ایملی ڈکنسن کی نظمیں (2)

ایملی ڈکنسن کی نظمیں (2)

ایملی ڈکنسن کی نظمیں (2)

ترجمہ از، عرشی یاسین

1

جانے یہ ننھا گلاب

کوئی زائر ہی تھا

اسے میں نے تمہاری راہوں

سے ہی اٹھایا تھا

اور تمہاری نذر کیا تھا

کوئی شہد کی مکھی

اس کو یاد کرےگی

یا کوئی تتلی

دور دراز سفر سے

تیزی میں پلٹتی

اس کی چھاتیوں پر دراز ہونے

کوئی پرندہ حیرت زدہ ہو گا

اور بادِ صبا آہ بھرے گی

آہ ننھے گلاب!

کتنا آسان ہوا

تم جیسوں کے لیے

جاں کا نذرانہ دینا

2

نیند سے بھی زیادہ

گہری خاموش ہے وہ

اس اندرونی کمرے میں

وہ جو اپنے سینے پر بہار اوڑھتی ہے

اور نام تک نہیں بتاتی

کچھ اسے چھوتے ہیں

کچھ اسے بوسہ دیتے ہیں

کچھ اس کے بے جان ہاتھوں

کو ملتے رہ جاتے ہیں

اس میں ایک عجب کشش ہے

جو میں سمجھ نہیں پاتی

ہاں اگر میں ان لوگوں کی جگہ ہوؤں

تو میں ایسے نہ روؤں

کس قدر نا شائستگی ہے

ایسے سسکیاں بھر بھر رونا

ایسا نہ ہو کہ وہ خاموش پری خوف زدہ ہو جا ئے

اور اپنے آبائی درختوں کو لوٹ جائے

جب سادہ دل ہمسائے

جوان موت پر تبصرہ کر رہے ہوتے ہیں

ہم تطویل کلام کے مارے

کچھ ایسےاظہار کرتے ہیں

پرندے اڑ گئے!

3

صاحبِ عقل

کا ماننا ہے

آنکھوں کا موندنا

نیند ہے

نیند تو ایک زیرِ زمین شان دار قیام ہے

جہاں دونوں اطراف

گواہی کے میز بان کھڑے ہوتے ہیں

صاحبِ علم

سمجھتےہیں

پوکا پھوٹنا

صبح کا ہونا ہے

ابھی صبح نہیں ہوئی

شفق ہے

جانب مشرق ابد

کتنی مسرور ہے علم تھامے

وہ جو سرخ لباس میں ہے

یہ ہے دن کا نکلنا

آہ! چاند اور تارے

بہت دور ہو تم

لیکن تم سے دور تو نہیں کوئی

کیا کہتے ہو تم

بس ڈھونڈو فلک تک

یا ہاتھ بھر اور چلوں

ادھار مل سکے گر مجھے

کسی پرندے ( چنڈول) کا تاج

کسی پہاڑی میمنی کے رو پہلی جوتے

اور رکابیں کسی ہرنی کی

تو آج شب ہو لوں تمہارے ساتھ

مگر اے چاند اور تارے!

گر چِہ بہت دور ہو تم

پر تم سے بھی ہے دور کوئی

وہ فلک سے بھی پرے

میرے لیے

جہاں میں نا پہنچ سکوں کبھی