تین کمروں کی زندگی، تخلیق کار کون

Khizer Hayat
خضرحیات

تین کمروں کی زندگی، تخلیق کار کون

از، خضرحیات

ہم عمومی طور پر جو زندگی گزارتے ہیں وہ تین کمروں پر مشتمل نظر آتی ہے۔

ان میں سے سب سے دیدہ زیب کمرہ وہ ہے جو تخیل کی اینٹوں، فینٹسی کے گارے اور امیجی نیشن کی چھت سے مل کر بنا ہے۔ یہ اگرچہ ظاہر کی آنکھ سے کسی کو نظر نہیں آتا، نہ ہی اس میں رہنے والے کو اور نہ ہی باقی لوگوں کو مگر اندر کی آنکھ کو یہی سب سے خوشنما لگتا ہے۔

اس میں سب سے نمایاں چیز جو خیالی دیوار پہ ٹنگی نظر آتی ہے وہ ہے وقت کی تقسیم کا ایک کیلنڈر جس میں آنے والی گھڑیاں، پل، دن، مہینے، سال ترتیب سے ٹنگے ہیں۔

دوسری نمایاں چیز جو اس کمرے میں نظر آئے گی اور جس چیز سے یہ کمرہ ٹھساٹھس بھرا نظر آئے گا وہ ہیں خواب۔ ہر طرح کے خواب۔ اچھے دنوں کے خواب، اچھی نوکری کے خواب، اچھے مستقبل کے خواب، اولاد کے خواب، روپوں پیسوں کے خواب، صحت یابی کے خواب، بڑے گھر کے خواب، بڑی گاڑی کے خواب، اونچے عہدے کے خواب، معاشرے میں عزت دار مقام کے خواب۔

یہ اگرچہ خیالی قیام گاہ ہے جس کا مادی و زمانی وجود ممکن نہیں ہے مگر پھر بھی ہمارا اچھا خاصا وقت اسی قیام گاہ میں بسر ہوتا ہے۔

یہ وہ کمرہ ہے جسے ہم نے اپنی امیجی نیشن سے تعمیر کیا ہے۔ اسے مستقبل کہتے ہیں۔

دوسری جانب مڑیں تو ہم ایک ایسے کمرے کے سامنے پہنچیں گے جو فرش سے چھت تک لق و دق مختلف چیزوں سے اٹا پڑا ہے۔ اس ماحول پر پہلی نظر ڈالنے سے محسوس یہ ہوتا ہے کہ پہلے دنیا جہان کی چیزیں ایک جگہ اکٹھی رکھ دی گئی ہوں گی اور پھر ان کے اردگرد دیواریں کھڑی کر دی گئی ہوں گی۔ جو چیز جہاں ہے وہاں سے انچ برابر بھی ادھر ادھر نہیں ہو سکتی۔

یہ ماضی کا کمرہ ہے۔

یہ وہ کمرہ ہے جس میں ہم اپنا سب سے زیادہ وقت گزارتے ہیں اور یہی وہ کمرہ ہے جس میں ہم نے اپنا سارا سامان جمع کرکے رکھا ہوتا ہے۔

اس میں گزرے تمام دن، تمام راتیں، تمام گھڑیاں، تمام پل ترتیب وار رکھے ہیں۔ ہر دن کے کندھوں پر وہ تمام واقعات ایک بوجھ کی مانند لدے ہیں جو ماضی میں اس دن رونما ہوئے تھے۔ ہر رات خوابوں سے اٹی ہے۔ اکثر پل مرجھائے مرجھائے ہیں اور جو ان میں سے چہک رہے ہیں وہ الگ ہی محفل لگا کے بیٹھے ہیں۔

یہاں جا بجا ٹوٹے پھوٹے خواب، شکستہ ارادے، مسمار منصوبے نظر آتے ہیں۔

ایک کونے میں بچپن کی یادیں جوڑ جوڑ کر رکھی گئی ہیں۔ دوسرے میں لڑکپن کے قصے لڑکپن کے دنوں پر کشیدہ کیے ہوئے لٹکے ہیں۔

