انسان کیا دے سکتا ہے

ڈاکٹر عبدالواجد تبسم

انسان کیا دے سکتا ہے

از، ڈاکٹر عبدالواجد تبسم

میں سوچتا ہوں کے انسان کسی کو کیا دے سکتا ہے، احساس، مروت، لحاظ، محبت، خوشی، غم، رنج ، نفرت اور اس سے جڑے احساسات کہ جو اس کی فطرت کا خاصا ہیں۔ ایک دوست نے کہا کہ یہ تو محض غیر مجرد احساسات ہیں اور انسان ہمیشہ مجرد سے خوشی حاصل کرتا ہے۔ مادی حوالے سے اگر کوئی اسے کچھ دے تو نہ صرف یہ اسےسکون دے گا بلکہ تسکین کا باعث بھی بنے گا۔ کہا دیکھو اگر کسی سے محبت بھی ہوتی ہے تو کسی مادی پیکر سے ہوتی ہے اگر مادی پیکر نہیں ہوگا تو محبت کیسے ہو سکے گی۔

اس لیے محبت کے لیے بھی کسی پیکر کا ہونا چاہیے، میں نے کہا، ہاں ہونا چاہیے۔ مگر یہ محبت اگر پیکر تک ہی محدود رہے تو اسے حاصل کرنے کے بعد محبت، محبت رہے گی نہیں بلکہ ہو سکتا ہے۔ نفرت میں بدل جائے کیونکہ حسن آنکھ کا دھوکا اور فریب ہے، اگر کوئی دور سے حسین نظر آتا ہے ضروری نہیں کہ پاس آنے پر بھی وہی نظر آئے جو دیکھا تھا۔

محبت اس سے بڑھ کر بھی ہے کہ جو دور سے نظر آیا، قریب آکر بھی ویسا ہی ہے تو پھر کیا کہنے، محبت حسن سے ہی نہیں ہوتی، احساس سے بھی ہوتی ہے، مادیت سے زیادہ انسان  کسی کو اپنا احساس دے سکتا ہے، کہ جو دل میں تھا، ویسے ہی دوسرے کے دل میں پیدا ہو جائے۔

محبت کی یہ وہ اعلیٰ و ارفع منزل ہے کہ انسان پیکرِ محسوس سے اٹھتا چلا جاتا ہے اور اس کی محبت میں وہی اُلُوہیت پیدا ہو جاتی ہے جو انسان کی اعلیٰ ترین منزل ہے۔ جہاں پہنچ کر وہ اسے بھی محسوس کرنے لگتا ہے کہ جو بظاہر نظر نہیں آتا مگر اپنے ہونے کا احساس دلاتا رہتا ہے اور انسان جب زرد پتے کے مانند ٹوٹ کر گرتا ہے اور راہ چلنے والوں کے پاؤں سے اس کی چیخیں نکلنے لگتی ہیں اور وہ تڑخنے لگتا ہے تو پھر اسے وہ یاد آتا ہے کہ ہاں کوئی ایسی غیر مُرئی حقیقت بھی ہے کہ جو اسے اپنا احساس دے کر اسے اس تکلیف سے نکالے گی، یہاں اس کی محبت تمام مادی احساسات سے نکل جاتی ہے۔

دوسرے مادیت اسی وقت تک انسان کو خوشی دے سکتی ہے کہ جب تک اس میں زندگی کی تر و تازگی ہے، ایک وقت انسان کی زندگی میں ایسا بھی آتا ہے کہ جب ہر طرح کی مادیت اِسے بے معنی لگنے لگتی ہے اور تمام آسائشیں بے کار؛ کیوں کہ مادیت کا وجود انسان کو ایک خاص حد سے آگے نہیں لے جا سکتا اور اس کی روح اعلیٰ و ارفع منزل کی جانب گامزن نہیں  ہوسکتی۔

