عدمیت کا نظریہ، نطشے اور وٹگنسٹائن

لکھاری کی تصویر
صاحب مضمون، ڈاکٹر ناصر عباس نیئر

(ناصر عباس نیر)
کر گے گارڈ کا قول تھا کہ ’’سچائی موضوعی ہوتی ہے۔‘‘ کوئی سچائی آفاقی اور معروضی نہیں ہے اور موضوعی ہونے کی بنا پر اضافی ہے۔نطشے کی عدمیت (Nihilism) کو بھی مابعدجدید فکر کی زنجیر کی اہم کڑی شما ر کیا گیا ہے۔ نطشے کی عدمیت’’اقتدار اور معانی کے یک سرانکار‘‘ سے عبارت ہے۔ عدمیت کو نطشے نے جدیدیت کا عارضہ کہا تھا۔ اس کے نزدیک یورپی ماڈرینٹی مخصوص ورلڈ ویو رکھتی ہے، جو دراصل عیسائیت سے ماخوذ ہے (واضح رہے کہ نطشے یورپی ماڈرینٹی کے ایک خاص مر حلے کی بات کر رہا ہے، جب یورپ مذہبی اعتقادات کو اپنی ثقافت کی گہری سطحوں میں سنبھالے ہوئے تھا)۔ یعنی ماڈرن یورپ دنیا کی تعبیر عیسائی مذہبی عقیدے کی رو سے کرتا ہے۔ اور اس طرح وہ مادّی اور حسی دنیا کے ضابطے، قوانین ایک ایسی دنیا سے اخذ کرتا ہے جو ماورا ہے۔ دونوں دنیاؤں کی سچائیاں الگ ہیں۔ مادّی دنیا کی سچائی اس کا Web of Causality ہوتا ہے اور ماورا کی سچائی اس Web سے آزاد اور الگ ہوتا ہے۔ نطشے کا مؤقف ہے کہ مادّی دنیا کی اقدار، اس کی اپنی سچائی سے طے ہونی چاہییں۔ وہ ماورا کی سچائی اور اقدار پر شبہے کا اظہار کرتا ہے۔ یہی عدمیت ہے۔ اور جب وہ خدا کی مرگ کا اعلان کرتا ہے تو یہ عدمیت کی ریڈیکل صورت ہے، جب اس کا شبہ یقین میں بدل جاتا ہے۔
نطشے نے عدمیت کی دوصورتوں (منفعل اور فعال) کی نشان دہی کی۔ منفعل عدمیت، دنیا کو اقدار اور معانی سے خالی سمجھ کر افسردگی کی گرفت میں آجانا ہے اور فعال عدمیت یہ ہے کہ جب اقدار اور معانی کے نظام کو منہدم کر دیا جائے اور اس کے نتیجے میں Disillusioned Creative Ability کو زبردست تحریک ملے اور اقدار کو ازسرِ نو تشکیل دینے کی کوشش کی جائے۔ نطشے کا عدمیت کا یہ تصور ’’جدید‘‘ ہے کہ جدید رویہ پرانے کا انہدام کرتا ہے تو نئے کی تعمیر کا سامان بھی کرتا ہے۔ وہ تاریخ کے عمل میں رخنہ ڈالتا ہے تو اسے پُر کر کے تاریخ کے عمل کو جاری بھی کر دیتا ہے اور اپنے اس عمل کو ترقی سے تعبیر کرتا ہے۔ اطالوی مابعدجدید مفکر گیانی ویتھونے وضاحت کی ہے کہ اگر ہم ذر ازاویہ بدل کر دیکھیں تو نطشے کی عدمیت ہمیں مابعدجدیدیت کی پیش رو محسوس ہو گی۔ مثلاً پرانی اقدار کا انہدام کر کے نئی اقدار تعمیر کرنا، دراصل Origin کی طرف پلٹنا ہے، کہ ہر قدر اور معنی، نیا ہو یا پرانا، کوئی نہ کوئی بنیاد رکھتا ہے۔ پرانی قدر کا سر چشمہ مطلق اتھارٹی ہے تو نئی اقدر کا سر چشمہ عقل کی اتھارٹی ہے۔ لہٰذا نئی قدار کی تشکیل کا عمل بھی آزادی کا عمل نہیں ہے:پرانے جال میں نئے ڈھنگ سے گرفتار ہونے کا عمل ہے۔ اسی بنا پر نطشے اقدار کی کامل نفی کا قائل نظر آتا ہے اور حقیقت کو Tissue of Erring کہتا ہے۔ یہ خالص مابعدجدید رویہ ہے، جس کے اثرات آگے آنے والے مفکرین پر پڑے۔
عدمیت کے نظریے کو آرٹ میں دادائیت (Dadaism) کی تحریک نے اختیار کیا۔ دادائیت کی تحریک ۱۹۱۶ء میں زیورخ میں شروع ہوئی اور پہلی جنگِ عظیم کے بعد پیرس میں مقبول ہوئی۔ بعدازاں اس کے اثرات انگلستان اور امریکا کے ادب پر پڑے۔ عدمیت کے زیر اثر دادائیت معانی، اصول اور اقدار کی کامل نفی کرتی تھی۔ Nothing اس کا اصل الاصول تھا۔ دادائیت کو جدیدیت میں شامل کیا جاتا ہے، مگر اس کا رشتہ ایک سطح پر مابعدجدیدیت سے بھی ہے۔ بالخصوص وہاں، جہاں دادائیت معانی اور اقدار کی یک سر نفی کا عَلم بلند کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیامعانی کی کامل نفی ممکن ہے؟ اصل یہ ہے کہ جب معانی کی نفی کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو وہ دعویٰ ایک خاص وقت اور مخصوص تناظر میں قایم کیے گئے معانی کی نفی کا ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں فی نفسہٖ معانی کا نہیں بلکہ مخصوص معانی یا معنیکی Stability کی نفی پر اصرار کیا جاتا ہے۔ معانی کا انہدام ، معانی کی آفرینش کے شعور کے بعد ہی ممکن ہوتا ہے۔ ہر معنی اور قدر ایک خاص لمحے، تناظر، تاریخ کے محور پر تشکیل پاتی ہے۔ معنی اور قدر ماورائی اور مستقل نہیں، اپنی اصل میں سماجی تشکیل ہیں۔ معنی کی آفرنیش کا یہ شعور ہی اس کی نفی کا سامان کرتا ہے۔
اس ضمن میں وٹگنسٹائن (۱۸۸۹ء-۱۹۵۱ء) کے خیالات نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس نے ایک تو ’’لینگوئج گیم‘‘ کا نظریہ دیا، جس کے مطابق ہر شعبۂ علم کی اپنی زبان ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہر شعبۂ علم اپنے مقدمات و نظریات سے زیادہ اپنی مخصوص زبان سے پہچانا جاتا ہے۔ غالباً اسی لیے اس نے تمام فلسفے کو Critique of Language قرار دیا۔ دوسرااس نے یہ کہا کہ کوئی معنی شخصی اور نجی نہیں ہے۔ معنی زبان میں ہے، زبان سے قایم ہے اور زبان سماجی تعامل سے وجود میں آتی ہے۔ بنا بریں معنی’’سماجی‘‘ ہے۔ لیوتار نے وٹگنسٹائن سے بہ طورِ خاص اثر قبول کیا۔
معنی، صداقت اور قدر کے سماجی ہونے کا تصور ساختیات نے بھی دیا۔ اس لیے ایک سطح پر ساختیات بھی مابعدجدیدیت کی پیش رو بنتی ہے، مگر دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ساختیات، صداقت کا کلیت پسندانہ تصور رکھتی اور اس کے آفاقی ہونے کا شائبہ اُبھارتی ہے، جب کہ مابعدجدیدیت صداقت کے Localized اور Fragmented ہونے میںیقین رکھتی ہے۔ لیوی سٹراس (۱۹۰۸ء) نے جب ساختیات کو بروے کار لاکر امریکی انڈین اساطیر کا مطالعہ کیا تو ان سب کے باطن میں مشترک ساخت دریافت کی۔ اس کا مؤقف تھا کہ یہ ساخت، انسانی ذہن کی ساخت ہے۔ گواساطیر مختلف جغرافیائی خطوں میں بکھری ہوئی ہیں، مگر انھیںیکساں نوعیت کی ذہنی ساخت نے جنم دیا ہے۔ اس طرح لیوی اسٹراس نے یہ تصور بھی پیش کیا کہ انسانی ذہن کی تفہیم ’’اندر‘‘ سے نہیں’’باہر‘‘ سے ہونی چاہیے۔ ’’باہر‘‘ سے مراد وہ سماجی اعمال اور تخلیقات ہیں جنھیں انسانی ذہن نے جنم دیا ہے۔