ایک طرف ان تمام لوگوں کی شیبہیں پڑی ہیں جن سے ماضی میں تعلق رہا۔

ایک خوشنما سرخ رنگ کی الماری میں ان لوگوں کی دھندلائی ہوئی تصویریں موجود ہیں جن سے ہم نے کبھی محبت کی اور جن کے بارے میں اُس وقت کے دنوں میں ہم نے سوچا تھا کہ ان کے بغیر ہماری زندگی مکمل نہیں ہو سکے گی اور اگر ان کے بغیر کبھی جینا پڑا تو ہم دو دن بھی نہیں جی سکیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ بعد میں ایک ایک کرکے رخصت ہوتے گئے اور ہمیں کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ ہم بدستور جیتے رہے تھے۔

یہاں ایک طرف سب سے بڑا ڈھیر نظر آئے گا جہاں ناکام حسرتیں سسکیاں لیتی سناتی دیتی ہیں۔

یہاں پرانے زمانوں کے گلی محلے، شہر، بازار، گاؤں، گاڑیاں، لباس، جوتے، گھڑیاں، باتیں سب کچھ محفوظ پڑا ہے۔ جب جب کسی پرانے زمانے کی سیر کرنی ہو ہم یہاں چلے آتے ہیں اور اس سے ہمیں راحت ملتی ہے۔

ہمارے جیسے لوگ اپنا زیادہ وقت اسی کمرے میں گزارنا پسند کرتے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پہ ہم بھاگ کے اس کمرے میں پہنچ جاتے ہیں۔ کسی فلم کے ڈائیلاگ پہ، کسی گیت کے بول پہ، کسی پرانے دوست کے ملنے پہ، کسی تصویر کے دیکھنے پہ، غرض یہ کہ ہزاروں بہانے ہوتے ہیں اس قیام گاہ میں آنے کے۔

کچھ لوگ تو حال مستقبل نام کی چڑیوں سے واقف ہی نہیں ہوتے، ان کا سارا جیون ایک قدم پیچھے ہی رہتا ہے اور وہ تمام عمر ماضی میں ہی سفر کرتے گزار دیتے ہیں۔

اس کمرے کا ماحول مخمور ہے جس کی فضا میں ایک خاص قسم کا نشہ ہے، ایک رومانس ہے، ایک ٹھہراؤ ہے۔ یہاں پہنچتے ہی آپ حال کی دوڑ سے جان چھڑا چکے ہوتے ہیں اور ہر طرف رکی ہوئی چیزیں اور بیتی ہوئی گھڑیاں آپ کا استقبال کرتی ہیں۔ آپ جو مستقل دائروں میں گھوم گھوم کے چکرا چکے ہوتے ہیں آپ کو وقتی طور پہ یہ ٹھہراؤ نہایت سکون دہ محسوس ہوتا ہے اور فوراً ہی آپ اس ماحول کے سحر میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔

یہی سکون آپ کو بار بار اس کمرے میں جانے پہ مجبور کرتا ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے آپ ماضی میں رہنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ گزرے دنوں کا نشہ آپ کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور پھر چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے آپ ماضی میں ڈبکیاں لگاتے رہتے ہیں۔ ٹی وی دیکھتے دیکھتے لمحہ بھر کے لیے آپ کی توجہ سکرین پر ٹکی اور ساتھ ہی آپ ماضی میں لڑھک گئے۔ کوئی اندازہ بھی نہیں لگا سکتا کہ آُپ کس کس وقت ماضی کے کن کن دریچوں کی خاک چھانتے رہتے ہیں۔ اور یہ بھی کوئی نہیں دیکھ سکتا کہ آپ کب حال میں ہوتے ہیں اور کب ماضی میں چلے جاتے ہیں۔

جب تک آپ کو احساس ہوتا ہے کہ ماضی آپ کو قنوطیت کا شکار کر رہا ہے تب تک آپ اس کے آسیب زدہ ماحول کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔

