وہ آسمان پر تاروں کے روپ میں دیکھتا ہے

Dr Shahid Siddiqui

وہ آسمان پر تاروں کے روپ میں دیکھتا ہے

از،  ڈاکٹر شاہد صدیقی

میرے سر پر تاروں بھرا آسمان ہے، آسمان پر چمکتے ستاروں میں ایک ستارہ سب سے روشن ہے، یہ ستارہ مجھے بہت کچھ یاد دلا رہا ہے۔ گاؤں کی وہ چاند بھری راتیں! جب ہم بچے لُکّن مِیٹی کا کھیل کھیلتے تھے، جب میری ساری کائنات میرے ماں باپ، بہن بھائی اور دوستوں تک محدود تھی۔ میری اس کائنات کا مرکز میرے والد صاحب تھے۔ میں آنکھیں بند کر کے ان دنوں کا تصور کروں، تو ان کا شفیق اور روشن چہرے سامنے آتا ہے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ انہوں نے کبھی ہماری پٹائی کی ہو یا کبھی خفا ہوئے ہوں، وہ ہم بچوں کوبھی تم کی بجائے آپ کہہ کر بلاتے۔ انہوں نے مالی وسائل کی کمی اپنی محبت اورشفقت سے پوری کی تھی۔

والد صاحب کو مطالعے کا جنون تھا اور ان کا اپنا کتب خانہ تھا۔ ان کے کتب خانے میں زیادہ تر مذہبی کتابیں تھیں۔ ان میں بہت سی کتابوں کی جلد سازی بھی انہوں نے خود ہی کی تھی۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مجھے خیال آیا، والد صاحب سے کہوں: میری سکول کی کتابوں کی بائنڈنگ کر دیں۔

اس وقت رات ہورہی تھی، گاؤں میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے یوں لگتا تھا، رات جلدی شروع ہو جاتی ہے۔ والد صاحب نے کہا: اب تو رات ہو رہی ہے، کیوں نہ یہ کام کل کر لیں۔ میں راضی ہو گیا۔

اگلے روز جاگا، تو والدہ نے بتایا والد صاحب کو دوسرے گاؤں جانا تھا اور وہ روانہ ہو گئے ہیں۔ مجھے سمت کا اندازہ تھا۔ میں ننگے پاؤں گاؤں کی آڑھی ترچھی گلیوں میں سَر پَٹ بھاگنے لگا۔ میرا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا، اچانک دور، بہت دور ایک انسانی ہیولا دکھائی دیا میں اور تیز بھاگنے لگا۔ فاصلہ کم ہونے پر مجھے یقین ہوگیا، وہ والد صاحب ہیں۔ ہمیشہ کی طرح اجلا سفید لباس، سر پر پگڑی، اور پاؤں میں شان موچی کے بنے ہوئے کُھسّے۔ قریب پہنچ کر میں نے زور زور سے انہیں آوازیں دینا شروع کر دیں۔

آواز سن کر وہ رک گئے، مُڑے اور مجھے دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں حیرت تھی۔ میں ان سے لپٹ گیا اور ناراض لہجے میں کہا: آپ نے تو وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے جھک کر میرے چہرے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اور بولے اوہ! میں بھول گیا تھا۔ چلو واپس چلتے ہیں۔ یوں ہم دونوں واپس گھر آ گئے اور انہوں نے میری کتابوں کی بائنڈنگ کر کے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔


مزید مطالعہ: خود احتسابی، وہ استاد جو میرا ضمیر ہوئے  از، ڈاکٹر شاہد صدیقی

والد صاحب کی وفات اور چند دینی سماجی پہلوؤں پر تبصرہ  از، ڈاکٹر عرفان شہزاد

ابو جی   از، سید کاشف رضا


والد صاحب عالم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک قادر الکلام شاعر بھی تھے۔ شعر کہنے کے لیے انہیں زیادہ کوشش نہ کرنا پڑتی۔ فارسی، اُردو اورپنجابی میں وہ یکساں سہولت کے ساتھ شعر کہتے تھے۔ پاکستان سے انہیں جنون کی حد تک محبت تھی، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے ذہن میں قیامِ پاکستان کے وہ منظر تازہ تھے۔ جب ہزاروں مسلمانوں نے اپنے نئے وطن کے لیے اپنے گھربار چھوڑے اور اپنی جان اورمال کی قربانی دی۔ یہی وجہ ہے جب 1965ء کی جنگ پاکستان پر مسلط کی گئی، تو پوری قوم یک جان ہوکر دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی۔ ادیبوں اور شاعروں نے اپنے ولولہ انگیز گیتوں اور ملی نغموں سے اپنے جوانوں کے حوصلے بڑھائے۔ اگلے مورچوں تک جب ان گیتوں کی آواز پہنچتی، تو جذبوں کو اور مہمیز ملتی۔