نت نئے کی تلاش اور غیر مرئی کو محسوس کرنے کے لیے ضروری ہے کہ  انسان لا حاصل کی تلاش میں رہے۔ اسی تلاش میں انسان، انسان بنتا ہے۔ اشفاق احمد کہتے ہیں کہ احساس مر جائے تو معاشرہ مر جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں کے معاشرے کا مرنا یا جینا بعد کی بات ہے وہ تو اکثر مرا ہوا ہی ہوتا ہے، کوئی گرا ہوگا تو اس انتظار میں رہے گا کہ کوئی قدم بڑھائے تو ہم بھی آگے ہو جائیں۔ کسی پر مصیبت یا ابتلا آتی ہے تو سارے پتے ہوا دینےلگتے ہیں اور آپ دنیا کی نگاہ میں  غلط ہو جاتے ہیں۔

نہیں تو سقراط کو زہر کا پیالہ دے کر یہ معاشرہ آج تک افسوس نہ کرتا، معاشرے میں چند ہی ایسے ہوں گے کہ جن کا احساس زندہ ہو گا اور وہ کہیں گے کہ نہیں آگے آؤ اور جو کچھ کرنا ہے انسان کے لیے کرتے رہو۔ میں کہتا ہوں انسان پہلے مرتا ہے، معاشرہ تو بعد کی بات ہے؛ کہا، دیکھو کسی کو خوش کرنے کے لیے، کسی کا غم دور کرنے کے لیے، یا کسی کا رنج ختم کرنےکے لیے بھی مادیت کا ہونا ضروری ہے۔

مزید ملاحظہ کیجیے: جذبات، احساسات اور جبلّتوں کو ماپنے والی مشین

میں نے کہا ہاں مگر پسِ پردہ اگر احساس نہیں ہوگا تو کچھ بھی تو نہیں ہوگا۔ یہ وہ آبگینہ ہے کہ جو ہوا کا ایک جھونکا تک برداشت نہیں کر سکتا؛ اس آبلے کی طرح ہے جو ذرا سی ٹھیس  سے پھوٹ بہتا ہے اور پھر ایسا ہو جاتا ہے تو انسان کسی مادیت کی پروا بھی نہیں کرتا۔

کہا، وقت کے ساتھ ساتھ تمام احساسات اورمحبتیں  دم توڑ دیتی ہیں، میں نے کہا کہ، نہیں ایسا نہیں اگر مادی وجود تک محدود ہوں گی تو پھر تو سب ختم ہی ہو جائے گا دیکھنا تو اس سے آگے ہے؛ کہا، مجھے تو یہ سارا سلسلہ یہیں تک محدود نظر آتا ہے؛ میں نے کہا، تم سچ کہتے ہو، تمام احساسات کو بھی چھوڑ دو، اب دیکھو انسان کسی کو کیا دے سکتا ہے۔ مادیت کو بھی چھوڑ دو، میرے خیال میں یہ وقت ہے کہ جو انسان کے پاس اس کی سب سے قیمتی چیز ہے۔ دیکھو آج کل جس کے پاس جاؤ وہ کہتا ہے کہ وقت نہیں، کسی کی خوشی میں جاؤ یا غم میں، ایک خاص وقت سے زیادہ کسی کے پاس بھی کوئی وقت نہیں، کسی کو دکھ میں یا خوشی میں لوگ دنیا داری کی رسم سے آگے نہیں بڑھتے اور کس دل سے جاتے ہیں وہ بھی وقت بتا دیتا ہے۔

وقت کبھی لوٹ کے نہیں آتا، انسان کی تمام یادیں، باتیں، اس سے وابستہ ہوتی ہیں، انسان بھی اپنے گزرےوقت کو یاد کرتا ہے تو اسے ایک طرح کی تسکین ہو جاتی ہے کہ میں نے اچھا وقت گزار دیا، کسی کی یادیں، کسی کےخواب میں، اور کسی کی خوشی میں کسی کے غم  میں اور یہ ہی انسان کو یاد رہ جاتا ہے کہ اس لمحے کون ایسا تھا کہ جو آج وقت کے دھارے میں زندہ ہے اور اس کی یادیں میرے دل و دماغ کو روشن کیے ہوئے ہیں۔

کہا سچ کہتے ہو مگر تلخئِ ایام بھی وقت کی قید سے باہر نہیں، وقت دل و دماغ پر بعض ایسے نقش بھی چھوڑ جاتا ہے کہ اسےدھوتے دھوتے ہاتھ   دکھ جاتے ہیں مگر داغ نہیں چھوٹتا۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.