اس کمرے میں آپ کی اب تک کی بِتائی ہوئی ساری زندگی تہہ در تہہ دھری رہتی ہے اور آُپ کو اپنی گزاری ہوئی زندگی کے نقوش دیکھنا اچھا لگتا ہے اس لیے آپ اکثر اوقات ماضی کی غلام گردشوں اور راہداریوں میں پائے جاتے ہیں۔

دائیں اور بائیں واقع ان دو قیام گاہوں کے بیچ میں ایک اجاڑ سا برآمدہ نما کمرہ ہے۔ جس کی کوئی واضح حد بندی نظر نہیں آتی۔ پہلی دفعہ دیکھنے پہ لگتا ہے کہ تاحد نظر حال ہی حال پھیلا ہوا ہے مگر تھوڑا غور کرنے پہ پتا چلتا ہے جس گھڑی پہ آپ کا پاؤں ہے اس سے ایک ٹِک پیچھے سے ماضی کا دائرہ شروع ہو جاتا ہے اور ہر اگلا قدم مسقبل میں پڑتا ہے۔ اس حساب سے بعض اوقات لگتا ہے ہر گھڑی میں تینوں زمانے یعنی ماضی، حال اور مستقبل ساتھ ساتھ لپٹے ہوئے چل رہے ہیں۔ مگر وسیع النظری سے جھانکا جائے تو حال والے اس ہال نما کمرے کی کشادگی کچھ کم نہیں ہے۔

یہاں اس کمرے میں سب کچھ ہے۔ خام مال کے ڈھیر لگے ہیں جن سے خواب بنائے جا سکتے ہیں۔ بے حساب مواقع ہیں جنہیں استعمال میں لاکر ماضی کے لیے خوب صورت یادیں ترتیب دی جا سکتی ہیں۔

یہی وہ جگہ ہے جہاں ہماری اصل زندگی چل رہی ہوتی ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں ہم اپنا سب سے کم وقت گزارتے ہیں۔

ہمارا پچھلا پاؤں ماضی میں رہتا ہے اور اگلی ٹانگ مستقبل میں۔ اس چکر میں حال ہمیشہ نظر انداز ہوتا رہتا ہے۔

ہمیں دو ہی جگہوں پر کامل شانتی ملتی ہے۔ یا تو ماضی کے رومانس بھرے ماحول میں بھاگتے پھریں، یا پھر مستقبل کی خواب آلود فضاء میں سانس لیتے رہیں۔ حال چونکہ حقیقی ہے اسی لیے تھوڑا کٹھن بھی ہے۔ یہاں مشکلات بھی ہیں، چیلنجز بھی ہیں، پریشانیاں بھی ہیں لیکن مواقع بھی ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ حال کی تلخیوں سے بھاگ کر ہم کبھی دائیں والی قیام گاہ میں پناہ لیتے ہیں اور کبھی بھاگ کے بائیں والے کمرے میں گھس جاتے ہیں۔

بہت سارے انسانوں کی زندگی انہی تین کمروں پر مشتمل ہوتی ہے۔ مگر ان تینوں کمروں کے بیچوں بیچ ایک ایسا بھی راستہ موجود ہے جو تہہ خانے میں کھلتا ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ سبھی انسانوں کو اس راستے کا پتہ نہیں چلتا یا یوں کہہ لیں کہ اکثر انسانوں کی آنکھوں سے یہ راستہ خفیہ رہتا ہے۔

جن چند لوگوں کے دماغ کی بتّی روشن ہو جائے اور انہیں کہیں خواب میں یا خیال میں یا حقیقت میں اس راستے کا کوئی نشان نظر آ جائے تو وہ پھر زندگی میں کبھی نہ کبھی اس دروازے کو کھولنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اس وقت حیرت ہوتی ہے جب تہہ خانے کا دروازہ کھلتا ہے تو اندر روشنیاں ہی روشنیاں جگما رہی ہوتی ہیں۔ اس تہہ خانے کا ماحول، جہاں چند ہی لوگ پہنچ پاتے ہیں، کسی طلسماتی ٹھکانے جیسا ہوتا ہے۔