1965ء کی جنگ کے وہ سترہ دن ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہیں، جب ہم نے ایک قوم بن کر اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے حملے کا کامیاب دفاع کیا۔ اس جنگ کے دوران جو نغمے تخلیق کیے گئے، وہ بعد میں ایک کتاب ”جاگ رہا ہے پاکستان” میں شائع ہوئے، اس کتاب میں والد صاحب کا لکھا ہوا نغمہ بھی شامل تھا جو انہوں نے پاکستانی ہوا بازوں کے حوالے سے لکھا تھا۔

والد صاحب کو فارسی، عربی، اُردو، پنجابی کے بہت سے شعرا کا کلام اَز بَرتھا۔ ہمیں کسی بھی مشکل لفظ کا معنی پوچھنا ہو تو ڈکشنری کی بجائے ان سے پوچھتے اور ہمیں کبھی مایوسی نہ ہوتی ان کی اپنی پسندیدہ لغت ”عزیز الغات” تھی۔ والد صاحب کو خطاطی کا شوق تھا، جوانہیں لاہور لے گیا، جہاں اس وقت خطِ نستعلیق کے موجد عبدالمجید پرویں رقم اپنی کتابت کے جوہر دکھا رہے تھے۔

وہی پرویں رقم، جنہوں نے علامہ اقبال کی کتابوں کی کتابت کی۔ کہتے ہیں ایک دفعہ پرویں رقم نے کتابت ترک کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ خبرعلامہ اقبال تک پہنچی، تو انہوں نے پرویں رقم سے کہا: اگرآپ کتابت چھوڑیں گے، تومیں شاعری چھوڑ دوں گا۔ یوں پرویں رقم نے کتابت چھوڑنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ والد صاحب بتاتے ہیں کہ ایک بار پرویں رقم نے ایک کتاب کے پروف دکھانے کے لیے مجھے علامہ اقبال کے پاس بھیجا۔ علامہ اقبال ایک دھوتی اور بنیان میں ملبوس ایک تکیے کے سہارے نیم  دراز تھے اوران کے سامنے حُقّہ رکھا تھا۔ والد صاحب اکثر ہمارے ساتھ اس یاد گار منظر کا ذکر کرتے اورہمیں زندگی میں سادگی کی تلقین کرتے۔

ایک اور منظر بھی والد صاحب کی یادوں کی البم میں ہمیشہ روشن رہا۔ وہ بڑے فخر سے بتایا کرتے کہ ایک بار انہوں نے قائد اعظم کی تقریر سنی تھی۔ لوگوں کاایک اژدحام تھا، جو اپنے محبوب قائد کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے امڈا آیا تھا۔

والد صاحب بتاتے ہیں کہ انہوں نے وہ تقریر ایک درخت پر چڑھ کر سنی، وہ یہ واقعہ اکثر ہم بچوں کو سنایا کرتے اور بتاتے کہ ایک لیڈر کا بنیادی وصف اس کا اخلاص ہوتا ہے۔ قائد اعظم کا لباس، زبان، رہن سہن کا طریقہ عام لوگوں سے مختلف تھا، لیکن ایک عام آدمی کا بھی ایمان تھا کہ ان کا قائد اپنے مشن کے ساتھ مخلص ہے اور کوئی ترغیب اور تحریص انہیں اپنے راستے سے نہیں ہٹا سکتی۔

پرویں رقم سے فنِ کتابت سیکھنے کے بعد والد صاحب نے خود بھی کئی کتابوں کی کتابت کی۔ ہمارے گاؤں کی مسجد کی تزئین کا سارا کام والد صاحب نے خود کیا۔ خوب صورت گُل بوُٹے اور ڈیزائن، رنگوں کا حسین امتزاج۔ اس سارے کام میں سب سے متاثر کن کام مسجد کے مستطیل چھت پر سورۃ یاسین کی کتابت تھی۔ ہم حیران ہوتے کیسے سورۃ یاسین کا آغاز ہو کر اختتام اسی نقطے کے قریب ہو رہا ہے، یہ سارا کام انہوں نے لکڑی کے ایک معلق تختے پر لیٹ کر کیا۔

