فلسفہ اور سامراجی دہشت گردی ، اور دیگر کتب پر تبصرہ

ایک روزن لکھاری
نعیم بیگ، صاحبِ مضمون

فلسفہ اور سامراجی دہشت گردی ،اور دیگر کتب پر تبصرہ

نعیم بیگ

۱۔ لبرل ازم، پوسٹ ماڈرن ازم، ماکسزم
۲۔ فلسفہ اور سامراجی دہشت گردی
از عمران شاہد بھنڈر

کتاب محل لاہور کے کرتا دھرتا محمد فہد اور ان کی پوری ٹیم جس میں نوفل جیلانی نمایاں ہیں سے پہلی ہی ملاقات میں محبتوں کے وہ سوتے پھوٹے ، کہ اب اکثر و بیشتر ان سے گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ پچھلے دنوں انھوں نے میری درخواست پر عمران شاہد بھنڈر کی درج بالا دونوں کتابیں دیگر چند کتابوں کے ہمراہ مجھے بھجوائیں۔ میں آج کل اِن دونوں کتابوں سے فیض یاب ہو رہا ہوں ۔ عام طور پر فلسفیانہ مباحث اکثر اپنی مشکل تراکیب و اصطلاحات کی وجہ سے صرف ایک مخصوص نمائندہ حلقے کی دلچسپی کا باعث بنتی ہے یا پھر ان طالب علموں کو متوجہ کرتی ہے، جو بالخصوص ایسے علوم کی تعلیم حاصل کر رہے ہوتے ہیں، لیکن عمران بھنڈر نے ان دونوں کتب میں جس سلیس تنقیدی اسلوب اور طرزِ سخن کو اپنایا ہے وہ قابل قدر ہے اور مجھ جیسے عام قاری کو بھی متوجہ کرتا ہے۔
درج بالا دونوں کتابیں عمران شاہد بھنڈر کے ان فکری رحجانات کی آئینہ دار ہیں، جنھیں ہم اکثر ان کے مختلف مضامین کے ذریعے فیس بک اور اخبارات میں دیکھتے رہتے ہیں۔ میں ابھی ان کتابوں کو سرسرہی دیکھ پایا ہوں، لیکن یہ ضروری سمجھا کہ قارئین کے لئے ا پنی تاثراتی رائے ضرور پیش کروں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۔ ’’ لبرل ازم، پوسٹ ماڈرن ازم، مارکسزم ‘‘ از عمران شاہد بھنڈر

مغرب کے چند بڑے ممالک بالخصوص امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اس وقت تکثیری سماج کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ جب کہ یورپ اس ضمن میں کنزرویٹو خیالات کا حامل ہے، لہذا وہاں تکثیری سماج کی تشکیل کہیں اگر بعد میں ہو، تو شاید ممکن ہو، فی الحال اس کا کوئی امکان نہیں۔ ایسے تکثیری سماج میں جہاں مختلف رنگ، نسل، قومیتوں، مذاہب، فرقوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد ایک بڑے سماج کا حصہ بنتے ہیں، وہاں سماجی تھیویرز جن میں مابعد جدیدیت کیفیات بھی شامل ہیں، ایسے سرمایہ دارانہ نظام کو فروغ دیتی ہیں، جہاں سرمائے اور محنت کے تضاد کو سامنے لانا مشکل امر ہے۔ یہاں عمران شاید بھنڈر نے لبرل ازم ، پوسٹ ماڈرن ازم اور مارکس ازم کے ایک تقابلی جائزہ کو اس کتاب کا محور بنایا ہے۔

لبرل ازم، پوسٹ ماڈرن ازم، ماکسزم
اس کتاب کے مقدمہ ’’ موجودہ صورتِ حال پر ایک نظر‘‘ میں وہ لکھتے ہیں۔ ’’ سماجی تبدیلی کے لئے برپا کی گئی جدوجہد سے حکمرانوں اور محکوموں، ظالموں اور مظلوموں، جابروں اور مجبوروں کے درمیان اعلیٰ اور ادنیٰ اقدار کی بنا پر قائم کی گئی تفریق و امتیاز کا تصور کمزور ہونے لگتا ہے۔ لوگوں کے ذہن میں یہ بات راسخ ہونے لگی ہے کہ اقدار کی بنیاد پر حکمران اور محکوم طبقات کے مابین قائم کی گئی فوقیتی ( ہائیرارکی) ترتیب فطری نوعیت کی نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی ازلی اور ابدی اصول پر مشتمل ہوتی ہے۔ جیسا کہ حکمران طبقہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلکہ اقتدار کی فوقیتی ترتیب کا تصور ریاستی پروپیگنڈا مشینری کی پیدا وار ہوتا ہے۔