پہلی نظر میں دیکھنے پر یہ دیکھنے والے کو عمرو عیار کی زنبیل جیسی سرنگ لگتی ہے جس میں عجیب و غریب قسم کی چیزیں، نقشے، لوگ، عمارتیں، خزانے، کہانیاں، قصے، اور پتہ نہیں کیا کیا نظر آتا ہے۔

یہ تہہ خانہ حال کے متوازی چلنے والا ایک مکمل جہان ہے۔ اسے فینٹسی کی دنیا کہا جاتا ہے۔ جس طرح ہر انسان کی الگ ایک زندگی ہوتی ہے جو حال، ماضی اور مستقبل کے تین کمروں پر محیط ہوتی ہے، اسی طرح ہر انسان کی امیجی نیٹیو ورلڈ بھی دوسرے لوگوں سے مختلف ہوتی ہے۔

تمام انسان اسے کھوجنے، اس کا راستہ تلاش کرنے اور یہاں تک پہنچنے کے قابل نہیں ہوتے۔ محض چند لوگ ہوتے ہیں جو غیبی اشاروں پر چلتے چلتے یہاں تک پہنچتے ہیں اور پھر اس دنیا سے ایسے ایسے ناقابل یقین شاہکار تخلیق کرتے جاتے ہیں کہ دنیا دیکھ دیکھ کے حیران ہوتی رہتی ہے۔

اس تہہ خانے کو فنون لطیفہ کا جہان بھی کہا جا سکتا ہے۔ ناول، فلمیں، کہانیاں، لطیفے، قصے، گیت سب اسی دنیا میں موجود ہوتے ہیں اور ان چیزوں کو زندگی دینے کے لیے لازمی ہے کہ بندہ اس تہہ خانے میں پہنچے۔ یہ کبھی نہیں ہوتا کہ یہ سب چیزیں خودبخود تہہ خانے سے نکل کر حال کے برآمدے میں پہنچ جائیں۔

جو آدمی امیجی نیشن کی دنیا کو ڈسکور کر لیتا ہے وہ پھر عام انسانوں جیسا نہیں رہ جاتا۔ وہ پھر بیک وقت حال میں بھی رہتا ہے اور فینٹسی میں بھی۔ یہ شخص بھی عام لوگوں کی طرح ماضی میں رہتا ہے اور مستقبل میں بھی چکر کاٹتا رہتا ہے مگر اس کا سب سے محبوب مشغلہ اپنی امیجی نیٹیو ورلڈ میں رہنا ہوتا ہے۔

یہی وہ شخص ہے جو تخلیق کار کہلاتا ہے۔

کتنے ہی ڈھیر سارے ایسے انسان ہیں جن کی پوری زندگی ہی ان تین کمروں پر مشتمل ہوتی ہے اور انہیں پوری عمر خبر تک نہیں ہوتی کہ ان کمروں کے بیچوں بیچ ایک تہہ خانہ بھی موجود ہے۔ ہم جیسے بہت سارے لوگ انہی تین کمروں میں بھاگتے بھاگتے زندگی کا سفر پورا کر لیتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ تہہ خانے میں موجود امیجی نیٹیو ورلڈ کا اگر وجود ہی نہ ہوتا یا کوئی بھی شخص آج تک اس تہہ خانے تک پہنچنے کا راستہ ہی نہ تلاش کر پاتا تو دنیا کی شکل آج کتنی مختلف ہوتی۔ ایک ایسی دنیا کا تصور کریں جہاں نہ موسیقی ہے، نہ فلمیں، نہ ناول، نہ شاعری، نہ قصے، نہ لوک گیت، نہ دھنیں، نہ ناچ اور نہ ہی لطیفے ہیں۔ یہ دنیا کتنی بدمزہ، بے رونق اور دلچسپیوں سے عاری ہوتی۔ اگر اس تہہ خانے کا سراغ نہ لگتا تو ہماری دنیا بھی ایسی ہی ویران ہوتی اور اس دنیا میں جینے والے محض اس کی بے رنگی سے ہی اکتا کے موت کو گلے لگا لیتے۔

Comments

comments

Powered by Facebook Comments

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.