رسومات و احساس گناہ کے تصورات سے ماحولیاتی بحران کے حل کی ٹوٹی سانسیں جڑ سکتی ہیں؟

رسومات و احساس گناہ

رسومات و احساس گناہ کے تصورات سے ماحولیاتی بحران کے حل کی ٹوٹی سانسیں جڑ سکتی ہیں؟

از، یاسر چٹھہ

(اسٹیفن کیو Stephen Cave، سارہ ڈارون Sarah Darwin کے aeon.co کے اس لنک پر موجود تفصیلی مضمون سے اخذ کردہ مضمون)

انسانی تاریخ میں ہر کلچر نے اپنی اقدار کو گہرائی اور گیرائی دینے کے لئے مختلف رسومات و احساس گناہ کی ایجاد، ترتیب اور ترویج کا سہارا لیا۔ بعینہ، اسی زمین کے وسائل کے اندر اندر پائیدار طریقے سے گزارہ کرتے رہنے کے متعلق اب محض دلیلوں سے کام چلتا دکھائی نہیں دیتا۔ معدودے چند لوگ ہیں جنہیں اس مسئلے کی سنجیدگی کا کماحقہ احساس ہے، اور وہ اپنے انداز ہائے حیات کو اس طور پر بدلنے کو ضروری سمجھتے ہیں، کہ جن انداز ہائے حیات کو بدلنے سے ماحولیاتی تغیرات، فضائی آلودگی، مختلف انواع کی حیاتیات کے مساکن کے ختم ہوتے جانے کے خطرناک عمل کو کسی حد تک سست کیا جا سکے۔

ابتدا ہی میں ہمیں ایک خاص دشواری کے ایک احساس کو ختم کرنا ہے: یہ عجب سی بات ہے کہ رسوم و رواجات داخلی طور پر تو بڑے با معنی اور معمول پر مبنی معلوم ہوتے ہیں، لیکن خارجی تناظر سے بڑے لغو دکھائی دیتے ہیں۔ نئی رسوم و رواجات کے تلاشنے کے عمل میں ہمیں ان کی اس لغویت کی خاصیت کو نظر انداز کرنا ہوگا۔

رسومات کے اندرون میں خاص بات یہ ہے کہ جب لوگ ان پر عمل کرتے ہیں تو انہیں راستی عمل کا احساس ہوتا ہے، جبکہ ان سے روگردانی ہوجانے پر احساس زیاں و غلط کاری کی فکر درپیش ہوتی ہے۔ یہ احساس زیاں و غلط کاری محض عملی جہتوں ہی کی حامل نہیں ہوتی، بلکہ ان کا احساس اخلاقیات و جذبات کے اندر بھی پیوست ہوتا ہے۔ رسومات، ہمارے افعال، ہماری اقدار اور دوسروں سے وابستہ برتاؤ کی توقعات میں ربط و تعلق پیدا کرتی ہیں۔

یہ رسوم بظاہر بے ڈھنگے سے طریقے سے ایسی باتوں اور کاموں کے سرانجام لانے کا بھی تعین کرتی ہیں جن کی بہ نظرغائر کوئی عملی افادیت بھی نہیں ہوتی اور وہ بس من مانی کرنے کے انداز سے عبارت ہوتی ہیں؛ مزید یہ کہ ایسی من مانیاں اور غیرافادی افعال لگے بندھے نمونے و سلیقے کے مطابق سرانجام دینا لوگوں کی مجبوری بن جاتا ہے۔ رسومات کی کامیابی کا پیمانہ ان کی اس خاصیت پر متعین ہوتا ہے کہ وہ بے معنویت اور بے ترتیبی سے عبارت دنیا و مافیھا میں کتنا نظم و معانی کا نظام صورت پذیر کر دیتی ہیں۔