والد صاحب پانچ وقت کے نمازی تھے۔ مجھے یاد نہیں انہوں نے کبھی تہجد کی نماز نہ پڑھی ہو، کبھی کبھار رات کو رونے کی آواز سے آنکھ کھل جاتی تو میں ڈر جاتا۔  دیکھتا تو رات کی تاریکی میں والد صاحب جائے نماز پر بیٹھے ہیں اور روتے ہوئے ان کی گھگھی بندھ گئی ہے۔ انہیں اس طرح بچوں کی طرح روتے دیکھ کر مجھے حیرت ہوتی کیوں کہ وہ عام زندگی میں ہمیشہ ہنستے کھیلتے رہتے۔

ان کی طبیعت میں ظرافت کا پہلو غالب تھا۔ ان کے ساتھ ہماری بے تکلفی تھی، ان کے سمجھانے کا انداز جدا تھا، کبھی سختی نہ کرتے، یوں ان کے حصے کا کام بھی والدہ کو کرنا پڑتا، اس وقت ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ چلے جائیں گے، تو ہماری زندگیوں میں کتنا خلا  آ جائے گا۔ خلیل جبران نے سچ کہا ہے کہ محبت کی گہرائی کا اندازہ جدائی کے بعد ہوتا ہے۔ مجھے منیرنیازی کی نظم یاد آ رہی ہے جو انہوں نے اپنے والد کی یاد میں لکھی تھی۔ لگتا ہے کہ وہ میرے جذبات کی ترجمان ہے۔

وسیع میدانوں میں

جہاں سے کوئی نہیں گزرتا

وہ وہاں موجود ہے

میں جن راستوں پر

کسی خوف سے نہیں جا سکتا

وہ وہاں موجود ہے

میں نے جن مکانوں میں

زندگی کے اچھے یا بُرے دن کاٹے ہیں

وہ وہاں موجود ہے

غیب میں جو باغات ہیں

ابر رحمت جن پر پھوار کی طرح برستا ہے

وہ وہاں موجود ہے

کہتے ہیں ماں باپ کا رشتہ اُن کے چلے جانے سے ٹوٹ نہیں جاتا۔ وہ اس دنیائے فانی سے جانے کے بعد بھی ہم سے وابستہ رہتے ہیں۔ ہماری پریشانیوں میں ہمارے لیے دعا گو رہتے ہیں۔ ہماری کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں، ان کی آنکھیں ہمیشہ ہماری نگراں رہتی ہیں۔ وہ ہمارے فیصلوں میں غیر محسوس طریقے سے ہماری مدد کرتے ہیں۔

مجھے ڈزنی پکچرز کی فلم The Lion King یاد آ رہی ہے، جس میں جنگل کے بادشاہ شیر مفاسا کا بیٹا ننھا شیر سیمبا اپنے والد سے پوچھتا ہے: کیا ہم ہمیشہ اکٹھے رہیں گے، کیا آپ ہمیشہ میری رہنمائی کے لیے موجود رہیں گے۔ مفاسا اپنے بیٹے سیمبا کو تسلی دیتے ہوئے کہتا ہے: سیمبا میں آج تمہیں وہ بات بتاتا ہوں، جومیرے والد نے مجھے بتائی تھی۔ ماضی کے سارے بادشاہ آسمان پر تاروں سے ہمیں جھانک رہے ہیں۔ جب بھی تم اپنے آپ کو تنہا محسوس کرو، تو یاد رکھنا وہ آسمان پر تاروں کے روپ میں تمہاری رہنمائی کے لیے موجود ہوں گے اور انہیں میں سے ایک ستارہ میں بھی ہوں گا۔

اچانک  مجھے احساس ہوتا ہے میرے سر پر تاروں بھرا آسمان ہے۔ آسمان پر چمکتے ستاروں میں ایک ستارہ سب سے روشن ہے، یہ ستارہ مجھے بہت کچھ یاد دلا رہا ہے۔

About ڈاکٹرشاہد صدیقی 52 Articles
ڈاکٹر شاہد صدیقی، اعلی پائے کے محقق، مصنف، ناول نگار اور ماہر تعلیم ہیں۔ آپ اس وقت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی ہیں۔

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.