ہم اتنے فریجائل کیوں ہیں؟

ایک روزن لکھاری
نعیم بیگ، صاحبِ مضمون

ہم اتنے فریجائل کیوں ہیں؟

از، نعیم بیگ

گزشتہ چوبیس چھتیس گھنٹوں سے پرنٹ اور سوشل میڈیا پر شرمین  عبید چنائے کی بہن اور ایک ڈاکٹر کا معاملہ اخلاقی ، مذہبی ، سماجی اور تہذیبی تناظر میں زور و شور سے  زیرِ بحث ہے۔ کوئی اس معاملے کو مذہبی نقطہِ نظر سے دیکھ رہا ہے اور کوئی سماجی حوالوں سے۔ اور سچ یہ ہے اس مباحث میں فریقین جو اپنے اپنے دلائل دے رہے ہیں اس میں اپنی بات کو حرفِ آخر قرار دے کر باقی سب کو جھٹلا رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ سوشل میڈیا کی کچھ پوسٹس پر رائے دھندگان کو تشنج اور اختلاج کے دورے کا بھی خطرہ ہے ۔

مجھے یہ بات کبھی سمجھ نہیں آئی کہ ہم اتنے فریجائل کیوں ہیں۔ ذرا سی بات پر ہم اسلام خطرے میں ہے، کا نعرہ بلند کر دیتے ہیں۔ لمحہ بھر میں ہماری غیرت دماغ کے نکل کر زبان اور پھر ہاتھوں سے پھسل کر اپنوں کی جان لے لیتی ہے۔ کسی سنے سنائے ایک واقعے پر ہم پاکستان کو توڑ دیتے ہیں۔ دوسرے واقعے پر ہم قائد عظم کی عزت ان کے ہاتھ میں پکڑا دیتے ہیں۔  ہم سڑکوں پر، دفتروں میں، گھروں میں، اسکولوں میں کسی کے موقف کو سننا اور علقی دلائل سے سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ بس اپنی بات تھونپنا چاہتے ہیں۔

درحقیقت ہم جلدی میں ہیں۔ نفسیاتی طور پر ہائپر ہو چکے ہیں۔ قوت برداشت کا امتحان ہو،صبر و تحمل کی تلقین ہو، کوئی سماجی ایکٹیویٹی ہو، اجتماعی کھانے کی میز ہو کہ کسی سیاسی کھانے کا منظر نامہ ، حتیٰ کہ میڈیا کے پروگرام اور ٹاک شو تک، ہر شخص اس موقع کو زندگی کا آخری موقع سمجھتے ہوئے سب کچھ اپنے اندر یا اندر سے باہر انڈیلنے کی کوشش میں برق رفتار ہے اور انجام کار کسی انجانے کنویں میں گرا ہی چاہتا ہے۔

شرمین عبید چنائے کی بہن کے ساتھ جو واقعہ ہوا ہے وہ کچھ یوں ہے ۔۔۔ “ایک ڈاکٹر کے پاس شرمین کی بہن گئی، ڈاکٹر نے چیک اپ کیا اور پھر کچھ وقت کے بعد فرینڈ ریکوسٹ بھیجی، شرمین عبید چنائی کو وہ جنسی طور پر ہراساں کرنا محسوس ہوا، سو ان کے شکایت کرنے پر ڈاکٹر کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ڈاکٹر کے گولیگز بتاتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر اچھا انسان ہے۔۔۔ اس سارے واقعے میں شرمین کے حوالے سے جو حیران کن بات میڈیا میں جلی شرخیوں میں نمایاں ہوئی وہ یہ کہ ” ڈاکٹر کو اب پتا چلے گا کہ اس نے کس خاندان اور کس طرح کے لوگوں سے پنگا لیا ہے “

ہم ہمیشہ اپنے معاملات میں یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارا اپنا پس منظر کیا ہے؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  کیا  فرینڈ ریکوئسٹ بھجوانے کا دوسرا نام پنگا ہے؟ کیا اس ریکوئسٹ کے ساتھ مزید التجائیں بھی شامل حال تھیں اور اگر ایسا تھا تو یقیناً وہ لڑکی یہ نوٹس لے سکتی ہے، تاہم ہمیں اس قدر سخت اقدام سے پہلے سچ کو تلاش کرنا ہوگا؟

لیکن چنائے اپنی پوزیشن کو استعمال میں لاتے ہوئے اس ڈاکٹر کو نوکری سے برخواست کوا چکی ہیں۔

اس معاملے میں ہمیں بنیادی طور پر چند باتوں کو مد نظر رکھنا ہوگا ۔ پہلی بات کہ فیس بک کے قوانین کیا ہیں ؟ کیا فیس بک کی فرینڈ ریکوئسٹ بھجوانا ، فیس بک ، عالمی قوانین یا ملکی قوانین کے تحت غیر قانونی ہے اور ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے؟ دوسری بات کہ خود لڑکی میڈیا میں سپورٹس رپورٹر ہے۔ جو فیس بک اور عالمی قوانین نہیں جانتی ہوگی کیا؟

دوسری طرف کا استدلال یہ ہے کہ یہ ایک ڈاکٹر اور مریض کے باہمی اعتماد کے رشتے کا معاملہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر بدنیت ہو لیکن صرف فرینڈ ریکوسٹ بھیجنے پر اس کی بد نیتی کو کیسے ناپا جا سکتا ہے؟