افراد کے رویوں کو ماحولیاتی حوالوں سے ذمے دار بنانے کی کوئی بھی کوشش کافی مشکل کام ہے۔ گوکہ رویوں میں ایسی تبدیلی خود ہمارے اپنے نفع و نقصان کا معاملہ ہے، پھر بھی لوگوں کو ایسا سمجھنے میں دشواری کیوں ہے؟ 2009 میں امریکہ کے نفسیات دانوں کی نمائندہ تنظیم American Psychological Association, APA نے اسی سوال و موضوع پر ایک رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ کو سرکردہ اور سنئیر محققین کی ایک ٹیم نے مرتب کیا اور اس رپورٹ کے ذریعے ایک ناقابل تفہیم سی محسوس ہونے والی چیز کو واضح کرنے کی کوشش کی:

“لوگوں، بطور خاص اعلٰی ترین سطح کے ترقی یافتہ صنعتی ملکوں کے لوگوں نے اپنی زندگیوں کا چلن اکیسویں صدی کے موجودہ برسوں تک اس انداز کا بنائے رکھا ہے جو ان کے اپنے ملکوں کے علاوہ اس سیارہ زمین کو زندہ رہنے کے قابل بنے رہنے کو پر خطر طریقے سے نقصان پہنچانے کا ذریعہ رہا ہے۔”

اس محولہ بالا رپورٹ نے بہت سارے مختلف النوع تحقیق مطالعات کی روشنی میں ماحول دوست رویوں کے رستے میں حائل نفسیاتی دشواریوں اور رکاوٹوں کا ایک خاکہ مرتب کیا ہے۔ یہ خاکہ کوئی تیرہ کے قریب عوامل کی فہرست مرتب کرتا ہے؛ یہ عوامل مکمل انکار سے لے کر مستقبل کو پس پشت ڈال دینے کی انداز فکر تک محیط ہیں۔ ان محققین نے رسوم پر تجربے کی خاطر ان تیرہ عوامل کو تین ڈھیلے ڈھالے زمروں میں تقسیم کیا۔ پہلا زمرہ یہ رہا ہے کہ لوگوں کی اپنی جگہوں اور مقامات سے گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بے ربطی و بے تعلقی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے؛ اس بے ربطی میں اضافے کو محققین نے ایک طرح سے فطرت سے بھی کٹتے جانے پر بھی محمول کیا۔
دوسرے زمرے میں ایسے مسائل آئے جو اس بات سے متعلق تھے کہ کسی ماحولیاتی مثبت عمل کے سرانجام دینے میں بعض جذباتی سطح کی رکاوٹی حائل پوتی ہیں: ان جذباتی رکاوٹوں میں جبر کا شکار ہونا، دیگر پریشانیاں، اور اتنے دیو ہیکل اور پیچیدہ مسئلے کے سامنے خود کو بہت کمزور سمجھنے کا احساس شامل ہے۔

ماہرین نفسیات کی جانب سے تین مجوزہ ماحولیاتی بیگانگی سے عبارت رویوں کے عوامل پر مشتمل زمروں میں سے دو کا احوال اوپر بیان ہوچکا۔ ماحولیاتی بیگانگی کے عوامل کا تیسرا زمرہ کچھ ایسے عوامل پر مشتمل ہے جو دیگر سے بہت ہی مشکل ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں ہمارے بہت سے رویے ہماری عادات کے شانوں پر استوار ہوتے ہیں؛ اور عادات کو بدلنا ہمیشہ سے بہت ہی مشکل امور میں سے ایک ہوتا ہے۔ ہم اپنی عادات کے نقصانات کو آشکار کرنے والے شواہد و قرائن کو پس پشت ڈالنے میں یکتا ہیں؛ بلکہ ہم تو انہیں اپنے پست مفادات کی بھٹی میں بھی با آسانی جھونک دیتے ہیں: ہم بچوں کو گاڑی پر اسکول چھوڑنے جاتے ہیں؛ توجیہہ یہ پیش کرتے ہیں کہ ہم چونکہ بہت مصروف ہیں، اور یہ ایک تیز رفتار اور منطقی طریق معلوم ہوتا ہے؛ مزید یہ کہ یہ محفوظ طریقہ بھی تو ہے۔ (یہاں پاکستان میں بڑے شہروں کی مساجد میں نماز ادا کرنے اور انتہائی قریب کے بازاروں میں سودا سلف لانے کے لئے بھی گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں۔ ہم اپنے گاؤں کے قریب کے اسکولوں میں پیدل جایا کرتے تھے۔)