About ناصر عباس نیرّ 36 Articles
ڈاکٹر ناصرعباس نیر اردو زبان کے تنقیدی ادب کا ایک با اعتبار حوالہ ہیں۔ اس سلسلے میں کئی مستند کتابوں کے مصنف ہیں: ان میں ● جدید اور مابعد جدید تنقید ● لسانیات اور تنقید ● متن ،سیاق اور تناظر ● مجید امجد: حیات، شعریات اور جمالیات ● ثقافتی شناخت اور استعماری اجارہ داری ● مابعد نو آبادیات اردو کے تناظر میں ● اردو ادب کی تشکیل جدید شامل ہیں۔ ان کی زرخیز ذہنی صلاحیتوں کے با وصف ہم یقین رکھ سکتے ہیں ک کتابوں کی یہ فہرست بڑھتی ہی جائے گی۔ حال ہی میں فکشن میں بھی اپنا ایک توانا حوالہ اپنی افسانوں کی کتاب ●خاک کی مہک کی صورت مہا کر چکے ہیں۔ جبکہ ● چراغ آفریدم انشائیہ کی طرف ان کی دین ہے۔ ● اردو تنقید پر مغربی اثرات کے عنوان سے ڈاکٹریٹ کا مقالہ تحریر کیا۔ اس کے علاوہ ہائیڈل برگ سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کے حامل ہیں۔ ite here abotu Nasir abbas

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.