تاریخ اگر مسخ شدہ ہے تو آپ کیا کیجیے؟ خود اپنا سچ اور جھوٹ بنائیے

لکھاری کی تصویر
یاسر چٹھہ

تاریخ اگر مسخ شدہ ہے تو آپ کیا کیجیے؟ خود اپنا سچ اور جھوٹ بنائیے

یاسر چٹھہ

تاریخ جب مسخ شدہ ملتی ہے تو اپنا سچ کیسے بنایا جائے۔ محض دوسرے کے پروپیگنڈا کو تاریخ سمجھ کے مجہول و مفعول رہنے سے کیسے آزاد ہوا جا سکتا ہے؟ ایک نظر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کل ریل کی سیٹی نام کتاب کے مصنف حسن معراج کے ساتھ گفتگو کی ایک نشست اسلام آباد کے ایک چائے خانہ میں ہوئی۔ اس نشست میں گو کہ بہت اچھا مکالمہ ہوا۔ بہت سارے سوال و جواب ہوئے، لیکن ایک محترمہ کا سوال فضا میں معلق رہا۔

سوال یہ تھا کہ جب یہ معروف عام ہے کہ ہماری تاریخ (گو کہ ہمیں دستیاب کوئی بھی تاریخ) میں بہت سارا ایسا ملا دیا گیا ہے کہ جو ہمیں جھوٹ باور کراتا ہے؟

وہ لڑکی ایک حد تک درست بات کر رہی تھیں۔ کوئی بھی تاریخ، کوئی بھی کہی بات، کوئی بھی سنی بات اتنا ہی جھوٹا ہوتی ہے، جتنا اسے سچ کہلانے کا دعوی ہوسکتا ہے۔ (اگر اس جواب پر کسی کو اپنی علمیاتی زاویہ نگاہی سے جواب دعوی ہے، تو بالکل درست ہوگا۔)

میرے اس بات کے کہنے میں بہت سارے علمیاتی مفروضے مجھے اپنے کندھے فراہم کررہے ہیں، بغیر کسی historicist یا فلسفی کو مقتبس کیے کہہ سکتا ہوں کہ یہ البتہ میری فہم عامہ کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے، یا ابھی تک لمحے میں بنا ہوا ہے۔

لیکن ان سوال کرنے والی محترمہ کا سوال معلق کیوں رہا؟ وجہ یہ تھی کہ وہ سوال بہت سارے اور سوالوں کے شور میں دب گیا تھا۔

بہت جی چاہ رہا تھا کہ اونچی آواز سے کہوں کہ یہ بہت بڑا سوال ہے، سب دیگر سوال معطل کرکے اس کا جواب سوجھیں، لیکن ظاہر ہے آپ سب انتظاموں پر حاوی نہیں ہوتے۔

لیکن چونکہ اس سوال کی گونج آج بھی ذہن میں موجود ہے۔ اس جواب کو پیش کر کے شاید اندر کی گونج کو کچھ راحت دے سکوں۔ یہ جواب البتہ اطلاقی نوعیت کا زیادہ ہے۔

عرض کرتا ہوں کہ کسی سیانے نے بہت عمدہ کہا تھا کہ سب علم ( راقم کے نزدیک ایسا کہنا بمعنی اطلاع یا خام fact کے زیادہ قریب معلوم ہوتا ہے) دراصل ایک تعصب (prejudice) ہی ہوتا ہے۔ ایسا کسی بھی حاصل شدہ علم جس میں تاریخ بھی شامل سمجھی جا سکتی ہے، بہت حد تک ہم بہت ساروں کے لیے تعصب ہی رہتا ہے۔

اب ایک اور ضمنی سوال اس جواب کی تشکیل کی کوشش میں نکلتا ہے اور یہ ضمنی سوال شاید اس کل کے قائم کردہ سوال کی کسی حد تک تشفی کر سکتا ہے کہ تعصبات کی تحلیل مزید زاویہ جات سے خود کو آشکار کرنے سے ہی ہوسکتی ہے۔ لہذا کسی موضوع پر ایک کتاب پڑھو تو فورا اسی موضوع پر دو ایک اور کتابیں دوسرے زاویات علمی و تناظرات سے تحریر شدہ کا بھی مطالعہ کیجیے۔

امید کی جاسکتی ہے اس طرح کرنے سے مختلف مناظر و تناظر سامنے آنے سے آپ کا ذہن تخلیقی طور پر ایک نیا سچ یا آپ کا اپنا جھوٹ بنالے گا۔ کم از کم پکا یقین اور دعوی مطلق علم کی دماغ و نظر اور بصیرت پر چڑھی تخیلی جھلی کسی حد تک کوئی نئی کرن حاصل کرنے کے قابل ہوسکتی ہے۔

About یاسرچٹھہ 195 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