اب سوال یہ ہے کہ ان میں سے کون سے عوامل کا کوئی حل کسی طرح کی رسومات کے ذریعے ممکن ہے۔ یقینا سب عوامل کے متعلق ہم ایسے نہیں کہہ سکتے کہ رسومات ہی ان کا حل ہیں: ماحولیاتی مسائل سے متعلق شعور و آگاہی انہیں زیادہ بہتر طریقے پھیلانے سے بڑھائی جاسکتی ہے۔ بصورت دیگر جہاں پر لوگوں کے پاس مختلف وجوہات کی بناء پر ماحول دوست ہونے کے مواقع واختیار اور سہولیات زیادہ میسر نہیں (مثال کے طور پر ان کی غربت اور دیگر سماجی حالات وغیرہ) تو ایسے حالات میں رسومات کے علاوہ دیگر متبادل طریقوں کو ترجیحا اور پہلے برتنے کے متعلق سوچنا چاہئے

ان ساری چیزوں کو ذہن میں رکھنے کے باوجود ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم ماحول دوست بننے کے سلسلے میں اپنے تئیں کافی حد تک بااختیار ہیں؛ خاص کر متمول ممالک کے وہ باسی جن کے ماحولیات پر اثرات بھی کہیں زیادہ ہیں۔ یہ ہے وہ اصل موقع و محل جہاں پر ہماری ناکامی کے آثار زیادہ ہویدا ہیں۔ ابھی حال قریب تک رسومات و روایات کے اندر اس مسئلہ کو حل کرنے کی صلاحیت کی موجودگی کی اہمیت، ہمیں ایک خبط پن سے عبارت خیال، یا بہ نظر دیگر، ایک بہت ہی خطرناک ارتکاز ذہنی کے لئے مخرب حرکت محسوس ہوسکتی تھی۔ لیکن ماہرین نفسیات کی جانب سے پیش کردہ تحقیقی رپورٹ یہ پہلو واضح کرتی ہے کہ کامیابی کے امکانات کی حامل تدبیروں کے امکانات کے اندر نا صرف ہمارے عقلی وجود کو قائل کرنے کی صلاحیت موجود ہونی چاہئے، بلکہ ان تدبیروں کو ہمارے معاشرتی اور جذباتی وجودوں کو بھی قائل کرنے کی سکت ہونا چاہئے؛ اور یہی ہے وہ علاقہ جس سلسلے میں رسومات و رواجات کی اہمیت کا انکار نہیں ہوسکتا۔

ٹوٹم پرستی دنیا کے بہت سے گوشوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کی رو سے لوگوں کا بطور فرد یا بطور گروہ کسی دوسری زندہ چیز سے ایک مقدس تعلق و ربط ہوتا ہے۔ یہ زندہ چیز عمومی طور پر کوئی جانور ہوتا ہے۔ ٹوٹم پرستی اس طرح سے انسانوں کا دوسرے غیر انسانی جانداروں کی فطری دنیا سے ناتہ جوڑ دیتی ہے: ٹوٹم پرستی مقامی امریکیوں Native Americans کے عقائد کا حصہ ہے۔ یہ عقائد ایک دوسرے سے تعلق و ربط اور بقائے باہمی پر بہت زور دیتے ہیں۔ تحقیق کار یہ جاننا چاہتے تھے کہ اس طرح کے عقائد موجودہ مغربی ممالک کے شہروں میں آباد لوگوں کے اندر اپنے گرد و پیش کی فطرت سے بہتر ربط و تعلق قائم کرنے کی کس قدر صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ خیال کچھ ایسا دور ازکار بھی معلوم نہیں پڑتا۔