  لیکن شرمین کا ردعمل میں کہا جملہ ۔۔۔۔ “ڈاکٹر کو اب پتا چلے کس طرح کے لوگوں سے پنگا لیا ہے” بذات کود اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ پاکستان کی مخصوص طاقت جسے ہم فیوڈل ازم کہتے ہیں کی شکار ہے ۔ اس جملے کی ڈی کنسٹرکشن یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اس طرح سے خوفناک دھمکیاں صرف جاگیردارانہ نظام کی شان ہے ۔ ۔ اسقدر سخت ردعمل خود انکی انتہاپسند طبعیت کی غماز ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اس ردعمل کے وقت انہیں فیمنزم  (فیمینزم  برابری کی سطح پر بذات خود مرد کے خواص کو باعزت سمجھتی ہے ) یا کسی اور عالمی نظریاتی دانش کا احساس ہوا ہوگا۔ اس وقت ان کے اندر کے پاکستانی مرد کی غیرت اسی طرح جاگی ہوگی جس طرح یہاں گلی گلی غیرت کے نام کو برتا جاتا ہے۔ کیونکہ معاملہ اپنی بہن کا تھا۔

فیس بک پر فرینڈ ریکوئسٹ دراصل کسی کو پکارے جانے کا انتہائی مہذب طریقہ ہے ….آپ کسی کو پکارے جائے بغیر کیسے بات کر سکتے ہیں …وہ الگ بات کہ پبلک پوسٹس پر انجان لوگ بھی آپ کو لتاڑ جاتے ہیں….فرینڈ ریکوئسٹ اسی لیے کی جاتی ہے کہ اگر آپ متوجہ ہو جائیں تو بہتر ورنہ یہ جا وہ جا کا راستہ دونوں کے لیے اوپن ہے۔ فیس بک نے تو یہ سہولت تک دے رکھی ہے کہ جسے آپ بلاک کر دیں وہ شخص ہمیشہ کے لیے فیس بک پر آپ کا پیچھا نہیں کر سکتا

کیا پاکستان میں کسی مرد کا کسی عورت کو پکارے جانے پر قانونی پابندی ہے۔ اگر نہیں تو یہ عمل اس سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ یہ لبرل طالبانی ذہنیت ہے۔ میں یہ بھی عرض کروں کہ یہاں فیمینزم جس کی شرمین خود طرفدار ہیں اور فلمیں بنانے پر ایوارڈ لے چکی ہیں تضادات کا شکار ہیں ۔ انکا یہ لغو جملہ انکے اندر کو واضح طور پر آشکار کر دیتا ہے اور انکا کیموفلاج کام فیمینزم کے نام پر صرف سرمایہ دارانہ اور جاگیردرانہ نظام کا تسلسل ہے جس میں پدر سری سماج ہی اولین ترجیح ہے۔ وہ یہاں فیمینزم کو اختلاج کی حد تک ایکسپلائٹ کرتی ہیں جس سے انہیں اندازہ نہیں کہ پاکستان میں رہنے والی دس کروڑ سے زاید خواتین کے حقوق کو مزید ولنرایبل کر رہی ہیں ، جہاں عورت کا فطری وجود خطرے میں آ سکتا ہے ۔ ہم پہلے ہی مذہبی قوتوں کے ہاتھوں سماج کو گروی رکھ چکے ہیں اب لبرلز اپنے طالبانی عمل اور ردعمل سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ یہ کہ وہ بھی اسی طرح انتہا پسند ہیں جنھیں ہم دو دھائیوں سے سماج سے بے دخل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں جس شخص نے آسکر ایوارڈ جیتنے کے بعد عالمی شہرت حاصل کی کو انھیں یہ جملہ زیب ہی نہیں دیتا تھا۔

آخری اہم بات یہ ہے کہ ہمیں ہراسمنٹ اور بد اخلاقی کے فرق کو واضح کرنا ہوگا۔ اخلاقی اقدار کو توازن میں رکھنا ہوگا ۔ ہر عمل کے سخت ردعمل کو رد کرنا ہوگا۔

About نعیم بیگ 139 Articles
ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار اور دانش ور، نعیم بیگ، مارچ ۱۹۵۲ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ گُوجراں والا اور لاہور کے کالجوں میں زیرِ تعلیم رہنے کے بعد بلوچستان یونی ورسٹی سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۷۵ میں بینکاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ لاہور سے وائس پریذیڈنٹ اور ڈپٹی جنرل مینیجر کے عہدے سے مستعفی ہوئے۔ بعد ازاں انہوں نے ایک طویل عرصہ بیرون ملک گزارا، جہاں بینکاری اور انجینئرنگ مینجمنٹ کے شعبوں میں بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ کام کرتے رہے۔ نعیم بیگ کو ہمیشہ ادب سے گہرا لگاؤ رہا اور وہ جزو وقتی لکھاری کے طور پر ہَمہ وقت مختلف اخبارات اور جرائد میں اردو اور انگریزی میں مضامین لکھتے رہے۔ نعیم بیگ کئی ایک عالمی ادارے بَہ شمول، عالمی رائٹرز گِلڈ اور ہیومن رائٹس واچ کے ممبر ہیں۔

1 Trackback / Pingback

  1. سونے پر سہاگہ — aik Rozan ایک روزن

Comments are closed.