حکمران کی طاقت اور آئیڈ یالوجی کا مظہر ہوتا ہے، جہاں استحصال، ظلم و جبر اور تشدد ہو وہاں استحصال زدگان اور مظلوموں کا اٹھ کھڑا ہونا سازش کا نتیجہ نہیں بلکہ فطری عمل ہوتا ہے۔ مثل فوکو کے الفاظ میں ’جہاں طاقت ہوتی ہے وہاں مزاحمت کا پیدا ہونا لازم ہے‘۔ اقدار کی فوقیتی ترتیب کو مزاحمت سے پاش پاش کیا جا سکتا ہے لوگوں کے دلوں سے ظالم حکمرانوں کے خوف کو نکالا جا سکتا ہے ان کے حقوق کے بارے میں ان کے شعور کو اجاگر کیا جا سکتا ہے یہی وہ ترقی پسندانہ پہلو ہوتے ہیں جو عوقمی مزاحمتی تحریکوں کا جزو لازم ہوتے ہیں۔ انقلابیوں کی نظر محض حکمران طبقے کے تصور ارتقا پر ہی نہیں بلکہ اس شگاف پر بھی ہونی چاہیے جو عوامی تحریکوں کے برپا ہونے سے کسی بھی سیاسی ڈھانچے کے اندر رونما ہوتا ہے۔ ‘‘
اگر ہم اس کتاب کی فہرست کا جائزہ لیں، تو اہم موضوعات جنھیں اس کتاب میں اساسی حیثیت حاصل ہے وہ لبرل ازم کی معاشی اور فلسفیانہ اساس، لبرل انتہا پسندی دہشت اور جنگیں، مذہبی جنون فلسفہ اور مذہبی سیاست، سرمایہ داری اور اخلاقیات کا بحران، مذہبی اور طبقاتی تقسیم، انقلاب، تنقید و تخلیق کی جدلیات اور نظام کی تبدیلی اور نیکی کا تصور شامل ہیں۔ اس کتاب میں انھوں نے فیض، ٹیگور اور لینن کی بات کی ہے اور فرانسیسی فلسفی ژاک دریدا کے ڈی کنسٹرکشن پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ یہ کتاب موجودہ صورت حال میں ایک ادبی سرمایہ کی مانند ہے جس سے فیض یاب ہونا کسی بھی طالب علم کے لیے ضروری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۔ ’’فلسفہ اور سامراجی دہشت‘‘ از عمران شاہد بھنڈر
یہ کتاب جیسا کہ اپنے عنوان سے ظاہر ہے سامراجی قوتوں کے طرز عمل اور تضادات پر مصنف کی عالمانہ اور فلسفیانہ گفتگو پر مشتمل ہے۔ اس میں انھوں نے سامراجی دہشت گردی کا فلسفیانہ جواز اور اس کے پس منظر میں ان قوتوں کے بنیادی تضادات کو نہ صرف آشکار کیا ہے بلکہ ان پر سیر حاصل گفتگو بھی کی ہے۔ انھوں نے اپنی فکری ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے کوشش کی ہے کہ تمام متعلقہ پہلوؤں اور سوالات پر مباحث کی جائے، جو کسی بھی طالب علم کے ذہن میں ممکنہ طور اٹھے ہوں۔ اسی لئے انھوں نے تجزیات پیش کرتے وقت کم و بیش انھی موضوعات کوتختہِ سخن بنایا ہے۔

اس کتاب کی فہرست میں اظہار تشکر اور دیباچہ کے بعد انہوں نے پیش لفظ بھی لکھا ہے جس میں وہ مسلمان کی مبینہ بنیاد پرستی کا مسیحی اور صیہونی بنیاد پرستی سے تقابلی جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں۔