فطرت کے ساتھ سیدھے سادے روابط و تعلقات بھی لوگوں کے اندر فطری مظاہر سے مضبوط تر تعلق داری پیدا کر دیتے ہیں۔ اور یہ تعلق داری ایک شعوری ناتہ ہوتا ہے۔ مغربی ممالک میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جو لوگ اپنے قریبی پہاڑوں پر ہائیکنگ hiking کے لئے جاتے ہیں ان میں ماحولیات کے لئے کام کرنے والے فلاحی اداروں کو چندہ دینے کا زیادہ رجحان پایا جاتا ہے۔ اسی طرز کے ایک اور تحقیقی مطالعے سے معلوم ہوا کہ فطری مناظر سے لطف اندوز ہونے والے افراد زیادہ وسیع تناظرات میں سوچنے کی عادات بنا جاتے ہیں؛ اور یہ عادت ان میں فوری طور پر عمل کرنے اور کسی مستقبل کی تباہی کو ٹالنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ اس طرح امریکی نفسیات دانوں کی تنظیم APA کی تحقیق ہمارے خاص جگہوں اور علاقوں سے کمزور پڑتے تعلق کو ایک بڑے مسئلے کے طور پر فہرست میں شامل کرتی ہے۔

برطانوی ماہر علم بشریات، ٹم انگولڈ Tim Ingold اسی کیفیت کو زیادہ وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہیں۔ جناب انگولڈ کا یہ ماننا ہے کہ فطرت سے بنیادی قسم کی قطع تعلقی موجودہ ماحولیاتی بحران کی اصل ہے۔ صدیوں سے فطری دنیا کو فتح کرنے، یا مسخر کرنے کے متعلق ہی تدبیریں سوچی گئیں۔ لیکن پچھلے کچھ عشروں سے اس قطع تعلقی کی رفتار دنیا میں صنعتی و شہری ترقی کی وجہ سے بہت تیز ہوگئی ہے اور مزید آگے ہی آگے کی طرف گامزن ہے۔ پہلے ہی دنیا کی آدھی سے زائد آبادی شہروں میں بستی ہے؛ اور موجودہ صدی کے نصف تک دنیا کی دو تہائی سے زیادہ آبادی کے شہروں کے باسی ہوجانے کی پیش گوئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی حد تک رسومات سازی کا عمل فطری طور پر اس وقت اجاگر ہوتا سامنے آتا ہے جس وقت فطر و قدرت کے مختلف جغرافیائی مقامات اور مختلف انواع حیات کو ہم ایک موزونیت باہمی میں موجود دیکھنے کی صلاحیت حاصل کرنے لگتے ہیں۔ اپنی نہایت عمدہ کتاب Dark Green Religion میں جو 2009 میں شائع ہوئی، برون ٹیلر، پروفیسر برائے مذہبیات و فطرت، نے بہت سی ایسی مثالوں کو جمع کیا ہے جن کی رو سے بہت سے لوگوں نے فطرت سے اپنے تعلق و ربط کو گہرا کرنے کے لئے رسومات کا سہارا لیا۔ ان رسومات میں کئی ساری مشقیں ایسے افعال و عادات سے نامیاتی انداز سے برآمد ہوئی ہیں جن کا تعلق مظاہر فطرت کے قریب تر کے مشاہدات سے ہے؛ لیکن کچھ مشقیں ایسی ہیں جن کو ماحول دوست رویوں کی ترویج کے لئے شعوری طور پر معرض وجود میں لایا گیا ہے۔ باقی کی کچھ رسومات و مشقیں ماضی کی رسومات کے احیاء اور تخلیقی اخذ سے فراہم کی گئی ہیں۔

