گاندھی کا مرن برت اور پاکستان کو اس کے حصّے کی رقم کی منتقلی کا فیصلہ

گاندھی کا مرن برت

گاندھی کا مرن برت اور پاکستان کو اس کے حصّے کی رقم کی منتقلی کا فیصلہ

از، سالار کوکب

گاندھی کے آخری مرن برت کا بیان کردہ مقصد متحارب گروہوں کے ‘دلوں کا دو بارہ ملاپ’ تھا لیکن کئی شخصیات کا موقف، ان کے گاندھی کے ساتھ اور آپس کے تعلقات، اور ان سب کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے گاندھی کے اس مرن برت کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔

یہ معاملہ اتنا پیچیدہ تھا کہ گاندھی اور اس سے جڑے ہوئے کرداروں کو اس مرن برت کو دوسروں کے سامنے اس طرح پیش کرنا تھا کہ ان کے موقف/شخصیت کو کم سے کم نقصان پہنچ سکے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی لوگ اس کو اس وقت کے حالات کے ساتھ جوڑ کر اس کی اصل وجہ کا اندازہ لگاتے رہے۔

اس مرن برت کے ساتھ جڑی ہوئی اہم ترین شخصیت پٹیل تھے جب کہ دوسرے کردار ماؤنٹ بیٹن، نہرو، اور آزاد تھے۔ مرن برت کے دوران گاندھی کو کہنا پڑا کہ یہ مرن برت پٹیل کے خلاف نہیں ہے جب کہ آزاد کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس مرن برت کی وجہ پٹیل کو قرار دیا۔

اس پیچیدہ صورتِ حال میں گاندھی کے مرن برت اور پاکستان کو اس کے حصّے کی رقم کی منتقلی کے درمیان تعلق کو تلاش کرنے کے لیے گاندھی، پٹیل اور آزاد کے اپنے بیانات کی بہ جائے آزاد محققین اور خبر نگاروں کی رائے اور مرن برت کے دوران ہونے والی واقعات کو اہمیت دینا بہت ضروری ہے۔

گاندھی نے اپنے مرن برت کے فیصلے کے متعلق دوسروں کو 12 جنوری کو آگاہ کیا جب کہ مرن برت 13 جنوری کو شروع کر کے 18 جنوری کو ختم کیا۔ اس دوران گاندھی اور ماؤنٹ بیٹن اپنی ملاقات میں اتفاق کر چکے تھے کہ کشمیر میں پاکستان کے کردار کے با وجود پاکستان کو اس کے حصّے کے پچپن کروڑ کی ادائیگی اخلاقی نقطۂِ نظر سے ضروری ہے۔

پٹیل کی زندگی پر کتاب لکھنے والے ایک مصنف کے مطابق پٹیل گاندھی سے ملاقات میں پوچھ چکے تھے کہ وہ گاندھی کا مرن برت رکوانے کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔ گاندھی کا جواب تھا کہ ‘پاکستان کو اس کے نقد اثاثوں کی ادائیگی کے سوال کو پہلی ترجیح دینی چاہیے۔’

گاندھی کے اس مرن برت کے دوران حکومتی ارکان اور گاندھی کے درمیان بات چیت پاکستان کو اس کے حصّے کی ادائیگی پر مرکوز تھی جس میں نہرو اور دوسرے خصوصا پٹیل سخت موقف اپنا رہے تھے۔

گاندھی کے مرن برت کے دوران جب یہ لوگ گاندھی کے پاس آئے تو پٹیل نے اس فیصلے کے حق میں طویل دلائل دیے۔ لیکن گاندھی اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ تاہم اس دوران عوام میں گاندھی کی صحت کے متعلق تشویش بڑھ رہی تھی۔


مزید دیکھیے: پنڈت نہرو اور قائد اعظم جناح کے نام ایک طوائف کا خط

ایس پی سنگھا نے پاکستان کو ترجیح کیوں دی


آخرِ کار جب ڈاکٹروں نے بتایا کہ گاندھی کی حالت تیزی سے بگڑ رہی ہے تو پہلے نہرو پگھلے اور بعد میں کابینہ نے گاندھی کے بستر کے گرد ہی پاکستان کو اس کے حصّے کی رقم جاری کرنے پر اتفاق کر لیا۔ کچھ مصنفین نے لکھا ہے کہ پٹیل نے روتے ہوئے اس فیصلے سے اتفاق کیا۔

اس فیصلے کے بعد ‘دلوں کے دو بارہ ملاپ’ والے معاملے کو طے کرنا باقی تھا۔ چُناں چِہ جب 18 جنوری کو مخلتف گروہوں کے نمائندوں نے آپس کے تعلقات کی بحالی کے حوالے سے گاندھی کی طرف سے دیے گئے مطالبات کو ماننے کا عہد کیا تو گاندھی نے اپنا مرن برت ختم کر دیا۔

بھارت، پاکستان سمیت دنیا بھر کے آزاد محققین اور خبر نگاروں کی غالب اکثریت نے پاکستان کو اس کے حصّے کی ادائیگی کے حوالے سے بھارتی حکومت پر دباؤ کو گاندھی کے اس مرن برت کا اہم محرک قرار دیا۔