’’عہد حاضر کی مسیحی اور صیہونی دہشت گردی کسی قدیم ما بعد الطبعیات کا اظہار نہیں، بلکہ اس میں علم الوجود، منطق اور الہیات سرایت کیے ہوئے ہیں۔ اس وجہ سے اس کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان تینوں عوامل کی وحدت سامراجی ’’ لبرل جمہوریت‘‘ کی شکل میں ظاہر ہوئی ہے جو ان گنت تضادات کی گرفت میں ہے۔ اس میں مسیحی اور یہودی سامراج اپنے دفاع کے لیے آزادی، اخلاقیات اور اپنے خدا سے وحدت کا نعرہ بلند کرتا ہے، دراصل مسیحی خدا ارتقاء پا چکا ہے، اب اس کی شکل اور اس کا عمل وہ نہیں جو جدید فلسفے سے قبل تھا۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہے اس وقت اسے اپنے وجود کی بقا کے لیے عقلی بنیادیں میسر نہیں آئی تھیں۔ اس وقت نہ کوئی کانٹ موجود تھا اور نہ ہی کہیں ہیگل دکھائی دیتا تھا، جو اس کے وجود کو عقلی بنیادوں پر استوار کر سکیں۔ اس وقت یہ آزادی کے خلاف تھا، کیونکہ آزادی اس کی نفی کرتی تھی۔

آج آزادی کے حق میں ہے، کیونکہ عقلیت نے اسے جواز فراہم کیا ہے۔ اس نے منطقی ، الہیاتی اور وجودی بنیادوں پر اس سے آزادی حاصل کر لی ہے۔ اس وقت یہ اپنے وجود کی بقا کے لیے آزاد خیال لوگوں کو نیس و نابود کرتا تھا۔ اب یہ آزادی کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ ۹۔۱۱ کے بعد جان ایش کرافٹ نے کہا ۔ ’ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری آزادی کے لیے ہے۔۔۔ یہ اخلاقی انتخاب اور خدا کے ساتھ وصل کے لیے ہے۔ یہ خیر اور شر کے درمیان کشمکش ہے‘۔ ‘‘

یہاں یہ عرض کر دوں کہ ماضی اور حال میں علمی اور فلسفیانہ سطح پر مذہب اور دہشت گردی کے حوالوں سے بہت سے سوالات اٹھائے گئے اور ان کے جوابات اور تعبیریں سامنے آ چکی ہیں۔ درحقیقت مذہب اور دہشت گردی کے درمیان تعلق کی نوعیت دریافت کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔

فلسفہ اور سامراجی دہشت گردی

عمران شاہد بھنڈر اس سوال پر یہ کہتے ہیں کہ ’’ حقیقت تو یہ ہے کہ مذہب فلسفیایہ جا چکا ہے‘‘ اور’’ جدید فلسفے میں مذہب خود ’ عقل محض‘ کی احتیاج بن کر سامنے آتا ہے۔‘‘

مختصراً یہ کہ اس کتاب میں جہاں دہشت گردی پر فلسفیانہ مباحث کی بنیادیں رکھی گئیں ہیں وہیں پر سماج اور محنت کشوں کے درمیاں تعلق کو بھی اسی تناظر میں نہ صرف دیکھا گیا ہے بلکہ تجزیاتی اپج سے مزدور کی سماجی اور غیر نظریاتی ضرورت کو فلسفیانہ سطح پر پرکھا گیا ہے اور مصنف نے کوشش کی ہے کہ تاریخی حقائق کے ساتھ ساتھ عہد حاضر میں رونما ہونے والے واقعات کی اجمالی تفصیلات بھی رقم کی گئی ہیں۔

اس ضمن میں ایک عرض ہے کہ سنہ اشاعت وغیرہ کتاب پر درج نہ ہونے کی وجہ سے ان کتابوں کی اور مصنف کے خیالات کی زمانی ترتیب قاری کی نگاہ سے اوجھل رہتی ہے۔ یوں یکے بعد دیگرے آنے اور پڑھی جانے والی ایک ہی مصنف کی کتب بالخصوص تنقیدی جدلیات اور فلسفیانہ مباحث تاریخ کا حصہ بننے سے رہ جاتی ہیں اور ان کتب پر مزید کام ہونے سے رہ جاتا ہے۔

About نعیم بیگ 141 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