کسی بھی دوسری نوع حیات species کی حیثیت و فکر perspective کو سنجید انداز سے ذہن میں رکھنے سے ہمارے اندر کا بشرمرکزیت کا مہا بت ٹوٹنا شروع ہوجاتا ہے۔ ہماری جانب سے قدرتی وسائل و ذرائع کا اسراف سے عبارت استعمال ہماری اس بنیادی فلسفیانہ فکر کا اہم جزو ہے جس کی رو سے ہم انسان باقی مخلوقات و انواع سے خود کو الگ ایک عالی سنگھاسن پر موجود گردانتے ہیں۔ دوسری species انواع کی بابت ایسا خیال رکھنا کہ ان کے اپنے جائز و حقیقی مفادات و ضروریات ہیں، ان کے اپنے اپنے نکتہ ہائے نظر perspectives ہیں، اور ان کے اندر بھی اپنی اپنی دانش wisdom ہے، ہمارے اس بشر مرکزیت کے فلسفہ کو سوال زد کردیتا ہے؛ اس کے ساتھ ہی ایسا خیال ہمارے اندر ایک نئے تصور حیات و کائنات کے جنم لینے کے در کھولنے لگتا ہے جس کی رو سے ہمیں دوسری مخلوقات و حیاتیات کے احوال کی بھی فکر کرنا ہے۔ لیکن بات محض فکر کرنے سے تو ختم نہیں ہوسکتی بلکہ مثبت عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی کچھ اور پہلو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہیں۔ ماحولیات کے متعلق کسی مثبت عمل کی سرانجامی سے روکنے کے سلسلے میں بعض دوسرے عوامل ایسے ہیں جنہیں ہم جذبات کے علاقے کا کہہ سکتے ہیں، مثلا بے اختیاری اور پریشان خیالی جیسے احساسات۔
یہاں آکر ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ رسومات ہی ہیں جو اس جیسے مسائل کا حل پیش کرسکتی ہیں کیونکہ رسومات بڑے فطری انداز سے ایک تسلی بخش ماحول پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ دنیا اور ہماری داخلی کیفیات و احساسات بعض اوقات بڑی بے ہنگم اور قابو سے باہر دکھائی دیتی ہیں۔ رسومات ان احساسات و جذبات کا بڑے موزوں طریقے سے اظہار کرانے میں مددگار ہوتی ہیں؛ اس کے ساتھ ہی یہ ہماری جانب سے زندگی میں آگے بڑھتے رہنے کا اہتمام بھی کرتی ہیں۔ رسومات و رواجات کی یہ خاصیت ہمیں ماحولیاتی بحران جیسے پیچیدہ چیلنج کے سلسلے میں کافی مناسب معلوم ہوتی ہے۔

یہ منفی قسم کے احساسات بڑے جاں گسل ہوسکتے ہیں۔ لیکن وفاتوں اور دیگر المیات پر ہونے والی تحقیق و مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسومات، غم و اندوہ کے اثر کو قابل برداشت بنانے، اور مآل کار، زائل کرنے میں بہت اثرو نفوذ رکھتی ہیں۔ رسومات کے مختلف مراحل، دیگر احساسات کے اظہار کا ذریعہ بنتے ہیں۔ کسی رسم کا سب سے اہم کام کسی عمل کے سرانجام دینے کے سلسلے میں جذباتی رکاوٹوں کو ختم کردینا ہوتا ہے۔ لیکن کسی کو یہ پتا تو ہونا چاہئے کہ وہ رویہ اور عمل کون سا ہے جسے بدلنا مقصود ہے۔

لیکن رسومات تن تنہا ہمارے ذہنوں کی ان جگہوں کے محض وہ دروازے ہی کھول پائیں گی جہاں ہم اپنی ایسی چیزوں کو سنبھال کر رکھتے ہیں جو ہمارے لئے متبرک اور اقداری ہوتی ہیں؛ رسومات ازخود اس بات کا تعین نہیں کرتیں کہ ان دروازوں سے کن چیزوں کو داخل ہونے دینا ہے۔ سبز تحریک ( گرین موومنٹ) کو نا صرف رسومات، بلکہ کچھ احکام کے مجموعے کی بھی ضرورت ہے۔ جب رسومات اور احکامات کا ضروری مجموعہ باہم موزوں اور میسر ہو آئے گا تو اس کے اندر ہمارے رویوں کو بدلنے کی بہت صلاحیت ہوگی۔

