی جاؤں تو آپ کہہ سکتے ہو کہ جتنا بھی مشہور ہو، سگریٹ مجھ سے مانگ کے پیتا رہا ہے۔

About سلمان حیدر 7 Articles
سلمان حیدرفاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی میں شعبہ نفسیات میں درس و تدریس سے وابستہ ہیں؛ با معنی اور جرات اظہار سے تابندہ شاعری کرتے ہیں؛ سماجی اورتنقیدی شعور سے بہرہ ور روشن خیال اور ترقی پسند آدرشوں کے حامل انسان ہیں۔ اس سے پہلے ڈان اردو کے لئے بلاگز لکھتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تنقید ڈاٹ آرگ کے اردو سیکشن کے مدیر ہیں- "تھیئٹر والے' کے نام سے ایک سنجیدہ تھیئٹر گروپ کا اہم حصہ ہیں۔ اعلی درجے کی سماجی و سیاسی طنز ان کی تخصیص ہے۔