ہماری یہ بحث ہمیں ہمارے بحث کے آخری زمرے کی طرف لے آتی ہے جو مفید رسومات سے متعلق ہے: ایسی رسومات جو ہمیں مضرعادات کو ختم کرنے مں مدد دیتی ہیں اور نئی ماحول دوست اور فردا شناس عادات کی نمو کرتی ہیں۔ ایسا ہونا رویوں میں تبدیلی لانے کے سلسلے کا سب سے بڑا انعام ہوگا۔ عادتوں کی تبدیلی کسی طور بھی آسان کام کبھی بھی نہیں ہوتا؛ بعینہ، اسی مشاہدہ کی بناء پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ نئی عادتوں کی نمود و ترویج میں بھی کسی مثبت تبدیلی لانے کے توانا امکانات کی طرف بھی تو اشارہ ملتا ہے۔ اس سلسلے میں رسومات و رواجات کئی طریقوں سے ہماری مدد کرسکتے ہیں۔ رسومات کو باقاعدگی سے منانے سے لوگوں کے اندر اپنے عالی مقاصد کی اہمیت کو تازہ کرتے رہنے کا اہتمام ہوتا رہتا ہے۔ رسومات روز ہوتی چیزوں اور افعال کو نئے تازہ تر انداز و جذبے سے سرانجام دینے کی سبیل بھی پیدا کرتی ہیں۔

شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ عادات بدلنے کی رسومات ہمارے اندر پائی جانے والی منطقی لاتعلقی rational indifference کو کسی حد تک کم کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔ ہماری بہت سی عادات کے اندر تبدیلی رو بہ عمل لانے کے محرک کی شدید کمی ہوتی ہے۔ ہمیں ایسے لگتا ہے کہ اکیلے ہمارے کسی تبدیلی کے رستے پر چل نکلنے میں ایک تو بہت ہمت و محنت درکار ہوگی اور دوسری بات یی کہ ہمارے اکیلے کی کسی کوشش سے کیا سود مند ہونے والا ہے۔ ایسی سوچ ان معاملات میں جہاں فوری اور ہنگامی مثبت عمل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کو بہت نقصان پہنچاتی ہے۔ لیکن کوئی اجتماعی رسم اس سلسلے میں البتہ بہت مفید کردار ادا کرسکتی ہے۔

ہم نے اپنے متعین مقصد کے حصول کی جانب گوکہ بہت تھوڑا فاصلہ طے کیا ہے پر یہ فاصلہ اتنا بھی کم نہیں کہ چند ایک نتائج بھی اخذ نا کرسکیں۔ پہلا ممکنہ نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ رسومات کے اندر بہت طاقت اور اثر پذیری ہوتی ہے۔ ہر چند کہ ہمارے مختلف افعال کی سرانجامی میں ہماری عقل و فکر اہم کردار ادا کرتی ہیں، لیکن بہتی دفعہ ہم مقبول و معروف افعال و رویہ جات پر ہی انحصار کرتے دکھائی دیتے ہیں؛ ان افعال و رویہ جات کو رسومات تشکیل بھی دیتی ہیں اور توانائی بھی دیتی ہیں۔ رسومات کی یہ طاقت کچھ لوگوں کو پریشان کر دیتی ہے: ان لوگوں کو یہ خدشہ لاحق ہوتا ہے کہ اگر ایک بار ہمارے ذہن کو جانے والا یہ در کھل گیا تو ممکن ہے کوئی بہت ہی خطرناک چیز اس کے اندر گھس جائے گی۔ لیکن دوسری طرف یہ بھی تو مانی جانی چیز ہے کہ وسیع پیمانے پر رویوں کی تبدیلی ہی ہمیں موسمی تغیرات کے سانحہ عظیم سے بچانے کے لئے اشد ضروری ہے۔ اس لئے ہمیں ہنگامی بنیادوں پر ان عوامل، جو ہمارے رویوں اور افعال کی تشکیل کرتے ہیں، کی بابت ایک وسیع تر مکالمہ و مباحثہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری بات یہ کہ یہی درست روش ہے کہ ہم اپنے پاس کی باقی ماندہ کی فطرت سے پھر سے صحت مند طریقے سے جڑ جائیں۔ امریکی ماہر ارتقائی حیاتیات، اسٹیفن جے گولڈ Stephen Jay Gould نے 1991 میں تحریر کیا تھا:

“ مختلف انواع حیات اور ماحولیاتی تنوع کو بچانے کی اس جنگ میں ہم اپنے اور فطرت کے بیچ جذبات پر مبنی کوئی ناتہ جوڑے بغیر کسی طور بھی کامران نہیں ہوسکتے؛ کیونکہ ہم کسی چیز کو بچانے کے لئے جنگ و جدل اور لڑائی صرف اسی وقت کرسکتے ہیں، جب ہم اس سے رشتہ محبت میں جڑے ہوں۔”

تاہم اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم میں سے ہر کوئی اپنا ٹوٹمی جانور تلاشنا شروع ہوجائے۔ رسومات کے لئے ارتفاعیت اور ماورائیت ضروری نہیں ہوتی: یہ بہت چھوٹی چھوٹی روزمرہ کی مصروفیات و کام ہوسکتے ہیں جو ہمیں فطری دنیا کی اہمیت، خوبصورتی، اور عظمت کی یاد تازہ کراتی رہتی ہیں۔

ایک بار جب ہماری اقدار اور ہمارے احساسات باہم مناسب اور موزوں طور پر منسلک ہوجائیں گے تو ان سے مثبت عمل کی کونپلیں پھوٹیں گی۔ ان اقدار و احساسات کی نمود و ترویج میں رسومات کا انتہائی اہم کردار ہوتا ہے جو ہمارے اندر نئی اور مثبت عادات کے پیدا کرنے کا محرک بنتی ہیں؛ یہ رسومات ہمارے اندر بطور فرد اور بطور معاشرتی گروہ ایک ایسی تبدیلی لانے کی تحریک پیدا کرتی ہیں جو ہمیں ماحول و فطری دنیا سے زیادہ بہتر اور قریبی وابستگی میں جوڑنے میں ممد و معاون ہوتی ہیں۔ شاید ہم جلد ہی سائیکلوں پر بیٹھ کر دفتروں اور کارباروں کو جانے اور گوشت خوری میں ہفتہ وار ناغے ڈالنے سے شروعات کرنے کے بعد اپنی روزمرہ کی زندگیوں میں دیگر انتہائی اہم اور سنجیدہ انقلابی تبدیلیوں کے لئے تیار ہو جائیں۔ ہمیں کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ ہمارے پاس رہنے کو صرف ایک ہی زمین نام کا سیارہ ہے اور ہمیں اپنے طرز ہائے زندگانی میں بنیادی نوعیت کی مستقبل دوست اور فردا شناس تبدیلیاں لانے کی اشد ضرورت ہے۔

About یاسرچٹھہ 208 Articles
اسلام آباد میں ایک کالج کے شعبۂِ انگریزی سے منسلک ہیں۔ بین الاقوامی شاعری کو اردو کےقالب میں ڈھالنے سے تھوڑا شغف ہے۔ "بائیں" اور "دائیں"، ہر دو ہاتھوں اور آنکھوں سے لکھنے اور دیکھنے کا کام لے لیتے ہیں۔ اپنے ارد گرد برپا ہونے والے تماشائے اہلِ کرم اور رُلتے ہوئے سماج و معاشرت کے مردودوں کی حالت دیکھ کر محض ہونٹ نہیں بھینچتے بَل کہ لفظوں کے ہاتھ پیٹتے ہیں۔